یادِ رفتگاں

مکرم امتیاز احمد راجیکی صاحب

(محمد انیس دیال گڑھی۔جرمنی)

خانوادۂ ر اجیکی کے نبیرہ اور چشم و چراغ مکرم امتیاز احمد راجیکی صاحب بھی ہوا کے دوش پر رکھا ہوا چراغ ثابت ہوئے جسے اجل کی پھونک نے بجھا دیا۔ مگر جاتے جاتےلفظوں، یادوں اور اشکوں کے چراغ جلا گیا جو ایک عرصہ تک لو دیتے رہیں گے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔

برصغیر کے ایک قلم کار اے حمید نے اپنے بارے میں لکھا تھا کہ وہ قلم سے نہیں گلاب کی ٹہنی سے لکھتا ہے۔ اور اس میں شک نہیں کہ اے حمید کی تحریر بقول ڈاکٹرپروازی صاحب ’’رومانیت کی خوشبو سے معطر ہوتی ہے‘‘

دبستان احمدیت نے بھی بے شمار ایسے پھول کھلائے جن سے صدیاں مہکتی رہیں گی۔ ان میں سے ایک مکرم امتیازاحمد راجیکی صاحب بھی تھے۔ یہ شخص بھی گلاب کی ٹہنی سے لکھتا تھا اور لفظوں سے گل وگلزار کِھلا دیتا تھا۔ اس کی بات بات سے پھول جھڑتے تھے۔ وہ کاغذ پر حرف نہیں پھول کی پتیاں بکھیرتا تھا۔ لفظوں سے ہا راور گجرے پروتا تھا۔ بہت کم لکھا مگر جو لکھا خوب لکھا۔ حرف حرف مہکا ہوا۔ لفظ لفظ جگتا ہوا۔ فقرہ، تیرِ محبت کی طرح دل و جگر میں اترتا ہوا۔ تحریر میں مست ندّی کی روانی۔ بظاہر خاموش مگر دلوں میں تلاطم برپا کرتی ہوئی۔ ایسی شگفتہ وشاداب تحریر لکھنے والے کم ہوتے جاتے ہیں۔ وہ جو غریب الوطن تھے۔ ہجر سے دوچار تھے مگر اس کا شکوہ کرنے کی بجائے اپنی ذات میں ہی کھل اٹھتے تھے۔ وہ صحرا میں پھول کھلا کر اس کو چمنستان میں تبدیل کرنے کے قائل تھے۔

اک باغ سا ساتھ اپنے مہکائے ہوئے رکھنا

مرحوم کی آخری تحریر جو مجھے پڑھنے کا موقع ملا وہ بھائی رشید احمد ایاز مرحوم کی یاد میں تھی۔ جس سے ان کی دوستی تھی اور انہوں نے اس کا حق ادا کر دیا۔ وہ تحریر جس نے بھی پڑھی ہوگی اس نے بے اختیار رشید ایاز صاحب کے ساتھ ان کی بزرگ والدہ خالہ صالحہ اور بزرگ اور خادم دین والد حضرت مختار احمدا یاز صاحب کی بلندئ درجات کے لیے بھی دعا کی ہوگی۔

یاد رفتگان میں برادرم امتیاز راجیکی مرحوم نے حضرت سیّد میر داؤد احمد صاحب کے بارے میں بھی ایک مضمون رقم کیا ہے جو جذب دروں سے پُر ہے۔ لکھتے ہیں: ’’بہت بچپن کی بات ہے کبھی کبھار مسجد مبارک میں نماز کا موقع ملتا تو اس کے شمالی کونے میں نوافل میں مشغول ایک انتہائی خوبصورت چہرے پر نظرٹک سی جاتی۔ یہ بات سمجھ میں نہ آتی تھی کہ وہ چہرہ اتنا حسین تھا یا اللہ تعالیٰ کی عبادت میں اس کا انہماک اور استغراق اتنا پرکشش تھا کہ نگاہیں پلٹ نہ پاتیں۔ ٹکٹکی باندھے چھپ کر چپکے چپکے اسے دیکھتا رہتا جیسے ہمیشہ کے لئے دل کی نگاہوں میں بسا لینے کا ارادہ ہو۔ لیکن اگرکہیں اتفاقاًنظر سے نظر مل جاتی تو کنی کترا کر اس طرح بھاگنے کی کوشش کرتا گویا کوئی ملزم کٹہرے میں کھڑا کیا جانے والا ہو۔ جواباً! شاید ایک ہلکی سی مسکراہٹ ہی کاسامنا ہوتا جو یہ کہہ رہی ہو کہ کب تک بھاگتے رہو گے۔

یہ وجود کیا تھا… ! ایک گہری گھٹا کی طرح آیا، جھکڑوں کی سی تیزی اور بجلی کی کڑک اور کوند لئے موسلا دھار ابرِ رحمت کی طرح برسا، ان گنت پیاسوں کو سیراب کیا، خشک سالیوں کا علاج کیا اور فوراً ہی چھٹ گیا۔ مطلع صاف کرکے خود بھی یکلخت غروب ہوگیا۔‘‘

اس بابرکت وجود کے ذکرِخیر میں مزید لکھتے ہیں:

’’اس وجود کے علم کی وسعت، کردار کی عظمت، انتظام و انصرام کی صلاحیت اور تفقہ و زہد کی رنگت اتنی ہمہ گیرتھی کہ اس کی سیرت و سوانح لکھنے والے پریشان اور بےبس ہو جاتے ہیں کہ تھوڑی سی مدت میں وہ جتنے کام کر گیا انہیں سمیٹیں کیسے؟ اتنی چھوٹی سی عمر میں وہ جس اعلیٰ مقام کو پا گیا اس کا ادراک کیسے کریں؟

اس وجود کو خدا تعالیٰ نے جس نسبی اور موروثی عظمتوں سے نوازا اور اسے امام الزماں مسیح دوراں علیہ السلام کے خاندان سے پیوند کر کے چار چاند لگائے وہ کوئی ایسا سا نحی، وارداتی یا حادثاتی وقوعہ نہ تھا اور نہ ہی کسی اکتسابی جدوجہد کا نتیجہ۔ وہ تو خدا ئےعزّوجلّ کی ایک ماورائی تقدیر اور عنایت تھی جو نصیب والوں ہی کو ملتی ہے۔ آقا علیہ السلام کے خسر حضرت سیّد میر ناصر نواب رضی اللہ عنہ کے پوتے، حضرت سیّد میر محمد اسحاق رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے اور حضرت خلیفۃالمسیح الثانی ا لمصلح الموعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی دامادی کے شرف کا تاج پہنے ہوئے یہ وجود ایسا ہی تھا جیسے ایک تیز رفتار برّاق کا سوار آناً فاناً اسرا ر و اسراء اور سلوک وطریقت کی منزلیں طے کرتا ہوا افق میں پنہاں ہوگیا۔ اس کی پرچھائیوں کا کھوج لگانے والے بس راہ ہی تکتے رہ گئے۔‘‘

ایک اور بزرگ محترم قاری محمد امین صاحب مرحوم کی یاد میں لکھتے ہیں: ’’کسی زینت و تفاخر سے بےنیاز، کسی رکھ رکھاؤ اور دکھاوے سے مبرا، تکلف و ریا سے ماورا، سادہ سی شلوار قمیص اور رو پہلی یا سنہری کلاہ کے بغیر بلا کلف سفید پگڑی میں ملبوس، خشخشی سی سفید داڑھی والے ایک جفاکش بزرگ کو سائیکل پر مویشیوں کے چارے کا بڑاسا گٹھا رکھے احمد نگر سے محلہ دارا لصدر کی طرف آتے دیکھ کرکسی انجان کو یہ گمان نہیں ہو پاتا تھا کہ اس منحنی سے وجود میں علم و عرفان، ریاضت و مشقت اور سعی و جاں فشانی کا ایک جہاں آباد ہے۔ جہدِ مسلسل کی ایک ایسی داستان رقم ہے جس کا ہر باب گل و گلزار اور ہر ورق رنگ وبو سے مزین ہے۔‘‘

قاری محمد امین صاحب کی رنج و محن اور جہد مسلسل سے پُر زندگی اور آپ کی مستقل مزاجی کے واقعات بیان کرنے کے بعد لکھتے ہیں: ’’محترم قاری محمد امین صاحب مرحوم کا ایک قابل رشک وصف آپ کی اقربا پروری اور عائلی زندگی میں انتہائی مشفقانہ، حکیمانہ اور منصفانہ طرز عمل تھا جو نامساعد حالات کے اتار چڑھاؤ اور ذمہ داریوں کے عمیق اور گراں بار بوجھوں کی دو دھاری تلوار پر ایسے توازن اور حکمت کے ساتھ چلتا رہا جس نے آپ کے وجود کو کچل دینے کے باوجود انجام کار سرخرو و کامران کیا۔‘‘

مضمون کے شروع میں خاکسار نے ذکر کیا کہ امتیاز راجیکی صاحب یادوں کے چراغ روشن کر گئے۔ انہوں نے جب کسی کی جدائی میں مضمون لکھا خون جگر سے لکھا جس کے لفظ لفظ میں راجیکی صاحب کی محبت بھی بولتی نظر آتی ہے۔ ایک اور بزرگ شاعر میر احسن اسماعیل صدیقی صاحب کے بارے میں تحریر کرتے ہیں کہ ’’ایک حادثےنے تھوڑے عرصے کے لیے اس نابغہ روزگار کی صحبت سے فیض پانے کا ایسا موقع فراہم کردیا کہ باوجود ’’رہینِ ستم ہائے روزگار‘‘ کے اس ہستی کے خیال سے کسی لمحے کا غافل نہ رہ سکا۔‘‘

محترم سیّد احسن اسماعیل صدیقی مرحوم گوجرہ کے رہنے والے تھے۔ گوجرہ کی گدڑی میں اس لعل کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ’’میرے نزدیک گوجرہ آڑھتیوں کی ایک منڈی تھی جس میں بڑی توند والے سیٹھوں، رسہ گیر زمیندار وڈیروں اور محنت کش مزدوروں اور کسانوں کے علاوہ کسی شے کا پایا جانا محال تھا۔ میرے وہم و گمان کے کسی گوشے میں یہ خیال نہیں آ سکتا تھا کہ یہ مقام علم و ادب، حسن و لطافت اور ذوق سلیم سے بھی کوئی علاقہ رکھ سکتا ہے۔ مگر کچھ ہی عرصہ میں یہ جان کر میری حیرت کی انتہا نہ رہی کہ اس مشہور زمانہ آڑھتیوں کے شہر گوجرہ کی گدڑیوں میں شعر و سخن اور علم و معرفت کے نادرالوجود لعل چھپے ہوئے ہیں۔ بھانت بھانت کے خریدوفروخت کے شوروشراور اناج سبزی کی بولیوں کے بیچ بیچ کچھ بہت ہی حسین جذبات کے نغمے، کچھ بہت ہی نازک احساسات کے ترانےہلکے ہلکے مدھم مگر واضح سروں میں اپنی لے قائم کئے ہوئے ہیں۔ باوجود شعروسخن کے اعلیٰ ذوق سے عاری ہونے کے یہ لے انجانے میں مجھے اپنا نے لگی۔ ایک باکیف یگانگت اور قربت کے احساس سے اپنی طرف کھینچنے لگی۔ تب محسوس ہوا کہ اس بستی میں کچھ بہت ہی محبت کرنے والی، کچھ بہت ہی گریہ کرنے والی ہستیاں ہیں جن کی اپنائیت پھولوں کی خوشبو کی طرح ہے، جسے لاکھ کوشش کریں پابندِسلاسل نہیں کر سکتے۔ کوئی اس تک پہنچ پائے نہ پائے وہ خود ان تک پہنچ جائے گی۔‘‘

اپنے محبوب اور جگری دوست ڈاکٹر صلاح الدین صاحب کی وفات پر جو مضمون سپرد قلم کیا اس کا تو رنگ ہی اور ہے۔ یہ دونوں یک جان دو قالب تھے۔ دونوں ایک دوسرے کی جان ایک دوسرے کا سہارا اور ایک دوسرے کی تکمیل کرتے تھے۔ یہی وہ دو دیوانے تھے جنہوں نے امریکہ میں لنگر خانہ کی بنیاد رکھی تھی۔ اس کی پوری تفصیل امتیاز راجیکی صاحب کے مضمون ’’امریکہ میں لنگر مسیح موعودؑ کے پچیس سال‘‘ میں تحریر ہے یہ مضمون الفضل انٹرنیشنل 12؍اگست 2016ء کے شمارے میں شائع ہوا۔ اپنے اس ندیمِ خاص کا ذکر کرتے ہوئے رقم طراز ہیں: ’’سوموار کی صبح دوبارہ سفر شروع کیا اور مزید چھ گھنٹے گزارنے کے بعد صلاح ا لدین کے گھر ’’چیمبرزبرگ‘‘ (Chambersburg) پنسلوانیا اسٹیٹ میں پہنچا۔ لان میں ٹینٹ لگا دیا گیا تھا اور دور دور سے بیسیوں سوگوار تعزیت کے لئے موجود تھے۔ جن میں سے اکثریت ہمارے ساتھ لنگر میں کام کرنے والے ورکرز کی تھی۔ اپنے محبوب قائد، محسن استاد اور بے تکلف ساتھی کی جدائی پر دل غمزدہ اور آنکھیں اشکبار تھیں مگر اللہ تعالیٰ کی رضا پرسب راضی تھے۔ اس کی بہنیں غم کی اتھاہ گہرائیوں میں ڈوبے ہونے کے باوجود صبر و استقامت کا پہاڑ دکھائی دے رہی تھیں۔ کوئی واویلا تھا نہ آہ و فغاں۔ اک سکوت تھا، سکون تھا اور دعا ہی دعا…

میں نے جب بہنوں سے تعزیت کی تو بڑی آپاجان نے بڑے حوصلے اور صبر سے کہا: ’’صلاح الدین تمہارا بڑے پیار سے ذکر کیا کرتا تھا۔ لنگر پر جو تم نے مضمون لکھا تھا، اس نے مجھے دکھایا تھا۔‘‘

…لیکن جو مضمون اس کی وفات کے بعد لکھ رہا ہوں وہ تو یہاں کسی کو نہ دکھا سکے گا، مگر کیا معلوم خدا تعالیٰ اسے جنّت میں دکھا دے کہ اس کی خدمتوں اور محبتوں کی قدر کرنے والے کتنے بے شمار وجود ہیں۔ جو اس کے احسانوں سے صدقہ جاریہ کی طرح فیض پاکر ہمیشہ ان خوبصورت یادوں کو دل میں بسائے ہوئے ہیں۔‘‘

مضمون کے آخر میں حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ کی خدمتِ اقدس میں لکھا ہوا وہ خط بھی شامل کیا ہے۔ جس میں اپنے دوست کے حق میں دعائے خاص کی غرض سے بڑے دردمندانہ دلنشین اور دلفریب انداز میں دعا کی درخواست کی گئی۔ بقول رشید قیصرانی،

نکلا ہوں لفظ لفظ سے میں ڈوب ڈوب کر

یہ تیرا خط ہے یا کوئی دریا چڑھا ہوا

یہ خط جس نے بھی پڑھا ہوگا اس نے ان دیوانوں کے لیے بے اختیار دعا کی ہوگی۔ اب میں اس مضمون کی طرف آتا ہوں جو میری نظر میں ان کا شاہکار ہے اوروہ وہی مضمون ہے جس کا ذکر پہلے کر چکا ہوں ’’امریکہ میں لنگر مسیح موعودؑ کے 25سال‘‘ مضمون کا آغاز ملاحظہ فرمائیں۔

’’کون جانتا تھا کہ دستر خوان کے پس خوردہ ٹکڑے کیا رنگ لائیں گے۔ کیسے کیسے خوانوں، کیسے کیسے ایوانوں، کیسے کیسے لنگروں کو جنم دیں گے۔ کسے علم تھا کہ ایک بے کس شِکمِآدم کی آگ بجھانے والے چند لقمے جہانوں کی بھوک مٹانے کا باعث بنیں گے۔ کس کا فہم و ادراک اس حقیقت کو پا سکتا تھا کہ یہ چند نوالے انسانوں کی جسمانی بھوک ہی نہیں روحانی تشنگی کی سیرابی کا باعث بھی بنیں گے۔‘‘

امریکہ میں لنگرمسیحِ موعودؑ کے اجراکی کہانی بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ’’1991ء کے جلسہ کے اختتام پر ایک عجیب واقعہ رونما ہوا۔ ہم لوگ حضور انور سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ کو الوداع کہنے کے لیے اکٹھے تھے۔ میں بھی حضور رحمہ اللہ کےبالکل پاس کھڑا تھا۔ جاتے جاتے آپ نے اچانک فرمایا آئندہ امریکہ میں لنگر چلنے چاہئیں۔ کچھ احباب اس کا جواب دینے لگے کہ حضور یہاں اجازت نہیں ملتی۔ آپ نے فرمایا: اگرتنبو، قنات میں جلسہ کی اجازت مل سکتی ہے تو لنگر بھی چل سکتا ہے۔ میرے دل میں بڑی شدت سے خیال آیا کہ جب امام وقت نے ایک حکم دے دیا ہے تو پھر کوئی دوسرا جواز کیوں؟

بغیر کسی توقف کے میرا ہاتھ کھڑا ہو گیا اور بول اٹھا: جی حضور! انشاءاللہ ضرور شروع کریں گے۔ دوسری طرف میرا عزیز دوست برادرم عزیزم ڈاکٹر صلاح الدین کھڑا تھا۔ اس نے بھی ہاتھ کھڑا کر دیا اور عہد کیا کہ انشاءاللہ لنگر کا قیام ہوگا۔‘‘

اور پھر وہی ہوا جو جماعت کی تاریخ ہے کہ دیوانے جس کام کا ارادہ کر لیں پھر کوئی زمینی روک ان کو اس سے روک نہیں سکتی۔ آگے ایک لمبی کہانی ہے جو اس مضمون میں بیان کی گئی ہے اس تگ و دوکو مختصراً بیان کرنے کے بعد لکھتے ہیں: ’’جن نامساعد حالات میں مشکلات و مصائب کے پہاڑوں پر تیشہ زنی کی اور بالآخر مسیح پاک علیہ السلام کے ابررحمت کے چشمہ کو جاری کرکے چھوڑا۔ ان کی قربانیوں اور وفاؤں کا لمحہ لمحہ زریں حروف سے رقم کرنے کے قابل ہے لیکن اگران کے خاموش انفرادی کارنامے لوح و قلم کی زینت نہ بھی بن پائیں تب بھی ربِّ کریم کے فضل سے امید ہے کہ وہ عرش پرقبولیت کی معراج پا چکے ہوں گے۔‘‘

مزید لکھتے ہیں: ’’اس روز لنگر مسیح موعود میں جو آگ روشن ہوئی وہ ربع صدی بعد چراغ سے چراغ جلاتی ہوئی آگے سے آگے بڑھتی چلی جا رہی ہے۔‘‘

اب ذرا ان فقرات پر غور کیجیے یہ کسی دیوانے کے قلم سے ہی نکل سکتے ہیں: ’’حقیقت یہ ہے کہ جلسہ کی ڈیوٹیوں اور خاص طور پر لنگر کی آگ میں جھلسنے کا مزا ہی ایسا ہے جو ایک بار اسے چکھ لیتا ہے وہ کہیں اور جانے کا نام نہیں لیتا۔‘‘

’’چاہے آگ برساتی دھوپ ہو یا تپتی دیگوں کی جھلس۔ کسی لب نے شکوہ کشائی کی۔ نہ کسی نے میدان سے پیٹھ دکھائی۔‘‘

یہاں بے اختیار حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا وہ مصرع یاد آ جاتا ہے کہ

اے جنوں کچھ کام کر بے کار ہیں عقلو ں کے وار

یہ کہانی صرف امریکہ کی کہانی نہیں ہے۔ یہ ملک ملک کی کہانی ہے۔ اور ہر جگہ مسیح موعود علیہ السلام کے غلام اور دیوانے اپنے جنون سے انہونی کو ہونی کر دکھاتے ہیں لیکن یہ وہ جنون نہیں جو دوسروں کو نقصان پہنچاتا ہے۔ اس جنون سے سراسر رحمت، آرام، سکون اور محبت ملتی ہے ہاں دیوانے خود ہر قسم کی تکلیفیں برداشت کرتے ہیں۔

امتیاز راجیکی صاحب نے جتنے مضمون لکھے، خوب لکھے آپ نے اپنی بستی کا حق بھی ادا کیا تھا، اپنی مادر علمی کا بھی۔ والدین اور اساتذہ کا حق بھی ادا کیا اور قرابت داروں اور مہمانوں کا بھی، بزرگوں کا بھی حق ادا کیا اور دوستوں کا بھی۔ آپ کی ذات کے تنوع کو دیکھ کر میں تو سراسر حیران ہوں کہ کہاں خامہ فرسائی اور کہاں خانسامائی۔ ایسی دلنشیں اور دلفریب تحریر لکھنے والا جب دیگ میں کڑچھا چلاتا ہو گا تو وہ منظر کیسا قابلِ دید ہوگا۔ افسوس کہ میں اس عظیم قلم کار اور عاجز خدمت گار کو اس حالت میں نہ دیکھ سکا۔

اسی مضمون کے آخر میں لکھتے ہیں کہ ’’آج جب اس نے ان کی عاجزانہ محنتوں کا پھل ایک مضبوط و توانا، سدا بہار شجر تناور کی صورت میں عطا کیا تو وہ سب بھول گئے کہ اس کٹھن سفر میں انہیں کتنی مہیب گھاٹیوں کی دشت سیاحی کرنی پڑی۔ کیسی کیسی چلچلاتی دھوپوں کا سامنا کرنا پڑا۔ وہ کن کن آگوں میں جل کر کندن ہوئے۔ اس رستے میں انہیں کتنے کانٹے چبھے۔ کیسے کیسے گھاؤ لگےاورکن کن زخموں پر نمک پاشی ہوئی۔‘‘

پیارے بھائی امتیاز راجیکی ہم بھلا آپ کو کیسے بھلا سکتے ہیں۔ ہمیں تو جفا کے بدلے وفا کرنے کی تعلیم ہے۔ ہمیں تو یہ تعلیم دی گئی ہےکہ

گالیاں سن کر دعا دو پا کے دکھ آرام دو

ہمیں تو دشمنوں سے بھی محبت و مروت سے پیش آنے کا حکم ہےاور آپ تو ہمارے بلکہ ہمارے پیاروں کے پیارے ہیں۔ ہم آپ کو اور آپ جیسے دوسرے تمام خدمت گاروں کو جو دنیا کے کونے کونے میں پھیلے ہوئے ہیں کبھی نہیں بھلا سکتے۔ بھائی امتیاز راجیکی دیکھ آج تیری تحریر کے کُشتہ اور تیرے پر خلوص طعام سے کام و دہن کو سیراب کرنے والے تیرے اور تیرے ساتھ کے درویشوں کے لیے آسمان کی طرف منہ کیے اور ہاتھ اٹھائے یہ دعا مانگ رہے ہیں

خدا رحمت کند ایں عاشقان پاک طینت را

٭…٭…٭

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button