یادِ رفتگاں

محترم قاری محمد امین صاحب مرحوم

(امتیاز احمد راجیکی۔ امریکہ)

کسی زینت و تفاخر سے بے نیاز، کسی رکھ رکھاؤ اور دکھاوے سے مبرا، تکلف و ریا سے ماورا، سادہ سی سفید رنگ کی شلوار قمیص اور کسی روپہلی یا سنہری کلاہ کے بغیر ہلکی سی کلف لگی سفید پگڑی میں ملبوس، خشخشی سی سفید ڈاڑھی والے ایک جفاکش بزرگ کو سائیکل پر مویشیوں کے چارے کا بڑا سا گٹھا رکھے احمد نگر سے محلہ دارالصدر کی طرف آتے دیکھ کر کسی انجان کو یہ گمان نہیں ہو پاتا تھا کہ اس منحنی سے وجود میں علم و عرفان، ریاضت و مشقت اور سعی و جاں فشانی کا ایک جہاں آباد ہے۔ جہدِ مسلسل کی ایک ایسی داستان رقم ہے جس کا ہر باب گل و گلزار اور ہر ورق رنگ و بو سے مزیّن ہے۔

اس عزم و ہمت کے پیکر انسان کی ذات میں پنہاں رموزو اسرار کی تہوں کو پلٹنے اور اوراق کو کھنگالنے سے پہلے ذرا اس عظمت اور اعزاز کا تصور تو کیجیے کہ امامِ آخر الزمان علیہ الصلوٰۃ و السلام نے پہلی بار اس نو مولود کو ’’محمد امین‘‘ کے نامِ نامی سے پکارا اور خدائے قدوس و قدیر نے اس اعزاز کی لاج اس رنگ میں رکھی کہ اس کا وجود فی الحقیقت اسم با مسمّیٰ ہو کر تمام عمر نہ صرف اپنی ذات میں ذمہ داریوں کی امانتوں کا حق ادا کرتا رہا بلکہ جماعتی خدمات میں بھی چالیس سال سے زائد عرصہ تک صدر انجمن احمدیہ میں ’’امین‘‘ بن کر محاسب، افسر خزانہ، اسسٹنٹ آڈیٹر، آفیسرپراویڈنٹ فنڈز اور انچارج دارالضیافت جیسے نہایت کٹھن عہدوں کے فرائضِ منصبی نبھاتا رہا۔

محلہ دار الصدر شمالی کے سابق صدر اور مسجد انوار کے اپنی وفات (7؍اکتوبر 1990ء) تک مسلسل چالیس سال امام الصلوٰۃ رہنے والے بزرگ، محترم قاری محمد امین صاحب مرحوم نے نومبر 1907ء میں ’اسلام گڑھ‘ ضلع گجرات کے ایک دیندار اور بزرگ گھرانے میں آنکھ کھولی۔ آپ کے والد حضرت حافظ قاری غلام یاسین صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور والدہ حضرت جنّت بی بی صاحبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا دونوں کو اصحابِ احمدؑ میں شامل ہونے کا فخر حاصل ہے۔

حضرت حافظ غلام یاسین صاحبؓ کے والد محترم محمد بخش صاحب اپنے عہد کے ایک عالم بزرگ تھے اور راجوڑی ریاست پونچھ کے مسلمان راجہ کے دربار میں قاضی کے عہدے پر فائز تھے۔ مسلم ریاست کے تہ و بالا ہونے اور افتراق و انتشار کے باعث راجہ صاحب کے ساتھ ساتھ ان کے مصاحبین کو بھی جلا وطنی کا شکار ہونا پڑا۔ چنانچہ میاں محمدبخش صاحب انہی دنوں موضع رسول پور تحصیل کھاریاں، ضلع گجرات میں نقل مکانی کرنے پر مجبور ہو گئے۔

حضرت حافظ غلام یاسین صاحبؓ کو سترہ سال کی عمر میں پہلی بار 1887ء میں قادیان حاضر ہو کر سیّدنا حضرت اقدس مسیحِ موعود علیہ الصلوٰۃ و السلام کی زیارت کا شرف حاصل ہواتاہم مصدقہ روایات کے مطابق آپؓ کی بیعت کا ریکارڈ 1897ء بتایا جاتا ہے۔ آپؓ نے 1913ء میں مشن اسکول میں استاد کی حیثیت سے ملازمت ترک کر کے مستقلاً قادیان میں سکونت اختیار کر لی اور مدرسہ احمدیہ کے ابتدائی مدرسین میں شامل ہونے کا اعزاز حاصل کیا۔ آپؓ مسجد اقصیٰ قادیان کے ائمۃالصلوٰۃ میںشامل تھے اور لمبا عرصہ وہاں رمضان المبارک میں نمازِ تراویح پڑھانے کی توفیق بھی پاتے رہے۔ یوں گویا محترم قاری محمد امین صاحب کو سیّدنا حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے عہدِ مبارک ہی میں تعلیم الاسلام اسکول قادیان میں داخل ہونے اور اپنے والد محترم اور دیگر اکابر صحابہؓ کے زیرِ سایہ تعلیم و تربیت کے زیور سے آراستہ ہونے کی سعادت نصیب ہوئی۔ اسی پاکیزہ ماحول اور حسنِ تربیت کا نتیجہ ہے کہ اس معصوم بچے نے جب سات سال کی عمر سے نماز پڑھنا شروع کی تو پھر وہ عمر بھر کبھی قضا نہ ہوئی بلکہ لمحہ لمحہ سلوک و طریقت اور عرفان و ولایت کی منزلیں بقدرِ استطاعت طے ہو تی رہیں۔

محترم قاری صاحب مرحوم کے صاحبزادے اور میرے قریبی دوست و ہم جماعت برادرم عزیزم بشیر طارق صاحب بتاتے ہیں کہ ان کی نانی محترمہ استانی فضل نور صاحبہ کے مطابق قاری صاحب تعلیم الاسلام ہائی اسکول قادیان کے ایک انتہائی ذہین طالب علم اور اخلاقی لحاظ سے نہایت اعلیٰ مثالی کردار کے حامل نوجوان تھے۔ آپ نے میٹرک کے بعد اسی ارادے سے دہلی میڈیکل سکول کے (LSMF) کورس میں داخلہ لیا کہ جونیئر ڈاکٹر بن کر دکھی انسانیت کی خدمت کریں گے۔ مگر مالی مشکلات اور گھمبیر عائلی ذمہ داریوں کے بوجوہ وہ اس تمنا کو اس رنگ میں پایۂ تکمیل تک نہ پہنچا سکے۔

آپ کی زندگی کا ہر لمحہ خدمتِ انسانیت کے فرائض کا جؤا اپنی گردن میں لٹکائے رہا۔ اس میں آپ کی فطری انسانی ہمدردی کے ساتھ ساتھ انتھک محنت و مشقت کا بڑا گہرا دخل ہے۔ محترم قاری صاحب کی زندگی کا یہ خاصہ آپ کی شخصیت کو بہت ابتدا سے ایک خاص جہت میں ڈھالتا چلا گیا۔ اور قدرت نے بھی چن چن کر خدمت گزاری کے ایسے کٹھن مراحل اور ذمہ داریوں کی اتھاہ بھٹی سے گزار کر کندن کیا جو ہر لمحے آپ کے وجود کو صیقل کرتی رہی۔

محترم قاری محمد امین صاحب اپنے سات بہن بھائیوں میں سب سے بڑے تھے اور بہت چھوٹی عمر ہی میں سن 1926ء میں اپنے والد بزرگوار کی ریٹائرمنٹ کے بعد ایک کثیر العیال کنبے کی دیکھ بھال اور نان نفقے کی ذمہ داریاں آپ کے کندھوں پر آن پڑیں۔ ان سے عہدہ برآ ہونے کے لیے بہت ابتدا میں آپ اپنے ماموؤں کے ساتھ آٹو موبیل کے کاروبار میں شرکت کے لیے ایران چلے گئے۔ مگر تین ماہ بعد ہی واپس بھجوا دیے گئے کہ انہیں تو کاروبار کی ہیرا پھیریوں اور چلد بازیوں سے کوئی دلچسپی نہیں۔ بس اپنی شرافت، دینداری اور عبادات ہی سے سروکار ہے۔ چنانچہ واپس آکرآپ نے قادیان میں صدر انجمن کی ملازمت اختیار کرلی۔

امر واقعہ یہ ہے کہ آپ اپنی شرافت و نجابت کے ساتھ ساتھ ایک بیدار مغز اور چاک و چوبند ذہن والے پھرتیلے اور مضبوط جسم کے مالک ’گتکا‘(مارشل آرٹس) کے معروف نوجوان کھلاڑی تھے جنہیں اپنے ہم عصر حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحبؒ کے ساتھ مل کر اکثر اس فن کا مظاہرہ کرنے کا موقع ملتا رہتا۔ آپ صنعت و حرفت اور زراعت سے متعلقہ متعدد شعبوں کی عملی تربیت اور صلاحیتوں سے بہرہ ور تھے۔ چنانچہ ان استعدادوں کے ذریعے آپ کو زمینداری، مویشیوں کی دیکھ بھال اور کئی تعمیراتی منصوبوں جیسے جسمانی مشقت کے کاموں میں حصہ لینے کی توفیق ملتی رہی۔

آپ کو ان خوش نصیبوں میں بھی شامل ہونے کی سعادت نصیب ہوئی جنہوں نے امامِ وقت سیّدنا حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی آواز پر لبیک کہہ کر سب سے پہلے ربوہ میں صدر انجمن احمدیہ کے ملازم اور ابتدائی نو آبادکاروں کی حیثیت سے ٹینٹوں اور مٹی سے تیار کردہ سٹاف کوارٹرز میں رہائش پذیر ہونے کی توفیق پائی۔ آپ کی طبیعت میں مشقت پسندی، جفاکشی اور گونا گوں صلاحیتوں کا امتزاج ان کٹھن مراحل و مشکلات سے نبرد آزما ہونے میں بہت مددگار ثابت ہوا۔ بعد ازاں انہی صلاحیتوں کی بدولت آپ کو متعدد انفرادی اور اجتماعی پراجیکٹس کی تکمیل کا موقع بھی ملا۔

قادیان کے قیام کے زمانے میں آپ نے کئی ترقیاتی منصوبے شروع کیے جن میں اپنے بھائیوں اور دیگر عزیزوں کے لیے رزق اور روزگار کے مواقع مہیا کیے گئے۔ بعض ناگزیر حالات اور بعد ازاں تقسیمِ ملک کی بنا پر یہ کوششیں زیادہ ثمر آور ثابت نہ ہو سکیں۔ تاہم یہ آپ کی خداداد صلاحیتوں اور نوعِ انسانی کی ہمدردی اور کفالت کے لیے جدوجہد کی ایک درخشاں مثال ہے۔

اس سلسلے میں آپ نے قادیان میں ٹائپ رائٹنگ اور شارٹ ہینڈ کا ایک پرائیویٹ اسکول قائم کیا جس سے استفادہ کر کے بہت سے نوجوانوں نے اپنے کیریر بنائے اور اضافی مالی منفعت حاصل کی۔ آپ کی ٹائپنگ سپیڈ 70 الفاظ فی منٹ سے زیادہ تھی۔ اُس دَور میں یہ جماعت احمدیہ قادیان میں اپنی نوعیت کا پہلا ادارہ تھا اور آپ ہی اس کے واحد مستند استاد تھے۔ جماعت کے اکابرین میں مکرم حسن محمد خان عارف مرحوم اور مکرم قریشی محمد عبداللہ مرحوم سابق آڈیٹر صدر انجمن احمدیہ آپ کے ممتاز شاگردوں میں شامل تھے۔

اسی دوران میں آپ نے قادیان کے نواح میں زرعی زمین خریدی اور کچھ ٹھیکے پر لے کر ایک ٹیوب ویل لگا کر زمیندارہ بھی شروع کیا مگر بعض نامساعد حالات کی بنا پر چند سالوں کی تگ و دو کے بعد اس سلسلے کو جاری نہ رکھا جا سکا۔ ایک بار یوں بھی ہوا کہ ٹماٹر کی قیمت مارکیٹ میں اتنی گر گئی کہ اسے منڈی تک پہنچانے کے اخراجات اس کی وصولی کی اجرت سے کہیں بڑھ گئے۔ چنانچہ اسے کھیتوں ہی میں تلف کر دینے کے سوا کوئی چارہ نہ رہا۔

1947ء میں آپ نے دو ساتھیوں کے ساتھ مل کر کمرشل پیمانے پر آٹا چکی لگائی۔ ابھی یہ پراجیکٹ اپنے استحکام کے ابتدائی مراحل ہی میں تھا کہ تقسیمِ ہند کے باعث سب کچھ ٹھپ ہو کر رہ گیا۔

انہی دنوں میں آپ نے قادیان کی ایک نئی آبادی محلہ دار الساعۃ میں ایک وسیع مکان کی تعمیر مکمل کی جو آپ کی پیشہ ورانہ تعمیراتی صلاحیتوں کا عکاس تھا۔ مگر شومئی قسمت یہ بھی پارٹیشن کی نذر ہو گیا۔ یوں گویا قادیان میں بسر ہونے والا زندگی کا نصف سفر جہدِ مسلسل، صبر و استقامت اور توکل و قناعت کے باب رقم کرتے کرتے اختتام کو پہنچا۔

ہجرت کے بعد ابتداءً جماعتی دفاتر کا نظام لاہور میں قیام پذیر ہوا۔ محترم قاری صاحب بھی صدر انجمن کے ملازم تھے۔ چنانچہ آپ کی فیملی کو میو ہسپتال کے سامنے گاندھی سکوائر میں ایک وسیع مکان رہائش کے لیے مل گیا۔ تاہم جوں ہی ربوہ میں جماعت کا نیا مرکز بنا اور آپ اپنی فیملی سمیت وہاں منتقل ہوئے آپ نے وہ مکان حکومتی اداروں کو واپس کر دیا۔ اور باوجود بعض ’’خیر اندیشوں ‘‘کے مشوروں کے اس مالی منفعت کو امانت اور دیانت سے متصادم سمجھتے ہوئے قناعت اور اطاعت کو مقدم جانا۔

قاری صاحب ایک ہمہ جہت و ہمہ وصف شخصیت کے مالک تھے۔ اگرچہ آپ نے انجینئرنگ اور آرکیٹکٹ کی باقاعدہ تعلیم حاصل نہیں کی تھی مگر ہر فن مولا ہونے کے ناتے آپ کو تعمیراتی پراجیکٹ میں قواعد و ضوابط کے مطابق نقشہ جات بنانے، اور عملاً کنسٹرکشن کی مبادیات کا کافی علم اور تجربہ تھا۔ اس کے ساتھ ساتھ گھریلو فرش کی زینت کے لیے خوبصورت ٹائلیں تیار کرنے کا فن بھی آپ کے حسنِ سلیقہ کی داد کا مستحق بنا۔ اگرچہ اس ہنر کو وہ کسی منافع بخش کاروبار کی شکل نہ دے سکے تاہم اپنے اور اپنے عزیزوں کے مکانات کی تعمیر میں اس سے خاطر خواہ فائدہ اٹھایا گیا۔

جماعتی ہدایات کے مطابق قاری صاحب نے قادیان میں اپنے آبائی گھر اور دوسرے نو تعمیر مکان کے لیے پاکستان میں کسی قسم کا کلیم فائل نہ کیا، نہ ہی ملکیتِ قانونی کا کوئی دعویٰ دائر کیا مگر قادیان کے نواح میں موجود زرعی زمین کے عوض آپ کو کچھ اراضی احمد نگر میں الاٹ ہو گئی جسے آپ نے زیادہ تر ٹھیکے پر اٹھائے رکھا۔

سن ساٹھ کی دہائی کے نصف میں آپ نے اس پر فروٹ کے باغات لگانے کا فیصلہ کیا۔ چنانچہ آپ خود فیصل آباد (لائلپور) جا کر ان کی پنیری لے کر آئے۔ اپنی ادھیڑ عمری کے باوجود بڑی محنت سے انہیں لگایا اور مشقت اٹھا کر ان کی دیکھ بھال کرتے رہے۔ مگر مقدر کے اوراق میں کچھ اور ہی لکھا تھا۔ چند ہی روز میں ژالہ باری کا ایک شدید طوفان آیا اور انتہائی محنت سے لگائی ہوئی پھلواری سفوف کی طرح بھسم ہو کر زمین بوس ہو گئی۔ آپ جانتے تھے کہ عمر کے جس حصے میں وہ اس نخلستان کی آبیاری کر رہے ہیں وہ شاید ان کی اپنی زندگی میں ثمر آور نہ ہو مگر اس یقین اور اعتماد کے ساتھ کہ پھلوں کے درخت صدقۂ جاریہ کی طرح ہوتے ہیں، آنے والی نسلیں ان سے فائدہ اٹھاتی ہیں آپ نے یہ کارِ خیر کرنے کی سعی بھی کر ڈالی۔ گو قسمت نے بظاہر تمناؤں کے موافق ساتھ نہ دیا لیکن ایک عظیم کردار کو ہمیشہ کے لیے رقم کر دیا جس میں صبر و استقامت اور توکل و قناعت کے سدا بہار پھول کھلتے رہے۔

محترم قاری محمد امین صاحب مرحوم کا ایک قابلِ رشک وصف آپ کی اقرباءپروری اور عائلی زندگی میں انتہائی مشفقانہ، حکیمانہ اور منصفانہ طرزِ عمل تھا جو نامساعد حالات کے اتار چڑھاؤ اور ذمہ داریوں کے عمیق اور گراں بار بوجھوں کی دو دھاری تلوار پر ایسے توازن، تدبر اور حکمت کے ساتھ چلتا رہا جس نے آپ کے وجود کو کچل دینے کے باوجود انجام کار سرخرو و کامران کیا۔

آپ ایک کثیرالعیال گھرانے کے سربراہ تھے۔ بہت چھوٹی عمر میں بوڑھے والدین کی خدمت کے ساتھ ساتھ چھ چھوٹے بہن بھائیوں کی نگہداشت اور خود اپنی فیملی کی ضروریاتِ زندگی کا کمر توڑ بوجھ آپ کے ناتواں کاندھوں پر پڑ گیا۔ ان کٹھن فرائض سے عہدہ برآ ہونے کے لیے اس مردِ جواں نے کیا کیا پاپڑ بیلے یہ ایک بہت طویل اور حسین داستان ہے جس کا لمحہ لمحہ جہدِ مسلسل اور کاوشِ لَم یزل کا مصداق ہے۔

آپ کو اللہ تعالیٰ نے گیارہ بچے عطا فرمائے جن میں سے تین کو چھوٹی عمر میں واپس بلا لیا۔ اپنے بہن بھائیوں کی ذمہ داریوں کی ادائیگی کے ساتھ ساتھ آپ نے اپنے آٹھ بچوں کو جس طرح تعلیم و تربیت اور حسنِ معاملت کے زیور سے آراستہ کیا وہ بلاشبہ اپنی مثال آپ ہے۔ یہاں خود آپ کی جہاں بینی اور زیرکی کا پتہ چلتا ہے کہ مصائب و آلام اور محنت و مشقت کی جس چکی میں پسِ کر آپ نے شدائدِ حیات کا مقابلہ کیا وہ کن منزلوں کی نشاندہی اور کن مقاصد و اہداف کا تقاضا کرتی ہے۔

لڑکپن میں آپ کے عزائم بھی میڈیکل کی اعلیٰ تعلیم حاصل کر کے ایک برتر مقام اور بہتر خدمتِ خلق کی تگ و دو کرنا تھی مگر حالات کی مجبوریوں اور ذمہ داریوں کے بوجھ نے آپ کا یہ خواب پورا نہ ہونے دیا۔ مگر اس محرومی نے ایک انتہائی راسخ عزم آپ کے اندر بیدار کر دیا کہ ان مجبوریوں اور محرومیوں کا آپ کی اولاد شکار نہ ہونے پائے۔ چنانچہ آپ نے ہر دکھ درد خود برداشت کیا، ہر سختی آپ جھیلی اور ہر روکھی سوکھی میں خود گزر اوقات کیا مگر اپنے بچوں کی تعلیم و مستقبل کی راہ میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہ چھوڑا۔

قاری صاحب نے اپنی تمام اولاد بشمول بیٹیوں کو اعلیٰ دینی و دنیاوی تعلیم دلوائی اور ان کے اچھے گھرانوں میں رشتے کر کے نہ صرف ایک باوقار اور خوشحال زندگی کی طرف رواں دواں کیا بلکہ انسانی ہمدردی، خوش خلقی اور رحمی رشتوں کی قدر دانی کی ایک ایسی لڑی میں پرو دیا جو ایک صدقۂ جاریہ کی طرح آپ کی آئندہ نسلوں میں بھی جاری ہو گیا۔

آپ کی بڑی صاحبزادی محترمہ امۃ الحفیظ مرحومہ (1932ءتا2015ء) اہلیہ مکرم شیخ محمد اکرم صاحب آف لاہور نے قادیان سے میٹرک کرنے کے بعد میو ہسپتال لاہور سے میڈیکل کا چار سالہ کورس کیا اور پنجاب ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ کے تحت مختلف شہروں میں مدتوں لیڈی ہیلتھ وزٹر کے فرائض انجام دیتی رہیں۔ انہوں نے اپنے والد کی جدوجہد اور اوصاف میں اس طرح بھی حصہ پایا کہ اپنی فیملی کے ساتھ ساتھ اپنے چھوٹے بہن بھائیوں اور والدین کا بھی ہاتھ بٹاتی رہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند کرے اور ان کی نیکیوں کو ان کی اولاد میں بھی جاری رکھے۔ آمین۔

محترم قاری صاحب کے بڑے صاحبزادے مکرم محمد نصیر اطہر صاحب (حال ٹورانٹو، کینیڈا) نے کراچی یونیورسٹی سے الحاق یافتہ آئی بی اے یونیورسٹی سے ایم بی اے کرنے کے بعد امریکن ایکسپریس بنک، دوبئی بنک اور بنک آف ٹوکیو جیسے اداروں میں خدمات ادا کرنے کے ساتھ ساتھ ہَلۡ جَزَآءُ الۡاِحۡسَانِ اِلَّا الۡاِحۡسَانُکے عہد کو نبھایا اور اپنے خاندان اور اعزہ و اقارب کی ہر ممکنہ مدد کا فرض بھی نبھایا۔

قاری صاحب کے دوسرے صاحبزادے مکرم خالد امیر صاحب نے بھی اپنے بڑے بھائی کی طرح اسی یونیورسٹی سے ایم بی اے کیا اور مختلف اداروں میں اعلیٰ ایگزیکٹو پوسٹ کے بعد جے ایس بنک کے سینئر وائس پریذیڈنٹ کی حیثیت سے ریٹائرڈ ہوئے۔

برادرم عزیزم طارق بشیر صاحب نے بھی ایم اے تک تعلیم حاصل کی اور حبیب بنک اسلام آباد کے سینئر مینیجر اور وائس پریذیڈنٹ کے طور پر کام کرتے رہے۔

سب سے چھوٹے صاحبزادے عزیزم محمد سفیر صاحب نے تعلیم الاسلام کالج ربوہ سے گریجوایشن کی اور پندرہ سال عریبین پیکیج کمپنی دوبئی میں ملازمت کے بعد آج کل کینیڈا میں سکونت پذیر ہیں۔

یوں گویا اس عظیم مجاہد انسان کی جاں گسل مشقتیں رنگ لائیں۔

یہ قابلِ رشک داستان جماعت احمدیہ کے ایک ایسے ولی اللہ،فرشتہ صفت، مخلص اور عاجز خادم کی ہے جس نے حضرت اقدس مسیحِ پاک علیہ الصلوٰۃ و السلام کے زمانے میں آنکھ کھولی اور آٹھ دہائیوں سے زائد عرصہ تک اوّلین تابعین کی درخشاں روایات کے امین بن کر قال اللّٰہ و قال الرسول کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنایا صدق و صفا، توکل و غنا اور صبر و رضا کے قابلِ تقلید نمونے چھوڑتے ہوئے ایک مطمئن نفس کے ساتھ 7؍ اکتوبر 1990ء کو اپنے مولائے حقیقی کے حضور جان کا نذرانہ پیش کر دیا، اس اعتماد، یقین اور احساسِ تشکر کے ساتھ کہ آقا علیہ السلام کی بابرکت زبان سے آپ کو جس ’’امین‘‘ہونے کی بشارت ملی تھی، عمر بھر نہایت دیانتداری کے ساتھ ذمہ داریوں کی امانتوں کا بارِ گراں جہدِ مسلسل سے اٹھائے ہوئے ان کا پورا پورا حق ادا کیا۔ اور آئندہ نسلوں کے واسطے اپنی عظمتِ کردار کا ایسا نمونہ چھوڑا جو راہ گزرانِ منازلِ سلوک و طریقت کے لیے ہمیشہ مہمیزِ سفر ثابت ہوتا رہے گا۔ وہ وجود جس نے امامِ آخر الزمانؑ کے دَور کی برکتوں اور رحمتوں کو سمیٹا اور اپنی استعدادوں اور کاوشوں کے آئینۂ ابصار میں منعکس کرتے ہوئے اپنے اطراف کو مقدور بھر منور کیا۔ وہ وجود جس کی راتیں تہجد کے سجدوں کی دلگداز حدتوں سے معمور اور جس کے محنتوں اور مشقتوں کے دن تلاوتِ قرآن اور ذکرِ الٰہی سے بھرپور ایک ایسی قناعت اور نفسِ مطمئنہ کے غماز تھے کہ رہتی دنیا تک اسیرانِ عشق اور متلاشیانِ حق کی راہوں میں اپنے عاجزانہ نمونوں کے پھول بکھیرتے رہیں گے۔ فغفر لہٗ ربی۔

٭…٭…٭

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close