متفرق مضامین

Bullying ایک خاموش قاتل

(لئیق احمد عاطف۔ مبلغ سلسلہ و صدر جماعت احمدیہ مالٹا)

دَورِ حاضر جس میں ہم رہ رہے ہیں، Bullying ہماری معاشرتی فلاح و بہبود کے لیے ایک بہت بڑا خطرہ ہے اور یہ بے چینی، پریشانی اور بدامنی کی ایک بہت بڑی وجہ ہے۔ اگرچہ ہر معاشرے اور دنیا کی ہر قوم کی طرف سے Bullying کی مذمت کی جاتی ہے، لیکن یہ اب بھی موجود ہے اور بہت وسعت سے پھیل رہا ہے۔ یہ ایسا مہلک زہر ہے کہ یہ سکول، کام کی جگہ اور معاشرتی اجتماع غرضیکہ معاشرے کی ہر سطح پر موجود ہے اور بڑی تیزی سے بڑھتا جا رہاہے۔

Bullying ایک خاموش قاتل ہے جو کسی انسان کی ہستی کو جھنجھوڑ کر رکھ دیتا ہے اور اس کی زندگی کو بے رونق اور تباہ و برباد کردیتا ہے۔ اگرہم موجودہ دور میں خود کشی کے بڑھتے ہوئے رجحانات پر نظر ڈالیں تو ہمیں یہ پتہ چلتا ہے کہ Bullying اس کے بنیادی عوامل میں سے ایک ہے۔

Bullyingکیا ہے؟

Bullying کا مطلب یہ ہے کہ کسی کو کمزور، کم تر اور حقیر سمجھ کر اسے دھمکانا، مجبور کرنا یا نقصان پہنچانا۔ اسی طرح کسی کے ساتھ ہنسی ٹھٹھا و استہزا کرنا جس سے کہ دوسرے کے جذبات کو ٹھیس پہنچے اور اسے جذباتی و نفسیاتی نقصان ہو۔ یہ ایک بہت ہی وسیع المعانیٰ لفظ ہے جس کو عام فہم الفاظ میں اس طرح بیان کیا جاسکتا ہے کہ کسی کو حقیراور کم تر جان کر اسے کسی بھی طرح سے نفسیاتی، جسمانی اور جذباتی اذیت اور نقصان پہنچانا۔

یہ مرض موجودہ معاشرے کے ہر طبقے میں بہت زیادہ سرایت کرگیا ہے۔ مغربی معاشرہ جو بظاہر ترقی یافتہ اور تہذیب یافتہ معاشرہ ہونے کا دعوےدار ہے وہاں بھی ہر سطح پر یہ مسئلہ درپیش ہے۔ سکولوں، کالجوں، بازاروں اور کام کی جگہ پر روزانہ ایسے لاتعداد واقعات رونما ہوتے ہیں۔ لیکن یہ صرف مغربی معاشروں تک ہی محدود نہیں بلکہ اسلامی معاشروں میں بھی یہ مرض بہت پھیل چکا ہے اور جو بھی طاقتور ہے وہ دوسرے کو عزت و توقیر دینے کی بجائے کہ جس کا اسلام درس دیتا ہے، وہ اسے حقیرجانتے ہوئے اسے معاشرے میں ذلیل و رسوا کرنے کے درپے ہوتا ہے۔

موجودہ جدت پسند دنیا میں ٹیکنالوجی میں تیزی سے ترقی bullying یا cyber-violence (اۤن لائن تشدد)کے لیے ایک اور راہ فراہم کرتی ہے۔ اۤن لائن تشدد ایک اور سنگین مسئلہ بن گیا ہے کیونکہ ہراساں کرنے کا یہ طریق زیادہ وسیع ہے، اس کی پہنچ بہت دور تک ہے، اوراس طرح یہ قریبی حلقوں میں موجود افراد پر بہت منفی اثر ڈالتا ہے۔

cyber-bullying سے مراد انٹرنیٹ، موبائل فونز اور دیگر سماجی رابطوں کے ذریعے سے دوسروں کو تکلیف اور اذیت پہنچانا ہے۔ لوگ جھوٹ پھیلاتے ہیں، برے تبصرے اور comments لکھتے ہیں اور اکثر نقصان دہ معلومات یا جعلی خبریں سماجی رابطوں یعنی سوشل میڈیا پر پوسٹ کرتے ہیں جیسے فیس بک، ٹویٹراور انسٹاگرام وغیرہ۔

کسی کی جسمانی ساخت کے بارہ میں استہزا کے طور پر بات کرنا یعنی کسی کو ’’موٹا‘‘کہنا، کسی چھوٹے قد والے کو ’’بونا‘‘ کہہ کر بلانا، کسی کے ظاہری رنگ پر جملہ کسنا، کسی کے مذہب کی وجہ سے اسے استہزا کا نشانہ بنانا وغیرہ ہراسانی اور bullying کی چند مثالیں عمومی مثالیں ہیں۔

عمومی طور پر خواتین اور لڑکیوں کو بدترین قسم کی ہراسانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ کوروناوائرس کی وبا کی وجہ سے بعض لوگوں کا شاید یہ خیال ہو کہ bullying اور جنسی ہراسانی شاید ماضی کا قصہ بن گیا ہے۔ کیونکہ بہت سارے لوگ گھروں سے کام کررہے ہیں اور لیکچرز بھی اۤن لائن ہورہے ہیں جس کی وجہ سے کام کی جگہ یا تعلیمی اداروں میں مردوں اور عورتوں کا گھلنا ملنا باقی نہیں رہا یا بہت ہی کم ہوگیا ہے۔

مگر بدقسمتی سے ایسا نہیں ہے۔ اقوام متحدہ کی خواتین نے ایک رپورٹ شائع کی ہے جس میں انہوں نے لکھا ہے کہ ’’لاکھوں خواتین اور لڑکیاں پہلے کی نسبت زیادہ باقاعدگی سے اور بعض اوقات روزانہ کی بنیاد پر تعلیم کے حصول اور کام کے سلسلے میں ویڈیو کانفرنس کا استعمال کررہی ہیں۔ مختلف ذرائع ابلاغ، سوشل میڈیا پر شائع ہونے والے مواد اور خواتین کے حقوق کے ماہرین کے مطابق مختلف قسم کے اۤن لائن تشدد اور ہراسانی کے واقعات جن میں stalkingیعنی خواتین کا تعاقب کرنا، bullying، جنسی ہراسانی اور جنسی ٹرولنگ یعنی کسی کے بارے میں اشتعال انگیزاور ہتک اۤمیز مواد اۤن لائن گروپس میں شائع کرنا وغیرہ شامل ہیں، بہت عروج پر ہیں۔ ‘‘

مجھے یقین ہے کہ عمدہ تعلیم، مؤثر اۤگاہی مہمات، اس طرح کے ناخوشگوار تجربات سے نمٹنے کے لیے مناسب راہ نمائی اور ہراسانی کے واقعات کے مقابلے میں مضبوط اور مستحکم رہنا اور ہمت کے ساتھ اس کا مقابلہ کرنا، اس خاموش قاتل کے مقابلہ کرنے کے لیے بہت مفید اور حوصلہ افزا ذرائع ہیں۔

مجھے حقیقی معنوں میں یقین ہے کہ عمدہ اور مؤثر تعلیم، اۤگاہی اور شعور کی بیداری کی مہمات کے ذریعے معاشرے کے شعور کو بیدار کرنا اس سنگین مسئلہ پر قابو پانے کی کلید ہے۔ اسی طرح گھروں میں والدین کو اپنے بچوں کے ساتھ اس بارے میں گفتگو کرنے اور ان کی راہ نمائی کرنے کی ضرورت ہے تاکہ بچے مضبوط اور باہمت کردار والے بنیں۔

لوگ دراصل ایک دوسرے کواس وجہ سے ہراساں کرنے اور کم تر دکھانے کی کوشش کرتے ہیں کیونکہ وہ اپنے جھوٹے زعم میں اپنے اۤپ کو دوسروں سے بہتر تصور کرتے ہیں۔ ذاتی بڑائی اور تکبر و غرور کایہ غلط تصور لوگوں کو اس طرح کی گھناؤنی حرکتیں کرنے پر مجبور کرتا ہے۔

قراۤن مجید اس مسئلہ کی نشاندہی کرتے ہوئے بیان کرتا ہے کہ انسانیت ایک مرد اور عورت سے پیدا ہوئی ہے۔ اور باہمی تفریق محض پہچان کے لیے ہے۔ خداتعالیٰ کے سامنے سب انسان برابر ہیں۔ صرف متقی اور نافع الناس وجود ہی محترم اور تکریم کے قابل ہیں نہ کہ دکھ اور تکلیف دینے والے۔ اللہ تعالیٰ قراۤن کریم میں فرماتا ہے: ’’اے لوگو ! یقیناً ہم نے تمہیں نر اور مادہ سے پیدا کیا ہے اور تمہیں قوموں اور قبیلوں میں تقسیم کیا تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچان سکو۔ بلاشبہ اللہ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ معزز وہ ہے جو سب سے زیادہ متقی ہے۔‘‘ (الحجرات: 14)

قراۤن مجید اس موضوع کی مزید وضاحت کرتے ہوئے فرماتا ہے: ’’مومن تو بھائی بھائی ہی ہوتے ہیں۔ پس اپنے دو بھائیوں کے درمیان صلح کروایا کرو اور اللہ کا تقویٰ اختیار کرو تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔ اے لوگو جو ایمان لائے ہو (تم میں سے) کوئی قوم کسی قوم پر تمسخر نہ کرے۔ ممکن ہے وہ ان سے بہتر ہوجائیں۔ اور نہ عورتیں عورتوں سے (تمسخر کریں )۔ ہوسکتا ہے کہ وہ ان سے بہتر ہوجائیں۔ اور اپنے لوگوں پر عیب مت لگایا کرو اور ایک دوسرے کو نام بگاڑ کر نہ پکارا کرو۔ ایمان کے بعد فسوق کا داغ لگ جانا بہت بری بات ہے۔ اور جس نے توبہ نہ کی تو یہی وہ لوگ ہیں جو ظالم ہیں۔ ‘‘(الحجرات: 11تا12)

بانی جماعت احمدیہ، حضرت مرزا غلام احمد قادیانی، مسیح موعودو مہدی معہود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اپنی تحریرات میں اس موضوع پر تفصیل سے لکھا ہے اور اۤپؑ نے اس مسئلہ کی وجوہات اور اس کے تدارک پر بڑی تفصیل سے روشنی ڈالی ہے۔ تکبر، غرور، خود ستائی، عناد، جہالت اور نسلی امتیاز بنیادی وجوہات میں شامل ہیں۔ جو بھی دوسروں کو حقیر سمجھتا ہے اور اپنے اۤپ کو زیادہ تعلیم یافتہ، ہنرمند اور عقل مند سمجھتا ہے، دوسرے کے بارہ میں توہین اۤمیز الفاظ استعمال کرتا ہے اور دوسروں کے ساتھ احترام سے پیش نہیں اۤتا وہ خدا تعالیٰ کے حضور معزز نہیں ہے۔ عاجزانہ زندگی بسر کرنا کامیابی کی راہ ہے۔

اپنی زندگی غربت اور مسکینی میں بسر کرو

حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں: ’’اہل تقویٰ کے لیے یہ شرط تھی کہ وہ غربت اور مسکینی میں اپنی زندگی بسر کرے…میں نہیں چاہتا کہ میری جماعت والے اۤپس میں ایک دوسرے کو چھوٹا یا بڑا سمجھیں یا ایک دوسرے پر غرور کریں یا نظر استخفاف سے دیکھیں۔ خدا جانتا ہے کہ بڑا کون ہے یا چھوٹا کون ہے۔ یہ ایک قسم کی تحقیر ہے اور جس کے اندر حقارت ہے، ڈر ہے کہ یہ حقارت بیج کی طرح بڑھے اور اس کی ہلاکت کا باعث ہوجاوے۔

بعض اۤدمی بڑوں کو مل کر بڑے ادب سے پیش اۤتے ہیں۔ لیکن بڑا وہ ہے جو مسکین کی بات کو مسکینی سے سنے، اس کی دل جوئی کرے، اس کی بات کی عزت کرے، کوئی چڑ کی بات منہ پر نہ لاوے کہ جس سے دکھ پہنچے۔ خداتعالیٰ فرماتا ہے

وَلَا تَنَابَزُوۡا بِالۡاَلۡقَابِ ؕ بِئۡسَ الِاسۡمُ الۡفُسُوۡقُ بَعۡدَ الۡاِیۡمَانِ ۚ وَ مَنۡ لَّمۡ یَتُبۡ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الظّٰلِمُوۡنَ۔ (الجرات: 12)

تم ایک دوسرے کے چڑکے نام نہ ڈالو۔ یہ فعل فساق و فجار کا ہے۔ جو شخص کسی کو چڑاتا ہے، وہ نہ مرے گا جب تک وہ خود اسی طرح مبتلا نہ ہوگا۔ اپنے بھائیوں کو حقیر نہ سمجھو۔ جب ایک ہی چشمہ سے کل پانی پیتے ہو، تو کون جانتا ہے کہ کس کی قسمت میں زیادہ پانی پینا ہے۔ مکرم ومعظم کوئی دنیاوی اصولوں سے نہیں ہوسکتا۔ خداتعالیٰ کے نزدیک بڑا وہ ہے جو متقی ہے۔

اِنَّ اَکۡرَمَکُمۡ عِنۡدَ اللّٰہِ اَتۡقٰکُمۡ ؕ اِنَّ اللّٰہَ عَلِیۡمٌ خَبِیۡرٌ(الحجرات: 14)۔ ‘‘

(ملفوظات جلد اول صفحہ 30تا31، ایڈیشن 2016ء)

ستاری اور پردہ پوشی

خداتعالیٰ کی ایک صفت ستا ر ہے، یعنی وہ جو لوگوں کے عیوب ڈھانپتا ہے، لوگوں کی کمزوریوں کی پردہ پوشی کرتا ہے۔

حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں: ’’خدائے تعالیٰ کی ستاری ایسی ہے کہ وہ انسان کے گناہ اور خطاؤں کو دیکھتا ہے لیکن اپنی اس صفت کے باعث اس کی غلط کاریوں کو اس وقت تک جب تک کہ وہ اعتدال کی حد سے نہ گزر جاویں ڈھانپتا ہے، لیکن انسان کسی دوسرے کی غلطی دیکھتا بھی نہیں اور شور مچاتا ہے…غرض یہ ہے کہ جیسے اللہ تعالیٰ ہماری خطاؤں پر معاََ نظر نہیں کرتا اور اپنی ستاری کے طفیل رسوا نہیں کرتا تو ہم کو بھی چاہئے کہ ہر ایسی بات پر جو کسی دوسرے کی رسوائی یا ذلت پر مبنی ہو فی الفور منہ نہ کھولیں۔ ‘‘(ملفوظات جلد اول صفحہ 273تا274، ایڈیشن 2016ء)

لہٰذا جب بھی کوئی بات کی جائے ہمیں ہمیشہ اس بات کا احساس ہونا چاہیے۔ ہمیں نہایت اچھی طرح اور باریک بینی سے اپنے الفاظ کو تولنا چاہیے اور اس بات کا احساس کرنا چاہیے کہ کوئی تکلیف دہ بات کہنے کے کیا اثرات اور نتائج ہو سکتے ہیں۔ حق تو یہ ہے کہ یا تو عمدہ بات لکھی یا کہی جائے، ورنہ کسی کو تکلیف دینے کی بجائے خاموش رہنا بہتر ہے۔ خداتعالیٰ کے نزدیک وہی لوگ عمدہ اور پاکباز ہیں جو نیکی پر عمل کرتے ہیں، دوسروں کو نیکی کی ترغیب دیتے ہیں، خود برائی سے باز رہتے ہیں اور دوسرے کو بھی منع کرتے ہیں۔

اللہ تعالیٰ قراۤن کریم میں فرماتا ہے: ’’اور چاہئے کہ تم میں سے ایک جماعت ہو۔ وہ بھلائی کی طرف بلاتے رہیں اور اچھی باتوں کی تعلیم دیں اور بری باتوں سے روکیں۔ اور یہی ہیں وہ جو کامیاب ہونے والے ہیں۔ ‘‘(آل عمران: 105)

پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ’’تم بہترین امت ہو جو تمام انسانوں کے فائدہ کے لیے نکالی گئی ہو۔ تم اچھی باتوں کا حکم دیتے ہو اور بری باتوں سے روکتے ہو اور اللہ تعالیٰ پر ایمان لاتے ہو۔ ‘‘(آل عمران: 111)

یعنی بہترین امت ہونے کے لیے نافع الناس وجود بننا پڑے گا، بنی نوع انسان کی خدمت کرنی ہوگی، نیکی و تقویٰ کی باریک راہوں کی تلاش کرنی ہوگی اور انسانیت کو کسی بھی طرح سے تکلیف دینے کی بجائے ان کے ظاہری اۤرام و سکون کی بھی کوشش کرنی ہوگی اور ان کی روحانی فلاح و بہبود کے لیے بھی سعی کرنی ہوگی۔

مختصراََ یہ کہ انسانیت کے ساتھ محبت، احترام اۤدمیت اور حقیقی ہمدردی ہی وہ حل ہے جس کے ذریعے سے bullying جیسے ناسور کا مقابلہ کیا جاسکتا ہے اورinclusive اور فعال معاشروں کے قیام کے لیے یہ نہایت مؤثراۤلات اور قابل عمل ہتھیار ہیں۔

درحقیقت، جماعت احمدیہ مسلمہ کا پرامن اور انقلاب انگیز ماٹو ’’محبت سب کے لیے، نفرت کسی سے نہیں ‘‘ایک متاثر کن اور جاودانی پیغام ہے۔ اوریہ ہر طرح کی ہراسانی اور Bullying کا تریاق ہے۔

تکبر سے بچو

حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی جماعت کو ہر طرح کے تکبر، بڑائی اور استہزا سے بچنے اور نافع الناس وجود بننے کی نصائح میں سے چند پیش ہیں۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں: ’’مَیں اپنی جماعت کو نصیحت کرتا ہوں کہ تکبر سے بچو کیونکہ تکبر ہمارے خداوند ذو الجلال کی اۤنکھوں میں سخت مکروہ ہے۔ مگر تم شاید نہیں سمجھو گے کہ تکبر کیا چیز ہے۔ پس مجھ سے سمجھ لو کہ میں خدا کی روح سے بولتا ہوں۔

ہرایک شخص جو اپنے بھائی کو اِس لیے حقیر جانتا ہے کہ وہ اس سے زیادہ عالم یا زیادہ عقلمند یا زیادہ ہنرمند ہے وہ متکبر ہے کیونکہ وہ خدا کو سر چشمہ عقل اور علم کا نہیں سمجھتا اور اپنے تئیں کچھ چیز قرار دیتا ہے۔ …ایسا ہی وہ شخص جو اپنی صحت بدنی پر غرور کرتا ہے یا اپنے حسن اور جمال اور قوت اور طاقت پر نازاں ہے اور اپنے بھائی کا ٹھٹھے اور استہزاسے حقارت اۤمیز نام رکھتا ہے اور اْس کے بدنی عیوب لوگوں کو سناتا ہے وہ بھی متکبر ہے…۔ ایک شخص جو اپنے بھائی کی بات کو تواضع سے سننا نہیں چاہتا اور منہ پھیر لیتا ہے اْس نے بھی تکبر سے حصہ لیا ہے۔ …سو کوشش کرو کہ کوئی حصہ تکبر کا تم میں نہ ہو تاکہ ہلاک نہ ہوجاؤ اور تا تم اپنے اہل و عیال سمیت نجات پاؤ۔ خدا کی طرف جھکو اور جس قدر دنیا میں کسی سے محبت ممکن ہے تم اْس سے کرو اور جس قدر دنیا میں کسی سے انسان ڈر سکتا ہے تم اپنے خدا سے ڈرو۔ پاک دل ہو جاؤ اور پاک ارادہ اور غریب اور مسکین اور بے شر تا تم پر رحم ہو۔ ‘‘(نزول المسیح، روحانی خزائن جلد 18صفحہ 402تا403)

٭…٭…٭

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button