متفرق مضامینمضامین

خلیفہ خدا بناتا ہے(قسط1)

(درِ ثمین احمد۔ جرمنی)

احادیث حضرت اقدس مسیح موعودؑاور خلفائے احمدیت کے ارشادات کی روشنی میں

گذشتہ ما ہ الفضل انٹرنیشنل میں مکرم عابدوحید خان صاحب کی ڈائری کے اردو ترجمہ کی قسط چہارم ( مطبوعہ 17؍دسمبر 2021ء)میں بیان ہونے والی ایک بات میرے آج کے مضمون کا محرک بنی ہے۔’’خلیفہ خدا بناتا ہے‘‘ کے عنوان سے بعض ارشادات جمع کرنے کی کوشش کی ہے جس سے امید ہےکہ قارئین کی یاد دہانی اور دہرائی ہو جائے گی۔ اور اگر کسی کے ذہن میں خدا نخواستہ کوئی شکوک و شبہات ہوں تو ان ارشادات سے راہ نمائی حاصل ہو جائے گی۔

مذکورہ بالہ مضمون میں مکرم عابدوحید خان صاحب نے بیان کیا :’’یہ بھی میرے فرائض میں شامل ہے کہ میں بعض ناخوشگوار اور تکلیف دہ واقعات بھی گاہے بگاہے حضور کے علم میں لاتا رہوں۔

مثال کے طور پر آج کل میرے علم میں یہ بات آئی ہے کہ کچھ لوگ انٹرنیٹ پر بیٹھے خلافت کے بارے میں اندازے لگا رہے ہیں کہ اگلا خلیفہ کون ہوگا۔ان میں سے اکثر غیر احمدی تھے لیکن یہ بھی لگ رہا تھا کہ کچھ احمدی بھی اس بحث میں شامل تھے۔مجھے یہ بھی معلوم ہوا تھا کہ اس قسم کی باتیں بعض اوقات احمدی گھرانوں میں بھی ہوتی ہے۔

ایک دوپہر میں نے اس کا حضور کے سامنے ذکرکیا۔

اس کے جواب میں حضور نے فرمایا:’’جو لوگ آئندہ بننے والے خلفاء کے بارے میں باتیں کرتے ہیں یا اس بارے میں قیاس آرائیاں کرنے کی کوشش کرتے ہیں یہ وہی لوگ ہیں جو دنیاوی سوچ رکھتے ہیں اور درحقیقت یہ لوگ یہ قیاس آرائیاں کررہے ہیں کہ موجودہ خلیفہ کب تک زندہ رہے گاجبکہ ایک احمدی جو خلافت اور جماعت سے اخلاص کا تعلق رکھتا ہے وہ تو کبھی ایسی باتوں کے بارے میں سوچنا بھی پسند نہیں کرتا۔‘‘

اس کے بعدحضور نے ایسی فضول بحثوں کی مذمت کرتے ہوئے فرمایا:’’اللہ تعالیٰ جب چاہتا ہے اور جسے چاہتا ہے خلیفہ چن لیتا ہے۔وہ ایک گمنام آدمی کو دنیا کی ایک معروف شخصیت بنا دیتا ہے۔کون ہے جو مجھے میری خلافت سے قبل جانتا تھا؟کوئی بھی نہیں۔لیکن کسی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے یہ چاہا کہ وہ یہ ذمہ داری مجھ پر ڈالے سو اس نے جماعت کے لوگوں کی اس طرف راہ نمائی کی۔شریف عودہ صاحب کو ہی دیکھ لیں وہ کہتے ہیں کہ میں آپ کو نہیں جانتا تھااور نہ پہلے آپ کا چہرہ دیکھا تھا۔ لیکن پھر بھی جب خلافت خامسہ کا انتخاب ہوا تو ان کو اندر سے کسی چیز نے مجبور کیا کہ ووٹ دوں(حضور انور کے حق میں) دوسرے کئی لوگوں نے خواب دیکھے کہ میں خلیفہ بنوں گا۔‘‘

مزید براں حضور نے فرمایا: ’’کچھ لوگ یہ بھی سوچتے ہیں کہ خلافت کا وعدہ صرف خاندان مسیح موعودؑ سے ہی ہے اور خلیفہ انہی میں سے ہوگا۔حالانکہ اس کی کوئی ضمانت نہیں۔مستقبل میں خلیفہ افریقن،یورپین یا کسی اور قوم سے بھی ہوسکتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے اپنے آپ کو کسی ایک خاندان کے ساتھ پابند نہیں کیا۔بلکہ وہ اپنا خلیفہ تقویٰ کے معیار کے مطابق چنے گا۔پس آئندہ خلفاء کے بارے میں اس قسم کی بحثیں مکمل طور پر غلط اور فضول ہیں اور یہ ان کی دنیاوی سوچ کو عیاں کررہی ہیں۔‘‘( الفضل انٹرنیشنل 17؍دسمبر 2021ءصفحہ 11)

خلافت احمدیہ کی 114سالہ تاریخ اس بات کی شاہد ہے کہ بلاشبہ خلافت خدا تعالیٰ کے اپنے ہاتھ کا لگایا ہواپوداہے۔ خدا تعالیٰ ہمیشہ اس کی حفاظت فرماتارہا ہے اور انشاءاللہ فرماتا رہے گا۔یہ ننھا پودا اب خدا تعالیٰ کے فضل سےایک مضبوط اور تناوردرخت کا روپ دھار چکا ہے۔اس کی باثمر شاخیں اکناف عالم میں پھیل چکی ہیں۔الحمدللہ!

خلافت کی عظمت شان کا اندازہ اس بات سے کیا جاسکتا ہے کہ خلیفہ کے انتخاب کا تمام معاملہ خدا تعالیٰ نے خود اپنے ہاتھ میں رکھا ہے۔ چنانچہ قرآن مجید کی سورت النور کی آیت استخلاف میںایمان اوراعمال صالحہ پر قائم مومنوں کو خلیفہ بنانے کا وعدہ فرمایا گیا تو فرمایا لَیَسْتَخْلِفَنَّھُمْ کہ وہ ضرور خود ان کو خلیفہ بنائے گا ۔پس جن وجودوں کا تقرر خود خدا تعالیٰ کرے وہ کس شان کے حامل ہوں گے۔ ایک کمزور انسان کی بساط نہیں کہ اس کا اندازہ کرسکے۔

یہاں اس بات کا اعادہ بھی ضروری ہے کہ اللہ تعالیٰ کے انبیاء ورسل اس وقت مبعوث ہوتے ہیں جب دنیا ہر طرح کی روحانی تاریکی کا شکار ہوچکی ہوتی ہے اور ہر طرف فساد اور ظلمت برپا ہوتی ہے۔ ضلالت و گمراہی کے ایسے زمانے میں اللہ تعالیٰ کی بے پایاں رحمت جوش مارتی ہے اور براہ راست کسی نبی کاتقرر فرماتی ہے۔ لیکن خلافت وہ نعمت عظمیٰ ہے جو مومنین کی جماعت کو ان کے ایمان اور اعمال صالحہ پر قائم ہونے کی بدولت اللہ تعالیٰ کی طرف سے ا س کی رضا اور خوشنودی کی سند کے طور پر عطا ہوتی ہے۔ لہٰذا اس خوشنودی کے نتیجے میں خلفاء کے انتخاب کے وقت مومنوں کو بھی یہ اعزاز بخشتا جاتا ہے کہ وہ اس انتخاب کا براہ راست حصہ بنیں۔ بادیٔ النظر سے جائزہ لیں تو بظاہر یہ انتخاب ہوتا ہے مگر درحقیقت اللہ تعالیٰ کی وحی خفی کے نتیجے میں خدا کی مرضی اور اس کے تصرف کے تابع لوگ اسی پاک وجود کا انتخاب کرتے ہیں جو اس منصب پر فائز کیے جانے کے لیے خدا کی مرضی اور اس کا فیصلہ ہوتا ہے۔

حضرت شاہ ولی اللہ صاحب محدّث دہلوی ؒفرماتے ہیں :’’آیت لَیَسْتَخْلِفَنَّھُمْ کے معنی یہ ہیں کہ خدا تعالیٰ خلفاء کو مقرر فرماتا ہے … جب اصلاح عالم کے لئے کسی خلیفہ کی ضرورت سمجھتا ہے تو لوگوں کے دلوں میں الہاماً ڈال دیتا ہے کہ وہ ایسے شخص کو خلیفہ منتخب کریں جسے خداتعالیٰ خلیفہ بنانا چاہتا ہے۔‘‘(ازالۃ الخفاء مترجم اردو از حضرت شاہ ولی اللہ صاحب محدّث دہلوی علیہ الرّحمۃ مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی صفحہ 77)

انتخاب خلافت از روئے حدیث

یہ خدا کا کام ہے

حضرت عائشہ ؓبیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی آخری بیماری میں فرمایا:میں ابوبکر کو اپنے بعد خلیفہ مقرر کرنا چاہتا تھا مگر پھر میں نے خیال کیا کہ یہ خدا کا کام ہے۔خدا ابوبکر کے سوا کسی اور شخص کو خلیفہ نہیں بننے دے گا اور نہ ہی خدا کی مشیت کے ماتحت مومنوں کی جماعت ابوبکر کے سوا کسی اور کی خلافت پر راضی ہو سکے گی۔(صحیح بخاری کتاب الاحکام باب الاستخلاف حدیث نمبر6677)

حضرت عائشہ ؓبیان کرتی ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اپنی آخری بیماری کے دوران فرمایا:مجھے ڈر ہے کہ کئی خواہش رکھنے والے اٹھ کھڑے ہوں گے اور کہیں گے میں خلافت کا زیادہ حقدار ہوں۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ اور مومن ابوبکر کے سوا کسی کو خلیفہ بنانے پر راضی نہیں ہوں گے۔(مسلم کتاب فضائل الصحابہ باب فضائل ابوبکر حدیث 4399)

اللہ نے خلیفہ بنایا

حضرت عثمان ؓنے صحابہ کی ایک مجلس سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا:اللہ تعالیٰ نے ابوبکر ؓکو خلیفہ بنایا۔اللہ کی قسم نہ میں نے کبھی ان کی نافرمانی کی اور نہ کبھی انہیں دھوکا دیا۔ پھر اللہ نے عمرؓ کو خلیفہ بنایا۔ خدا کی قسم نہ میں نے کبھی ان کی حکم عدولی کی نہ کبھی غلط بیانی کی۔ پھر اللہ نے مجھے خلیفہ بنادیا۔کیا میرے تم پر وہی حقوق نہیں جو ان پہلے خلفاء کے مجھ پر تھے۔(صحیح بخاری کتاب المناقب باب ہجرة الحبشةحدیث نمبر 3583)

خلیفہ معزول نہیں ہوسکتا

حضرت عائشہ ؓبیان کرتی ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عثمان ؓسے فرمایا:یقینا ًاللہ تعالیٰ تجھے ایک قمیص پہنائے گا اور اگر منافقین تجھ سے اس قمیص کے اتارنے کا مطالبہ کریں تو اسے ہرگز نہ اتارنا یہاں تک کہ تم مجھ سے آن ملو۔ یہ بات رسول اللہ نے تین دفعہ فرمائی۔(مسند احمد۔ حدیث نمبر23427)

ایک حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے وہ قمیص اتارنے کا مطالبہ کرنے والوں کو ظالم قرار دیا ہے۔(الطبقات الکبریٰ جلد3 صفحہ66ذکر ماقیل لعثمان فی الخلع۔ ابن سعد دار صادر بیروت)

باغیوں نے جب حضرت عثمانؓ سے خلافت سے دستبردار ہونے کا مطالبہ کیا تو انہوں نے فرمایا:جو قمیص خداتعالیٰ نے مجھے پہنائی ہے میں اسے ہرگز اتار نہیں سکتا۔(الطبقات الکبریٰ جلد3 صفحہ72 ابن سعد دار صادر بیروت)

پھر فرمایا کہ مجھے پھانسی پر لٹک جانا زیادہ مرغوب ہے بہ نسبت اس کے کہ میں اللہ تعالیٰ کے عطا کردہ منصب خلافت سے الگ ہو جاؤں۔(تاریخ طبری جلد2 صفحہ667 ابن جریر۔دارالکتب العلمیہ بیروت 1406ھ۔ طبع اولیٰ)

خلافت از روئےارشادات حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃالسلام

نبی کے بعد خلیفہ بناناخد اکا کام ہے

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں :’’یہ خدا تعالیٰ کی سنت ہے اور جب سے کہ اس نے انسان کو زمین میں پیدا کیا ہمیشہ اس سنت کو وہ ظاہر کرتا رہا ہے کہ وہ اپنے نبیوں اور رسولوں کی مدد کرتا ہے اور اُن کو غلبہ دیتا ہے جیسا کہ وہ فرماتا ہے

کَتَبَ اللّٰہُ لَاَغۡلِبَنَّ اَنَا وَ رُسُلِیۡ (المجادتہ:22)

اور غلبہ سے مراد یہ ہے کہ جیسا کہ رسولوں اور نبیوں کا یہ منشا ءہوتا ہے کہ خدا کی حجت زمین پر پوری ہوجائے اور اس کا مقابلہ کوئی نہ کرسکے اسی طرح خدا تعالیٰ قوی نشانوں کے ساتھ اُن کی سچائی ظاہر کر دیتا ہے اور جس راستبازی کو وہ دنیا میں پھیلانا چاہتے ہیں اُس کی تخم ریزی انہیں کے ہاتھ سے کردیتا ہے لیکن اس کی پوری تکمیل ان کے ہاتھ سے نہیں کرتا بلکہ ایسے وقت میں ان کو وفات دے کر جو بظاہر ایک ناکامی کا خوف اپنے ساتھ رکھتا ہے مخالفوں کو ہنسی اور ٹھٹھے اور طعن اور تشنیع کا موقع دے دیتا ہے اور جب وہ ہنسی ٹھٹھا کرچکتے ہیں تو پھر ایک دوسرا ہاتھ اپنی قدرت کا دکھاتا ہے اور ایسے اسباب پیدا کردیتا ہے جن کے ذریعہ سے وہ مقاصد جو کسی قدر نا تمام رہ گئے تھے اپنے کمال کو پہنچتے ہیںغرض دو قسم کی قدرت ظاہر کرتا ہے (1) اوّل خود نبیوں کے ہاتھ سے اپنی قدرت کا ہاتھ دکھاتا ہے (2) دوسرے ایسے وقت میں جب نبی کی وفات کے بعد مشکلات کا سامنا پیدا ہوجاتا ہے اور دشمن زور میں آجاتے ہیں اور خیال کرتے ہیں کہ اب کام بگڑ گیا اور یقین کر لیتے ہیں کہ اب یہ جماعت نابود ہوجائے گی اور خود جماعت کے لوگ بھی تردّد میں پڑ جاتے ہیں اور ان کی کمریں ٹوٹ جاتی ہیں اور کئی بدقسمت مرتد ہونے کی راہیں اختیار کرلیتے ہیں۔ تب خدا تعالیٰ دوسری مرتبہ اپنی زبردست قدرت ظاہر کرتا ہے اور گرتی ہوئی جماعت کو سنبھال لیتا ہے پس وہ جو اخیر تک صبر کرتا ہے خدا تعالیٰ کے اس معجزہ کو دیکھتا ہے‘‘(رسالہ الوصیت،روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 304)

اسی طرح ایک اَور جگہ فرماتے ہیں :’’صوفیاء نے لکھا ہے کہ جو شخص کسی شیخ یا رسول یا نبی کے بعد خلیفہ ہونے والا ہوتا ہے تو سب سے پہلے خدا کی طرف سے اس کے دل میں حق ڈالا جاتا ہے۔ جب کوئی رسول یا مشائخ وفات پاتے ہیں تو دنیا پر ایک زلزلہ آ جاتا ہے اور وہ ایک بہت ہی خطرناک وقت ہوتا ہےمگر خدا کسی خلیفہ کے ذریعہ اسے مٹاتا ہے اور پھر گویا اس امر کا از سرِ نَو اس خلیفہ کے ذریعے اصلاح و استحکام ہوتا ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کیوں اپنے بعد خلیفہ مقرر نہ کیا اس میں بھی یہی بھید تھا کہ آپؐ کو خوب علم تھا کہ اللہ تعالیٰ خود ایک خلیفہ مقرر فرمادے گا کیونکہ یہ خدا کا ہی کام ہےاورخداکےانتخاب میںنقص نہیں۔۔۔۔

حضرت مولانا المکرم سیّد محمد احسن صاحب نے عرض کیا کہ حضور کے الہام میں تو یہی مضمون ہے:

اَلْحَمْدُ للِّٰہ الَّذِیْ جَعَلَکَ الْمَسِیْحُ ابْنَ مَرَیَمَ

اور آیت استخلاف میں بھی اللہ تعالیٰ نے اسناد لَیسْتَخْلِفَنَّ اور لَیُمَکِّنَنَّ کی اپنی طرف ہی فرمائی ہے نہ کہ رسول کی طرف۔

حضرت اقدس نےفرمایاکہ:

ایک اور الہام میں اللہ تعالیٰ نے ہمارا نام بھی شیخ رکھا ہے۔

اَنْتَ الشَّیْخُ المَسِیْحُ الَّذِیْ لَا یُضَاعُ وَقْتُہْ۔

اور ایک اور الہام میں یوں آتا ہے کہ کَمِثْلِکَ دُرٌلَّا ا یُضَا عُ۔ان الہامات سے ہماری کامیابی کا بیّن ثبوت ملتا ہے۔ ‘‘(ملفوظات جلد 5صفحہ524تا525،ایڈیشن 1988ء)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں : ’’میں خدا کی طرف سے ایک قدرت کے رنگ میں ظاہر ہوا اور میں خدا کی ایک مجسم قدرت ہوں اور میرے بعد بعض اور وجود ہوں گے جو دوسری قدرت کا مظہر ہوں گے۔ سو تم خدا کی قدرت ثانی کے انتظار میں اکٹھے ہو کر دعا کرتے رہو۔ اور چاہئے کہ ہر ایک صالحین کی جماعت ہر ایک ملک میں اکٹھے ہو کر دعا میں لگے رہیں تا دوسری قدرت آسمان سے نازل ہواور تمہیں دکھاوے کہ تمہارا خدا یسا قادر خدا ہے۔

…خدا تعالیٰ چاہتا ہے کہ ان تمام روحوں کو جو زمین کی متفرق آبادیوں میں آباد ہیں کیا یورپ اور کی ایشیاء ان سب کو جو نیک فطرت رکھتے ہیں توحید کی طرف کھینچے اور اپنے بندوں کو دین واحد پر جمع کرے یہی خدا تعالیٰ کا مقصد ہے جس کے لئے میں دنیا میں بھیجا گیا سو تم اس مقصد کی پیروی کرو مگر نرمی اور اخلاق اور دعائوں پر زور دینے سے۔ اور جب تک خدا سے روح القدس پا کر کھڑا نہ ہو سب میرے بعد مل کر کام کرو۔‘‘(رسالہ الو صیت، روحانی خزائن جلد20صفحہ306تا307)

فرمودات حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل ؓ خلیفہ بنانا انسان کا کام نہیں بلکہ خدا تعالیٰ کا کام ہے

حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل رضی اللہ عنہ نے احمدیہ بلڈنگس لاہور میں تقریر کرتے ہوئے فرمایا:’’میں نے تمہیں بار ہا کہا ہے اور قرآن مجید سے دکھایا ہے کہ خلیفہ بنانا انسان کا کام نہیں بلکہ خدا تعالیٰ کا کام ہے۔ آدم ؑکو خلیفہ بنایا کس نے ؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا

اِنِّىْ جَاعِلٌ فِى الْاَرْضِ خَلِيْفَۃً۔(البقرۃ:31)

اس خلافت ِآدمؑ پر فرشتوں نے اعتراض کیا … مگر انہوں نے اعتراض کرکے کیا پھل پایا؟ تم قرآن مجید میں پڑھ لو، آخر انہیں آدمؑ کے لئے سجدہ کرنا پڑا۔ پس اگر مجھ پر کوئی اعتراض کرے اور وہ اعتراض کرنے والا فرشتہ بھی ہو تو میں اُسے کہدوں گا کہ آدم کی خلافت کے سامنے سربسجود ہو جاؤ تو بہتر ہے۔اور اگر وہ اِبَاءاور اِسْتِکْبَار کو اپنا شعار بناکر اِبْلِیْس بنتا ہے تو پھر یاد رکھے کہ ابلیس کو آدم کی مخالفت نے کیا پھل دیا۔میں پھر کہتا ہوں کہ اگر کوئی فرشتہ بن کر بھی میری خلافت پر اعتراض کرتا ہے تو سعادتمند فطرت اُسے اُسْجُدُوْالِادَمَ کی طرف لے آئے گی۔‘‘(بدر 4؍جولائی 1912ء)

مزیدفرماتے ہیں:’’جناب الٰہی کا انتخاب بھی تو ایک انسان ہی ہوتا ہے۔ اُس کو کوئی ناکامی پیش نہیں آتی۔ وہ جدھر منہ اُٹھاتا ہے اُدھر ہی اُس کے واسطے کامیابی کے دروازے کھولے جاتے ہیں اور وہ فضل،شِفا،نور اور رحمت دکھلاتا ہے۔‘‘(خطبات نور، صفحہ56)

’’یہ خدا ہی کا دست ِقدرت ہوتا ہے جو کہ ایک نبی کا قائمقام کسی کو بناتا ہے۔ اُن پر مشکلات آتی ہیں مگر خدا بدلہ دیتا ہے۔ اُن لوگوں میں تعظیم لِاَمْرِ اللّٰہ اور شفقت علیٰ خلق اللہ دونوں کمالات ہوتے ہیں۔ خدا کی کاملہ صفات کے یہ لوگ گرویدہ ہوتے ہیں اور مخلوق کی بے ثباتی اور لاشے ہونا اُن کو بتلاتا ہے کہ خدا کا شریک کوئی نہیں ہے۔‘‘(خطبات نور،صفحہ 175تا176)

نیز فرمایا کہ ’’چونکہ خلافت کا انتخاب عقلِ انسانی کا کام نہیں۔عقل نہیں تجویز کرسکتی کہ کس کے قویٰ قوی ہیں۔کس میں قوتِ انتظامیہ کامل طور پر رکھی گئی ہے۔اِس لئے جنابِ الٰہی نے خود فیصلہ کردیا ہے۔

وَعَدَ اللّٰہُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْکُمْ وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَیَسْتَخْلِفَنَّہُمْ فِی الْأَرْضِ

۔خلیفہ بنانا اللہ تعالیٰ ہی کا کا م ہے۔ ‘‘(حقائق الفرقان، جلد 3 صفحہ 225)

پھر فرمایا:’’تم نے میرے ہاتھوں پر اقرار کئے ہیں۔ تم خلافت کا نام نہ لو، مجھے خدا نے خلیفہ بنا دیا ہے اور اب نہ تمہارے کہنے سے معزول ہوسکتا ہوں اور نہ کسی میں طاقت ہے کہ وہ معزول کرے۔اگر تم زیادہ زور دوگے تو یاد رکھو میرے پاس ایسےخالد بن ولید ہیں جو تمہیں مرتدوں کی طرح سزا دیں گے۔‘‘(بدر 4؍جولائی 1912ء)

ایک اور مقام پر حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: ’’یہ اعتراض کرنا کہ خلافت حق دار کو نہیں پہنچی رافضیوں کا عقیدہ ہے۔اس سے توبہ کر لو اللہ تعالیٰ اپنے ہاتھ سے جو جس کو حقدار سمجھتا ہے خلیفہ بنا دیا جو اس کی مخالفت کرتا ہے وہ جھوٹا اور فاسق ہے فرشتے بن کر اطاعت و فرمانبرداری اختیار کرو ابلیس نہ بنو۔‘‘

’’تم اس حبل اللہ کو آپ مضبوط پکڑ لو۔یہ بھی خدا ہی کی رَسی ہے۔جس نے تمہارے متفرق اجزاء کو اکٹھا کر دیا ہے۔پس اسے مضبوط پکڑے رکھو۔تم خوب یاد رکھو کہ معزول کرنا اب تمہارے اختیار میں نہیں۔تم مجھ میں عیب دیکھو آگاہ کر دو مگر ادب کو ہاتھ سے نہ دو خلیفہ بنانا انسان کا کام نہیں۔یہ خدا تعالیٰ کا اپناکام ہے اللہ تعالیٰ نے چار خلیفہ بنائے ہیں۔آدم کو دائود کو اورایک وہ خلیفہ ہوتا ہے جو لَیَسْتَخْلِفَنَّھُمْ فِی الْاَرْض میں موعود ہے اور تم سب کو بھی خلیفہ بنایا۔ پس مجھے اگر خلیفہ بنایا ہے تو خدا نے بنایا ہے اور اپنے مصالح سے بنایا ہے اس لئے تم میں سے مجھے کوئی معزول کرنے کی قدرت اور طاقت نہیں رکھتا۔اگر اللہ تعالیٰ نے مجھے معزول کرنا ہو گا تو وہ مجھے موت دے دے گا۔ ‘‘( اخبار بدر یکم فروری1913ء جلد11نمبر18،19 صفحہ 3)

(جاری ہے)

٭٭٭

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button