تعارف کتاب

رازِ حقیقت

(ابو سلطان)

تعارف

یہ رسالہ 30؍نومبر1898کو شائع ہوا۔ اس رسالے میں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے صحیح حالات زندگی درج فرمائے ہیں۔ اور ان کے صلیب پر سے زندہ اتارے جانے اور سفر کشمیر اختیار کرنے اور سری نگر محلہ خان یار میں ان کی قبر کے موجود ہونے پر روشنی ڈالی ہے اور ان کے مزار کا نقشہ بھی دیا ہے۔

پھر مولوی محمد حسین بٹالوی نے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے ایک عربی الہام

اَتَعْجَبُ لِاَمْری

پر جو اعتراض کیا تھا کہ عجب کے ساتھ لام کا صلہ نہیں آتا اس کا نہایت معقول اور مدلل جواب احادیث نبویہ اور زبان عربی کے محاورات کی مثالیں پیش کر کے دیا ہے۔ نیز اشتہار مباہلہ کی حقیقت بیان فرمائی ہے۔ جس کی وجہ سے بٹالوی صاحب نے آپ کے خلاف گورنمنٹ کے پاس بہت سی شکایات کر کے اور گمراہ کن اطلاعات پہنچا کر غلط فہمیاں پیدا کرنے کی کوشش کی تھی۔

خلاصہ مضامین

اعلان بابت التواء جلسہ

فرمایا: ’اب کے دسمبر میں، میرے گھر کے لوگ اور اکثر خادمہ عورتیں اور مرد بھی موسمی بیماری سے بیمار ہیں، خدمت مہمانوں میں فتور ہو گا اور بھی کئی اسباب ہیں جن کا لکھنا موجب تطویل ہے۔ اس لئے اعلان کیا جاتا ہے کہ اب کی دفعہ کوئی جلسہ نہیں ہے۔ ‘

اپنی جماعت کو نصیحت

فرمایا: ’میں اپنی جماعت کوبطور نصیحت کہتا ہوں کہ وہ طریق تقویٰ پر پنجہ مار کر، یاوہ گوئی کے مقابلہ پر یاوہ گوئی نہ کریں اور گالیوں کے مقابلہ پر گالیاں نہ دیں۔ اگر وہ چاہتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کی نظر میں قابل تائید ہوں تو صلاح اور تقویٰ اور صبر کو ہاتھ سےنہ دیں۔ ‘

نیز فرمایا ضرور ہے کہ نیک عملی اور راست بازی اور تقویٰ میں آگے قدم رکھو کہ خدا ان کو جو تقویٰ اختیار کرتے ہیں ضائع نہیں کرتا۔ دیکھو حضرت موسی نبی علیہ السلام جو سب سے زیادہ اپنے زمانہ میں حلیم اور متقی تھے۔ تقویٰ کی برکت سے فرعون پر کیسے فتح یا ب ہوئے۔ پھر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے وقت میں بدبخت یہودیوں نے یہ چاہا کہ ان کو ہلاک کردیں اور نہ صرف ہلاک بلکہ ان کی پاک روح پر صلیبی موت سے لعنت کا داغ لگائیں۔ کیونکہ توریت میں لکھا تھا کہ جو شخص لکڑی پر یعنی صلیب پر مارا جائے وہ لعنتی ہے۔ لیکن خدائے قادرو قیوم نے بدنیت یہودیوں کو اس ارادہ سے ناکام اور نامراد رکھا اور اپنے پاک نبی کو نہ صرف صلیبی موت سے بچایا بلکہ اس کو ایک سو بیس سال تک زندہ رکھ کر تمام دشمن یہود یوں کو اس کے سامنے ہلاک کیا۔ ہاں خدا تعالیٰ کی اس قدیم سنت کے موافق کہ کوئی اولوالعزم نبی ایسا نہیں گزرا جس نے قوم کی ایذا کی وجہ سے ہجرت نہ کی ہو۔ حضرت عیسیٰ نے بھی تین برس کی تبلیغ کے بعد صلیبی فتنہ سے نجات پاکر ہندوستان کی طرف ہجرت کی اور خداتعالیٰ کا پیغام پہنچا کر آخرکار خاک کشمیر جنت نظیر میں انتقال فرمایا اور سری نگر محلہ خان یار میں باعزاز تمام دفن ہوئے۔

صلیبی موت سے نجات اور ہجرت کشمیر کے دلائل قاطعہ

ایک سو بیس برس کی عمر از روئے حدیث

صحیح حدیث سے ثابت ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی عمر120سال کی ہوئی تھی۔ اور یہود و نصاریٰ کے اتفاق سے واقعہ صلیب کے وقت آپ کی عمر تینتیس سال تھی۔ پس باقی عمر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی سیاحت میں گزری۔

نبی سیاح

احادیث صحیحہ سے یہ ثبوت بھی ملتا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نبی سیاح تھے۔ اہل لغت بھی مسیح کے لفظ کی ایک وجہ یہ بیان کرتے ہیں کہ یہ لفظ مسح سے نکلا ہے اور مسح سیاحت کو کہتے ہیں۔

جملہ انبیاء کو اللہ تعالیٰ نے زمین پر ہی پناہ دی

خدا تعالیٰ نے اپنے رسول کریم حضرت سیدنا محمدﷺ کو قریش کے حملہ سے بچانے کے لئے غار حرا میں پنا ہ دی جو مکہ سے تین میل سے زیادہ دور نہ تھی۔ پھر یہودیوں کے خوف سے نعوذباللہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو دوسرے آسمان پر اٹھا لینا قرآن کے سخت خلاف ہے۔ اور ایک قصہ بے بنیاد اور افسانہ کے رنگ میں ہے۔

مرہم عیسیٰ

صلیبی واقعہ کی اصل حقیقت شناخت کرنے کے لئے مرہم عیسیٰ ایک علمی ذریعہ اور اعلیٰ درجہ کا معیار حق شناسی ہے۔ میں ذاتی واقفیت سے بیان کرتا ہوں کہ ہزار کتاب سے زیادہ ایسی ہو گی جن میں مرہم عیسیٰ کا ذکر ہے اور ان میں یہ بھی لکھا ہے کہ یہ مرہم حضرت عیسیٰ کے لئے بنائی گئی تھی۔ ان میں بعض کتابیں یہودیوں کی، بعض عیسائیوں کی اور بعض مجوسیوں کی ہیں۔

اناجیل کا باہمی اختلاف

خود انجیل نویس واقعہ صلیب کے وقت حاضر نہ تھے اور اپنے آقا سے طرز بے وفائی اختیار کر کے بھاگ گئے تھے۔ دوسرے انجیلوں میں بکثرت اختلاف ہے۔ یہاں تک کہ بربناس کی انجیل میں حضرت مسیح کے مصلوب ہونے سے انکار کیا گیا ہے۔ پھر خود انہیں معتبر اناجیل میں لکھا ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام واقعہ صلیب کے بعد اپنے حواریوں کو ملے اور اپنے زخم دکھائے۔ پھر انہی اناجیل سے ثابت ہے کہ مسیح علیہ السلام چالیس روز تک اسی گردونواح میں مخفی رہے اور جب مرہم کے استعمال سے بکلی شفا پائی تو آپ نے سیاحت اختیار کی۔

اپنی جماعت کو نصیحت

تم اس کی جماعت ہو جن کو اس نے نیکی کا نمونہ دکھانے کے لئے چنا ہے۔ سو جو شخص بدی کو نہیں چھوڑتا اس کے لب جھوٹ سے اور اس کا دل ناپاک خیالات سے پرہیز نہیں کرتا وہ اس جماعت سے کاٹا جائے گا۔ اے خدا کے بندو! دلوں کو صاف کرو اور اپنے اندر ونوں کو دھو ڈالو۔ تم نفاق اور دورنگی سے ہر ایک کو راضی کر سکتے ہو مگر خدا کو اس خصلت سے غضب میں ڈالو گے… اس کی راہ میں فدا ہو جاوَ اور اس کے لئے محو ہو جاؤاور ہمہ تن اس کے ہو جاؤ اگر چاہتے ہو کہ اسی دنیا میں خدا کو دیکھ لو۔ وہ آگ جو اخلاص کے ساتھ بھڑکتی ہے وہ عالم بالا کو نشان کی صورت پر دکھلاتی ہے۔

اشتہار 21؍نومبر1898ءاور مخالفین کی ناانصافی، دروغ گوئی اور کج روی

فرمایاکہ میرے اشتہار 21؍نومبر1898 میں صاف طور پر یہ لفظ تھے کہ 15؍جنوری1900تک اس بات کی میعاد مقرر ہو گئی ہے کہ جو شخص کاذب ہو گا خدا اس کو ذلیل اور رسوا کرے گا۔ اس کے باوجود کہ یہ اشتہار ہر تین اشخاص شیخ محمد حسین بٹالوی، محمد بخش جعفر زٹلی اور ابوالحسن تبّتی کو لکھا گیا مگر زٹلی مذکور نے اپنے اشتہار 30؍نومبر1898ء میں پھر جھوٹ سے کام لیا اور لکھا کہ کوئی پیشگوئی اس عاجز کی پوری نہیں ہوئی اور آتھم کی پیشگوئی پوری نہیں ہوئی۔

پھر حضورؑ فرماتے ہیں کہ یہ بات کس پر پوشیدہ ہے کہ آتھم کی پیشگوئی شرطی تھی اور خدا کے الہام نے ظاہر کیا تھا کہ وہ رجوع الی الحق کی حالت میں میعاد کے اندر مرنے سے بچ جائے گا۔ پھر آتھم نے اپنے افعال اور اقوال سے، اپنے خوف سے اور اپنے قسم نہ کھانے سے اور اپنے نالش نہ کرنے سے ثابت کر دیا کہ ایام پیشگوئی میں اس کا دل عیسائی مذہب پر قائم نہ رہا اور خدا کی عظمت اس کے دل میں بیٹھ گئی۔ اور یہ بعید نہ تھا کیونکہ وہ مسلمانوں کی اولاد تھا اور اسلام سے بعض اغراض کی وجہ سے مرتد ہوا تھا۔ اور میری نسبت وہ ابتداء سے نیک ظن رکھتا تھا۔ لہٰذا اس کا اسلامی پیشگوئی سے ڈرنا قرین قیاس ہے۔ پھر بعد میعاد قسم نہ کھانے اور نالش نہ کرنے سے اس تغیر کی حالت کو اور بھی یقین تک پہنچایا اور پھر الہام الہی کے موافق ہمارے آخری اشتہار سے چھ ماہ کے اندر مر بھی گیا۔ اب دیکھو تلاش کرو کہ آتھم کہاں ہے؟ اب ذرا سوچو کہ وہ شہادت کے اخفاء کے بعد کیوں جلد مر گیا۔ میں نے تو اس کی زندگی میں لکھ دیا تھا کہ اگر میں کاذب ہوں تو میں پہلے مروں گا ورنہ میں آتھم کی موت کو دیکھو ں گا۔

آتھم کی پیشگوئی کا انکار جو اکثر عیسائیوں اور بعض شریر مسلمانوں نے کیا خداتعالیٰ کی نظر میں ظلم صریح تھا۔ اس لئے اس نے ایک دوسری عظیم الشان پیشگوئی کے پورا کرنے سے یعنی پنڈت لیکھرام کی موت سے منکروں کو ذلیل اور رسوا کردیا۔ یہ پیشگوئی اس مرتبہ فوق العادت تھی کہ اس میں قبل از وقت یعنی پانچ برس پہلے بتایا گیا تھا کہ لیکھرام کس دن اور کس قسم کی موت سے مرے گا۔ افسوس کہ بخیل لوگوں نے جن کومرنا یاد نہیں اس پیشگوئی کو بھی قبول نہ کیا اور خدا نے بہت سے نشان ظاہر کئے مگر یہ سب انکار کرتے رہے۔

بدھ مذہب کی کتب کی شہادت

بدھ مذہب کی کتابوں سے یہ شہادت ملتی ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام ملک ہند میں آئے اور مختلف قوموں کو وعظ کرتے رہے۔ چونکہ بنی اسرائیل بخت نضر کے حادثہ میں متفرق ہو کر بلاد ہند اور کشمیر اور تبت اور چین کی طرف چلے آئے تھے۔ اس لئے حضرت مسیح علیہ السلام نے بھی ان ملکوں کی طرف ہجرت کرنا ضروری سمجھا۔

حضرت مسیح علیہ السلام کا مزار

اس مزار کی نسبت بیان کیا جاتا ہے کہ وہ 1900برس سے ہے۔

حضرت مسیح علیہ السلام کی دردمندانہ دعائیں

انجیل بھی یہی گواہی دیتی ہے کہ کیا مسیح کی تمام رات کی دردمندانہ دعا رد ہو سکتی ہے۔

حضرت مسیح کی حضرت یونس سے مشابہت

حضرت مسیح علیہ السلام کا کہنا کہ میں یونس کی طرح تین دن قبر میں جاؤں گا، کے بھی یہی معنی ہیں کہ جس طرح وہ تین دن زندہ مچھلی کے پیٹ میں رہے میں بھی تین دن زندہ قبر میں رہوں گا (پھر ہجرت کروں گا)۔

پیلا طوسی کی بیوی کو خواب آنا

کیا پیلاطوس کی بیوی کے خواب سے خدا کا یہ منشا معلوم نہیں ہوتا کہ مسیح کو صلیب سے بچائے۔

متفرق امور بابت واقعہ صلیب جو حضرت مسیح علیہ السلام کی جان بچانے کےلیے پیدا کیے گئے، یوں درج فرمائے ہیں کہ

i۔ جمعہ کے دن آخری گھڑی میں صلیب پر چڑھایا جانا۔

ii۔ شام سے پہلے اتارا جانا کیونکہ(غروب آفتاب کے بعد سے) سبت شروع ہو رہا تھا۔

iii۔ تین دن تک صلیب پر نہ رہنا

iv۔ ہڈیاں نہ توڑی جانا

v۔ خون کا نکلنا۔ یقینا ًحضرت مسیح علیہ السلام کی دعا کرنے کے ساتھ یہ رحمت کے اسباب ظاہر ہوئے۔

vi۔ پھر بعد صلیب حواریوں کو ملنا اور زخم دکھانا

کفارہ اور تثلیث کا رد

غرض مسیح ابن مریم کو صلیبی موت سے مارنا یہ ایک ایسا اصل ہے کہ اسی پر مذہب کے تمام اصولوں کفارہ اور تثلیث وغیرہ کی بنیاد رکھی گئی تھی اور اس کے غلط ثابت ہونے سے عیسائی مذہب کا کچھ بھی باقی نہیں رہتا۔

مولوی عبد اللہ صاحب باشندہ کشمیر کا ایک خط

حضرت اقدسؑ نے مولوی عبد اللہ صاحب باشندہ کشمیر کا ایک خط بھی اس کتاب کے آخر پر درج فرمایا ہے جس میں حضرت مسیح علیہ السلام کے مزار واقع محلہ خان یار سری نگر کشمیر کے حوالہ سے تحقیقات اور نقشہ بھی شامل ہے۔ تحقیقات سے ثابت ہوا ہے کہ

i۔ یہ مزار قریباً انیس سو برس سے ہے۔

ii۔ یہ قبر ایک نبی کی قبر ہے۔

iii۔ یہ نبی آنحضورﷺ سے چھ سو سال قبل گزر چکے ہیں۔

iv۔ اس نبی کا نام یوز آسف بتایا جاتا ہے اور شہزادہ نبی اور ہندووَں کا کوئی لقب ان سے منسوب نہیں ہے۔

v۔ اس نبی کی قبر شمالا ًجنوبا ًہے، شمال کی طرف سر ہے اور جنوب کی طرف پاؤں اور یہ طرز دفن مسلمانوں اور اہل کتاب سے خاص ہے۔

vi۔ دو باتیں اس قبر پر بعض مخفی اسرار کی گویا حقیقت نما ہیں۔ ایک وہ سوراخ جو قبر کے نزدیک ہے دوسرے یہ قدم جو پتھر پر کندہ ہیں۔

حاشیہ متعلقہ اشتہار 30؍نومبر1898ء

اس کتاب کے اختتام پر حضرت اقدس مسیح موعود علیہ نے شیخ محمد حسین بٹالوی کے کہنے پر جو مباہلہ کی بار بار درخواست کرتا تھا ایک اشتہار21؍نومبر 1898ءکو دیا جس میں فرمایا کہ جو اشتہار حضور نے دیا ہے وہ صرف ایک دعا ہے جس کا مطلب صرف یہ ہے کہ جھوٹے کو خداتعالیٰ کی طرف سے ذلت پہنچے۔ بس مولوی محمد حسین بٹالوی صاحب نے حضور کے اشتہار کی ایک الہامی عبارت اتعجب لامری پر اعتراض کر کے اپنے لئے ذلت کا دروازہ کھولا ہے کیونکہ انہوں نے اعتراض کیا کہ عجب کے ساتھ لام کا صلہ نہیں آتا بلکہ من کا صلہ آتا ہے اور نحوی غلطی ہے اور خدا کا کلام غلط نہیں ہو سکتا۔ حضور نے دیوان حماسہ سے جعفر بن علبہ اور دوسرے شاعروں کے پانچ اشعار لکھے ہیں جن میں عجب کے ساتھ لام کا صلہ ہے اور ایک ان میں سے یہ ہے۔

عجبت لمسراھا و انھا تخلصت

الی و باب السجن دونی مغلق

ایک اور شعر بھی درج فرمایا ہے کہ

عجبت لمولود لیس لہ اب

و من ذی ولد لیس لہ ابوان

پھر سب سے بڑھ کر حدیث جو مشکوۃ کتاب الایمان میں ہے اور اس کو متفق علیہ بیا ن کیا گیا ہے۔ اس میں بھی عجب کے ساتھ لام کا صلہ آیا ہے اور حدیث کے الفاظ یوں ہیں عجبنا لہ یسئلہ و یصدقہ۔

پھر فرمایا ’یوں بٹالوی صاحب نے میری ذلت کی تلاش میں کیسی اپنی ذلت ظاہر کر دی۔ جس شخص کو مشکوۃ شریف کی پہلی حدیث کی بھی خبر نہیں کیا کوئی منصف انسان ایسے شخص کا نام مولوی رکھ سکتا ہے۔ ‘

٭…٭…٭

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close