حالاتِ حاضرہ

خبرنامہ (اہم عالمی خبروں خلاصہ)

Covid-19 کی تازہ عالمی صورتِ حال

(10؍جنوری ۔ 08:00 GMT)

کل مریض: 307,984,200

صحت یاب ہونے والے: 259,629,105

وفات یافتگان: 5,507,292

٭…جمعہ کے روز نیٹو سیکرٹری جنرل یین اسٹولٹنبرگ کی صدارت میں یوکرین کے مسئلے پر بلائے گئے نیٹو وزرائے خارجہ کے خصوصی اجلاس میں روس سے کہا گیا ہے کہ یوکرین کے مسئلے پر بات چیت ہو یا پھر روسی جارحیت کی صورت میں جنگ ہو، وہ دونوں کے لیے تیار ہے۔ اجلاس میں وزراء نے اس مسئلے کے مختلف پہلوؤں کا تفصیل سے جائزہ لیتے ہوئے روس کے خلاف مختلف تادیبی اقدامات کا بھی جائزہ لیا ہے۔

نیٹو سیکرٹری جنرل نے اجلاس کے بعد پریس کانفرنس میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ روس کے یوکرین کی سرحدوں پر بھاری فوجی موجودگی کی صورت میں جارحانہ اقدامات جاری ہیں اور بین الاقوامی اپیلوں کے باوجود اس میں کمی نہیں ہورہی۔ اس صورتحال میں تصادم جنم لینے کا خطرہ حقیقی ہے، روس کے جارحانہ اقدامات یورپ میں سیکیورٹی کے نظام کو شدید نقصان پہنچا رہے ہیں۔انہوں نے واضح کیا کہ نیٹو روس کے ساتھ دفاع اور بامعنی بات چیت، دونوں کے لیےپر عزم ہے۔

٭…ایرانی وزارت خارجہ کے مطابق ایران نے جنرل قاسم سلیمانی کے قتل میں کردار ادا کرنے، دہشت گردی کو بڑھاوا دینے اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں ملوث ہونے پر امریکی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل مارک ملی، سابق قومی سلامتی مشیر رابرٹ اوبرائن سمیت 51 امریکیوں پر پابندیاں عائد کردی ہیں۔ پابندیوں میں شامل زیادہ تر امریکیوں کا تعلق امریکی فوج سے ہے۔ پابندیوں کے بعد ان امریکیوں کے ایران میں موجود اثاثے ضبط کر لیے جائیں گے۔

واضح رہے کہ ایران نے ایک سال پہلے بھی جنرل سلیمانی کے قتل پر سابق امریکی صدر ٹرمپ اور دیگر عہدیداروں پر پابندیاں لگائی تھیں۔

٭…افغانستان میں شدید موسمی صورتحال کے باعث مشکلات کا سامنا ہے۔طالبان کے نائب وزیراعظم ملا عبدالغنی برادر نے اپنے ویڈیو پیغام میں عالمی برادری سے تعاون کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ بغیر کسی سیاسی تعصب کے افغان عوام کے ساتھ تعاون کرے۔ افغانستان میں کئی جگہوں پر لوگوں کے پاس کھانا، رہائش، گرم کپڑے یا پیسے نہیں ہیں۔ دنیا کو اپنی انسانی ذمہ داریوں کو پورا کرنا ہوگا۔ موسم نے افغان عوام کی حالت زار کو مزید خراب کر دیا ہے، ملا عبدالغنی برادر نے یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ طالبان ملک بھر میں بین الاقوامی امداد کی تقسیم میں مدد کے لیے تیار ہیں۔ واضح رہے کہ عالمی ادارے قبل ازیں دنیا کو خبردار کرچکے تھے کہ مہنگائی اور بے روزگاری میں اضافے کے ساتھ افغانستان کے 38 ملین افراد میں سے نصف آبادی کو بھوک کا سامنا کرنا پڑے گا۔

٭…طالبان کی وزارت امر بالمعروف و نہی عن المنکر کی طرف سے رواں ہفتے خواتین سے متعلق نئی پابندیاں عائد کی گئیں ہیں۔ حالیہ متنازع پابندیوں کے مطابق افغان طالبان کی مذہبی پولیس نے دارالحکومت کابل کے کیفے اور دکانوں پر پوسٹرز آویزاں کر دیے ہیں جس میں افغان خواتین کو پردہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ پوسٹر میں پردے کے حوالہ دیتے ہوئے لکھا گیا ہے کہ شریعت کے مطابق مسلم خواتین پر حجاب پہننا لازم ہے۔

طالبان کی اسلامی قانون کی تشریح کو نافذ کرنے کی ذمہ دار وزارت کے ترجمان نے کہا کہ اگر کوئی خاتون اس پر عمل نہیں کرتی تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ انہیں سزا دی جائے گی یا مارا پیٹا جائے گا، یہ صرف مسلم خواتین کے لیے شرعی قانون پر عمل کرنے کی ترغیب ہے۔

٭…اقوام متحدہ کے تازہ اعداد و شمار میں بتایا گیا ہے کہ گزشتہ سال 55صحافیوں اور میڈیا پروفیشنلز کو قتل کیا گیا جبکہ 2006ء سے ہر 10 میں سے9 قتل کے واقعات تاحال حل نہیں ہوئے۔ خواتین صحافیوں کو خاص طور پر خطرہ لاحق ہے جبکہ انہیں آن لائن ہراسانی کے بڑھتے ہوئے واقعات کا بھی سامنا ہے۔

یونیسکو کے ڈائریکٹر جنرل اوڈرے ازولے نے اپنے بیان میں کہا کہ 2021ء میں ایک بار پھر متعدد صحافیوں نے سچ کو سامنے لانے کی قیمت ادا کی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس وقت دنیا کو پہلے سے کہیں زیادہ آزاد اور حقائق پر مبنی معلومات کی ضرورت ہے، ہمیں اس بات کو یقینی بنانے کے لیے مزید کام کرنا ہوگا کہ جو لوگ سچائی کو سامنے لانے کے لیے انتھک محنت کرتے ہیں وہ کسی خوف کے بغیر ایسا کر پائیں۔

٭…ملکہ برطانیہ نے برطانیہ کے سابق وزیراعظم ٹونی بلیئر کو اعلیٰ ترین اعزاز آڈر آف دا گارٹر سے تحفتاً نوازا ہے۔ ٹونی بلیئر کو دیا گیا ’سر‘ کا خطاب واپس لینے سے متعلق عراق جنگ کے معاملے پر جاری پیٹیشن پر ایک ملین سے زائد افراد نے دستخط کردیےہیں۔ اعزاز کے خلاف درخواست سابق فوجی نے دائر کی تھی، جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ٹونی بلیئر نے برطانیہ کے آئین اور معاشرے کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے اس لیے بلیئر ناقابل شمار شہریوں اور اہلکاروں کی موت کے ذمہ دار ہیں، اعزاز کے حقدار نہیں۔

٭…قازقستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے پر پُرتشدد مظاہرے تاحال جاری ہیں۔ قازقستان کے صدر نے کابینہ برطرف کر کے بڑے شہروں میں ہنگامی حالت کا نفاذ کر رکھا ہے اور سیکیورٹی فورسز کو مسلح افراد پر بغیر وارننگ کے گولی چلانے کا حکم دے دیا ہے۔ وزارتِ داخلہ کے مطابق قازقستان میں اب تک 26مسلح افراد اور نیشنل گارڈ سمیت 18 پولیس اہلکار ہلاک ہو چکے ہیں۔ حالیہ ہنگاموں کے دوران قازقستان میں اب تک 3 ہزار 700سے زائد افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ مغربی ممالک نے قازقستان کی حکومت سمیت تمام فریقین سے تحمل کا مطالبہ کیا ہے۔ امریکی حکومت کی جانب سے شہر الماتے میں امریکی قونصل خانے کے نان ایمرجنسی عملے کو قازقستان چھوڑنے کی اجازت مل گئی ہے۔

٭…پاکستان کے شمالی علاقے ملکۂ کوہسار مری میں 7 جنوری کو 16گھنٹے میں 4 فٹ برف پڑی، 3 جنوری سے 7 جنوری تک ایک لاکھ 62 ہزار گاڑیاں مری میں داخل ہوئیں۔16 مقامات پر درخت گرنے سے ٹریفک بلاک ہوئی، ٹریفک جام ہونے کے سبب گاڑیوں میں بیٹھے 22 افراد انجن اور کار ہیٹر کی گیس کاربن مونو آکسائیڈ سے جاں بحق ہوئے۔ سانحہ کے بعد مری جانے والی 21 ہزار گاڑیاں واپس بھجوائی گئیں۔

٭…جنوبی ایران میں شدید بارشوں کے باعث آنے والے سیلاب میں 8 افراد ہلاک ہوئے۔ ایران کے 31 صوبوں کے متعدد شہروں میں امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔

٭…نائیجیریا کی مسلم اکثریتی شمال مغربی ریاست زمفارا کے مختلف گاؤں میں ایک ہفتے کے دوران ڈاکوؤں نے مختلف دنوں میں حملے کر کے 143 افراد کو ہلاک کردیا ڈاکو موٹر سائیکلوں پر مختلف دیہات میں گھس آئے، مقامی افراد پر فائرنگ کی، گھروں میں لوٹ مار کی اور انہیں آگ بھی لگادی۔ شمال مغربی اور وسطی نائیجیریا کئی سالوں سے مختلف جرائم پیشہ گروہ کے حملوں سے نبرد آزما رہے ہیں جن میں اب مزید شدت آتی جارہی ہے۔ دوسری جانب نائیجیرین حکومت نے ان ڈاکوؤں کو باضابطہ طور پر دہشت گرد قرار دے دیا ہے۔

٭…جاپان میں کورونا پھیلاؤ روکنے کے لیے امریکی فوجی اڈوں پر پابندیاں سخت کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ جاپانی وزیراعظم فومیو کشیدا کا کہنا ہے کہ امریکی فوجی اڈوں میں کورونا پھیلاؤ مقامی کمیونٹیز میں کورونا کیسز بڑھانے کا سبب بنتا ہے۔ کورونا وائرس کی روک تھام کے لیے امریکی فوجی اڈوں سے غیرضروری آمدورفت پر پابندی پر امریکہ سے اتفاق ہوگیا ہے۔

٭…چین نے کورونا وائرس کے باعث ویت نام سے درآمدی اشیاء پر پابندیوں میں سختی کردی۔ اس پابندی کے بعد ویت نام میں چین کی سرحد کے ساتھ ہزاروں ٹرک ڈرائیورز کئی دنوں اور مہینوں سے چین میں داخلے کے منتظر ہیں۔ چین کی مقامی حکومتوں کے مطابق ویت نام سے آنے والے پھلوں میں کورونا کی نشاندہی ہوئی ہے۔

٭…کویت میں مساجد، شادی کی تقریبات کے لیے کورونا ایس اوپیز نافذ کردی گئیں۔ مساجد جانے والوں کو سماجی فاصلہ، ماسک پہننے اور جائے نماز لانے کی ہدایت کی گئی ہے۔ خطبوں اور نماز کے دوران، کھڑکیاں اور دروازے کھلے رکھنے کاحکم دیا گیا ہے۔ 9؍جنوری سےشادی کی تقریبات میں صرف 6 افراد کو شرکت کی اجازت ہوگی۔

٭…سویڈن کی شاہی کورٹ کے مطابق شہزادی وکٹوریہ نے کورونا وائرس ٹیسٹ مثبت آنے پر خود کو قرنطینہ کرلیا۔ شہزادی کو کورونا کے درمیانی درجے کی علامات ظاہر ہوئی تھیں جبکہ شہزادی مکمل طور پر ویکسینیٹڈ بھی تھیں۔ شہزادی سے ملاقات کرنے والوں سے رابطہ کیا جارہا ہے۔ خیال رہے کہ رواں ہفتے کے آغاز میں ہی شہزادی کے والدین اور سویڈن کے بادشاہ اور رانی کا کورونا وائرس ٹیسٹ مثبت آیا تھا۔

٭…برطانیہ میں کورونا سے مجموعی اموات ڈیڑھ لاکھ سے تجاوز کر گئیں۔ برطانیہ میں 24گھنٹوں میں کورونا سے 313 اموات ہوئیں جبکہ کورونا کے ایک لاکھ46 ہزار 390کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔ برطانیہ میں ایک ہفتے کے دوران کورونا کیسز میں 10فیصد سے زائد کا اضافہ ہوا ہے۔ یورپ اور امریکہ میں کورونا کیسز میں اضافہ جاری ہے۔ امریکہ میں 7 لاکھ سے زائد کیسز جبکہ 1700 کے قریب اموات رپورٹ ہوئیں۔

٭…عالمی ادارہ صحت نے کہا ہے کہ ایسے شواہد میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے جن سے عندیہ ملتا ہے کہ کورونا وائرس کی نئی قسم اومیکرون نظام تنفس کے اوپر کے حصے کو متاثر کرتی ہے جس کے باعث بیماری کی شدت سابقہ اقسام سے معمولی ہوتی ہے۔

ڈبلیو ایچ او کے عہدیدار عابدی محمد نے میڈیا بریفنگ کے دوران بتایا کہ ہم مسلسل ایسی تحقیقی رپورٹس کو دیکھ رہے ہیں جن میں بتایا گیا کہ اومیکرون سے، اوپر کےنظام تنفس کاحصہ متاثر ہوتا ہے۔ دیگر اقسام کے برعکس جو شدید نمونیا کا باعث بنتی ہیں اومیکرون سے بیمار ہونے پر علامات کی شدت معمولی یا معتدل ہوتی ہے۔ انہوں نے اسے اچھی خبر قرار دیتے ہوئے انتباہ کیا کہ اومیکرون کے بہت زیادہ متعدی ہونے کا مطلب ہے کہ آئندہ چند ہفتوں میں وہ متعدد ممالک میں کورونا کی غالب قسم ہوگی جس سے ان ممالک کو خطرہ ہوگا جہاں ابھی آبادی کے بڑے حصے کی ویکسینیشن نہیں ہوسکی۔

٭…٭…٭

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close