متفرق مضامین

حضرت مصلح موعودؓ کے مبارک دور میں خلافتِ حقہ اسلامیہ کا استحکام

(شمشاد احمد قمر۔ پرنسپل جامعہ احمدیہ جرمنی)

آپؓ نے خلافت کی ضرورت و اہمیت اور برکات کو واضح کرنے کے لیے ہر پلیٹ فارم استعمال فرمایا۔… اور دنیا پر ثابت کیا کہ خلافت وہ انعام خدا وندی ہے جو اس کے مومن اور صالح بندوں سے روکا نہیں جاسکتا اور آئندہ اسلام کی ترقی کا دارومدار قیام خلافت سے ہی وابستہ ہے۔

دَورآخرین میں آنحضور ﷺ نے اسلام اور مسلمانوں کی حالت بہت کمزور ہو جانے کی پیشگوئی فرمائی تھی لیکن اس کے ساتھ ساتھ آنحضور ﷺنے اس دَور میں ایک امام کے آنے اور اس کے ذریعے اسلام کے از سر نو احیا اور غلبے کی خوشخبری بھی بیان فرمائی۔آپ ﷺ نے امام موعود ؑاور اس کی جماعت کی حالت بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ مَا اَنَا عَلَیْہِ وَاَصْحَابِی کہ ان کی حالت وہی ہو گی جو میری اور میرے صحابہؓ کی ہے۔ آنحضورﷺ اور آپ کے صحابہؓ کی حالت اللہ تعالیٰ قرآن کریم میںیہ بیان فرماتا ہے کہ محمدﷺ اور آپ کے صحابہؓ آپس میں تو بہت نرمی اور رحم کا سلوک کرتے ہیں لیکن جہاں کفر کی کوئی بات دیکھیں تو اپنے ایمان میں بہت سخت ہیں۔ ان کے رکوع و سجود (ان کی عبادت الٰہی) کا اثر ان کے چہروں سے عیاں ہےاور یہ اللہ کے فضل اور رضا مندی کے متلاشی رہتے ہیں۔ نیز فرمایا کہ ذٰلِکَ مَثَلُہُمۡ فِی التَّوۡرٰٮۃِ ۚۖۛ وَمَثَلُہُمۡ فِی الۡاِنۡجِیۡلِ ۚ۟ۛ کَزَرۡعٍ اَخۡرَجَ شَطۡـَٔہٗ فَاٰزَرَہٗ فَاسۡتَغۡلَظَ فَاسۡتَوٰی عَلٰی سُوۡقِہٖ یُعۡجِبُ الزُّرَّاعَ لِیَغِیۡظَ بِہِمُ الۡکُفَّارَ ؕ وَعَدَ اللّٰہُ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ مِنۡہُمۡ مَّغۡفِرَۃً وَّاَجۡرًا عَظِیۡمًا۔(الفتح:30) ان کی (یعنی محمد ﷺ اور آپ کے صحابہؓ کی) یہ مثال تورات میں بیان ہوئی ہے۔ جبکہ انجیل میں ان کی مثال یہ (بیان ہوئی ہےکہ) جس طرح ایک کھیتی ہوتی ہے جو(آغاز میں ) اپنی کونپل نکالتی ہے، پھر (بتدریج بڑھتے ہوئے) اسے مضبوط کرتی ہے پھر مزید موٹی اور مضبوط ہو جاتی ہے اور پھر اپنے تنے پر ( مضبوطی سے) قائم ہو جاتی ہے۔ یہاں تک کہ زمیندار کو پسند آنے لگتی ہے اور اس ( نشوونما اور ترقی)کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ کافر ان کو دیکھ کر غیظ و غضب میں آجاتے ہیں۔اور یہ اللہ کا وعدہ ہے کہ وہ ان لوگوں میں سےایمان لانے اور عمل صالح کرنے والوں کی مغفرت فرمائے گا اور انہیں اجر عظیم عطا فرمائے گا۔

اسی طرح خدا تعالیٰ نے ایمان لانے اور عمل صالح کرنے والوں سے سورت النور کی آیت نمبر 56 میں خلافت عطا فرمانے کا بھی وعدہ کیا ہے۔تو آنحضور ﷺ کی پیشگوئی اور قرآن کریم میں بیان فرمودہ آپؐ کی اور آپؐ کے صحابہ ؓکی حالت اور ایمان اور عمل صالح کرنے والوں سے اللہ کا خلافت کاوعدہ ، ان تینوں کو ملا کے دیکھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ خدا اور اس کے رسول ﷺ نے آخرین کے دَور میں آنے والے موعود اور اس کی جماعت کی بڑی واضح نشاندہی فرمادی ہے۔ کہ وہ جماعت رکوع و سجود کرنے والی اور اللہ کی رضا پر چلتے ہوئے صبر واستقامت اختیار کرنے والی ہوگی جسے ایمان اور عمل صالح کرنے کے نتیجے میں خلافت عطا کی جائے گی اور وہ جماعت ایک پودے کی طرح تدریجاً ترقی کرنے والی ہوگی جس کا آغاز تو ایک چھوٹے سے بیج سےنکلنے والی معمولی سی روئیدگی سے ہو گا لیکن وقت کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ کی تائید و نصرت سے مضبوط سے مضبوط تر ہوتی ہوئی ایک تناور درخت بن جائے گی۔ اس کی روز افزوں ترقی اللہ تعالیٰ اور اس کے مومن بندوں کے لیے تو خوشی کا باعث ہو گی لیکن مخالفین اس کی ترقی اور مضبوطی سے حسد میں جلتے اورپیچ وتاب کھاتے رہیں گے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس پیشگوئی کے عین مطابق یہ دعویٰ کیا کہ’’میں تو ایک تخم ریزی کرنے آیا ہوں سو میرے ہاتھ سے وہ تخم بویا گیااور اب وہ بڑھے گا اور پھولے گا اور کوئی نہیں جو اس کو روک سکے۔‘‘(تذکرۃ الشہادتین، روحانی خزائن جلد 20صفحہ 67)

چنانچہ آپؑ نے اپنی عمر کے آخری سالوں میں خدا سے علم پا کر اپنی وفات کے قریب ہونے اور احباب جماعت کو اس غم پہ وفات سے قبل ہی تسلّی دیتے ہوئے فرمایا کہ’’تم میری اس بات سے جو میں نے تمہارے پاس بیان کی غمگین مت ہو اور تمہارے دل پریشان نہ ہو جائیں کیونکہ تمہارے لئے دوسری قدرت کا بھی دیکھنا ضروری ہےاور اس کا آنا تمہارے لئے بہتر ہے کیونکہ وہ دائمی ہے جس کا سلسلہ قیامت تک منقطع نہیں ہوگا۔اور وہ دوسری قدرت نہیں آسکتی جب تک میں نہ جاؤں۔ لیکن جب مَیں جاؤں گا تو پھر خدا اس دوسری قدرت کو تمہارے لئے بھیج دے گاجو ہمیشہ تمہارے ساتھ رہے گی…مَیں خدا کی طرف سے ایک قدرت کے رنگ میںظاہر ہوا اورمَیںخداکی ایک مجسم قدرت ہوں۔ اور میرے بعد بعض اور وجود ہوں گے جو دوسری قدرت کا مظہر ہوں گے۔سو تم خدا کی قدرت ثانی کے انتظار میں اکٹھے ہو کر دعا کرتے رہو۔اور چاہئے کہ ہر ایک صالحین کی جماعت ہر ایک ملک میں اکٹھے ہوکر دعا میں لگے رہیں تا دوسری قدرت آسمان سے نازل ہواور تمہیں دکھا دے کہ تمہارا خدا ایسا قادر خدا ہے‘‘(الوصیت، روحانی خزائن جلد 20صفحہ 305تا306)

نیز حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کے بارے میں فرمایا کہ ’’خدا نے مجھے خبر دی ہے کہ مَیں تیری جماعت کے لئے تیری ہی ذرّیت سے ایک شخص کو قائم کروں گا اور اس کو اپنے قرب اور وحی سے مخصوص کروں گا اور اس کے ذریعہ سے حق ترقی کرے گا اور بہت سے لوگ سچائی کو قبول کریں گے۔ سو ان دنوں کے منتظررہو۔ اور تمہیں یادرہے کہ ہر ایک کی شناخت اس کے وقت میں ہوتی ہے اور قبل از وقت ممکن ہے کہ وہ معمولی انسان دکھائی دے یا بعض دھوکا دینے والے خیالات کی وجہ سے قابلِ اعتراض ٹھہرےجیسا کہ قبل از وقت ایک کامل انسان بننے والا بھی پیٹ میں صرف ایک نطفہ یا علقہ ہوتا ہے‘‘(الوصیت، روحانی خزائن جلد 20صفحہ 306،حاشیہ)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات کے بعد اللہ کے ہاتھ سے لگائے گئے اس پودے نے خلافت کی شکل میں نئی کونپل نکالی جس سے مومنوں کے دل خوشی اور اطمینان سے لبریز ہو گئے لیکن منکرین و منافقین حسد اور غیظ وغضب کی آگ میں جلتے ہوئے پیچ و تاب کھانے لگے۔چنانچہ خلافت اولیٰ میں بعض نادانوں نے اس کونپل کو کچلنا چاہا لیکن حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا موعود فرزند ارجمند حضرت مرزا بشیرالدّین محمود احمد رضی اللہ عنہ خلافت کے ساتھ ایک ڈھال کی صورت میں کھڑا رہا اور اس مالکِ حقیقی کے ہاتھ سے لگائے گئے اس پودے کی حفاظت میں کوئی کسر باقی نہ چھوڑی۔

حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل رضی اللہ عنہ کی وفات اور منکرین خلافت کا فتنہ

حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل رضی اللہ عنہ کی وفات پہ فتنہ و فساد کا ایک طوفان کھڑا کر دیا گیا۔ جماعت کے ایک قلیل سے طبقہ نے جو اپنے آپ کو بڑے عالم سمجھتے تھے اور بڑے عہدوں پر فائز تھے، سرے سے خلافت کا ہی انکار کر دیا۔ دشمن پوری قوّت سے اس پودے کی جڑ کاٹنا چاہتا تھا اور بعض کمزور ابتلا کا شکار ہو گئے تھے۔ لیکن خدا تعالیٰ نے اس شجرۂ طیّبہ کی آبیاری نورِ خدا وندی سے منوّر اسی موعود بیٹے کے سپرد فرمادی اور حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ اس طوفان کے سامنے ایسے سینہ سپر ہوئے کہ طوفانوں کا رُخ پلٹ گیا۔ بجلیاں خاموش ہو گئیں۔ گرجتے بادل چھٹ گئےاور انوارِ الٰہی کی وہ روحانی بارش ہوئی کہ حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کے دَورخلافت میں یہ شجرہ طیّبہ فَآزَرَهُ کی سطح سے ترقی کرتا ہوا فَاسْتَغْلَظَ فَاسْتَوَىٰ عَلَىٰ سُوقِهِ کے مقام پہ فائز ہو گیا۔اور اب اللہ تعالیٰ کےفضل سے یہ درخت اتنا مضبوط ہو چکا ہےکہ منکرین و منافقین کے سینوں پہ غیظ وغضب کے سانپ لوٹ رہے ہیں اور وہ پیچ وتاب کھا رہے ہیں کہ کسی طرح اس درخت کو نقصان پہنچا سکیں۔ لیکن فدائینِ اسلام و احمدیت اور جاں نثارانِ خلافت کی طرف سے انہیں یہی صدا سنائی دیتی رہے گی کہ

شاخوں سے ٹوٹ جائیں وہ پتّے نہیں ہیں ہم

آندھی سے کوئی کہہ دے کہ اوقات میں رہے

چونکہ قرآن و حدیث کی پیشگوئیوں کے مطابق مستقبل میں جماعت کی ترقی اور دین اسلام کا استحکام خلافت علیٰ منہاج نبوّت سے وابستہ تھا لہٰذا حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے منصب خلافت پر فائز ہوتے ہی استحکام خلافت کی طرف فوری توجہ فرمائی۔ خدا تعالیٰ نے آپؓ کو دین اسلام کا فہم اور اعلیٰ درجہ کی فراست عطا فرمائی تھی۔ آپؓ قرآن و حدیث سے انبیاء و خلفاء کے حالات و واقعات اور مختلف اقوام کا اپنے انبیاء سے رویّہ اور مومنین و منکرین سے خدا تعالیٰ کے سلوک کے اور اسی طرح مختلف علوم جن کا علم اللہ تعالیٰ نے آپ کو عطا فرمایا ،ان سب کا نہایت عمیق نظر سے جائزہ لیتے اور انہی کی روشنی میں آئندہ کا لائحہ عمل تیار فرماتے۔ پھر حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے انتہائی قربت اور حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل رضی اللہ عنہ کے دَور میں خلافت کے خلاف فتنوں کا خود تجربہ بھی کر چکے تھے لہٰذا خدا تعالیٰ کی عطا کردہ فراست سے کام لیتے ہوئے آپؓ حالات کا مردانہ وار مقابلہ کرتے ہوئے آگے بڑھتے رہے۔ دیکھنے والی نظروں نے دیکھا کہ وہی نوجوان جس کے متعلق منکرینِ خلافت قادیا ن سے جاتے ہوئے کہتے تھے کہ جماعت پچیس سالہ نا تجربہ کار نوجوان کے ہاتھ میں دے دی گئی ہے۔ اب نعوذ باللہ جماعت کا شیرازہ بکھر جائے گا۔اسی نوجوان کے ذریعہ خدا نے جماعت اور خلافت کو ایسا استحکام عطا فرمایا کہ اپنے پرائے سب انگشت بدندان ہو گئے۔

آپؓ نے خلافت کی ضرورت و اہمیت اور برکات کو واضح کرنے کے لیے ہر پلیٹ فارم استعمال فرمایا۔ تحریر ، تقریر، خطابات، خطبات جمعہ ، اشتہارات ، مضامین اور کتب کی تالیف میں قرآن و حدیث کی تشریح و تفسیر کے ذریعہ خلافت کا مقام دنیا پہ واضح کرتے ہوئے استحکام خلافت کے سا مان کیے اور دنیا پر ثابت کیا کہ خلافت وہ انعام خدا وندی ہے جو اس کے مومن اور صالح بندوں سے روکا نہیں جا سکتا اور آئندہ اسلام کی ترقی کا دارومدار قیام خلافت سے ہی وابستہ ہے۔

کون ہے جو خدا کے کام کو روک سکے؟

انتخاب ِخلافت سے پہلے ہی منکرین خلافت نے ہر طرف اپنے کارندے بھجوا کر پراپیگنڈہ کیا اور احباب جماعت کو خلافت کی بیعت سے روکنے کی کوشش کی تھی۔منصبِ خلافت پر فائز ہوتے ہی حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے اس فتنہ کے سامنے فوری بند باندھنے کے لیے بکثرت رسائل اور اشتہارات کے ذریعہ منکرین کے اعتراضات کے مؤثر جوابات دیے۔21؍ مارچ 1914ء کو لکھا جانے والا ایک اشتہار بعنوان ’’کون ہے جو خدا کے کام کو روک سکے؟‘‘بہت اہمیت کا حامل تھا۔ اس میں حضور ؓفرماتے ہیں کہ’’بعض لوگ خلافت کے خلاف لوگوں کو جوش دلا رہے ہیں یا کم سے کم اس بات پر زور دیتے ہیں کہ خلیفہ ایک پریذیڈنٹ کی حیثیت میں ہو اور یہ کہ ابھی تک جماعت کا کوئی خلیفہ نہیںہؤا۔ مگر میں اس اعلان کے ذریعہ سے تمام جماعت کو اطلاع دیتا ہوں کہ خلیفہ کا ہونا ضروری ہے…خدا نے جسے خلیفہ بنانا تھا بنا دیا اور اب جو شخص اس کی مخالفت کرتا ہے وہ خدا کی مخالفت کرتا ہے۔‘‘(کون ہے جو خدا کے کام کو روک سکے،انوار العلوم جلد2صفحہ 14)

پھر فرمایا:’’اب کون ہے جو مجھے خلافت سے معزول کر سکے۔ خدا نے مجھے خلیفہ بنایا ہے اور خدا تعالیٰ اپنے انتخاب میں غلطی نہیں کر تا۔اگر سب دنیا مجھے مان لے تو میری خلافت بڑی نہیںہو سکتی۔ اور اگر سب کے سب خدانخواستہ مجھے ترک کر دیں تو بھی خلافت میں فرق نہیں آسکتا۔‘‘(کون ہے جو خدا کے کام کو روک سکے،انوارالعلوم جلد 2صفحہ 18)

یہ اشتہار آپ کے خلوص دل، عزمِ صمیم، توکّل علی اللہ اور یقین کامل کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

دعا، عزم اور توکّل علیٰ اللہ

فتنۂ انکارِ خلافت کے سدّ باب کے لیے اگرچہ آپ نے ہر قدم اُٹھایا لیکن ایک لمحہ کے لیے بھی اپنی کوششوں پر بھروسا نہیں کیا بلکہ مسلسل عاجزانہ دعاؤں سے اللہ تعالیٰ سے مدد اور راہ نمائی طلب کرتے رہے اور احباب جماعت کو بھی ہمیشہ اس کی تلقین فرماتے رہے۔آپؓ فرماتے ہیں:’’پس میں نصیحت کرتا ہوں کہ تم اللہ تعالیٰ کے حضور میں گر جاؤ اور کہو کہ اے مولیٰ کریم! یہ نظارہ تو ہمارے وہم میں بھی نہ تھا کہ وہ جماعت جس کو تونے اپنے ہاتھ سے بنایا اور۳۱سال سے تو اس کی حفاطت کرتا آیا ہے۔ اب اس پر یہ ابتلاء آیا ہے…پس تم راتوں کو اُٹھ کر تہجد پڑھو ، جو روزے رکھ سکتے ہیں وہ روزے رکھیں۔صدقات اور خیرات کرو۔اور دن کی عبادتوں میں بھی زیادتی کرو…خوب یاد رکھو کہ روزے اورعبادت زیادہ کرنے ، صدقات و خیرات سےمصائب ٹل جایا کرتے ہیں‘‘(الفضل25؍مارچ1914ءصفحہ16)

پھر فرمایا کہ’’میں اس بات کی پروا نہیں کرتا کہ لوگ میرا ساتھ دیں گے یا نہیں؟ میرا اللہ تعالیٰ پر بھروسہ ہے اور اس کے سوا کوئی نہیں جو میرا کوئی نقصان کر سکے یا مجھے کوئی نفع دے سکے‘‘(الفضل6؍اپریل1914ء)

احمدیہ کانفرنس کا انعقاد

فتنہ پرداز خلافتِ اولیٰ میں اس بات پر بہت زور دیتے تھے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اصل جانشین صدر انجمن ہے اور انجمن کے لیے خلیفہ کے ہر فیصلے کی تعمیل لازم نہیں بلکہ خلیفہ وقت انجمن کے فیصلوں اور قواعد کا پابند ہے۔ حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے خلافت ثانیہ کے آغاز میں ہی 12؍ اپریل 1914ء کو جماعت احمدیہ کے نمائندگان کی کانفرنس بلائی جو احمدیہ کانفرنس کے نام سے مشہور ہے۔ اس میں انجمن کے قاعدہ نمبر18میں ترمیم کی قرارداد منظور کی گئی۔قاعدہ نمبر 18اس طرح تھا کہ’’ہر معاملہ میں مجلس معتمدین اور اس کے ماتحت مجلس یا مجالس اگر کوئی ہو ں اور صدر انجمن احمدیہ اور اس کی کل شاخہائے کے لئےحضرت مسیح موعود علیہ السلام کا حکم قطعی اور ناطق ہو گا‘‘(تاریخ احمدیت جلد 4صفحہ 142)

مخالفین اس کی تشریح یہ کرتے کہ اس قاعدہ کے مطابق صرف حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا حکم قطعی اور ناطق ہے خلیفہ کا نہیں اور خلافت کی ہتک کرتے۔ اب اس قرارداد میں یہ پاس ہوا کہ اس قاعدہ میں ترمیم کر کے ’’حضرت مسیح موعود علیہ السلام ‘‘ کے بجائے ’’حضرت خلیفۃ المسیح مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب خلیفہ ٔثانی‘‘ کے الفاظ درج کیے جائیں۔مقامی جماعتوں نے بھی اس کے حق میں ریزولیوشنز پا س کیے اور بالآخر مجلس معتمدین نے بھی اس ترمیم کی منظوری دے دی۔ اور اس قاعدہ میں ترمیم کے بعد الفاظ اس طرح کر دیے گئے کہ’’حضرت خلیفۃ المسیح مرزا بشیرالدین محمود احمد خلیفۂ ثانی کا حکم قطعی اور ناطق ہوگا‘‘۔اس کے بعد کسی کے لیے قواعد کا کوئی ابہام باقی نہ رہا۔لہٰذا یہ فیصلہ نظام خلافت کی ایک عظیم فتح اور استحکامِ خلافت میں ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔

مجلس شوریٰ کاقیام

حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور خلافت اولیٰ کے دَور میں شَاوِرْھُمْ فِی الْاَمْرِ(آل عمران:160) کے قرآنی حکم کے تحت بوقت ضرورت علماءو بزرگان سمیت متعلقہ احباب سے مشورہ کیا جاتا تھا۔ لیکن خلافت ثانیہ میں 12؍اپریل 1914ء کو بلائی جانے والی یہ کانفرنس ایسا پہلا مشاورتی اجتماع تھا جس میں بیرونی جماعتوں کے نمائندگان بھی شامل تھے۔گویا یہ کانفرنس مجلس شوریٰ کا ایک ابتدائی قدم تھا۔ اس کے بعد حضورؓ نے 1922ءمیں باقاعدہ مجلس شوریٰ کا نظام قائم فرمایا اور اس کے قواعد و ضوابط مقرر فرمائے۔اس میں عورتوں کو بھی حق نمائندگی دیا گیا۔ مجلس شوریٰ کی اہمیت ، برکات ، اس کا منصب، تجاویز اور ایجنڈے کی ترتیب کا طریقہ کار، فیصلہ جات کی اہمیت اور مجلس شوریٰ کی کثرت رائے اور خلیفہ ٔوقت کا کثرتِ رائے سے مختلف فیصلہ کرنے کا اختیار وغیرہ۔ حضور ؓنے یہ سب امور اسلامی تعلیمات کی روشنی میں اس قدر کھول کر بیان کیے کہ آج اگر کوئی جماعت احمدیہ کے اسلامی نظام شوریٰ کا ہی مطالعہ کر ے تو اس پر اسلام و احمدیت اور خلافت کی صداقت واضح ہو جائے۔

مالی نظام کی حفاظت

چندوں کی جمع شدہ رقم تو منکرین خلافت پہلے ہی ساتھ لے گئے تھے۔پھر انہوں نے جماعتوں میں اپنے نمائندے بھیجنا شروع کر دیے جو احباب جماعت کو خلافت کے خلاف اکساتے اور چندے بھی مانگتے۔نیز انہوں نے اپنے اخبار ’’پیغام صلح‘‘میں مزید مختلف چندوں کی اپیلیں شائع کیں۔اس پہ حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے جماعتوں میں ہدایات بھجوائیں کہ تمام مبائعین اپنے تمام چندے خلیفۃ المسیح کی معرفت بھجوائیں۔میں انجمن سے رسید کٹوا کر بھجواؤں گا۔ جہاں سیکرٹری مال مبائع نہ ہو وہاں کے مبائعین اپنا سیکرٹری مقرر کریں۔نیز فرمایا کہ خلیفۂ وقت کی منظوری کے بغیر کسی چندہ مانگنے والے کو کوئی چندہ ادا نہ کیا جائے خواہ چندہ مانگنے والا کوئی بھی ہو اور چندہ کیسے ہی نیک کام کے لیے کیوں نہ مانگا جائے۔اس طرح چندہ جات کا نظام بھی محفوظ اور مستحکم ہو گیا اور احباب جماعت میں ایک نظام کے تحت مالی قربانی کی رُوح جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ذریعہ پیدا کی گئی تھی اس میں اس قدر ترقی ہوئی کہ بعد میں حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ اور دیگر خلفائے کرام کی طرف سے شروع کی گئی متعدد نئی تحریکوں میں احباب جماعت کی قربانیاں اس کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔

تحریک جدید کا قیام

ان حالات میں جہاں اندر سے خلافت اور باہر سے جماعت احمدیہ کو مٹانے اور قادیان کی اینٹ سے اینٹ بجا دینے کے دعوے کیے جارہے تھے۔اس اولوالعزم مردِخدا نے دین اسلام و احمدیت کو اکناف عالم میں پھیلانے کے لیے 1934ء میں تحریک جدید کا آغاز فرمایا جس سے دنیا میں اشاعت اسلام کے نتیجے میں بیرونی ممالک میں جماعتوں کے قیام کے ساتھ ساتھ خلیفۂ وقت سے رابطہ اور تعلق پیدا ہوتا گیا۔ آج اسی کا نتیجہ ہے کہ دنیا کے ہر کونے میں مبلغین پہنچ گئے ہیں ، مشن ہاؤسز قائم ہو گئے، مساجد تعمیر ہوئیں ، ہسپتال اور سکول قائم کیے گئےاور آج متعدد ممالک میں مبلغین تیار کرنے کے لیے جامعات قائم ہو چکے ہیں۔جو خلافت کے زیر سایہ اسلام و احمدیت کا پرچم بلند کیے ہوئے ہیں۔ جہاں جہاں جماعتیں قائم ہیں وہاں دنیا میں نظام خلافت بھی مضبو ط و مستحکم ہوتا جاتا ہے۔خلیفۂ وقت کی دُنیا کے سربراہوں سے ملاقاتیں الٰہی خلافت کی شان و شوکت اور استحکام کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ اور آج دہشت گردی کے ماحول میں خلافت احمدیہ امن و استحکام کے اسلامی نشان کے طور پہ پہچانی جا رہی ہے۔ یہ سب اس بیج کا نتیجہ ہے جو حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے تحریک جدید کی شکل میں بویا تھا۔

وقف جدید کا قیام

اسی طرح حضور ؓنے دیہات میں تبلیغ اور تربیت کے پروگرام شروع کرنے کے لیے 1957ءمیں وقف جدید کا قیام فرمایا جو برّصغیر کے دیہات میں بھی اسلام اور احمدیت کا پیغام اور خلیفۂ وقت کی آواز ہر فرد تک پہنچانے کا ذریعہ ثابت ہوئی۔اور اب وہی وقف جدید پوری دنیا میں یہ خدمت سرانجام دے رہی ہے۔

نظامِ جماعت کی تشکیلِ نو

خلیفہ ٔوقت نبی کا جانشین ہوتا ہے۔ نبی کے بعد اس کے کام اور اس کی جماعت کو مستحکم کرتا ہے۔لہٰذا نظام جماعت کی مضبوطی اور استحکامِ خلافت کو ایک دوسرے سےالگ نہیں کیا جا سکتا۔ جتنا نظام مضبوط ہوگا اتنی ہی خلافت بھی مضبوط ہو گی اور اگر خلافت مضبوط ہو گی تو نظام جماعت مضبوط ہوگا۔چنانچہ حضورؓ نے جماعت میں مختلف کاموں کو احسن رنگ میں سرانجام دینے اور تمام احباب جماعت سے مضبوط تعلق اور رابطہ قائم رکھنے کے لیے الگ الگ شعبہ جات قائم فرمائے۔ یہ نظام ترتیب دیتے ہوئے حضور ؓنے دینی ، دنیوی اور قدرتی نظاموں کا بھی بہت گہری نظر سے مطالعہ فرمایا اور انہیں بھی مدِّ نظر رکھا۔چنانچہ ڈاکٹر حشمت اللہ خاں صاحب فرماتے ہیں کہ

’’ایک مرتبہ حضور نے مجھے…بتایا کہ آپ نظام جماعت میں اصلاحی تبدیلیاں کرنے پر غورفرما رہے ہیں۔لہٰذا چاہتے ہیں کہ انسانی جسم کے نظام کا مطالعہ کریں…چنانچہ آپ نےAnatomyاورPhysiologyوغیرہ کی کتب حاصل کرکے ان کا مطالعہ فرمایا اور بہت سے مفید نتائج اخذ کئے‘‘(سوانح فضل عمر جلد 2صفحہ 127)

چونکہ حضور ؓکی ان تمام خرابیوں پر گہری نظر تھی جو کہ صدر انجمن احمدیہ اور مجلس معتمدین کے قیام کی غرض کو نہ سمجھنے کی وجہ سے پیدا ہو سکتی تھیں۔لہٰذا حضورؓ نے مجلس معتمدین کو اپنی جگہ قائم رہنے دیا لیکن مختلف صیغہ جات کے سربراہوں پر مشتمل ایک الگ مجلس قائم فرمائی جس کا نام مجلس نظارت رکھا۔اور ان نظارتوں کا ایک مربوط نظام ترتیب دیتے ہوئے فرمایا کہ’’احباب جماعت کی اطلاع کے لئے شائع کیا جاتا ہے کہ ضروریات سلسلہ کو پورا کرنے کے لئے قادیان اور بیرونی جماعت کے احباب سے مشورہ کرنے کے بعد میں نے یہ انتظام کیا ہے کہ سلسلہ کے مختلف کاموںکے سر انجام دینے کے لئے چند ایسے افسران مقرر کئے جائیں جن کا فرض ہو کہ وہ حسب موقعہ اپنے متعلقہ کاموں کو پورا کرتے رہیں اور جماعت کی تمام ضروریات کو پوراکرنے میں کوشاں رہیں۔ فی الحال میں نے اس غرض کے لئے ایک ناظر اعلیٰ۔ ایک ناظر تالیف و اشاعت،ایک ناظر تعلیم و تربیت اور ایک ناظر امور عامہ اور ایک ناظر بیت المال مقرر کیا ہے۔‘‘(الفضل 4؍جنوری 1919ء، بحوالہ سوانح فضل عمر جلد 2صفحہ 130)

پھر1925ء میں حضور ؓنے دونوں تنظیموں(مجلس معتمدین اور مجلس نظارت) کو مدغم کر دیا اور جملہ نظارتوں کے ذمّہ دارافسر جو ناظر کہلاتے تھے صدر انجمن احمدیہ کا حصّہ بن گئے۔بعد میں وقت کےتقاضوں کے ساتھ نظارتوں میں اضافہ ہوتا گیا۔

نظام امارت

مرکزی سطح پہ نظام کی تشکیل ِنو کے علاوہ آپؓ نے نہایت باریک بینی سے نچلی سطح تک خلیفہ وقت سے رابطہ اور تعلق کو مضبوط کرنے کے لیے جماعت کی مختلف شاخوں کی بھی تنظیم نو فرمائی۔مقامی اور دیہاتی جماعتوں سے لے کر ضلعی اور صوبائی سطح تک امارت کا نظام قائم فرمایا۔ پھر اپنے خطبات میں امیر اور نظام جماعت کی اطاعت کے اسلامی تصوّر کو بھر پور طریقے سے اجاگر فرمایا۔ اس سےجہاں خلافت کو استحکام ملا وہاں صدر انجمن کو بھی رابطوں میں سہولت پیدا ہوئی۔

ذیلی تنظیموں کا قیام اور خلافت سے عہدوفاداری

حضورؓ نے مختلف اوقات میں تمام احباب جماعت کی ذیلی تنظیمیں قائم فرمائیں۔ جن میں مردوں میں سات سے پندرہ سال تک کے بچوں کے لیے’’اطفال الاحمدیہ‘‘، پندرہ سے چالیس سال تک کے نوجوانوں کی تنظیم’’خدام الاحمدیہ ‘‘قائم کی گئی اور چالیس سال سے اُوپر کے مردوں کی تنظیم’’ انصار اللہ‘‘ قائم فرمائی۔ پھر ان تنظیموں کو مزید نچلی سطح تک تقسیم کرکے قائدین ، ناظمین ،حتی ٰکہ سائق تک مقرر کیے گئے تاکہ جماعت کا کوئی فرد خواہ وہ چھوٹا سا بچّہ ہی کیوں نہ ہو جماعتی رابطے سے الگ نہ ہو۔

اسی طرح عورتوں میں بھی سات سے پندرہ سال تک بچیوں کی تنظیم ’’ناصرات الاحمدیہ‘‘ اور پندرہ سال سے اوپر کی تمام عورتوں کی تنظیم’’لجنہ اماء اللہ‘‘قائم فرمائی۔(ان میں ناصرات الاحمدیہ کی تنظیم لجنہ اماءاللہ کی نگرانی میں اور اطفال الاحمدیہ کی تنظیم خدام الاحمدیہ کی نگرانی میں کا م کرتی ہےاور یہ سب تنظیمیں براہ راست خلیفۂ وقت کی نگرانی میں کام کرتی ہیں۔)

ان میں سے ہر تنظیم اپنے ہر پروگرام میں ایک عہد دہراتی ہے۔خلافت سے وفا اور اس کی حفاظت کرنا ہر عہد کا بنیادی حصّہ ہے۔چنانچہ ہر تنظیم کے عہد میں آپ کو ایسے الفاظ ملیں گے۔مثلاً

انصار اللہ :’’ نظام خلافت کی حفاظت کے لیے ان شا اللہ آخر دم تک جدو جہد کرتا رہوں گا اور اس کے لیے بڑی سے بڑی قربانی کے پیش کرنے کے لیے ہمیشہ تیار رہوں گا۔‘‘

خدام الاحمدیہ:’’خلافت احمدیہ کے قائم رکھنے کی خاطر ہر قربانی کے لیے تیار رہوں گا اور خلیفۂ وقت جو بھی معروف فیصلہ فرمائیں گے اس کی پابندی کرنی ضروری سمجھوں گا۔‘‘

اطفال الاحمدیہ:’’حضرت خلیفۃ المسیح کی تمام نصیحتوں پر عمل کرنے کی کوشش کروں گا۔‘‘

لجنہ اماءاللہ:’’خلافت احمدیہ کے قائم رکھنے کے لیے ہر قربانی کے لیے تیار رہوں گی۔‘‘

اس کے علاوہ آپؓ نے 1959ء میں خدام الاحمدیہ کے اجتماع کے موقع پر ایک اور عہد لیاجو تاریخ احمدیت میں سنگ میل کی اہمیت رکھتا ہے۔اس عہد میں اسلام ، احمدیت اور رسول کریم ﷺ کے نام کی اشاعت کے علاوہ خلافت کی حفاظت کے متعلق یہ الفاظ بھی شامل تھے کہ

’’ہم اس بات کا بھی اقرار کرتےہیں کہ ہم نظام خلافت کی حفاظت اور اس کے استحکام کے لئےآخردم تک جدوجہد کرتے رہیں گے اور اپنی اولاد در اولاد کو ہمیشہ خلافت سے وابستہ رہنےاور اس کی برکات سےمستفیض ہونے کی تلقین کرتے رہیں گے۔ تاکہ قیامت تک خلافت احمدیہ محفوظ چلی جائے۔اور قیامت تک سلسلہ احمدیہ کے ذریعہ اسلام کی اشاعت ہوتی رہے۔اور محمد رسول اللہ کاجھنڈا دنیا کے تمام جھنڈوں سےاونچا لہرانےلگے۔اے خدا تو ہمیں اس عہد کو پورا کرنے کی توفیق عطا فرما۔‘‘

پھر حضور ؓنے اس عہد کے متعلق مزید فرمایا کہ’’یہ عہد…متواتر چار صدیوں بلکہ چار ہزار سال تک جماعت کے نوجوانوں سے لیتےچلےجائیں۔ اور جب تمہاری نئی نسل تیار ہو جائے تو پھر اسے کہیں کہ وہ اس عہد کواپنےسامنےرکھےاورہمیشہ اسے دہراتی چلی جائے۔ اور پھر وہ نسل یہ عہد اپنی تیسری نسل کےسپرد کردےاوراس طرح ہرنسل اپنی اگلی نسل کو اس کی تاکید کرتی چلی جائے۔‘‘(الفضل 28؍اکتوبر1959ء،بحوالہ سوانح فضل عمر جلد4صفحہ 528تا529)

اس طرح ایک چھوٹے بچّے سے لے کر بوڑھے افراد تک پوری جماعت کو مختلف امارتوں اور ذیلی تنظیموں کے ذریعہ ایک انتہائی مربوط نظام میں پرودینا جماعتی استحکام کا ایسا شاندار نمونہ پیش کرتا ہے جس کو دیکھ کر دشمن بھی رشک کرتا ہے۔

معرکہ آرا تقاریرو تحریرات

آپؓ کی ساری زندگی اسلام کے دفاع، اشاعت اسلام، خدا اور اس کے رسولﷺ کے نام کو دنیا کے کناروں تک پہنچانے کی کوشش میں گذری اور ان سب امور کی انجام دہی کے لیے خلافت کی اہمیت وضرورت کو سمجھنا اور قیام خلافت اور اس کےا ستحکام کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔آپ کی پوری زندگی میں خلافت پہ اعتراضات کیے جاتے رہے اور سوالات اُٹھائے جاتے رہے۔مخالفین احمدیت اور منکرین خلافت نے اعتراض کرنے کا کوئی ممکنہ پہلو باقی نہیں چھوڑا۔لہٰذا آپ نے اس سلسلے میں انتہائی اہم اور دلوں کو گرما دینے والی تقاریر کیں جو بعد میں کتابی شکل میں چھپ چکی ہیں اور کتب تالیف فرمائیں۔ان تمام کتب میں مسئلہ خلافت کے ہر پہلو کو نہایت تفصیل سے بیان فرمایا اور خلافت کے بارے میں کیے جانے والے تمام اعتراضات اور اس سلسلے میں اُٹھنے والے ہر سوال کا مدلّل اور مسکت جواب دیا۔ یہ تحریرات خلافت کے موضوع کو سمجھنے میں ہر احمدی کے علاوہ عام مسلمانوں کے لیے بھی ایک مشعل راہ کی حیثیت رکھتی ہیں۔ویسے تو خلافت کے بارے میں آپؓ کی تقاریر و خطبات اور تالیفات کی تعداد بہت زیادہ ہے لیکن چند اہم کتب یہ ہیں۔منصب خلافت، برکات خلافت، انوار خلافت، خلافت حقہ ، خلافت راشدہ،آئینہ صداقت وغیرہ۔

اس کے علاوہ آپؓ نے’’ تفسیر کبیر‘‘ کے نام سے قرآن کریم کی ایسی شاندار تفسیر کی ہے جسے پڑھ انسان بے اختیار حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پیشگوئی مصلح موعود کے ان الفاظ کی تصدیق کرنے پہ مجبور ہو جاتا ہے کہ’’کلام اللہ کا مرتبہ اس سے ظاہر ہو گا۔‘‘

خاص طور پہ سورت النور کی تفسیر بیان کرتے ہوئے حضور ؓنےتاریخ اسلام میں منافقین کی جانب سے خلافت پر ہونے والے حملوں سمیت خلافت کے موضوع کو اس قدر کھول کر بیان فر مایا ہے کہ پڑھنے والا عش عش کر اٹھتا ہے۔

یہ تمام تحریرات ثابت کرتی ہیں کہ آنےوالے دَور میں جو بھی خلافت کے موضوع پر قلم اُٹھائے گااسے حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کی بیان فرمودہ تفصیل کو چھوڑ کے شاید ہی کوئی نئی بات لکھنے کو ملے۔لہٰذا استحکام خلافت میں آپ کے کردار کو رہتی دنیا تک فراموش نہیں کیا جا سکتا۔

انتخابِ خلافت کا طریق

خلافت کے انتخاب اور خلیفۂ وقت کی اطاعت کے حوالے سے حضورؓ منکرین خلافت کی فتنہ پردازیوں کا تجربہ کر چکے تھے۔ لہٰذا حضور ؓنے قرآن و حدیث اور تاریخ اسلام کی روشنی میں اکابرین جماعت سے مشورہ کرنے کےبعد انتخابِ خلافت کا ایک مضبوط نظام قائم فرمایا۔اس کا اعلان حضورؓ نے جلسہ سالانہ 1956ء کے موقع پر اپنی تقریر میں فرمایا جو ’’خلافت حقہ اسلامیہ ‘‘ کے نام سے شائع ہوئی۔حضورؓ نے فرمایا کہ’’میں یہ قاعدہ مقرر کرتا ہوں کہ آئندہ جب بھی خلافت کے انتخاب کا وقت آئے تو صدر انجمن احمدیہ کے ناظر اور ممبر،اور تحریک جدید کے وکلاءاور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے خاندان کے زندہ افراد…حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے صحابہؓ بھی…اور جامعۃ المبشرین کے پرنسپل اور جامعہ احمدیہ کا پرنسپل اور مفتی ٔ سلسلہ احمدیہ اور تمام جماعتہائے پنجاب اور سندھ کے ضلعوں کے امیر اور مغربی پاکستان اور کراچی کا امیراور مشرقی پاکستان کا امیر مل کر اس کا انتخاب کریں۔

اسی طرح نظر ثانی کرتے وقت میں یہ امربھی بڑھاتا ہوں کہ ایسے سابق امراء جو دو دفعہ کسی ضلع کے امیر رہے ہوں گو انتخاب کے وقت بوجہ معذوری کے امیر نہ رہے ہوں ،وہ بھی اس لسٹ میں شامل کئے جائیں۔اسی طرح ایسے تمام مبلغ جوایک سال تک غیر ملک میں کام کر آئے ہیں اور بعد میں سلسلہ کی طرف سے ان پر کوئی الزام نہ آیا ہو۔ایسے مبلغوں کی لسٹ شائع کرنا مجلس تحریک کا کام ہو گا۔اسی طرح ایسے مبلغ جنہوں نے پاکستان کے کسی ضلع یا صوبہ میں رئیس التبلیغ کے طور پر کم سے کم ایک سال کا م کیا ہو۔ ان کی فہرست بنانا صدر انجمن احمدیہ کے ذمّہ ہو گا۔

مگر شرط یہ ہو گی کہ اگروہ موقع پر پہنچ جائیں۔ سیکرٹری شوریٰ تمام ملک میں اطلاع دے دے کہ فوراً پہنچ جاؤ۔اس کے بعد جو نہ پہنچے اس کا اپنا قصور ہوگا…یہ ان کا اپنا کام ہے کہ وہ پہنچیں۔سیکرٹری شوریٰ کا کام ان کو لانا نہیں ہے…یہ سب لوگ مل کر جو فیصلہ کریں گے وہ تمام جماعت کے لئے قابل قبول ہوگا۔ اور جماعت میں سے جو شخص اس کی مخالفت کرے گاوہ باغی ہوگا۔اور جب بھی انتخاب خلافت کا وقت آئے اور مقررہ طریق کے مطابق جو بھی خلیفہ چنا جائے ، میں اس کو ابھی سے بشارت دیتا ہوں کہ اگر اس قانون کے ماتحت وہ چنا جائے گا تو اللہ تعالیٰ اس کے ساتھ ہوگا۔ اور جو بھی اس کے مقابل میں کھڑا ہو گا وہ بڑا ہو یا چھوٹا ہو ذلیل کیا جائے گااور تباہ کیا جائے گا۔‘‘(انوارالعلوم جلد 26صفحہ 29تا30)

پھر فرمایا کہ’’میں نے خلافت کے متعلق مذکورہ بالا قاعدہ بنایا ہے جس پر پچھلے علماء بھی متفق ہیں۔محدثین بھی اور خلفاء بھی متفق ہیں۔پس وہ فیصلہ میرا نہیں بلکہ خلفائے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا ہےاور صحابہ کرامؓ کا ہے اور تمام علمائے امّت کا ہے جن میں حنفی،شافعی، وہابی سب شامل ہیں۔‘‘(انوارالعلوم جلد26صفحہ 38)

مزید فرمایا کہ’’آئندہ انتخاب خلافت کے لئے یہی قانون جاری رہے گا سوائے اس کے کہ دوبارہ خلیفہ وقت کی منظوری سے شوریٰ میں یہ مسئلہ پیش کیا جائےاور شوریٰ کے مشورہ کے بعدخلیفہ وقت کوئی اور تجویز منظور کرے۔‘‘(سوانح فضل عمر جلد4صفحہ 528)

اگرچہ شیطانی طاقتیں اپنا کام جاری رکھتی ہیں لیکن انتخاب خلافت کے اس طریق اور قواعد کی تشکیل کے بعد ایسے منافقین کے لیے شرارتوں کے دروازے بند کر دیے گئے۔اور حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کی نگرانی میں جماعت ایک بنیان مرصُوص بن کر اُبھری جس کا اعتراف اپنوں نے ہی نہیں بلکہ غیروں نے بھی کیا۔چنانچہ آپؓ کی وفات پہ مشہور صحافی محمد شفیع صاحب المعروف (م۔ ش )نوائے وقت 12؍نومبر 1965ءمیں لکھتے ہیں کہ’’مرزا بشیرالدّین محمود احمد صاحب نے 1914ء میں خلافت کی گدّی پر متمکن ہونے کے بعد جس طرح اپنی جماعت کی تنظیم کی اور جس طرح صدرانجمن احمدیہ کو ایک فعّال اور جاندار ادارہ بنایا اس سے ان کی بےپناہ تنظیمی قوّت کا پتہ چلتا ہے۔‘‘(بحوالہ سوانح فضل عمر جلد 4صفحہ 537)

اسی طرح ایک منجھے ہوئے صحافی سیّد ابو نازش ظفر رضوی جو شیعہ مسلک سے تعلق رکھتے تھے حضور کے بارے میں لکھتے ہیں کہ’’حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد کی وفات سے جماعت احمدیہ یقیناً بہت غمگین ہے کیونکہ اس کا وہ امام اور سربراہ رخصت ہو گیا جس نے اس جماعت کو بنیان ِمرصُوص بنا دیالیکن اس جماعت سے باہر بھی ہزاروں ایسے افراد موجود ہیں جو اختلاف عقائد کے باوجود آپ کی وفات کو دنیا ئے اسلام کا ایک عظیم سانحہ سمجھ کر بے اختیار اشکبار ہیں۔…خدا ان سے راضی ہوا وہ خدا سے راضی ہوئے۔ اگر میں ایک شیعہ ہوتے ہوئے انہیں رضی اللہ عنہ لکھتا ہوں تو یہ ایک حقیقت کا اظہار ہے محض اخلاقی رسم نہیں۔‘‘(الفضل 4؍اپریل 1965ء بحوالہ سوانح فضل عمر جلد 4صفحہ542)

پس حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کا خلافت اور جماعت احمدیہ کو مستحکم بنیادیں فراہم کرنے کا اقرار صرف جماعت احمدیہ کو ہی نہیں بلکہ ایسے لوگوں کو بھی تھا جو اگرچہ جماعت میں شامل تو نہیں تھے لیکن ان کے دلوں میں انصاف کی چنگاری روشن تھی۔غیروں کی یہ رائے آپؓ کے ان الفاظ کی صداقت کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ

اک وقت آئے گا کہ کہیں گے تمام لوگ

ملّت کے اس فدائی پہ رحمت خدا کرے

٭…٭…٭

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close