حالاتِ حاضرہ

خبرنامہ (اہم عالمی خبروں کا خلاصہ)

Covid-19 کی تازہ عالمی صورتِ حال

(24؍جنوری ۔ 08:00 GMT)

کل مریض: 352,242,183

صحت یاب ہونے والے: 279,933,217

وفات یافتگان: 5,615,100

٭…جنیوا میں یوکرین کے معاملے پر روسی وزیرخارجہ سرگئی لاروف نے امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن کے ساتھ ملاقات کی۔ روسی وزیرِ خارجہ نےنیوز کانفرنس میں کہا کہ امریکی وزیر خارجہ اگلے ہفتے اپنا تحریری بیان پیش کریں گے۔ انٹونی بلنکن نے بتایا ہے کہ وہ ملاقات سے مطمئن ہیں۔

روسی وزیر خارجہ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ روس نے کبھی بھی یوکرین کے لوگوں کو دھمکی نہیں دی جبکہ امریکا کی جانب سے کہا گیا ہے کہ روس یوکرین میں اشتعال انگیزی میں کمی لائے۔مجھے امید ہے کہ حالات بہتری کی طرف مائل ہوں گے۔ انہوں نے واضح کیا کہ روس کا یوکرین پر حملہ کرنے کا کوئی منصوبہ نہیں۔ روس کے خدشات ہتھیاروں کے بارے میں ہیں۔ مغربی فوجی ماہرین یوکرین بھیجے جا رہے ہیں۔ روسی صدر پیوٹن امریکی صدر جو بائیڈن سے رابطے کے لیے ہمیشہ تیار ہیں۔ ان کے درمیان کوئی بھی بات چیت کی تیاری اچھے طریقے سے ہونی چاہیے۔

واضح رہے کہ روس نے اپنی ایک لاکھ مسلح افواج یوکرین کی سرحدوں پر کھڑی کی ہوئی ہیں اور وہ اس بات کے خلاف ہے کہ یوکرین اور اس کی سرحد کے ساتھ موجود ممالک کو نیٹو اتحاد میں شامل کیا جائے۔ دوسری جانب امریکا اور نیٹو کا موقف ہے کہ یہ ممالک اپنی خوشی سے نیٹو کا حصہ بننا چاہتے ہیں اور ہر ملک کو یہ اپنی مرضی سے تعلقات رکھنے کا حق ہونا چاہیے۔

٭…برطانیہ نے الزام عائد کیا ہے کہ روس یوکرائن میں اپنی پسند کی کٹھ پتلی حکومت قائم کرنا چاہتا ہے جبکہ روس نے یوکرائن میں حکومت بدلنے کا برطانوی الزام مسترد کر دیا۔ بتایا گیا ہے کہ کریملن کی کوشش ہے کہ اس سابق سوویت ریاست میں ایک ایسی کٹھ پتلی حکومت قائم کر دی جائے، جو ماسکو کی حامی ہو۔ برطانیہ کی طرف سے یہ الزام ایک ایسے وقت میں لگایا گیا ہے، جب ایسے خدشات سنگین ہوتے جا رہے ہیں کہ روس یوکرائن پر ایک نیا حملہ کر سکتا ہے۔

٭…روس نے جنوری اور فروری کے مہینوں میں بحراوقیانوس، بحرالکاہل، آرکٹک اور بحیرہ روم میں بڑے پیمانے پر بحری مشقیں کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ان بحری مشقوں میں 140 سے زائد جنگی جہاز، چھوٹے جہاز، 60 سے زائد طیارے، ایک ہزار فوجی ساز و سامان اور 10 ہزار اہلکار حصہ لیں گے۔ روسی وزارت دفاع کے مطابق مشقوں کا بنیادی مقصد سمندر میں روسی قومی مفادات کا تحفظ اور روس کو لاحق فوجی خطرات کا مقابلہ کرنا ہے۔

٭…کابل پر قبضے کے بعد طالبان کا وفد پہلی بار یورپی سرزمین پر ناورے کے دارالحکومت اوسلو میں باقاعدہ مذاکرات کے لیے پہنچا۔ ان مذاکرات میں طالبان کے قبضے کے بعد انسانی حقوق کی صورتحال اور ہیومینیٹیرین امداد کے موضوعات کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔ افغانستان میں اس وقت لاکھوں افراد بھوک کا شکار ہیں اور اسی تناظر میں طالبان کے اس وفد کی ملاقات مغربی حکام سے ہو رہی ہے۔ذبیح اللہ مجاہد نے کہا ہےکہ اس سے افغانستان میں گذشتہ دو دہائیوں سے جاری عسکریت پسندی کے ماحول میں تبدیلی میں مدد ملے گی۔ امارات اسلامی نے مغربی دنیا کے متعدد مطالبات کی تکمیل کے لیے اقدامات کیے ہیں۔ ہم امید کرتے ہیں کہ ہم سفارتی ذریعے سے تمام ممالک بہ شمول یورپی و مغربی ممالک کے ساتھ اپنے تعلقات بہتر بنائیں گے۔ طالبان جنگ کے ماحول کو امن کی حالت سے تبدیل کرنا چاہتے ہیں۔

٭…متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کی وزارت داخلہ نے تفریحی مقاصد کے لیے استعمال ہونے والے نجی ڈرونز اور چھوٹے اسپورٹس طیاروں پر پابندی عائد کر دی ہے۔ پابندی کا نفاذ ایک ماہ کے لیے ہوگا۔ ابوظہبی میں گزشتہ ہفتے کے دوران یمن کے حوثی باغیوں نے ڈرون کے ذریعے حملے کیے تھے جن میں تین افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے تھے۔

٭…جمعے کے روز القاعدہ کی شاخ اے کیو اے پی نے یمن میں امریکی فضائی حملے کی وجہ سے اسامہ بن لادن کے قریبی ساتھی کمانڈر صالح بن سالم بن عبید عبولان کی ہلاکت کا اعلان کیا ہے۔ تنظیم نے صالح بن سالم جو ابو امیر الحضرمی کے نام سے مشہور تھا ،کی ہلاکت کی تاریخ یا جگہ کا ذکر نہیں کیا۔

٭…امریکی کانگریس کے 13 ارکان نے افغانستان کو انسانی امداد فراہم کرنے کے لیے صدر جو بائیڈن کو لکھے جانے والے خط میں تحریر کیا ہے کہ افغان عوام کی مدد نہ کی تو افغانستان ایک بار پھر ہمارے دشمنوں کا محفوظ ٹھکانہ سکتا ہے۔

٭… افغان وزارتِ خارجہ کے ترجمان عبدالقہار بلخی نے امریکی صدر جو بائیڈن کے بیان کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اختلاف رائے غیر ملکی حملہ آوروں نے اپنی بقاء کے لیے پیدا کیا، متحد قومیں ہی حملہ آوروں اور عظیم سلطنتوں کے زوال کا سبب بنتی ہیں۔ افغان عوام نے مشترکہ اسلامی عقائداور حب الوطنی کیساتھ غیرملکی حملہ آوروں کوشکست دی، امارت اسلامی نے مختصر مدت میں محدود وسائل کیساتھ مجموعی سلامتی کو یقینی بنایا، مرکزی حکومت قائم کی اور افغان قوم کو متحد کیا۔یاد رہے کہ امریکی صدر نے وائٹ ہاؤس میں پریس بریفنگ میں کہا تھا کہ افغانستان سے افواج اس لئے واپس بلالیں کیونکہ افغانستان کو ایک حکومت کے تحت متحد کرنا ممکن نہیں تھا۔

٭…افغانستان کے وزیراعظم مولوی محمد حسن اخوند نے مسلمان ملکوں سے طالبان حکومت تسلیم کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ مسلمان ملک دوسروں کا انتظار کرنے کی بجائے پہل کریں، طالبان حکومت کو تسلیم کرنے سے افغانستان کے جلد ترقی کرنے کی امید ہے۔

٭…امریکی صدر جو بائیڈن نے گزشتہ ہفتے ملک کی تاریخ میں پہلی بار ایک بنگلہ دیشی مسلم خاتون کو وفاقی جج نامزد کیا ہے۔ یہ فیصلہ انکی انتظامیہ کی اس پالیسی کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے جس میں وفاقی عدالتوں کو متنوع شکل دینا ہے۔ نصرت جہاں چودھری امریکن سول لبرٹیز یونین الینائی کی لیگل ڈائریکٹر ہیں اور انھیں صدر بائیڈن نے امریکا کے ڈسٹرکٹ کورٹ برائے ایسٹرن ڈسٹرکٹ آف نیویارک کے لیے نامزد کیا ہے۔اگر امریکی سینٹ نے انکی نامزدگی کی منظوری دیدی تو وہ بطور فیڈرل جج فرائض انجام دینے والی پہلی مسلمان اور بنگلہ دیشی نژاد امریکی خاتون ہوں گی۔

٭…سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ برس اکتوبر میں کیپیٹل ہل حملے سے متعلق کانگریس کمیٹی کی دستاویزات جاری نہ کرنے کی درخواست کی تھی جسے امریکی سپریم کورٹ کی جانب سے مسترد کردیا گیا ہے۔واضح رہے کہ سابق امریکی صدر کی الیکشن میں شکست پر ان کے حامیوں نے امریکی پارلیمنٹ کی عمارت پر حملہ کیا تھا جس کی انہوں نے حمایت کی تھی جبکہ اس واقعے کے بعد ٹرمپ کو مؤاخذے کی تحریک کا بھی سامنا تھا جو کامیاب نہ ہوسکی۔

٭…جرمن وزیر دفاع کرسٹینا لامبریشٹ نے کہا ہے کہ مالی میں فوجی مشن ختم نہیں کیا جائے گا۔ سوشل ڈیموکریٹ سیاستدان کے بقول یورپ روس کو اس بات کی اجازت نہیں دے گا کہ وہ ہر مقام سے پیچھے ہٹ جائے۔ شورش زدہ افریقی ملک مالی سے اس لیے جرمن افواج واپس نہیں بلوائی جائیں گی کہ وہاں روسی کرائے کے قاتل تعینات کیے جا چکے ہیں۔ واضح رہے کہ مالی میں فوج کی حمایت یافتہ عبوری حکومت نے حال ہی میں تسلیم کیا تھا کہ ملک میں انتہا پسندی پر کنٹرول کے لیے روسی عسکری تربیت کاروں کو بلوایا گیا ہے۔تاہم جرمنی، فرانس اور برطانیہ کا الزام ہے کہ مالی کی حکومت نے روسی کمپنی واگنر کے کرائے کے قاتلوں کے ساتھ کانٹریکٹ کیا ہے۔ یورپی یونین نے شہریوں کو اشتعال دلانے اور پرتشدد کارروائیوں میں ملوث پائے جانے پر 13؍ دسمبر 2021 کو اس کمپنی پر پابندیاں بھی عائد کر دی تھیں۔

٭…برطانیہ کی حکمران جماعت کی مسلمان رکن پارلیمنٹ نصرت غنی نے دعویٰ کیا ہے کہ انہیں مسلم عقیدے کے سبب وزارتی ذمہ داریوں سے فارغ کر دیا گیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ڈاوئنگ اسٹریٹ میں مسلمانیت کو ایک مسئلہ کے طور پر اٹھایا گیا۔ چیف وہپ نے انہیں بتایا تھا کہ ان کا مسلم عقیدہ دیگر ساتھیوں کو بے چین کررہا تھا۔ واضح رہے کہ 49 سالہ نصرت غنی کو فروری 2020ء میں کابینہ کی ردوبدل کے دوران ٹرانسپورٹ منسٹر کے عہدے سے ہٹادیا گیا تھا۔

٭…ملائیشیا کے 96سالہ سابق وزیراعظم مہاتیر محمد کو صرف ایک ہفتے قبل ایک معمولی آپریشن (الیکٹومیڈیکل پروسیجر) کے بعد دوبارہ اسپتال داخل کیا گیاہے۔ مہاتیر محمد دل کے عارضے میں مبتلا ہیں۔ گزشتہ ایک ماہ کے دوران یہ ان کی تیسری بار اسپتال منتقلی ہے۔ ان کی بیٹی مرینا مہاتیر کا کہنا ہے کہ اب ان کی حالت بہتر ہے، تاہم سابق وزیراعظم کی اہلیہ اور خاندان نے لوگوں سے اپیل کی ہے کہ ان کی فوری اور مکمل صحت یابی کے لیے دعا کریں۔

٭…سوموار 17؍ جنوری کے دن چینی حکومت کی طرف سے جاری کیے گئے نئے اعدادوشمار کے مطابق چین میں سال 2021ء میں بھی شرح پیدائش انتہائی کم رہی۔ چین کو گزشتہ ایک دہائی سے بچوں کی پیدائش میں کمی کا سامنا ہے، جس کی وجہ سے مستقبل قریب میں ہی چین مین انسانی وسائل کی کمی کا خدشہ بڑھتا جا رہا ہے اور چینی شہری بچے پیدا کرنے سے گریز کر رہے ہیں۔ نئے اعدادوشمار چینی حکومت کے لیے پریشانی کا باعث ہیں کیونکہ ملک میں نہ صرف انسانی وسائل کی کمی رونما ہو رہی ہے بلکہ اس کے ساتھ ہی بیجنگ حکومت کے ان عزائم کو بھی خطرہ لاحق ہوتا جارہا ہے، جن کے تحت وہ اپنی قومی دولت میں اضافہ اور عالمی سطح پر اپنا اثرورسوخ بڑھانا چاہتی ہے۔ ماہرین مردم شماریات نے خبردار کیا ہے کہ آبادی میں اضافے کا تناسب اگر یہی رہا تو دو ہزار پچاس تک چین میں ورکنگ کلاس نصف رہ جائے گی۔

جاپان، جرمنی اور کچھ دیگر امیر صنعتی ممالک میں آبادی میں کمی اور ورکنگ کلاس کی بڑھتی ہوئی عمروں کو ایک مسئلہ قرار دیا جا رہا ہے تاہم یہ ممالک فیکٹریوں، ٹیکنالوجی اور غیر ملکی اثاثوں پر سرمایہ کاری سے اس مشکل سے نمٹ سکتے ہیں تاہم چین کی اقتصادیات کا زیادہ تر دارومدارد کاشت کاری اور مزدوری سے جڑے شعبہ جات سے، جس کے لیے مناسب عددی قوت ناگزیر ہیں۔

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close