حضرت مصلح موعود ؓ

میری سارہ (قسط نمبر 6۔ آخری)

اَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ

بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ نَحْمَدُہٗ وَ نُصَلِّیْ عَلٰی رَسُولِہِ الْکَرِیْمِ

خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ۔ ھُوَ النَّاصِرُ

(رقم فرمودہ حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ)

مرحومہ کے لیے دعا

اے میرے رب ! میں اب اپنی پکار کو اس وقت کیلئے ختم کرتا ہوں۔ کیونکہ تیرے آگے کی فریاد کبھی ختم ہو ہی نہیں سکتی۔ اے میرے آقا ! میں اس فریا د کے خاتمہ پر تیرے سامنے ایک تیرا ہی کلام پیش کرتا ہوں اور کلام بھی وہ جو تونے اپنے محبوب سيدُ ولد آدم پر نازل کیا تھا۔ اے میرے رب ! ایک حدیث قدسی میں ہے کہ ایک غار میں تین آ دمی بارش سے پناہ لینے کیلئے داخل ہوئے۔ ان کے غار میں داخل ہونے کے بعد ہوا کے زور سے ایک بڑی چٹان لڑھک کر غار کے دروازہ پر آ گری اور دروازہ بالکل بند ہوگیا اور نکلنے کا کوئی راستہ باقی نہ رہا۔ تب اے میرے پیارے! انہوں نے مشورہ کیا اور کہا کہ آ ؤ ہم اپنے ان اعمال کا واسطہ دے کر خدا تعالیٰ سے دعا کریں کہ جوخالص اللہ تعالیٰ کیلئے تھے تا اللہ تعالیٰ اس مصیبت سے ہمیں بچائے۔ پس اے میرے رب ! ان تینوں نے باری باری اپنا ایک ایک عمل جسے وہ سمجھتے تھے کہ خالصۃً تیرے لئے تھا، یا دکرا کرا کے دعا کی اور ہر شخص کی دعا کے بعد تو نے ایسے سامان پیدا کر دیئے کہ غار کے منہ کے آگے کا پتھر ڈھلکتا گیا یہاں تک کہ آخر ان کے نکلنے کا راستہ ہو گیا اور وہ تینوں مسافر اس ہولناک موت سے نجات پا گئے۔ اے میرے آقا! یہ وہ خبرہے جو تو نے اپنے پیارے رسول کو دی تھی اور یقیناً اس لئے دی تھی کہ تیرے بندے اس سے فائدہ اٹھائیں۔ سواے پیارے! میں تیرے منشا ء کو پورا کرتے ہوئے تجھ سے درخواست کرتا ہوں کہ دلوں کے بھید جاننے والے آقا، پوشیدہ رازوں سے آگاہ آقا، نیتوں کی باریکیوں سے واقف آقا، اگر تیرے علم میں یہ ہے کہ میں نے اور سارہ بیگم نے تیرے ہی لئے، تیری ہی رضا کی خاطر، تیرے ہی دین کی تقویت کیلئے سارہ بیگم کی پڑھائی کا کام شروع کیا تھا اور اس میں دنیا کی عزت یا نفع یا کوئی دنیوی غرض پوشیدہ نہ تھی، تو اے رب ! میں بھی ان غار میں پھنسے ہوئے لوگوں کی طرح غم و الم کے غار میں سے جس کے سب دروازے بند نظر آتے ہیں تجھے پکارتا ہوں، تیرے سامنے ہاتھ پھیلاتا ہوا درخواست کرتا ہوں کہ اے اَرْحَمُ الرَّاحِمِيْنَ! اے بندے کے تھوڑے عمل کو قبول کرنے والے! اے نیتوں کا بدلہ دینے والے رب! جس کے دروازے سے کوئی سوالی واپس نہیں جاتا تُو اس فعل کے بدلہ میں جب کہ تیرے لئے سارہ بیگم نے اپنی عمر سے کوئی فائدہ بظاہر نہیں اٹھایا تو ان کو اگلے جہان میں اعلیٰ مقامات عطا فرما، اپنے قرب میں جگہ دے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بہو کی حیثیت سے انہیں قبول کر اور اپنے خسر کے پاس اعلىٰ عليين میں جگہ دے کہ تیرے فضلوں سے یہ بات کچھ بعید نہیں اور تیری شان کے یہ بالکل شایان ہے۔

آمِيْن اللّٰهُمَّ آميْنَ

اور اے میرے پیارے! یہ مت خیال کر کہ جب میں اپنے بندے کی دعا سنتا ہوں تو وہ اور دلیر ہو جا تا ہے کیونکہ تو دینے کیلئے اور ہم مانگنے کیلئے اور تیری یہ سنت ہے کہ جب تو ایک فضل کرتا ہے تو تیری رحمت جوش میں آ کر اسے اکیلا نہیں رہنے دیا کرتی تو اسے ضرور جوڑا بنا تا ہے کیونکہ وحدت صرف تیری ذات کو حاصل ہے باقی سب چیزوں کو تو نے جوڑا بنایا ہے پس میں تیری توحید سے ملتجی ہوں، تیری اس قدیم سنت سے درخواست کرتا ہوں کہ جو کبھی رحمت کے عمل کو اکیلا نہیں رہنے دیتی کہ جب تو سارہ بیگم پر رحم فرمائے تو اے میرے پیارے! ایک دیر سے جداشدہ میری پیاری بیوی، میرے پیارے استاد کی لاڈلی بیٹی، میرے عزیز بچوں کی ماں بھی اس کے ساتھ ہی لیٹی ہوئی تیرے فضلوں کی امیدوار ہے تو اس پر بھی فضل کر اور اسے بھی اپنی خاص برکتوں سے حصہ دے اور اعلیٰ تر قیات کا وارث کر جو اس دنیا میں با ہم سوت تھیں اس جہان میں بہنیں ہو کر رہیں کہ تیری جنت میں کینہ اور بغض کا گزر نہیں۔

آمِيْن اللّٰهُمَّ آميْنَ

اے پیارے! زبان رکتی ہے اور قلم اٹکتا ہے مگر تجھ سے نہ مانگوں تو کس سے مانگوں۔ تجھ سے نہ کہوں تو کس سے کہوں۔ اک گنہ گار وجود اور بھی تیرے فضل کا امید وار ہے، ایک ڈوبی ہوئی جان اور بھی تیرے سہارے کی منتظر ہے، ایک جلا ہوا دل اور بھی تیری رحمت کے چھینٹے کو ترس رہاہے، ایک پھٹا ہوا سینہ اور بھی تیری رأفت کی مرہم کی امید لگائے ہوئے بیٹھا ہے، آ آ جب رحمت کا دریا جوش پر ہے تو اسے بھی آغوش میں لے لے، رحم کرنے پر آیا ہے تو اب رحم کر، ادھورا نہ چھوڑ۔ تیری سبوحیت میں کیا کمی آئے گی۔ اگر اسے سبوحیت کی چادر اڑھادے تیری قدوسیت میں کیانقص ہو جائے گا؟ اگر اسے قد وسیت کی عبا میں لپیٹ دے۔ آہ! تو جانتا ہے کہ پورے پچیس سال ہوئے ایک دل ٹوٹا تھا ایک کلی مرجھائی تھی پھر نہ ٹوٹا ہوا دل جڑانہ سوکھی ہوئی کلی تازہ ہوئی۔ دنیا میں ایک خلا پیدا ہو گیا جو پھر کبھی نہ پر ہوا اور آسمان میں ایک شگاف پیدا ہوا جو پھر کبھی بند نہ ہوا کیا اب بھی تیری رحمت جوش میں نہ آئے گی؟ کیا اب بھی تیرافضل نازل نہ ہوگا۔

وَاٰخِرُ دَ عْوَ نَا اَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ۔

مرزامحموداحمد۔ خلیفۃ المسیح

23؍جون 1933ء

الفضل 27؍جون 1933ء

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close