تاریخ احمدیت

1922ء: خلافت ثانیہ کا نواں سال تاریخ کے آئینہ میں (قسط اول)

(ذیشان محمود۔ مربی سلسلہ سیرالیون)

حضرت خلیفة المسیح الثانی ؓکی لازوال قیادت میں جماعت احمدیہ کا ہر لمحہ روز افزوں ترقیات کی منازل طے کرنا ہر احمدی اور عاقل و ذی شعور سعید روح پر عیاں ہے اور مخالفین کو یہی ترقیات ایک آنکھ نہیں بھاتیں۔ لیکن ترقی کرنے والی اقوام اپنی تاریخ کبھی نہیں بھولتیں اور ان واقعات کو اپنے سامنے رکھتی ہیں جس سے مزید ترقیات کے ابواب کھلتے چلے جاتے ہیں۔ اس مضمون میں سو سال قبل کی تاریخ کومختصر طورپر پیش کرکے یہ باور کرانا مقصود ہے کہ جماعت احمدیہ کاقدم ہر آن ترقیات کی جانب گامزن رہا ہے ۔ اور افرادجماعت یہ تقابل بھی کر سکتے ہیںکہ آج کے مقابل اُس زمانے میں باوجود کم سرمائے اور کم سہولیات کے کس طرح مبلغین احمدیت اشاعتِ اسلام میں مصروفِ عمل رہے۔اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ آئندہ بھی ایسی ترقیات جلد جماعت احمدیہ کو نصیب کرے اور حضرت خلیفة المسیح کی زیرِ قیادت جلد احمدیت کا پورے جہان پر غلبہ ہو۔آمین

الفضل میں شائع ہونے والے چند اہم قسط وار مضامین و کالم

الفضل نے ’’مدینة المسیح‘‘کے عنوان سے قادیان کی خبروں اور خصوصاً حضرت خلیفة المسیح الثانیؓ اور خاندانِ نبوت کے افراد کی صحت اور ان کے سفر و حضر سے باخبر رکھا۔’’حضرت خلیفۃ المسیح کی ڈائری‘‘کے عنوان سے ملفوظات، سوال و جواب شائع ہوئے۔’’اخبار احمدیہ‘‘کے عنوان سے اندرون و بیرون ہندوستان کی رپورٹس شائع ہوتی رہیں۔ امریکہ سے حضرت مفتی محمد صادق صاحبؓ کے ’’نامہ صادق‘‘، حضرت مولانا عبد الرحیم نیر صاحبؓ کے مغربی افریقہ سے ’’نامہ نیر‘‘ اور گولڈکوسٹ سے مولوی فضل الرحمٰن صاحب کے خطوط، ’’نامہ مصر‘‘سے مولوی شیخ محمود احمد صاحب کے خطوط ، جناب صوفی غلام محمد صاحب کی ’’ماریشس میں تبلیغ احمدیت‘‘ جبکہ آسٹریلیا کے مبلغ جناب حسن موسیٰ خان کے خطوط شائع ہوتے رہے۔ اسی طرح فہرست نو مبائعین، صیغہ لنگر خانہ کی ہفتہ وار رپورٹ شائع ہوئی۔اعلان بابت تحفہ شہزادہ ویلز کی اشاعت کے لیے ایک آنہ فنڈ کا قیام، رپورٹ سفر لاہور ، جماعت احمدیہ کا مرکزی سالانہ جلسہ بابت 1921ء کی رپورٹ، جلسہ سالانہ 1922ء کا پروگرام، اعتراضات کے جوابات، بیت المال کےلیے تحریک قرضہ سمیت کئی امور پر تربیتی مضامین بھی شامل اشاعت رہے۔

تاریخ احمدیت 1922ء

ذیل میں تاریخ احمدیت جلد چہارم سال 1922ء اور الفضل 1922ء و 1923ء کے حوالے سے تاریخ احمدیت کو تاریخ وار یکجا کیا گیا ہے۔ان کے علاوہ تعارف جماعت احمدیہ، دینی معلومات، رسالہ المحراب، خطباتِ محمود، انوار العلوم، خطباتِ نکاح اور خلفائے احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات سے مدد لی گئی ہے۔

یکم جنوری 1922ء

٭…قادیان میں بارش سے موسم خوشگوار ہو گیا اور مدرسہ احمدیہ اور ہائی سکول تعطیلات کے بعد کھل گئے۔(الفضل 5؍جنوری1922ء)

انجمن احمدیہ بغداد کا جلسہ

٭…یکم جنوری بوقت ایک بجے ڈاکٹر حاجی خان صاحب سب اسسٹنٹ سرجن نیو جنرل ہاسپیٹل بغداد کی زیر صدارت انجمن احمدیہ بغداد کا جلسہ منعقد ہوا۔سید فتح علی شاہ صاحب نے وفاتِ عیسیٰ اور جعفر صادق احمدی کلرک دفتر ڈی ٹی ایس آفس بغداد مغربی نےآنحضرت ﷺ کے خاتم النبیین ہونے پر تقاریر کیں۔ سالانہ رپورٹ پیش کی گئی۔ بعد ازاں قاضی عبد الرشید صاب نے صداقت مسیح موعودؑ پر لیکچر دیا۔ احمدی و غیر احمدی سامعین نے شرکت کی۔(الفضل 13؍مارچ 1922ء)

3؍جنوری1922ء

٭…3؍جنوری 1922ء ملک احمد حسین ولد ملک غلام حسین صاحب ساکن قادیان کا نکاح مسمات نیاز بیگم بنت بابو عبد الرحیم صاحب احمدی ساکن خورم گجر تحصیل راولپنڈی سے مہر مبلغ سات سو روپے پر حضرت خلیفة المسیح الثانیؓ نے پڑھا۔ (خطباتِ محمود خطباتِ نکاح جلد 3 صفحہ 126۔ بحوالہ الفضل 9؍مارچ 1922ء)

4؍جنوری1922ء

احمدیہ ٹیریٹوریل فورس

٭…1922ءکے آغاز میں ہی دوسری ملکی جماعتوں کی طرح ٹیریٹوریل فورس میں جماعت احمدیہ کی ایک کمپنی جالندھر میں قائم ہوئی۔حضرت صاحبزادہ مرزا شریف احمد صاحبؓ 1939ءتک اس کمپنی کی کمان کرتے رہے۔(تاریخ احمدیت)

٭…4؍جنوری 1922ء کو ایک انگریز ٹیریٹوریل آفیسر فوج کی بھرتی کے لیے آیا۔(الفضل9؍جنوری1922ء)

قادیان میں 20؍فروری کو دوبارہ بھرتی کے لیے اعلان شائع ہوا۔(الفضل30؍جنوری1922ء)

5؍جنوری1922ء

بیت المال کے لیے قرضہ کی تحریک

٭…حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے 5؍جنوری 1922ء کو جماعت کے سامنے قرضہ کی تحریک پیش کرتے ہوئے فرمایا:’’ہر زمیندار جس کے پاس ایک مربع زمین کا ہے فی مربع ایک سو روپیہ بطور قرض فوراً ضروریات سلسلہ کے چلانے کے لئے ادا کردے اور یہ رقم ایک سال سے دو سال تک کے عرصہ میں واپس ادا کی جائے گی۔ انشاء اللہ۔ اوراسی طرح جن علاقوں میں مربعوں کے رنگ میں زمینوں کی تقسیم نہیں ہوتی لوگ فی تیس گھماؤں زمین چاہی پر ایک سو اور فی پچاس ایکڑ زمین بارانی میں ایک سو روپیہ بطور قرض بیت المال میں داخل کردیں۔ جو لوگ ملازم یا تاجر ہیں ان کو چاہئے کہ جس کی آمد ایک سو سے لے کر دو سو روپیہ ماہوار تک ہے وہ ایک سو روپیہ۔ اور جس کی اس سے زیادہ ہے وہ دو سو روپیہ ماہوار سے اوپر فی ایک سو روپیہ کی آمد پر ایک سو روپیہ ۔کے حساب سے رقم بیت المال میں بطور قرض ادا کردے۔ یہ رقوم بھی اسی طرح ایک سال سے دو سال تک ادا ہوں گی۔ ان لوگوں کے سوا جو اور لوگ اس کام میں حصہ لینا چاہیں وہ بھی حصہ لے سکتے ہیں۔‘‘(الفضل 9؍جنوری 1922ء)

6؍جنوری1922ء

٭…حضور ؓنے خطبہ نکاح میں نکاح کی اغراض بیان فرمائیں۔ (خطباتِ محمود خطباتِ نکاح جلد 3 صفحہ 129۔الفضل 9؍مارچ 1922ء)

6؍جنوری1922ء

مولوی ثناء اللہ صاحب کا فرار

٭…اہل حدیث میں مولوی ثناء اللہ امرتسری نے ’’جھوٹوں کا ہرگز اعتبار نہ کرو‘‘ کے عنوان سے ایک نہایت سخت مضمون لکھا ۔ جس میں اس نے نہایت دریدہ دہنی سے حضرت مسیح موعودؑ کی ذات ستودہ صفات پر حملہ کیا۔ اور تحفہ گولڑویہ میں درج حدیث یخرج فی آخر الزمان دجال یقتلون الدنیا بالد ین پر 300 روپے کا چیلنج دیا کہ کسی کتاب سے دکھا دیں۔ مکرم قاضی ظہور الدین اکمل صاحب نے چیلنج قبول کرتے ہوئے الفضل میں لکھا کہ’’ہم بڑی خوشی کے ساتھ مولوی ثناء اللہ صاحب کا چیلنج منظور کرتے ہیں۔ وہ تین سو روپیہ جمع کرا دیں۔ اور ایک معقول مجلس میں جس میں فریقین کے آدمی مساوی ہوں گے۔ پہلے آپ کے چیلنج کے الفاظ پڑھے جائیںگے۔ پھر ہم خدا کے فضل سے نہ صرف کسی کتاب سے بلکہ مشہور کتاب حدیث سے ہی یہ الفاظ دکھا دیں گے۔ …الفاظ دکھانے پر تین سو روپے الفضل کے قائم مقام کے حوالے کرنے ہوں گے۔‘‘(الفضل9؍جنوری1922ء)

بعد ازاں حسبِ اعلان جناب اکمل صاحب مولوی ثناء اللہ صاحب امرتسری اس چیلنج پر قائم نہ رہے اور نئی شرائط قائم کر دیں اور شرط کا روپیہ ایک اور معاند کے پاس جمع کروا دیا۔ تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو الفضل 19؍جنوری 1922ءاور مضمون ’’مولوی ثناء اللہ امرتسری کا اپنے چیلنج سے کھلا کھلا فرار‘‘الفضل 16؍فروری 1922ء۔

7؍جنوری1922ء

٭…حضور ؓنے شیخ یعقوب علی صاحب ایڈیٹر الحکم کے فرزند ثالث شیخ یوسف علی صاحب کا نکاح نواب بی بی بنت میاں غلام حیدر صاحب سےپڑھایا۔(خطباتِ محمود خطباتِ نکاح جلد 3 صفحہ 131۔الفضل 9؍مارچ1922ء)

11؍جنوری1922ء

٭…جناب مولانا غلام احمد صاحب اختر ساکن اوچ شریف نے حضرت خلیفة المسیح الثانیؓ کی خدمت اقدس میں درج ذیل نظم پڑھی۔(الفضل9؍فروری1922ء)

خدا امیخت حسنِ احمد و شان محمد را

دہدتا صورتے فضل عمر محمد احمد را

12؍جنوری1922ء

٭…حضورؓ نے ’’تعلقات میں ترقی یا بگاڑ کا موجب رقابت ہوتی ہے‘‘ کے موضوع پر خطبہ ارشاد فرمایا۔(خطباتِ محمود خطباتِ نکاح جلد 3 صفحہ 132۔الفضل 22؍مئی1922ء)

13؍جنوری1922ء

٭…انگلستان میں انفلوئنزا کی وبا کا ظہور، صرف بارتھلو میں 60 ڈاکٹرز اور نرسیں بیمار ہوئے۔(الفضل19؍جنوری1922ء)

19؍جنوری1922ء

٭…حضرت مولانا شیر علی صاحبؓ ناظر اعلیٰ قادیان کی جانب سے ایک مضمون بعنوان’’ہر جگہ کی احمدی جماعت کے امیر کے فرائض‘‘ کے ذریعہ امراء کے ابتدائی فرائض بیان کیےگئے۔(الفضل19؍جنوری1922ء)

21؍جنوری1922ء

٭…حضرت خلیفة المسیح الثانی ؓنے بعد نماز فجر مسجد مبارک قادیان میں اپنی زبان مبارک سے اپنی تصنیف ’’تحفہ شہزادہ ویلز‘‘پڑھ کر سنایا۔ جو 10 بجکر اڑتالیس منٹ تک جاری رہا۔ بعد ازاں اس رسالے کے بابرکت ہونے کے لیے لمبی دعا فرمائی۔(الفضل23؍جنوری1922ء)

23؍جنوری1922ء

دوسرے مبلغ کی مغربی افریقہ روانگی

٭…23؍جنوری کی صبح حکیم فضل الرحمٰن صاحب مغربی افریقہ کے ملک نائیجیریا کے لیے روانہ ہوئے۔حضورؓ نے ان کو اپنے دستِ مبارک سے ہدایات لکھ کر عنایت فرمائیں۔(الفضل26؍جنوری1922ء)(تفصیلی نصائح کے لیے الفضل 20؍مارچ1922ء)

25؍جنوری1922ء

٭…خطبہ مسنونہ کے بعد حضورؓ نے مختصر خطبہ نکاح ارشاد فرمایا اور سید احمد نور صاحب کا سعیدن (میاں محمد حسین صاحب کی سالی) اور سید صادق علی صاحب کا سلمیٰ بنت سید محبوب عالم صاحب سے نکاح کا اعلان فرمایا۔(الفضل 29؍مئی و یکم جون1922ء)

26؍جنوری1922ء

ایڈیٹرز کانفرنس

٭…حضرت چودھری فتح محمد سیال صاحب ایم اےؓ ناظر اشاعت نے سلسلہ کے اخبارات کے ایڈیٹرز کی ایک کانفرنس طلب کی جس میں اشاعت سلسلہ کے وسائل اوراخبارات کی ترقی و بہبود ی کا مسئلہ زیر بحث آیا۔(الفضل30؍جنوری1922ء)

27؍جنوری1922ء

سیرالیون میں پہلے آنریری مبلغ کا ورود

٭…حضرت مولوی عبد الرحیم نیر صاحبؓ اپنے 3؍فروری 1922ء کے مکتوب میں لکھتے ہیں کہ سیرالیون کے صدر فری ٹاؤن میں دار التبلیغ کھولنے کاانتظام ہو گیا ۔ڈاک کے جہاز سے آر ایم ایس ایکابوسے آنریری مبلغ سیرالیون مولوی الفا الہادی ایس ایگباجی و مسز ایگباجی روانہ فری ٹاؤن ہوئے۔ دونوں میاں بیوی نے جا کر تبلیغ کے کام کو مقدم رکھنے کی بیعت کی ۔ مولوی صاحب موصوف نے کمال فیاضی سے اپنے مکانات میں سے ایک مکان ضروریات دار التبلیغ کے لیے بلا کرایہ دیا۔(الفضل3؍اپریل1922ء)

یہ آنریری مبلغ جوڑا 26؍جنوری کو فری ٹاؤن پہنچا اور دار التبلیغ کے قیام کے لیے سعی کی۔ابتدا میں مولوی صاحب موصوف بیمار پڑ گئے۔(الفضل6؍اپریل1922ء)

سیرالیون و دیگر جماعتیں بہ محنت تمام تبلیغ کے کام میں مشغول رہیں۔(الفضل15؍جنوری1923ء)

28؍جنوری1922ء

سیر

٭…حضرت خلیفة المسیح الثانی ؓ28؍جنوری کی صبح قادیان سے باہر دیہات میں بطور سیر تشریف لے گئے اور 29؍جنوری کی شام عشاء کے وقت واپس تشریف لائے۔اس دوران حضرت مولوی شیر علی صاحبؓ قادیان کے قائم مقام امیر رہے۔(الفضل2؍فروری1922ء)

جنوری1922ء

نرالی سہیلی حصہ اوّل و دوم

٭…مکرم ماسٹر احمد حسین صاحب فرید آبادی ایڈیٹر رسالہ اتالیق قادیان نے خواتین کے متعلق سلسلہ مضامین جاری کیے رکھا۔ آپ کی اسی موضوع پر کتاب شائع ہوئی۔(الفضل 23؍جنوری1922ء)

٭…تشحیذ الاذہان ماہِ جنوری 1922ء کی اشاعت میں شیعہ اعتراضات کے انہی کی معتبر کتب سے جواب شائع ہوئے۔

یکم تا 3؍فروری 1922ء

احمدیہ ٹورنامنٹ

٭…قادیان میں احمدیہ ٹورنامنٹ میں مختلف کھیلوں کا انعقاد کیا گیا۔ 2 اور 3؍فروری کو بارش کے سبب پروگرام متاثر بھی ہوا۔ کامیاب ٹیموں اور اشخاص کو انعام دیا گیا۔(الفضل6؍فروری1922ء)

٭…3؍فروری کو حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحبؒ نے ہوائی بندوق سے چاند ماری (نشانہ بازی)میں سب سے اعلیٰ نمبر حاصل کیے۔

٭…5؍فروری کو مکرم حق نواز خان صاحب پنشنر دفع دار احمدی نے احمدیہ ٹورنمنٹ کے سلسلہ میں گھوڑے پر نہایت قابلیت اور شہسواری کے مختلف کرتب چابکدستی سے دکھائے۔ محمد یوسف (متعلم ہائی سکول) ابن خان صاحب غلام محمد صاحب گلگت نے نیزہ بازی میں حصہ لیا۔

6؍فروری بعد عصر تقسیم انعامات اور ٹی پارٹی ہوئی۔(الفضل9؍فروری1922ء)

2؍فروری1922ء

٭…حضرت ڈاکٹر حشمت اللہ صاحبؓ نے تحریر کیا کہ حضرت مصلح موعودؓ کےشام کے وقت زینہ کی اوپر کی سیڑھی سے گرنے کے سبب کمر، کندھے اور بازو پر چوٹیں آئیں۔(الفضل6؍فروری1922ء)5؍فروری کی ظہر سے حضورؓ نے نماز پڑھانی شروع کی۔(الفضل9؍فروری1922ء)

5؍فروری1922ء

٭…مولوی ثناء اللہ امرتسری کی دعوت پر جماعتی دفد دجال اور رجال کی بحث کے لیے امرتسر روانہ ہوا۔ (الفضل 6؍فروری1922ء) 9؍فروری کو وفد واپس آ گیا۔ (الفضل13؍فروری1922ء)

8؍فروری1922ء

٭…حضورؓ نے ایک نکاح پڑھایا اور خطبہ دیا۔ (الفضل24؍جولائی1922ء)

٭…سید محمد یوسف صاحب عرائض نویس حصار ابن مولوی سید احمد حسین صاحب ساکن مظفر نگر کے نکاح ہمراہ مسماة امة الحفیظ بنت مولوی اللہ دتہ مرحوم ساکن جموں سات سو روپیہ مہر پر حضرت خلیفة المسیح الثانی ؓنے8؍فروری 1922ء کو اعلان فرمایا۔(خطباتِ محمود خطباتِ نکاح جلد 3 صفحہ 140۔الفضل 13؍فروری و22؍جون 1922ء)

9؍فروری1922ء

٭…حضورؓ نے ’’ولی لڑکی کے مفاد کی حفاظت کرے‘‘ کے موضوع پر خطبہ ارشاد فرمایا۔(خطباتِ محمود خطباتِ نکاح جلد 3 صفحہ 143۔الفضل 22؍جون1922ء)

نتیجہ امتحان مبلغین کلاس

٭…مولوی جلال الدین صاحب شمس مولوی فاضل، مولوی غلام احمد صاحب بدو ملہوی ، مولوی ظہور حسین صاحب، مولوی زین العابدین صاحب آف ماریشس، مولوی محمد شہزادہ خان صاحب ، مولوی ظل الرحمٰن صاحب آف بنگال نے مبلغین کلاس کے امتحان فزیالوجی اور ہدایاتِ زریں کا امتحان پاس کیا۔(الفضل9؍فروری1922ء)

17؍فروری1922ء

ٹی پارٹی سے خطاب

٭…شیخ محمود احمد صاحب کو مدرسہ احمدیہ کے طلباء نے ان کی روانگی پر ایک رخصتی ٹی پارٹی دی۔ ایک لڑکے نے نظم اوردوسرے نے ایڈریس پڑھا۔ اس موقع پر حضورؓ نے شعر گوئی اور ایڈریس کہنے سے متعلق راہ نمائی فرمائی۔(الفضل10؍اپریل1922ء)

18؍فروری1922ء

٭…بابو عنایت الٰہی صاحب ملازم ڈاک خانہ ولد میاں چراغ دین مرحوم سکنہ نبی پور متصل گورداسپور کا نکاح حمیدہ بیگم بنت امیر خان صاحب مرحوم قادیان سے پانچ سو روپیہ مہر پر حضرت خلیفة المسیح الثانی ؓنے 18؍فروری کو بوقت عصر پڑھایا۔(خطباتِ محمود خطباتِ نکاح جلد 3 صفحہ 145۔الفضل27؍فروری و 2؍مارچ و 24؍جولائی 1922ء)

دارالتبلیغ مصر کا قیام

٭…1922ءکے آغاز میں حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ نے مکرم شیخ محمود احمد صاحب عرفانی کو مصرجانے کا حکم دیا اور اپنے ہاتھ سے ان کو ہدایات لکھ کر دیں جن میں عربی سیکھنے، سیاست سے دور رہنے،اخلاق کا نمونہ دکھانے اور مصریوں کی خوبیاں سیکھنے کی نصائح فرمائیں۔مکر م شیخ صاحب 18؍فروری1922ءکو روانہ ہوئے اور بمبئی سے سمندر کے راستے قاہر ہ پہنچے۔ایک ہی سال میں وہاں جماعت پیدا کر دی۔دسمبر1923ءمیں آپ نے مصر سے ’’قصر النیل‘‘نامی رسالہ جاری فرمایا۔(تاریخ احمدیت جلد چہار م صفحہ286تا287)

23؍فروری1922ء

سفر لاہور

٭…گورنرپنجاب نے جن معزز رؤسا کے نام پرنس آف ویلز کے استقبال کے لیے منتخب کیےان میں حضرت خلیفة المسیح الثانی ؓکا اسم گرامی بھی شامل کیا۔(الفضل20؍فروری1922ء)

٭…حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ 23؍فروری1922ءکو لاہور تشریف لے گئے۔آپ کے ساتھ حضرت صاحبزادہ مرزاشریف احمد صاحبؓ، جناب مولوی رحیم بخش صاحب ایم اے پرائیویٹ سیکرٹری، جناب چودھری فتح محمد صاحب ایم اے ناظر اشاعت تھے۔(الفضل 27؍فروری و 2؍مارچ 1922ء)

یہ سفر بظاہرشہزادہ ویلز کے استقبال کے لیے ارشاد نبویﷺ اذا جاء کریم قوم فاکرموہ کی تعمیل میں تھا مگر حضورؓ نےقیام لاہور کے دوران احباب جماعت کی تربیت اور وعظ ونصیحت میں وقت صرف کیا۔(تاریخ احمدیت جلد 4صفحہ295)

25تا27؍فروری1922ء

قادیان میں تعطیل

٭…شہزادہ ویلز کی پنجاب تشریف آوری کے سبب دارالامان کے تمام دفاتر میں 25 تا 27؍فروری اور تعلیم الاسلام ہائی سکول میں 25؍فروری تا یکم مارچ تک تعطیل کی گئی۔(الفضل23؍فروری1922ء)

26؍فروری1922ء

مغل پورہ لاہور کی مسجد کادورہ

٭…مستری موسیٰ صاحب (نیلا گنبد لاہور) کی درخواست پر حضورؓ ، حضرت صاحبزادہ مرزا شریف احمد صاحب ؓاور مولوی رحیم بخش صاحب ایم اے اور کیپٹن غلام محمد خان صاحب کے ساتھ لاہور کے متصل موضع گنج (حال مغل پورہ لاہور) احمدیہ مسجد دیکھنے بذریعہ موٹر تشریف لے گئے۔ یہاں حضورؓ نے دو نفل باجماعت پڑھائے۔

واپسی پر گنج میں مولوی جلال الدین صاحب کے مکان پر مع حضرت ام المومنینؓ و خدام و صاحبزادگان چائے نوش فرمائی۔

اسی شام حضورؓ نے احمدیہ انٹر کالجیٹ و طلباء مقیم احمدیہ ہاسٹل کے اجلاس میں روح کی نشاةٔ ثانیہ کے موضوع پر تقریر فرمائی۔(الفضل 27؍فروری و 2؍مارچ و تاریخ احمدیت جلد چہارم صفحہ 295)

27؍فروری1922ء

تحفہ شہزادہ ویلز

٭…شہزادہ ویلز ایڈورڈ ہشتم دسمبر 1921ءمیں ہندوستان آ ئے تو حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ نے برطانیہ کے ولی عہد کے لیے ’’تحفہ شہزادہ ویلز‘‘کے نام سے معرکہ آراء کتاب تصنیف فرمائی۔بتیس ہزار احمدی احباب نے ایک آنہ فی کس جمع کر کے اس کو شائع کیا۔27؍فروری1922ءکو لاہور میں ایک احمدیہ وفد نے ایک مرصع روپہلی کشتی میں یہ کتاب شہزادہ کو پیش کی۔حضرت چودھری ظفر اللہ خان صاحبؓ نے اس کتاب کا انگریزی ترجمہ کیا۔یہ کتاب مختلف ممالک میں شائع ہوئی اور اس نے تبلیغ اسلام و احمدیت میں کلیدی کردار ادا کیا۔ (تاریخ احمدیت صفحہ292تا293)

حضورؓ کی تجویز کے مطابق جماعت احمدیہ کے 32208 ممبران نے ایک آنہ فی کس جمع کر کے اس کتاب کی اشاعت کا انتظام کیا۔(تعارف کتاب انوار العلوم جلد 6)

لاہور میں مصروفیات اور لیکچر

٭…جماعت احمدیہ کے ایک وفد نے لاہور میں گورنمنٹ پنجاب کے توسط سے پرنس آف ویلز کی خدمت میں ایک ایڈریس کے ساتھ کتاب اسلام کے بے نظیر تحفے کی صورت میں پیش کی۔(تعارف کتاب انوار العلوم جلد 6)

حضرت خلیفة المسیح الثانیؓ ریس گراؤنڈ تشریف لے گئے۔ نماز مغرب و عشاء کے بعد حضورؓ نے احمدیہ انٹر کالجیٹ سے Spiritual Regeneration (نشاةٔ ثانیہ روحانیہ) کے موضوع پر خطاب فرمایا ۔ غیر احمدی اور غیر مذاہب کے تعلیم یافتہ معززین اور شرفاء کی اکثریت کے ساتھ آٹھ سو سے زائد افراد شریک ہوئے۔ دعا کے بعد حضورؓ کی لاہور آمد کے سوال پر حضورؓ نے گھنٹہ سوا گھنٹہ گفتگو فرمائی۔(الفضل 6؍مارچ 1922ء)

27؍فروری1922ء

٭…تعطیل کے سبب اخبار الفضل شائع نہیں کیا گیا اور اس سبب 2 مارچ کے پرچہ میں صفحات کا اضافہ کیا گیا۔(الفضل23؍فروری1922ء)

28؍فروری1922ء

٭…28؍فروری کو دیال سنگھ کالج لاہور کے بنگالی پرنسپل جو مذہباً برہمو تھےنے حضورؓ سے ملاقات کی۔ تین گھنٹے تک مذہب کے مفہوم اور اسلام کی فضیلت پر تبادلہ خیال ہوتا رہا۔ حضرت چودھری محمدظفر اللہ خان صاحبؓ نے بعض مواقع پر انگریزی میں ترجمہ کیا۔

٭… 28؍فروری اور یکم مارچ کی شب میں بھی بعض معززین مثلاً منشی خلیل الرحمٰن صاحب سپرٹنڈنٹ دفتر نارتھ ویسٹرن ریلوے لاہور اور پروفیسر سید عبد القادر صاحب ایم اے ، پروفیسر غلام عباس خان صاحب ایم اے تشریف لائے۔ اور رات ساڑھے بارہ بجے تک مختلف مسائل پر گفتگو کی۔(الفضل6؍مارچ1922ء)

فروری1922ء

مسجد کا افتتاح

٭…سالٹ پانڈ کے موضع کورم کرم میں مسجد کا افتتاح ہوا جس پر کل 400پونڈ خرچ ہوئے۔(الفضل6؍اپریل1922ء)

چودہ اہل قلم کی ضرورت

٭…الفضل میں ایک اعلان میں مکرم رحیم بخش صاحب ایم اے ناظر تالیف و اشاعت کی جانب سے’’چودہ اہل قلم والنٹیروں کی ضرورت‘‘کے عنوان سے چودہ مذاہب و مسالک کے متعلق مضامین لکھنے والوں کو تحریک کی گئی۔ جن میں آریہ، سناتن، بریم سماج، دیو سماج، اہل حدیث، چکڑوی، شیعہ، حنفی، غیر مبائعین، بد ھ مذہب، سکھ، رومن کیتھولک، پروٹسٹنٹ، دہریہ(انگریزی) شامل تھے۔(الفضل6؍فروری1922ء)

ہدایات نبوی

٭…صیغہ تربیت کی جانب سے معاملات کے متعلق رسول کریم ﷺ کی احادیث مع ترجمہ شائع ہوئیں۔ (الفضل6؍ فروری1922ء)

٭…مکرم جناب مفتی محمد صادق صاحبؓ نے علالت کی حالت میں وصیت لکھی جو ان کی قوت ایمانی کا مظہر اور نہایت رقت انگیز ہے۔(الفضل27؍مارچ1922ء)

تشحیذ الاذہان کا ریویو میں انضمام

٭…حضرت خلیفة المسیح الثانی ؓکے حسبِ منشاگیارہ سال تک باقاعدہ شائع ہونے والا رسالہ تشحیذ الاذہان کی علیحدہ اشاعت موقوف کردی گئی جبکہ تشحیذ کا ایڈیٹر و عملہ رسالہ ریویو آف ریلیجنز میں متعین کر دیا گیا اور رسالہ یویو آف ریلیجنز نظارت تالیف و اشاعت کی زیر نگرانی کر دیا گیا۔ ریویو آف ریلیجنز کا نام حضرت مسیح موعودؑ کے احترام میں مقدم رکھا گیا اوراس کا حجم 48 صفحات کر دیا گیا۔(الفضل 27؍فروری و 2؍مارچ1922ء)

نئی تقرریاں

٭…حضرت خلیفة المسیح الثانی ؓنے عملہ محکمہ ہائے نظارت میں درج ذیل تبدیلیاں فرمائیں:

1۔ چودھری فتح محمد صاحب (ناظر تالیف و اشاعت)

2۔سید ولی اللہ شاہ صاحب (نائب ناظر تالیف و اشاعت)

3۔ شیخ نواب دین صاحب (ناظم ایجنسی)

4۔مولوی رحیم بخش صاحب (انچارج دفتر ڈاک)

5۔چودھری فتح محمد صاحب (ناظر تعلیم و تربیت)

(الفضل20؍فرروی1922ء)

یکم مارچ1922ء

٭…لیگوس میں جماعتی تعلیم مبلغین یعنی Missionary Trainning Class کا افتتاح ہوا۔ (الفضل3؍اپریل1922ء)

حضور ؓکی واپسی از لاہور

٭…یکم اور 2؍مارچ کی درمیانی شب لاہور سے روانگی ہوئی ۔2؍مارچ کو حضورؓقادیان واپس تشریف لے آئے۔ سڑک کے موڑ پر احباب قادیان نے حضورؓ کا استقبال کیا۔(الفضل6؍مارچ1922ء)

مطالعہ تحفہ شہزادہ ویلز

٭…شہزادہ ویلز نے یکم مارچ 1922ء کو لاہور سے جموں تک کے سفر میں اس کامکمل طور پر مطالعہ کیا اور بہت خوش ہوئے۔بعد کی اطلاعات سے معلوم ہوا کہ کتاب پڑھتے پڑھتے بعض مقامات پر ان کا چہرہ گلاب کی طرح شگفتہ ہو جاتا تھا۔اسی طرح ان کے ایڈی کانگ نے یہ بھی بتایا کہ وہ کتاب پڑھتے پڑھتے یکدم کھڑے ہو جاتے تھے۔چنانچہ اس کے کچھ عرصہ بعد انہوں نے صراحتاً عیسائیت سے بیزاری کا اظہار کیا۔ (تاریخ احمدیت جلد 4صفحہ 293)

٭…جی۔ ایف۔ ڈی۔ مانٹ مورنسی چیف سیکرٹری ہزرائل ہائنس شہزادہ ویلز کی جانب سے ذوالفقار علی خان ایڈیشنل سیکرٹری جماعت احمدیہ قادیان کے نام خیر مقدم کے ایڈریس کی وصولی کا شکریہ کا خط موصول ہوا۔(الفضل6؍مارچ1922ء)

4؍مارچ1922ء

٭…حضورؓ بغرض تبدیلی آب و ہوا بر لبِ دریا پھیرو چیچی تشریف لے گئے۔(الفضل6؍اور9؍مارچ1922ء)

10؍مارچ1922ء

٭…10؍رجب 1340ھ بمطابق 10؍مارچ 1922ء کو مکان انجمن احمدیہ لیکچر ہال میں ایک شاندار جلسہ منعقد ہوا۔ جس میں جماعت کے قابل لیکچراروں نے مختلف مسائل پر پُرجوش تقریریں کیں۔چونکہ صد ہا اشتہارات و مقامی اخبارات کے ذریعہ اطلاع کی گئی تھی اس لیے کثیر تعداد میں غیراحمدی بھی تشریف لائے۔ بعد نماز جمعہ 2بجے تا ساڑھے 6 بجے تک جلسہ کی کارروائی ہوتی رہی۔ احباب کو تبلیغی پمفلٹ و ٹریکٹ بھی تقسیم کیے گئے۔(الفضل13؍اپریل1922ء)

15؍مارچ1922ء

٭…حضورؓ واپس قادیان تشریف لے آئے۔

14؍مارچ1922ء

مبلغ ماریشس کی فرانس کی قونصل سے خط و کتابت

٭…حکومتِ فرانس نے پیرس میں مسجد کی تعمیر کے حوالے سے اعلان کیا جس پر جناب غلام محمد صاحب بی اے مبلغ احمدیت ماریشس نے فرانس کے قونصل خانہ پورٹ لوئی کو بطور شکریہ و تبلیغی خط لکھا۔ جس پریوبس جی کورتھیال از قونصل خانہ فرانس پورٹ لوئی کی جانب سے خط کی وصولی شکریہ کی بابت 15؍مارچ اور27؍جون کو دو خط موصول ہوئے۔(الفضل18؍ستمبر1922ء)

25؍تا27؍مارچ1922ء

غیر احمدی علماء کو تبلیغ اسلام کا مقابلہ کرنے کی دعوت

٭…25تا 27؍مارچ1922ء میں غیر احمدی احباب نے سال گذشتہ کی طرح قادیان میں اپنا سالانہ جلسہ منعقد کیا۔

٭…25؍مارچ 1922ء کو حضرت مصلح موعود ؓنے جلسے پر آنے والے غیر احمدی علماء کو تحقیق حق کے لیے تبادلہ خیال اور مباہلہ کی دعوت دی اور دعوتِ علماء کے نام سے ایک خصوصی پیغام تحریر فرمایا۔یہ پیغام کتابی صورت میںانوار العلوم جلد6 میں شامل ہے۔

٭…مولوی ثناء اللہ امرتسری نے حضورؓ کوکلکتہ جا کر اپنی حیثیت ثابت کرنے کا چیلنج دیا جس پر 26؍مارچ کو حضورؓ نے فرمایا کہ مَیں اور مولوی صاحب اعلان کریں کہ کم ازکم سو افراد اپنے خرچ پر تبلیغ اسلام کے لیے بیرون ممالک جائیں تو اس سے ہمارے متبعین کی اطاعت کا بھی اندازہ ہو جائے گا اور دین کو بھی فائدہ ہوگا۔(الفضل3؍اپریل1922ء)

٭…27؍مارچ کو غیر احمدیوں کے قادیان میں جلسہ کے دوران اٹھائے جانے والے اعتراضات کے جواب پر مشتمل مضمون ’’علماء غیر احمدیان کا اللہ اور رسول اور اس کے خلفاء پر حملہ‘‘ رات کو لکھ کر الفضل کی تقطیع کے 4صفحات شائع و تقسیم کیا گیا۔ یہ مضمون الفضل 3؍اپریل میں شاملِ اشاعت ہے۔اس سلسلے میں الفضل نے اوربھی جوابی مضامین شائع کیے۔(الفضل 30؍مارچ و 2؍اپریل1922ء)

مارچ 1922ء

٭…حضورؓنےمارچ1922ءمیں صدرانجمن میں نظارتوں کے صیغوں کی مزید نگرانی کےلیے ناظر اعلیٰ کے علاوہ ایک نیا عہدہ ناظر اوّل قائم فرمایا اور اس پر حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحبؓ کو مقررفرمایا۔(تاریخ احمدیت جلد چہارم صفحہ295)

12؍اپریل1922ء

نومسلم انگریز خاتون کی قادیان آمد

٭…ایک انگلش نو مسلمہ خاتون مسز حنیفہ (بیکن) جو مڈوائف (دایہ گری)کی باقاعدہ تعلیم یافتہ تھیں، قادیان تشریف لائیں۔(الفضل 15؍مئی 1922ء)

٭…مس بیکن صاحبہ یورپین نو مسلمہ قادیان سے واپس ولایت کے لیے روانہ ہوئیں۔(الفضل6؍جولائی1922ء)

17؍اپریل1922ء

الفضل اخبار

٭…باوجود مجلس مشاورت یہ انتظام کیا گیا تھا کہ اخبار کی اشاعت میں التوا واقع نہ ہو لیکن پریس کی مشین کے بگڑ جانے کی وجہ سے 17تاریخ کا اخبار نہیں چھپ سکا اور 20تاریخ کا اخبار 13صفحات کا شائع کیا گیا۔(الفضل20؍اپریل1922ء)

حافظِ قرآن

٭…حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب ؒنے 13 سال کی عمر میں حفظ قرآن ختم کیا ۔ حضرت حافظ روشن علی صاحبؓ نے اہالیان قادیان کی طرف سے حضرت خلیفة المسیحؓ کے حضور مبارک باد عرض کی ۔ حضرت صاحبزادہ صاحب کے حفظِ قرآن کی تاریخ علم الاعداد کے لحاظ سے’’حافظِ قرآن ‘‘ نکلی۔(الفضل 17؍و20؍اپریل1922ء)

الفضل کی تحریک

اخبار الفضل کی جانب سے تحریک کی گئی کہ احباب کرام جو حضرت مسیح موعودؑ کے پرانے خدام کےسوانح سے واقف ہیں ان حالات کو مرتب کر کے شائع کرا دیں تاکہ آئندہ آنے والی نسلیں ان سے فائدہ اٹھا سکیں اور اپنے اسلام کے نمونہ سے سبق حاصل کر سکیں۔(الفضل17؍و20؍اپریل1922ء)

18؍اپریل1922ء

ریویو بر تحفہ شہزادہ ویلز

٭…اخبار سول اینڈ ملٹری گزٹ لاہور نے تحفہ شہزادہ ویلز پر ریویو شائع کیا۔(الفضل یکم اپریل و29؍مئی1922ء)

ناظر اعلیٰ

٭…حضرت خلیفة المسیح الثانی ؓنے مولوی شیر علی صاحبؓ کی جگہ چودھری نصر اللہ خان صاحب کو ناظر اعلیٰ مقرر فرمایا۔(الفضل 17 و 20؍اپریل1922ء)

24؍اپریل1922ء

نقشہ کی اشاعت

٭…اخبار الفضل میں دنیا کا نقشہ شائع کیا گیا جس میں یہ دکھایا گیا کہ اس وقت کس کس ملک میں احمدیت کے مبلغ داخل ہو چکے ہیں۔ یہ نقشہ مکرم نذیر محمد خان صاحب احمدی۔ ہیڈ ماسٹر سیکنڈری سکول مسکرا ضلع ہمیر پور ۔ یو پی نے تیار کیا۔(الفضل24؍اپریل1922ء)

اخبار آریہ پرکاش نے 30؍اپریل کی اشاعت میں لکھا کہ ’’ہمیں اس سے کوئی غرض نہیں کہ ان مقامات میں جو اس نقشہ میں دکھلائے گئے ہیں کس قدر پرچار احمدیت کا ہو اہے۔ ہم یہ جانتے ہیں کہ احمدی تمام ممالک میں اپنے مذہب کی تبلیغ کے لئے کوشش کر رہے ہیں۔ کیا اس احمدی کا جوش قابلِ داد نہیں جس نے یہ نقشہ تیار کیا ہے۔‘‘(الفضل 15؍مئی 1922ء)

(جاری ہے)

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close