متفرق مضامین

حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت اقدس میں دعائیہ خط لکھنا ہی قبولیتِ دعا کا آغاز ہے

(ذیشان محمود۔ مربی سلسلہ سیرالیون)

اس زمانے میں خلافت احمدیہ کا سایہ ہمیں عطا ہونا ایک ایسی نعمت ہے جس کا ادراک ہر اس احمدی کو ہے جس کا خلافت احمدیہ پر کامل یقین ہے اور جو خلافت احمدیہ کے ذریعہ خدا تعالیٰ کی تجلی کا مظاہرہ ہوتے ہوئے مشاہدہ کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ اس نے ہمیں بھی ان خوش نصیب لوگوںمیں شامل کیا ہے کہ اس روحانی بارش کے چند چھینٹیں ہم کو بھی نہلا گئے۔

مجھے یاد ہے کہ مارٹن روڈ کراچی کی مسجد میں واقفینِ نو کی ایک کلاس میں ہمیں حضورِ انور کو خط لکھنا سکھایا گیا تھا اور میں نے حضرت خلیفة المسیح الرابع ؒ کو پہلا خط لکھا تھا۔ پھر ہر کلاس میں خط لکھتے رہے۔ کبھی مرکز سے کوئی نمائندے تشریف لاتے تو ان کو بھی دعائیہ خط پکڑا دیتے۔ یہ ذہن میں ہوتا کہ ربوہ سے شاید خط جلدی پہنچ جائے گا۔ پھر خصوصاً جو جلسے پر جارہا ہوتا ان کو دستی خط لندن بھجوانے میں ایک الگ ہی خوشی محسوس ہوتی جیسےکبھی کوئی بڑا کسی بچے کے لیے کوئی چیز لائے تو فوری شاپر کھول کر اسے پکڑاتا ہے۔ذہن میں یہی معصومانہ خیال ہوتا کہ جیسے ہی یہ لندن پہنچیں گے تو حضور کو فوراً ہمارا خط پکڑا دیں گے۔

مجموعی طور پر تو کئی بار ہم نے اس امر کا مشاہدہ کیا کہ یہاں حضور انور کو دعا کے لیے لکھا اور وہاں وہ معاملہ حل ہونا شروع ہو گیا۔کیونکہ اکثر احمدی عقیدةً یہی سمجھتے ہیں کہ حضور انور کودعائیہ خط لکھنا ہی قبولیتِ دعا کا آغاز ہے۔یہاں صرف چند ذاتی واقعات کا لکھنا مقصود ہے جو تحدیثِ نعمت کے طور پر پیش کر رہا ہوں۔

2018ء کے وسط کی بات ہے کہ ایک رات یکایک میری اہلیہ کی طبیعت خراب ہو گئی۔ گھر کی دوا استعمال کی لیکن کوئی فرق نہیں پڑا۔ ہسپتال جانے کا سوچا۔ گھر میں دو بچوں سمیت ہم چار افراد تھے۔ سخت حبس زدہ موسم تھا اور نصف شب گہری نیند میں سوئے دو چھوٹے بچوں کو جگا کر ساتھ لے جانے یا کسی پڑوسی کو جگاکر ان کے پاس چھوڑ کر جانے کے فیصلے میں بھی تذبذب کا شکار تھے۔ طبیعت ہنوز خراب۔خدا سے دعا کی کہ کوئی تدبیر سوجھے۔ یکایک حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ کو خط لکھنے کا فیصلہ کیا۔ یہ معلوم تھا کہ نہ خط فوری وہاں پیش ہونا ہے اور نہ ہی علی الصبح اگلے روز ۔ لیکن یہ امر اچھی طرح ذہن میں تھا اور ہم دونوں نے اس وقت ڈسکس بھی کیا کہ حضور انورکی خدمت میں لکھ دیں اور باقی اللہ پر چھوڑ دیں۔

اس وقت دفتر پرائیویٹ سیکرٹری ربوہ کی ویب سائٹ کھولی اور 60الفاظ پر مبنی مختصر التجائیہ کلمات لکھ کر معاملہ سپرد خدا کر دیا اور خود بھی دعا کی۔ہمارا اس بات پر ایمان اس وقت گہرا ہو گیا جب صرف نصف گھنٹے کے اندر اندر اہلیہ کی طبیعت سنبھلنی شروع ہوئی اور کچھ دیرمیں بھلی چنگی ہو گئیں۔ یہ ہمارے لیے محض اتفاق نہ تھا بلکہ اس سے قبل بھی ایسا ہو چکا تھا۔

2017ء میں خاکسار کابیٹا فارس محمود حمزہ بعمر ڈیڑھ سال اپنی سٹرالر (Stroller) پر آگے کی طرف جھک گیا جس کے سبب وہ بچہ گاڑی الٹ گئی۔اتفاق سے زمین پر ایک نوکیلی اینٹ پڑی تھی جو اس کے نچلے جبڑے پر لگی اور نچلے دو دانت اندر کی طرف مڑگئے اور ہونٹ بھی زخمی ہو گیا۔ فوری طورپر فضل عمر ہسپتال پہنچے جہاں انہوں نے اس کو داخل کیا اور خون روک کر اگلے روز صبح مدینہ ہسپتال فیصل آباد ریفر کر دیا۔

حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ کو رات کو ہی ایک فیکس کی اور ایک فیکس صبح کی جس میں دعا کی درخواست کی۔ فیصل آباد علاج کے لیے جانے کا پہلا تجربہ تھا۔ اس ہسپتال کے علاقے میں چند ماہ میری تقرری بھی رہی تھی جس کی وجہ سے رستوں سے واقف تھا۔ اللہ تعالیٰ کے فضل اور حضور انور کی دعاؤں سے ہسپتال پہنچ کر خدا کے مختلف افضال دیکھنے کو ملے۔

جب ہسپتال پہنچے تو OPD بند ہونے والی تھی لیکن اسی وقت ڈینٹل سرجن بھی موجود تھے جو اگلے دن کے آپریشن کے لیے فائنل لسٹ میں شامل مریضوں کو چیک کرنے آئے تھے۔ انہوں نے میرے بیٹے کا معائنہ کیا اور اگلے روزفوری آپریشن کے لیے فہرست میں پہلا نام ڈلوایا۔ لیکن ساتھ ہی بچوں کے لیے استعمال ہونے والی ڈینٹل پلیٹ کا انتظام کرنے کو کہا۔ ہسپتال کی فارمیسی پر پلیٹ موجود تھی لیکن وہ انتہائی مہنگی دے رہے تھے جو اس وقت موجود رقم سے زائد تھی۔ آپریشن کے لیے مختلف بنیادی ٹیسٹ کروا کر بیٹے کو ہسپتال داخل کیا۔ اسی وقت انتہائی تیز اور موسلادھار بارش شروع ہو گئی، کچھ دیر انتظار کیا جب بازار سے معلوم کرنے کے لیے گئے تو انتہائی ٹریفک جام اور ہر جگہ پانی کھڑا تھا۔ لیکن باہر سے اس سائز کی پلیٹ نہیں ملی اور اگلے دن دوپہر تک لاہور سے منگوانے کا کہہ رہے تھے۔ شام کو واپس ہسپتال آکر انتظامیہ کو بتایا تو انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس اپنی سٹرلائزڈ کی ہوئی پلیٹ موجود ہے لیکن آپ نے کل تک اس کا متبادل مہیا کرنا ہوگا۔ اس بات پر تعجب ہوا کہ یہ بات پہلے نہیں بتائی اور انتہائی شدید موسم میں بازار میں کئی گھنٹوں تک پریشان ہوتا رہا۔ خیر اگلے روز آپریشن سے قبل حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ کو ایک بار پھر دعائیہ خط لکھا۔ پھر مزید رقم لے کر بازار جانے لگا تو دل میں خیال آیا کہ ہسپتال کی فارمیسی سے ایک بار پھر معلوم کر لیا جائے۔جب وہاں گیا تو کوئی اور صاحب وہاں موجود تھے انہوں نے جب پلیٹ کا پیکٹ سکین کر کے رقم بتائی تو وہ بازار سے بھی کم ریٹ پر تھی۔ ان کو کل کی قیمت کا پوچھا تو انہوں نے کہا کہ شاید غلطی لگی ہو۔

بہر حال یہ صرف اور صرف حضور انور کو فیکس کرنے کی بدولت ہوا کہ سارے انتظامات ہو گئے اور کوئی بوجھ بھی نہیں پڑا۔ اسی طرح آپریشن بھی کامیاب ہوا اور چھ ماہ بعد دوبارہ آپریشن کے ذریعہ پلیٹ نکال دے گئی اور الحمدللہ بچہ بالکل صحت مند ہو گیا۔

لوگ اس کو اتفاق کہیں گے لیکن یہ اتفاق نہیں تھا کہ رقم کم تھی اور پلیٹ موجود، اسی سبب بازار کی قیمت کا علم ہوا۔ اور اگلے دن بازار سے بھی کم قیمت پر پلیٹ کا انتظام ہوا۔ یہ صرف خدا تعالیٰ کے خلیفہ کی دعاؤں کے طفیل ہی ممکن ہوسکا کہ اللہ تعالیٰ کی اس آزمائش سے ہم بالکل بظاہر بے آسرا تھے اور ناتجربہ کار۔ ہر مشکل پر فیکس کرتے اور معاملہ آسان ہو جاتا۔ یہ بات ہمیشہ ہمارے سامنے رہی کہ مشکل ابھی ہے اور ضرورت بھی ابھی ہے اور حضور ایدہ اللہ تعالیٰ کو فیکس کر رہے ہیں لیکن اس بات پر پختہ یقین کے ساتھ کہ یہ معاملہ اب خلیفہ ٔوقت کی دعاؤں کے سپرد ہوا۔

ان ایام میں قریبی جماعت کے قائد صاحب خدام الاحمدیہ ہمہ وقت مدد کے لیےدستیاب رہے۔اور میری رہائش کا انتظام بھی کر دیا۔ یہ بھی نظام جماعت کی برکات ہیں کہ اجنبی شہر میں مشکل وقت میں دست و بازو بننے والا کوئی نہ کوئی شخص موجود ہوتا ہے جو نظام کی اطاعت میں خدمتِ خلق کو اپنے کاموں پر ترجیح دیتا ہے۔

دوسری طرف ہم واقفین زندگی اس امر میں خوش قسمت ہیں کہ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ کی خصوصی دعاؤں کی بدولت خدا تعالیٰ کی تائید و نصرت ہر آن ہمارے شامل حال رہتی ہیں۔ اس لیے کوئی مشکل پیش ہو تو دعا کے لیے لکھ دینا ہی ہمارے لیے تریاق اوراکسیر کا درجہ رکھتی ہے۔

یہ دو واقعات ان بے شمار فضلوں کی دو بوندیں ہیں جو ہر آن ہم پر بارش برساتی رہتی ہیں۔ ایک اور واقعہ پیش کر کے ایک اور فضلِ خداوندی کے احسان کا تذکرہ کرنا مقصود ہے۔

سال 2020ء میں خاکسار کی اہلیہ امید سے تھیں اور متوقع تاریخ 8؍جنوری2021ء کی تھی۔ اس دوران خاکسار کی مجلس نصرت جہاں کے تحت سیرالیون روانگی کے لیے ویزے کی کارروائی کا آغازہو چکا تھا۔اور روانگی کے لیے 6؍جنوری کی ٹکٹ بُک ہوگئی ۔ بعض احباب نے بار بار مشورہ دیا کہ دفتر سے گزارش کر کے روانگی مؤخر کروا لی جائے۔ لیکن ہم نے فیصلہ کیا کہ اللہ تعالیٰ حامی و ناصر ہے وہی اپنےفضل سےاور سارے انتظامات پورے فرمائے گا۔ میں نے دفتر میں بھی یہی بتا دیا۔ بیٹے کی آمد اور میری سیرالیون روانگی کی تیاری جاری تھی کہ ماہِ دسمبر کا آخری عشرہ شروع ہوا۔ سال کے مختصر ایام تھے وقت پرلگا کر اڑ رہا تھا۔

21؍دسمبر 2020ء کو گھر پر کچھ مہمانوں کی آمد متوقع تھی۔ اہلیہ مہمانوں کے لیے کھانے کا اہتمام کر رہی تھیں کہ کچن میں یکایک پریشر کوکر پھٹ گیا۔مَیں دفتر سے ابھی گھر پہنچا ہی تھا۔ وہ دائیں طرف سے متاثر ہوئیں۔ فوری طور پرہسپتال گئے۔ ہسپتال پہنچ کر حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ کو خط لکھا۔ڈاکٹرز نے شام تک انڈر آبزرویشن رکھا۔ان ایام میں ایک معمولی سی پیچیدگی بھی تھی۔ لیکن اللہ تعالیٰ کے فضل اور حضور انور ایدہ اللہ کی دعاؤں سے شام تک واپس گھر آگئے۔مہمانوں کو اس امر کی بھنک بھی نہیں پڑی کہ کیا مصیبت آن پڑی تھی۔

اسی سبب اگلے روز ہی دوبارہ ہسپتال جانا پڑا اور 23؍دسمبرکو علی الصبح اللہ تعالیٰ نے ہمیں ایک صحت مند بیٹے کی نعمت سے نوازا۔ بزرگوارم خالد احمد شاہ صاحب نے نومولود کا نام فاتح احمد تجویز کیا۔اکثر احباب بطور نیک تفاؤل یہی کہتے رہے کہ اتنی مشکلات کے باوجود یہ فاتح رہا۔اسی سبب اس کا یہ نام تجویز کیا گیاہے۔

دوسری جانب شاید ہمارے اسی فیصلہ کا صلہ یہ ملا کہ ایسے حالات ہوئے کہ بیٹے کی پیدائش ایسے وقت میں ہوئی جبکہ میں ربوہ میں ہی تھا۔ سنگل فیملی کے لیے گھر اور ہسپتال بیک وقت دیکھنا واقعی مشکل امر ہے۔ اگلے چند ایام میں بیٹے کے جملہ سرکاری کاغذات بھی بنوا لیے۔ اور اللہ تعالیٰ کی جانب سے دوسرا سامان یہ ہوا کہ 6؍جنوری کو موسم کی شدت کے باعث فلائٹ کینسل ہو گئی۔ جس کےسبب ایک ماہ کا عرصہ مزید فیملی کے ساتھ گزارنے کا موقع ملا۔ گوہم اس امر کے لیے تیار تھے لیکن پھر بھی ان حالات میں اہلیہ کے لیے بچوں اور گھر کو اکیلے دیکھنا مشکل ہوتا۔

یہاں ہمیں یہ سبق ملا کہ جہاں خلیفۂ وقت کو دعا کے لیے لکھ کر اپنی پریشانیوںمیں ایک اطمینان نصیب ہو جاتا ہے۔ وہیں اطاعتِ نظام میں خاموش رہنااور خاموش عمل کرنا بظاہر تکلیف دہ اور مشکل امر نظر آتا ہے لیکن اللہ تعالیٰ کی جانب سے کوئی نہ کوئی فضل ضرور شاملِ حال ہو جاتا ہے۔

اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں ہر آن خلافت کا مطیع بنائے۔ ہماری اولاد کو بھی صالح ، خلافت احمدیہ کا دست و بازو بنائے اور ہمیشہ خدمت کی توفیق دیتا چلا جائے۔ آمین

٭…٭…٭

متعلقہ مضمون

ایک تبصرہ

  1. ماشاء اللہ الحَمدُ للّہ۔ بہت ہی عمدہ مضمون ہے۔خلافت سے تعلّق کے مزید بہتر کرنے والی تحریر ہے۔ خاکسار کو بھی اس مضمون کو پڑھ کر فوری حضور انور کی خدمت میں خط لکھنے کی تحریک ہوئی۔ جزاک اللہ عزیزم برادرم

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close