خلاصہ خطبہ جمعہ

خلاصہ خطبہ جمعہ سیّدنا امیر المومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 18؍ فروری 2022ء

پیشگوئی مصلح موعودکے پورا ہونے سے متعلق مختلف پہلوؤں کے بارے میں حضرت مصلح موعودؓ کے ارشادات کی روشنی میں ایمان افروز تذکرہ

٭…حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے صداقت اسلام کے ایک بڑے نشان کے طور پر پیشگوئی مصلح موعود کا اعلان فرمایا

٭…باون تریپن خصوصیات کے حامل حضرت مصلح موعود ؓنے نہ صرف لمبی عمر پائی بلکہ اسلام کی غیر معمولی خدمت کی توفیق بھی پائی

٭…حضرت مصلح موعود ؓنے دنیا کو چیلنج دیا کہ فہم قرآن کا ملکہ میرے اندر اس قدر ہے کہ سورہ فاتحہ سے ہی میں تمام اسلامی علوم بیان کر سکتا ہوں

٭…اس پیشگوئی پر ہمارے جلسے تبھی فائدہ مند ہیں جب ہم اس مقصد کو ہمیشہ سامنے رکھیں کہ ہم نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت اور وقار کو دنیا میں قائم کرنا ہے

خلاصہ خطبہ جمعہ سیّدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمدخلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 18؍فروری 2022ء بمطابق 18؍تبلیغ 1401ہجری شمسی بمقام مسجد مبارک،اسلام آباد،ٹلفورڈ(سرے)، یوکے

امیرالمومنین حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنے مورخہ 18؍فروری2022ء کو مسجد مبارک، اسلام آباد، ٹلفورڈ، یوکے میں خطبہ جمعہ ارشاد فرمایا جو مسلم ٹیلی وژن احمدیہ کے توسّط سے پوری دنیا میں نشرکیا گیا۔ جمعہ کی اذان دینےکی سعادت فیروز عالم صاحب کے حصے میں آئی۔تشہد،تعوذاور سورة الفاتحہ کی تلاوت کے بعد حضورِانورایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنےفرمایا:

حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے دشمنان اسلام کے اس اعتراض پر کہ اسلام کوئی نشان نہیں دکھاتا خدا تعالیٰ سے اطلاع پاکرصداقت اسلام کے ایک بڑے نشان کے طور پر ایک معین عرصہ میں تقریباً باون تریپن خصوصیات کے حامل اپنے ایک بیٹے کی پیدائش کی پیشگوئی کا اعلان فرمایا جو نہ صرف اُس عرصے میں پیدا ہوا بلکہ اُس نے لمبی عمر بھی پائی اور اُسے اسلام کی غیر معمولی خدمت کی توفیق بھی ملی۔ اس پیشگوئی کو ہم ہر سال 20؍ فروری کو پیشگوئی مصلح موعودؓ کے حوالے سےیاد رکھتے ہیں۔اس کے مختلف پہلوؤں پر جماعتی جلسوں میں روشنی ڈالی جاتی ہے اور ایم ٹی اے پر بھی پروگرام آتے ہیں۔

پیشگوئی کے مطابق لمبی عمر پانے والے اس بچے کی صحت کی حالت کے بارے میں حضرت مصلح موعود ؓفرماتے ہیں کہ بچپن میں میری صحت نہایت کمزور تھی پہلے کالی کھانسی ہوئی پھر صحت ایسی گر گئی کہ گیارہ بارہ سال کی عمر تک موت وحیات کی کشمکش میں مبتلا رہا ۔ نظر کمزور ہوگئی ۔ چھ سات ماہ تک مجھے بخار آتا رہا۔ ٹی بی کا مریض قرار دیا گیا۔اِن وجوہ سے باقاعدہ پڑھائی نہیں کرسکا ۔اکثر اسکول سے غائب رہتا۔ کون ایسی حالت میں لمبی عمر کی ضمانت دے سکتا ہے۔

آپؓ فرماتے ہیں کہ خدا نے میرے متعلق خبر دی تھی کہ میں علومِ ظاہری اور باطنی سے پُر کیا جاؤں گا۔چنانچہ باوجود اس کے کہ دنیوی علوم میں سے کوئی علم میں نے نہیں پڑھا اللہ تعالیٰ نے ایسی عظیم الشان علمی کتابیں میرے قلم سے لکھوائیں کہ دنیا یہ تسلیم کرنے پر مجبور ہے کہ اِس سے بڑھ کر اسلامی مسائل کے متعلق اور کچھ نہیں لکھا جا سکتا۔ قرآن کریم کی تفسیر کا ایک حصہ تفسیر کبیر کے نام سے لکھا جسے پڑھ کر بڑے بڑے مخالفوں نے بھی تسلیم کیاکہ اِس جیسی آج تک کوئی تفسیر نہیں لکھی گئی۔

حضرت مصلح موعود ؓ فرماتے ہیں کہ میں ابھی بچہ ہی تھا کہ رؤیا میں ایک فرشتے نے سورہ فاتحہ کی تفسیر سکھانی شروع کی اور جب وہ اِیَّاکَ نَعۡبُدُ وَاِیَّاکَ نَسۡتَعِیۡنُ تک پہنچا تو کہنے لگا کہ آج تک جتنے مفسر گزرے ہیں ان سب نے صرف اِس آیت تک تفسیر لکھی ہے لیکن مَیں تمہیں اِس کے آگے بھی تفسیر سکھاتا ہوں۔چنانچہ اُس نے ساری سورہ فاتحہ کی تفسیر مجھے سکھا دی۔ اِس رؤیا کے معنی درحقیقت یہی تھے کہ فہمِ قرآن کا ملکہ میرے اندر رکھ دیا گیا ۔ آپؓ نے دنیا کو چیلنج دیا کہ یہ ملکہ میرے اندر اِس قدر ہے کہ میں یہ دعویٰ کرتا ہوں کہ سورہ فاتحہ سے ہی میں تمام اسلامی علوم بیان کر سکتا ہوں۔

حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ ہمارے اسکول کی فٹبال ٹیم کو امرتسر میں میچ جیتنے پر ایک رئیس نے دعوت دی جہاں مجھے تقریر کرنے کے لیے کھڑا کردیا گیا ۔میری دعا پر خدا تعالیٰ نے سورہ ٔفاتحہ کے متعلق میرے دل میں ایک نکتہ ڈالا اور میں نے کہا دیکھو قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے یہ دعاسکھائی ہے کہ غَیۡرِ الۡمَغۡضُوۡبِ عَلَیۡہِمۡ وَلَا الضَّآلِّیۡنَ۔ غَیۡرِ الۡمَغۡضُوۡبِ سے مُراد ہے کہ ہم یہودی نہ بن جائیں اور وَلَا الضَّآلِّیۡنَ سے مُراد ہے کہ ہم نصاریٰ نہ بن جائیں۔ اِس کی مزید وضاحت اس لیے بھی ہوتی ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ اِس امت میں ایک مسیح آئے گاجو لوگ اُس کا انکار کریں گے وہ یہود صفت بن جائیں گےاوربعض لوگ اپنے مذہب کی تعلیم کو نہ سمجھ کر عیسائیت قبول کر لیں گے۔ عجیب بات ہے کہ سورہ فاتحہ مکہ میں نازل ہوئی اور اُس وقت سب سے زیادہ مخالفت مکہ کے بت پرستوں کی طرف سے کی جاتی تھی مگر دعا یہ نہیں سکھائی گئی کہ الٰہی ہم بت پرست نہ بن جائیں بلکہ دعا یہ سکھائی گئی کہ الٰہی ہم یہودی یا نصاریٰ نہ بن جائیں۔یعنی اللہ تعالیٰ نے یہ پیشگوئی فرمادی تھی کہ مکہ کے بت پرست ہمیشہ کے لیے مٹادیے جائیں گے اوریہودیت اور عیسائیت باقی رہےگی جس کےفتنہ سے بچنے کے لیے ہمیشہ یہ دعائیں کرنا ضروری ہوگا۔ جب میری تقریر ہو چکی تو بعد میں بڑے بڑے رؤسا کہنے لگے کہ آپ نے قرآن خوب پڑھا ہوا ہے۔ ہم نے تو اپنی ساری عمر میں یہ نکتہ پہلی دفعہ سنا ہے۔چنانچہ واقعہ یہی ہے کہ ساری تفسیروں کو دیکھ لو کسی مفسر قرآن نے آج تک یہ نکتہ بیان نہیں کیا۔ حالانکہ میری عمر اُس وقت بیس سال کے قریب تھی جب اللہ تعالیٰ نے یہ نکتہ مجھ پر کھولا۔

حضرت مصلح موعود ؓفرماتے ہیں کہ میں گیارہ سال کا تھا کہ میرے دل میں یہ خیال پیدا ہوا کہ میں خدا تعالیٰ پر کیوں ایمان لاتا ہوں اُس کے وجود کا کیا ثبوت ہے۔ میں رات دیر گئے اس مسئلے پر سوچتا رہا۔ آخر دس گیارہ بجے میرے دل نے فیصلہ کیا کہ ہاں ایک خدا ہے۔ وہ میرے لیے خوشی کی گھڑی تھی کہ میرا پیدا کرنے والا مجھے مل گیا۔ سماعی ایمان علمی ایمان سے تبدیل ہو گیا۔ میں اللہ تعالیٰ سے ایک عرصے تک دعا کرتا رہاکہ خدایا مجھے تیری ذات کے متعلق کبھی شک پیدا نہ ہو۔ آج میں پینتیس سال کا ہوں اب میں اس قدر زیادتی کرتا ہوں کہ خدایا مجھے تیری ذات کے متعلق حق الیقین پیدا ہو۔آپؓ فرماتے ہیں کہ جب خدا تعالیٰ کا وجود مجھ پر ثابت ہو گیا تو پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صداقت بھی مجھ پر واضح ہو گئی۔ بہرحال یہ بھی ایک ثبوت ہے اللہ تعالیٰ کا آپؓ کو علوم سے پُر کرنے کا۔

حضرت خلیفة المسیح الاوّلؓ یہی سمجھتے تھے کہ یہ بچہ مصلح موعود کا مصداق بنے گا۔ حضرت مصلح موعود ؓنے رسالہ تشحیذ الاذھان کو رُوشناس کرانے کے لیے اُس کے اغراض و مقاصد کے بارے میں ایک مضمون لکھا جس کی حضرت خلیفة المسیح الاوّلؓ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے حضور خاص تعریف کی لیکن بعد میں ذاتی طور پر حضرت مصلح موعود ؓکو فرمایا کہ میاں تمہارا مضمون بہت اچھا تھا مگر میرا دل خوش نہیں ہوا کیونکہ تمہارے سامنے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تصنیف براہین احمدیہ موجود تھی اور مجھےامید تھی کہ تم اُس سے بڑھ کر کوئی چیز لاؤ گے اُس سے فائدہ اٹھاؤ گےیعنی حضرت خلیفہ اوّل ؓآپؓ کی صحت اور علم کو جاننے کے باوجود اتنے اعلیٰ خیالات آپؓ کے بارے میں رکھتے تھے کہ یہ بچہ ایسا ہے جس میں اتنی صلاحیت ہے کہ یہ اعلیٰ ترین مضامین لکھ سکتا ہے۔

حضرت مصلح موعود ؓفرماتے ہیں کہ جب ڈاکٹروں نے کہا کہ میری بینائی ضائع ہو جائے گی تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے میری صحت کے لیے خاص طور پر دعائیں کرنی شروع کر دیں اور ساتھ ہی روزے رکھنے شرو ع کر دیے۔جب آخری روزے کی افطاری کرنے لگے اور روزہ کھولنے کے لیے منہ میں کوئی چیز ڈالی تو یک دم میں نے آنکھیں کھول دیں اور میں نے آواز دی کہ مجھے نظر آنے لگ گیا ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام بار ہا مجھے صرف یہی فرماتے تھے کہ قرآن کا ترجمہ اور بخاری حضرت مولوی صاحب یعنی حضرت خلیفہ اوّلؓ سے پڑھ لو۔اِس کے علاوہ یہ بھی فرمایا تھا کہ کچھ طب بھی پڑھ لو کیونکہ یہ ہمارا خاندانی فن ہے۔ غرض میں نےحضرت خلیفہ اوّل ؓسے طب بھی پڑھی،قرآن کریم کی تفسیراور بخاری بھی۔ چند عربی کے رسالے بھی مجھے آپؓ سے پڑھنے کا اتفاق ہوا۔ غرض یہ میری علمیت تھی۔

اللہ تعالیٰ نے حضرت مصلح موعود ؓکو علوم سے ایسا پُر کیا کہ آپؓ کی باون سالہ زندگی اس پر گواہ ہے کہ چاہے وہ دینی مضامین کا سوال ہے یا کسی دنیاوی مضمون کا جب بھی آپؓ کو کسی موضوع پر لکھنے اور بولنے کا کہا گیا آپؓ نے علم و عرفان کے دریا بہا دیے۔ بےشمار موقعوں پر آپؓ کی تقاریر کو غیروں نے بھی بےحد سراہا اور اخباروں نے بھی خبریں جمائیں۔

حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے الہام اور اَعلام کے ذریعہ سے مجھے بتا دیا ہے کہ وہ پیشگوئی میرے وجود میں پوری ہو چکی ہے اور اب دشمنانِ اسلام پر خدا تعالیٰ نے کاملِ حجت کر دی ہے کہ اسلام خدا تعالیٰ کا سچا مذہب، محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خدا تعالیٰ کے سچے رسول اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام خدا تعالیٰ کے سچے فرستادہ ہیں۔

پس یہ پیشگوئی تو پوری ہوئی لیکن پیشگوئی کے الفاظ انشاءاللہ اُس وقت تک قائم رہیں گے جب تک حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا مشن پورا نہ ہو جائے اور اسلام کا جھنڈا تمام دنیا میں نہ لہرانے لگ جائے۔اس پیشگوئی پر ہمارے جلسے تبھی فائدہ مند ہیں جب ہم اس مقصد کو ہمیشہ سامنے رکھیں کہ ہم نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت اور وقار کو دنیا میں قائم کرنا ہے اور اسلام کی سچائی دنیا پر ظاہر کر کے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے جھنڈے تلے سب کو لے کر آنا ہے۔آج حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام کے ماننے والوں کے سوااور کوئی نہیں جس کے ذریعہ سے اسلام کا جھنڈا دنیا میں دوبارہ لہرائے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس کام کے کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔(آمین)

٭…٭…٭

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button