متفرق مضامین

واقعہ افک اور اس کا پس منظر

(’ایچ ایم طارق‘)

یہ چودہ سو سے کچھ اوپر برس کا دلخراش واقعہ ہے۔ ہجرت نبویؐ کا پانچواں سال تھا۔مدینہ کا ماحول بظاہرپر سکون اور سازگارتھا۔ بظاہرمسلمانوں کا بیرونی حملے کا خوف امن سے بدل چکا تھاکہ اسی سال چوبیس ہزارکا وہ لشکرِ کفارعرب جس نے مسلمانانِ مدینہ محاصرہ کرکے ان کی زندگیوں پر ایک زلزلہ طاری کردیا تھا، پسپا ہوچکا تھا۔اوررسول اللہﷺ اپنے صحابہ کوآئندہ اپنی حکمت عملی کی یہ نویدبھی سناچکےتھے کہ اب قریش مکہ کبھی مدینہ پر حملہ کی جرأت نہ کر سکیں گےاور آئندہ ہمیں خودآگے بڑھ کر اپنا دفاع کرناہوگا۔یوں مدینہ منورہ میں ایک طرف آئندہ فتوحات کے آغاز کا انتظار تھا تو دوسری طرف اندر اندر منافقین مسلمانوں کی ان عظیم الشان کامیابیوں پر حسد کی آگ میں جل رہے تھےاوروہ مسلمانوں کو اندرونی طور پر انتشار کا شکار کرنا چاہتے تھے۔

آپ کو معلوم ہوگا کہ ہجرت مدینہ سے قبل اہل یثرب عبد اللہ بن ابی کےسر پر سرداری کا تاج رکھنے والے تھےمگررسول اللہﷺ کی مدینہ تشریف آوری سےا س کے سارے خواب چکنا چور ہوکررہ گئےجب اوس و خزرج اور قبائل یہود نے بالاتفاق رسول اللہﷺ کوسربراہ مدینہ تسلیم کر لیا۔پھر ہجرت کے دوسرے ہی سال معرکۂ بدرسے حق و باطل کا فرق کھل کر سامنے آیا تو عبد اللہ بن ابی نے بھی بظاہرتو اسلام قبول کرلیا مگر اندرہی اندر اسلام اور اس کے بانی کے خلاف مسلسل سازشوں میں مصروف رہااوراپنے ساتھ منافقوں کا ایک فتنہ پرداز گروہ تیارکرلیا۔غزوہ احد میں اس کا یہ نفاق کھل کر سامنے آیا جب وہ لشکر اسلام کو چھوڑ کراپنے سات سو ساتھیوں کے ساتھ میدان احد سے واپس مدینہ چلاگیا۔

اسی زمانہ میں قبائل یہود بنو قینقاع اورقبیلہ بنو نضیر اپنی بد عہدی کے بعد مدینہ سےجلا وطن ہوئے۔اس واقعہ نے جہاں یہود میں مسلمانوں کے خلاف حسد کی آگ اور تیز کردی،وہاں عبد اللہ بن ابی کےلیے یہود میں مزید حمایتی پیدا ہوگئے۔

پھر جب غزوہ احزاب کے دوران غداری کےنتیجہ میں بنو قریظہ بھی سزا پاچکے، تو منافقین کی رہی سہی امیدیں بھی خاک میں مل گئیں اور انہیں شدت سےاحساس ہو ا کہ اسلام تو مسلسل دن دوگنی اور رات چوگنی ایسی ترقی کرتا چلاجارہا ہے،جس کا مقابلہ ممکن نہیں۔وہ یہ بھی مشاہدہ کرچکے تھے کہ مسلمانوں کے غلبہ کی اصل وجہ کثرت لشکر یا اسلحہ نہیں بلکہ خدا پرستی اور اخلاقی اقدار ہیں جس کا سرچشمہ رسول اللہﷺ کی ذات بابرکات ہے۔ اس لیے انہوں نے آپؐ کی شخصیت کو نشانہ بناکر اسلامی قیادت کے خلاف منفی پروپیگنڈاسےحملہ کرنے کا منصوبہ بنایااور غیر اخلاقی حملوں سے بانیٔ اسلام اور آپؐ کے قریبی ساتھیوں کی کردار کشی کےلیے سرگرم عمل ہوگئے۔اسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

لَئِنْ لَمْ يَنْتَهِ الْمُنَافِقُونَ وَالَّذِينَ فِي قُلُوبِهِمْ مَرَضٌ وَالْمُرْجِفُونَ فِي الْمَدِينَةِ لَنُغْرِيَنَّكَ بِهِمْ ثُمَّ لَا يُجَاوِرُونَكَ فِيهَا إِلَّا قَلِيلًا(الأحزاب 61)

اگر منافقىن اور وہ لوگ جن کے دلوں مىں مرض ہے اور وہ لوگ جو مدىنہ مىں جھوٹى خبرىں اڑاتے پھرتے ہىں باز نہىں آئىں گے تو ہم ضرور تجھے (ان کى عقوبت کے لئے) ان کے پىچھے لگا دىں گے پھر وہ اِس (شہر) مىں تىرے پڑوس مىں نہىں رہ سکىں گے مگر تھوڑا۔

منافقوں نےنکتہ چینی کا ایک موقع 5 ھ میں رسول کریمﷺ کی اپنی پھوپھی زاد حضرت زینبؓ سے شادی پر پیداکرلیا۔ جب رسول اللہﷺ کے منہ بولے بیٹے حضرت زیدؓ نے طبعی ناموافقت کی وجہ سے حضرت زینبؓ کو طلاق دے دی۔ جس کے بعد اللہ کے حکم سے حضرت زینبؓ آپؐ کے عقد میں آئیں تو انہوں نے خوب شور مچایا اورمنہ بولے بیٹے کی مطلقہ سے شادی پر اعتراض کیے۔حالانکہ یہ خدائی فیصلہ متبنی کی قبیح رسم کے خاتمہ کےلیے تھا۔

الغرض گروہ منافقین بانیٔ اسلامﷺ اور آپ کے ساتھیوں پر مسلسل الزام تراشی کی تاک میں رہتاتھا۔اگلے ہی سال 6 ھ میں غزوہ مریسیع میں انہیں خودبانیٔ اسلامؐ کے علاوہ ام المومنین حضرت عائشہؓ اور حضرت ابوبکرؓ و حضرت عمرؓ کے خلاف زبان طعن درازکرنے کا موقع مل گیا۔جب غزوہ مریسیع پر جاتے ہوئے حضرت عمرؓ کے غلام جہجاہ کی ایک چشمہ پر پانی لیتے ہوئےکچھ انصارسےایسی تکرار ہوگئی جس کے نتیجہ میں قریب تھا کہ مہاجرین و انصار باہم برسرپیکار ہوجاتے۔یہی وہ موقع تھا جس پر بدبخت عبد اللہ بن ابی نے رسول اللہﷺ کی گستاخی میں وہ سخت ناروا کلمات کیے جن کا سورة منافقون کی آیت میں ذکر ہے کہ ’’وہ کہتے ہىں اگر ہم مدىنہ کى طرف لوٹىں گے تو ضرور وہ جو سب سے زىادہ معزز ہے اُسے جو سب سے زىادہ ذلىل ہے اس مىں سے نکال باہر کرے گا۔‘‘ (المنافقون 9)

پھر اسی غزوہ مریسیع سے واپسی پر وہ ہولناک سانحہ بھی گزرا جس میں حضرت ام المومنین عائشہؓ پرعبد اللہ بن ابی اور اس کے ساتھیوں نے سخت ناروا الزام لگا کر بانیٔ اسلامﷺ اور مسلمانوں کے سینے چھلنی کردئیے اور رسول اللہﷺ اور آپؐ کے صحابہ کی زندگی میں ایک سخت تکلیف دہ اضطراب برپا کردیا ۔ واقعہ افک کے تیس روز بعدسورۃ نور میں اللہ تعالیٰ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا کی براءت نازل فرمائی۔

سورة نوروہی مبارک سورۃ ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے ایک طرف مسلمانوں کے ساتھ خلافت کے قیام کا وعدہ فرمایا ہے جو آپؐ کی وفات کے بعد پہلی دفعہ حضرت ابو بکرؓ کے وجود با وجود سے پورا ہوا۔تو دوسری طرف اس سورت میں ام المومنین حضرت عائشہؓ بنت حضرت ابوبکرؓ کی براءت کا اعلان ہوااور پاکیزہ اسلامی معاشرہ کے قیام کےلیے اصول و ضوابط مقرر ہوئے۔الغرض سورة نور میں براءت حضرت عائشہؓ کے ساتھ وعدۂ خلافت کےیکجا ذکر میں اشارہ ہے کہ واقعہ افک کی سازش در اصل اسلامی قیادت اورنظام خلافت پر ایک حملہ تھا چنانچہ حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں :

’’حضرت عائشہؓ پر الزام لگا کر دو شخصوں سے دشمنی نکالی جاسکتی تھی۔ایک رسول کریمﷺ اور ایک حضرت ابوبکرؓ سے کیونکہ ایک کی وہ بیوی تھیں اور ایک کی بیٹی تھیں۔۔۔انہیں جس بات کا خطرہ تھا وہ یہ تھا کہ رسول کریمﷺ کے بعد بھی وہ اپنی اغراض کو پورا کرنے سے محروم نہ رہ جائیں وہ دیکھ رہے تھے کہ آپ کے بعد خلیفہ ہونے کا اگر کوئی شخص اہل ہے تو وہ ابوبکرؓ ہی ہے۔پس اس خطرہ کو بھانپتے ہوئے انہوں نے حضرت عائشہؓ پر الزام لگا دیا تا حضرت عائشہؓ رسول کریمﷺ کی نگاہ سے گر جائیں اور ان کےگرجانے کی وجہ سے حضرت ابوبکرؓ کو مسلمانوں میں جو مقام حاصل ہے وہ بھی جاتا رہے اور مسلمان آپ سے بدظن ہوکر اس عقیدت کو ترک کردیں جو انہیں آپ سے تھی اور اس طرح رسول کریمﷺ کے بعد حضرت ابوبکرؓ کے خلیفہ ہونے کا دروازہ بالکل بند ہوجائے۔یہی وجہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے حضرت عائشہؓ پر الزام لگنے کے بعد خلافت کا بھی ذکر کیا۔‘‘

(تفسیر کبیر جلد6 صفحہ324-326)

حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب واقعہ افک کا پس منظر بیان کرتے ہوئےفرماتے ہیں:

’’اس میں صرف ایک پاک دامن اور نہایت درجہ متقی اور پرہیزگار عورت کی عصمت پر ہی حملہ کرنا مقصود نہ تھا بلکہ بڑی غرض بالواسطہ مقدس بانیٔ اسلام کی عزت کو برباد کرنا اور اسلامی سوسائٹی پر ایک خطرناک زلزلہ وارد کرنا تھی اور منافقین نے اس گندے اور کمینے پراپیگنڈا کو اس طرح پر چرچا دیا تھا کہ بعض سادہ لوح مگر سچے مسلمان بھی ان کے دام تزویر میں الجھ کر ٹھوکر کھا گئے۔‘‘

(سیرت خاتم النبیینؐ صفحہ567)

اس دردناک واقعہ کی تفصیل خوداس پاک معصومہ ام المومنین حضرت عائشہؓ سے صحیح بخاری میں یوں بیان ہے کہ

’’رسول اللہ ﷺ جب کسی سفر کا ارادہ فرماتے تو اپنی ازواج کے نام قرعہ ڈالتے۔ پھر جس کا نام نکلتا، اس کو اپنے ساتھ لے جاتے۔۔۔ایک غزوہ کے لئے آپؐ نکلے اور آپؐ نے ہمارے درمیان قرعہ ڈالا تو اس میں میرا نام نکلا اور میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ گئی اور یہ اس وقت کا واقعہ ہے جب پردہ کا حکم نازل ہوچکا تھا۔ مجھے ہودے میں بٹھا کر ہودج اونٹ پر رکھ دیا جاتا تھا اور اسی طرح اُتارا جاتا تھا۔

ہم سفر کرتے رہے یہاں تک کہ جب رسول اللہ ﷺ اس جنگ سے فارغ ہوئے اور لوٹتے ہوئے ہم مدینہ کے قریب پہنچے تو آپؐ نے ایک رات کوچ کرنے کا اعلان فرمایا۔ جب انہوں نے اعلان کیا تو مَیں اُٹھی اور قضائے حاجت کے لئے اتنی دور چلی گئی کہ فوج سے آگے نکل گئی۔ جب میں حاجت رفع کرکے کجاوے کی طرف آئی اور اپنے سینے کو چھؤا تو معلوم ہوا کہ میرا ہار جو ظفار کے نگینوں کا تھا، ٹوٹ کر کہیں گر گیا ہے۔ میں واپس لَوٹی اور اپنا ہار ڈھونڈنے لگی۔اس کی تلاش نے مجھے روکے رکھا۔

کہتی تھیں:ادھر وہ لوگ آئے جو مجھے سوار کیا کرتے تھے۔ میرے ہودے کو اُٹھا کر اُس اونٹ پر رکھ دیا جس پر میں سوار ہوا کرتی تھی اور وہ سمجھتے تھے کہ میں ہودے میں ہوں اور عورتیں ان دِنوں ہلکی پھلکی ہوتی تھیں، موٹی اورپُرگوشت نہ ہوتی تھیں ۔ تھوڑا ہی تو کھانا کھاتی تھیں۔خیر لوگوں نے ہودے کو اُٹھا کر اونٹ پر رکھتے وقت اس کے ہلکے پن کو محسوس نہ کیا (وہ یہ نہیں سمجھے کہ میں ہودے میں نہیں ہوں)اور میں ایک کم عمر لڑکی تھی۔انہوں نے اونٹ کو اُٹھایا اور چل دئیے اورادھر مجھے اپنا ہار مل گیا۔ میں ان کے خیموں کی جگہ پر آئی۔ وہاں نہ کوئی پکارنے والا تھا اور نہ جواب دینے والا۔ میں اپنی اس جگہ پر چلی گئی جس میں مقیم تھی۔ میں نے خیال کیا کہ جب وہ مجھے نہ پائیں گے تو میرے پاس واپس لوٹ آئیں گے۔

میں اپنے ٹھکانے میں بیٹھی تھی کہ میری آنکھ لگ گئی اور سو گئی اور صفوان بن معطل سُلمی ذکوانیؓ فوج کے پیچھے پیچھے رہنے کی ڈیوٹی تھی، وہ جب صبح میرے ٹھکانے کے قریب پہنچا تو اس نے (پہلے)ایک سوئے ہوئے انسان کو دیکھا۔پھر دیکھتے ہی مجھے پہچان لیا اور پردہ کے حکم سے پہلے اس نے مجھے دیکھا ہوا تھا، جب اس نے مجھے پہچانا تو اِنَّا لِلّٰہ پڑھا، جس سے میں جاگ پڑی۔ میں نے اپنی جلباب (اوڑھنی)سے اپنا چہرہ ڈھانک لیا اور اللہ کی قسم!ہم نے بات نہ کی اور نہ میں نے اس کی کوئی بات سنی سوائے اِنَّا لِلّٰہ پڑھنے کے۔ وہ اونٹ سے نیچے اُترا اور اپنا اونٹ بٹھا دیا اور اونٹ کی اگلی ٹانگ پر اپنا پاؤں رکھا۔ میں اُٹھ کر اونٹنی کے پاس آئی اور اس پر سوار ہوگئی اور وہ اونٹنی کو آگے سے پکڑ کر روانہ ہوگیایہاں تک کہ ہم جلتی بھنتی دھوپ میں ٹھیک دوپہر کو لشکر میں پہنچ گئے۔ اس وقت لوگ (آرام کے لئے )اُترے ہوئے تھے۔

کہتی تھیں: پھر اس واقعہ سے ہلاک ہوئے جو ہلاک ہوئے اور جس شخص نے بہتان میں بڑا حصہ لیا وہ عبداللہ بن اُبَیّ بن سلول تھا(کہ سب سے پہلے اسی نے الزام تراشی کا آغازکیا)۔ عروہ کہتے تھے: مجھے بتایا گیا ہے کہ عبداللہ بن اُبَیّ کے پاس اس قسم کی بات چیت ہوتی تو وہ اسے صحیح قرار دیتا اور کان لگا کر سنتا اورکھود کھود کر پوچھتا اور (اسی سند سے)عروہ نے یہ بھی کہا:بہتان باندھنے والوں میں سے اور کسی کا نام نہیں لیا گیا سوائے حسان بن ثابت، مسطح بن اثاثہ اور حمنہ بنت جحش کے۔ اسی طرح کچھ اور لوگوں کا بھی جن کا مجھے علم نہیں مگر وہ ایک ٹولی تھی جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے۔ اور کہا جاتا ہے کہ اس کا سرغنہ عبداللہ بن اُبَیّ بن سلول تھا۔۔۔

حضرت عائشہؓ فرماتی تھیں:ہم مدینہ میں پہنچے تو میں ایک مہینہ بیمار رہی اور لوگ افک والوں کے بہتان کی بابت اندھا دھند باتیں بناتے رہے۔ میں اس سے متعلق کوئی علم نہیں رکھتی تھی اور جو بات مجھے اپنی بیماری میں پریشان کرتی وہ یہ تھی کہ میں رسول اللہﷺ سے وہ مہربانی جو اپنی بیماری کی حالت میں دیکھا کرتی تھی، نہیں دیکھتی۔ رسول اللہﷺ میرے پاس یوں ہی آتے پھر سلام کرتے اور فرماتے: یہ کیسی ہے اور پھر چلے جاتے۔ سو یہ بات مجھے پریشان کرتی۔ اس وقت تک مجھے کسی شر کا علم نہیں ہوا تھا یہاں تک کہ جب مجھے بیماری سے افاقہ ہوا تو میں (قضائے حاجت کے لئے)باہر نکلی اور اُمّ مسطح کے ساتھ مَیں مناصع کی طرف گئی اور یہ ہمارے بول وبراز کی جگہ تھی اور ہم رات ہی کو نکلا کرتی تھیں اور یہ اس وقت سے پہلے کی بات ہے کہ ہم نے اپنے گھروں کے قریب بیت الخلاء بنائے۔ کہتی تھیں: اور قضائے حاجت میں ہماری حالت بھی ان عربوں کی سی تھی جو بیابان میں رہا کرتے تھے اور ہم بیت الخلاء سے تکلیف محسوس کرتے تھے کہ وہ اپنے گھروں کے قریب بنائیں۔ کہتی تھیں: میں اور اُمّ مسطح گئیں اور یہ ابو رُہم بن مطلب بن عبدمناف کی بیٹی تھیں اور ان کی ماں صخر بن عامر کی بیٹی تھیں جو حضرت ابوبکر صدیقؓ کی خالہ تھیں اور ان کا بیٹا مسطح بن اثاثہ بن عباد بن مطلب تھا۔ جب میں اور مسطح کی ماں اپنی حاجت سے فارغ ہوکر گھر کی طرف آرہے تھے، اتنے میں مسطح کی ماں اپنی اوڑھنی میں اُلجھ کر گرپڑیں اور بولیں:مسطح کا بُرا ہو۔ میں نے ان سے کہا: کیا ہی بُرا کلمہ ہے جو تم نے کہا ہے؟ کیا ایسے آدمی کو بُرا کہتی ہو جو بدر میں شریک ہوا تھا؟ کہنے لگیں: اے بھولی بھالی! ابھی تم نے سنا نہیں جو اُس نے کہا ہے؟ میں نے کہا: کیا کہا ہے؟چنانچہ مسطح کی ماں نے افک والوں کا قصہ مجھے بتایا۔ کہتی تھیں: میری بیماری اور بڑھ گئی۔ جب میں اپنے گھر میں واپس آئی تو رسول اللہﷺ میرے پاس آئے، سلام کیا اور پوچھا: یہ کیسی ہے؟ میں نے آپؐ سے کہا: کیا آپؐ مجھے اجازت دیتے ہیں کہ میں اپنے ماں باپ کے پاس چلی جاؤں؟ کہتی تھیں: اور میں چاہتی تھی کہ جاکر اُن سے کچھ پتہ کروں۔کہتی تھیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اجازت دے دی۔

میں نے اپنی ماں سے کہا: لوگ کیا باتیں کررہے ہیں؟ کہنے لگیں: بیٹی معمولی بات ہے پروا نہ کرو۔ اللہ کی قسم! بہت ہی کم ہوا ہے کہ کبھی کوئی خوبصورت عورت کسی شخص کے پاس ہو جس سے وہ محبت رکھتا ہو، اس کی سوکنیں بھی ہوں اور وہ اس کے متعلق بہت کچھ نہ کہتی ہوں۔ حضرت عائشہؓ کہتی تھیں: میں نے کہا: سبحان اللہ! کیا بہتان تک نوبت پہنچ گئی ہے کہ لوگ ایسی باتیں کرتے ہیں؟ کہتی تھیں: میں ساری رات صبح تک روتی رہی۔ میرے آنسو تھمتے ہی نہ تھے اور نہ مجھے نیند آتی تھی اور اس کے بعد صبح کو بھی روتی رہی۔

کہتی تھیں: جب وحی رُک گئی تو رسول اللہﷺ نے علی بن ابی طالبؓ اور اسامہ بن زیدؓ کو بلایا۔ ان سے اپنی اہلیہ(حضرت عائشہؓ) کو چھوڑنے کے بارے میں مشورہ کرنے لگے۔ اسامہؓ نے رسول اللہ ﷺ کو اپنے علم کے مطابق وہ مشورہ دیا جو آپؐ کی اہلیہ کو تہمت سے بَری ٹھہرانے والا تھا اور اسامہ نے کہا: وہ آپؐ کی زوجہ ہیں اور ہم ان میں بھلائی کے سوا کچھ نہیں جانتے اور علیؓ نے کہا: اللہ نے آپؐ پر کوئی تنگی نہیں کی۔ عورتیں اس کے سوا بہت ہیں اور خادمہ(بریرہؓ) سے پوچھئے، آپؐ سے سچ کہے گی۔ کہتی تھیں:رسول اللہﷺنے بریرہؓ کو بلایا۔ آپؐ نے پوچھا:بریرہؓ! کیا تم نے کوئی ایسی بات دیکھی ہے جو تمہیں شک میں ڈالتی ہو؟ بریرہؓ کہنے لگی: اس ذات کی قسم ہے جس نے آپؐ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے، میں نے اُن کی کبھی کوئی ایسی بات نہیں دیکھی جس کو میں معیوب سمجھتی ہوں سوا اس کے کہ وہ کم عمر لڑکی ہیں، اپنے گھر والوں کا گوندھا ہوا آٹا چھوڑ کر سوجاتی ہیں، گھر کی بکری آتی ہے اور اس کو کھا جاتی ہے۔

حضرت عائشہؓ فرماتی تھیں: یہ سن کر رسول اللہﷺ اسی دن لوگوں سے مخاطب ہوئے۔ آپؐ نے عبداللہ بن اُبَیّ سے بیزاری کا اظہار فرمایا اور آپؐ اس وقت منبر پر تھے۔ فرمایا: مسلمانوں کی جماعت! ایسے شخص کے متعلق کون میرا اِنصاف کرے گا؟ جس کے بارے میں مجھے اطلاع ملی ہے کہ اس نے میری اہلیہ کو دُکھ دیا ہے۔ اللہ کی قسم! مجھے اپنی اہلیہ سے متعلق یہی علم ہے کہ وہ اچھی ہے اور میں اپنی اہلیہ میں بھلائی ہی دیکھتا ہوں اور انہوں نے (الزام میں)ایسے شخص کا ذکر کیا ہےجس کے متعلق مجھے بھی علم ہے کہ وہ اچھا ہے اور میرے گھر والوں کے پاس میرے ساتھ ہی جایا کرتا تھا۔

یہ سنتے ہی سعد بن معاذؓ جو بنی عبدالاشہل میں سے تھے، کھڑےہوگئے۔ کہنے لگے: یا رسول اللہ! میں آپؐ کا انصاف کروں گا۔ اگر وہ اَوس سے ہوا، اُس کی گردن اڑا دوں گا اور اگر ہمارے بھائیوں خزرج سے ہوا تو جو حکم آپؐ دیں گے ہم بجالائیں گے۔ کہتی تھیں: یہ سن کر خزرج سے ایک شخص اُٹھا اور حسانؓ کی ماں اسی گود سے اس کی چچا زاد بہن تھی اور وہ سعد بن عبادہؓ سردار خزرج تھے۔ حضرت عائشہؓ کہتی تھیں کہ وہ اس سے پہلے اچھے آدمی تھے لیکن قومی پچ نے اُن کو اُکسایا۔ وہ سعدؓ سے کہنے لگے: اللہ کی قسم! تم نے غلط کہا ہے۔ تم اس کو نہیں مار سکو گے اور نہ قتل کرسکتے ہو۔ اگر وہ تمہاری قوم سے ہوتا توتم کبھی پسند نہ کرتے کہ مارا جائے۔

یہ سن کر اُسَید بن حُضَیرؓ کھڑے ہوئے اور وہ سعد (بن معاذؓ) کے چچا زاد بھائی تھے۔ انہوں نے سعد بن عبادہؓ سے کہا: تم نے غلط کہا ہے۔ اللہ کی قسم! ہم اسے ضرور ماریں گے، تم منافق ہو، منافقوں کی طرف سے جھگڑتے ہو۔ کہتی تھیں: اس پر دونوں قبیلے اوس اور خزرج بھڑک اُٹھے۔ یہاں تک کہ وہ لڑنے کے لئے آمادہ ہوگئے اور رسول اللہ ﷺمنبر پر کھڑے تھے۔ کہتی تھیں: رسول اللہ ﷺ ان کے جوشوں کو دباتے رہے۔ آخر وہ چپ ہوگئے اور آپؐ بھی خاموش ہو رہے۔

فرماتی تھیں: میں تو سارا دِن روتی رہی۔ میرے آنسو تھمتے نہ تھے اور نہ مجھے نیند آتی۔ کہتی تھیں: میرےماں باپ بھی میرے پاس رہے اور میں دو راتیں اور ایک دن تنہائی میں روتی رہی، نہ میرے آنسو تھمتے تھے اور نہ مجھے نیند آتی تھی یہاں تک کہ مجھے خیال ہوا کہ یہ رونا میرے جگر کو پھاڑ دے گا۔ اس اثناء میں کہ میرے ماں باپ میرے پاس بیٹھے تھے اور میں رو رہی تھی ایک انصاری عورت نے میرے پاس آنے کی اجازت چاہی۔ میں نے اسے اجازت دی۔ وہ بیٹھ گئی اور میرے ساتھ رونے لگی۔ کہتی تھیں: ابھی ہم اس حالت میں تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس آگئے۔ آپؐ نے السلام علیکم کہا اور بیٹھ گئے۔ کہتی تھیں: جب سے کہ بہتان باندھا گیا تھا کبھی میرے پاس نہیں بیٹھے تھے اور آپؐ ایک مہینہ تک انتظار کرتے رہے مگر آپؐ کو میرے معاملہ کی نسبت کوئی وحی نہ ہوئی۔ کہتی تھیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب بیٹھے، کلمہ شہادت پڑھا۔ پھر فرمایا: عائشہ! دیکھو تمہارے متعلق یہ یہ بات پہنچی ہے۔

سو اگر تم (اس الزام سے)بری ہو تو اللہ ضرور تمہیں بری کرے گا اور اگر تم سے کوئی لغزش ہوگئی ہو تو اللہ سے استغفار کرو اور اسی کی طرف متوجہ ہو کیونکہ بندہ جب خطا کا اِقرار کرتا ہے اور رجوع کرتا ہے تو اللہ بھی اس پر مہربانی کرتاہے۔ کہتی تھیں: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بات کرچکے۔ میرے آنسو یکایک ایسے بند ہوگئے کہ میں آنسو کا ایک قطرہ بھی محسوس نہ کرتی تھی۔ میں نے اپنے باپ سے کہا:آپ کو جو انہوں نے فرمایا ہے میری طرف سے جواب دیں۔ میرے باپ نے کہا: اللہ کی قسم! میں نہیں جانتا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا کہوں؟ میں نے اپنی ماں سے کہا: آپؐ ہی رسول اللہ ﷺ کو اس کا جواب دیں جو آپؐ نے فرمایا ہے۔ میری ماں کہنےلگیں: اللہ کی قسم! میں نہیں جانتی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا کہوں؟ اور میں اس وقت کم عمر لڑکی تھی، قرآنِ مجید زیادہ نہیں جانتی تھی۔ پھر میں نے کہا: اللہ کی قسم! مجھے معلوم ہوچکا ہے کہ آپ لوگوں نے ایسی بات سنی ہے یہاں تک کہ وہ آپ کے دلوں میں گڑ گئی ہے اور آپ نے اس کو سچا سمجھ لیا ہے، اس لئے اگر میں آپ سے کہوں کہ میں بَری الذمہ ہوں تو آپ میری تصدیق نہیں کریں گے اور اگر میں آپ سے کسی بات کا اقرار کرلوں اور اللہ جانتا ہے کہ میں اس سے بَری ہوں تو آپ مجھے سچا سمجھ لیں گے۔ اللہ کی قسم! میں اپنے اور آپ کے لئے یوسفؑ کے والد کی مثال کے سوا اور کوئی مثال نہیں سمجھتی۔ انہوں نے کہا: صبر کرنا ہی اچھا ہے اور اللہ ہی سے مدد مانگی جاسکتی ہے، اُن باتوں میں جو تم بیان کرتے ہو۔ پھر میں ایک طرف ہوگئی اور بستر پر لیٹ گئی اور اللہ جانتا ہے کہ میں اس وقت بَری تھی اور اللہ کو میری پاک دامنی کا اظہار کرنا ہی تھا لیکن اللہ کی قسم! مجھے یہ خیال نہ تھا کہ اللہ میرے لئے وحی نازل کرے گاجس کی تلاوت کی جائے گی۔

میری اپنی حیثیت میرے نزدیک اس سے کم تھی کہ اللہ تعالیٰ میری نسبت کلام کرتا لیکن میں یہ اُمید رکھتی تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کوئی خواب دیکھیں کہ جس کے ذریعہ اللہ تعالیٰ مجھے بَری قرار دے۔ اللہ کی قسم! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے بیٹھنے کی جگہ سے نہیں سِرکے اور نہ گھر والوں میں سے کوئی نکلا تھا کہ اتنے میں آپؐ پر وحی نازل ہوئی اوروہ بوجھل کیفیت ہونے لگی جو آپؐ کو ہوا کرتی تھی یہاں تک کہ بوجہ اس کلام کے جو آپؐ پر نازل کیا گیا،آپؐ کے جسم سے پسینہ موتیوں کی طرح ٹپکنے لگا حالانکہ وہ سردی کا دن تھا۔

کہتی تھیں:پھروہ حالت چلی گئی اور آپؐ مسکرا رہے تھے۔ پہلی بات جو آپؐ نے کہی وہ یہ تھی۔ عائشہ! اللہ نے تو تجھے بَری کردیا ہے۔ کہتی تھیں: میری ماں مجھے کہنے لگیں: اُٹھو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاؤ۔ میں نے کہا: نہیں۔ اللہ کی قسم! میں تو ان کے پاس نہیں جاؤں گی کیونکہ میں اللہ عزو جل کے سوا کسی کا شکریہ ادا نہیں کروں گی۔کہتی تھیں: اللہ نے یہ آیات نازل کیں:

اِنَّ الَّذِيْنَ جَآءُوْ بِالْاِفْكِ۔۔۔

{یقینا ً وہ لوگ جو جھوٹ گھڑ لائے تم ہی میں سے ایک گروہ ہے۔۔۔}دس آیتوں تک۔ اور اللہ تعالیٰ نے یہ وحی میری بریت میں اُتاری۔سورة نور کی ان دس آیات کا ترجمہ یہ ہے:

’’یىقیناً وہ لوگ جو جھوٹ گھڑ لائے تم ہى مىں سے اىک گروہ ہے اس (معاملہ) کو اپنے حق مىں بُرا نہ سمجھو بلکہ وہ تمہارے لئے بہتر ہے ان مىں سے ہر شخص کے لئے ہے جو اُس نے گناہ کماىا جبکہ ان مىں سے وہ جو اس کے بىشتر کا ذمہ دار ہے اس کے لئے بہت بڑا عذاب (مقدر) ہے (12) اىسا کىوں نہ ہوا کہ جب تم نے اُسے سنا تو مومن مرد اور مومن عورتىں اپنوں کے متعلق حُسنِ ظن کرتے اور کہتے کہ ىہ کھلا کھلا بہتان ہے (13) کىوں نہ وہ اس بارہ مىں چار گواہ لے آئے پس جب وہ گواہ نہىں لائے تو وہى ہىں جو اللہ کے نزدىک جھوٹے ہىں(14) اور اگر دنىا اور آخرت مىں تم پر اللہ کا فضل اور اس کى رحمت نہ ہوتے تو اس (فتنہ) کے نتىجہ مىں جس مىں تم پڑ گئے تھے ضرور تمہىں اىک بہت بڑا عذاب آ لىتا (15) جب تم اُس (جھوٹ) کو اپنى زبانوں پر لىتے تھے اور اپنے مونہوں سے وہ کہتے تھے جس کا تمہىں کوئى علم نہىں تھا اور تم اس کو معمولى بات سمجھتے تھے حالانکہ اللہ کے نزدىک وہ بہت بڑى تھى (16) اور اىسا کىوں نہ ہوا کہ جب تم نے اسے سُنا تو تم کہہ دىتے ہمىں کوئى حق نہىں کہ ہم اس معاملے مىں زبان کھولىں پاک ہے تُو (اے اللہ!) ىہ تو اىک بہت بڑا بہتان ہے(17) اللہ تمہىں نصىحت کرتا ہے مبادا تم آئندہ کبھى اىسى بات کا اِعادہ کرو، اگر تم مومن ہو (18) اور اللہ تمہارے لئے آىات کھول کھول کر بىان کرتا ہے اور اللہ دائمى علم رکھنے والا (اور) بہت حکمت والا ہے (19) ىقىناً وہ لوگ جو پسند کرتے ہىں کہ ان لوگوں مىں جو اىمان لائے بے حىائى پھىل جائے اُن کے لئے دردناک عذاب ہوگا دنىا مىں بھى اور آخرت مىں بھى اور اللہ جانتا ہے جبکہ تم نہىں جانتے (20) اور اگر اللہ کا فضل اور اس کى رحمت تم پر نہ ہوتے اور ىہ کہ اللہ ىقىناً بہت مہربان (اور) بار بار رحم کرنے والا ہے (تو تم مىں بے حىائى پھىل جاتى)(21)حضرت ابوبکر صدیقؓ نے کہا :اور وہ مسطح بن اثاثہ کو بوجہ قرابت و محتاجی خرچ دیا کرتے تھے،اللہ کی قسم! میں مسطح کو عائشہؓ پر اِفتراء کرنے کی وجہ سے خرچ نہیں دوں گا تو اللہ تعالیٰ نے یہ وحی نازل کی:

وَ لَا يَاْتَلِ اُولُوا الْفَضْلِ مِنْكُمْ

اور تم میں سے صاحب فضیلت اور صاحب توفیق اپنے قریبیوں اور مسکینوں اور اللہ کی راہ میں ہجرت کرنے والوں کو کچھ نہ دینے کی قسم نہ کھائیں۔ پس چاہیے کہ وہ معاف کردیں اور درگزر کریں۔ کیا تم یہ پسند نہیں کرتے کہ اللہ تمہیں بخش دے اور اللہ بہت بخشنے والا (اور) بار بار رحم کرنے والا ہے۔‘‘

(ترجمہ سورة النور آیت نمبر12تا21)

حضرت ابوبکر صدیقؓ نے کہا: اللہ کی قسم! میں یہ چاہتا ہوں کہ اللہ میرے گناہوں کی پردہ پوشی کرے اور درگزر فرمائے۔ چنانچہ وہ مسطح کو بدستور خرچ دینے لگے اور کہا: اللہ کی قسم! میں اس خرچ میں سے اس کو کبھی محروم نہیں کروں گا۔

حضرت عائشہؓ کہتی تھیں:رسول اللہ ﷺ نے زینب بنت جحشؓ سے بھی میرے متعلق پوچھا تھا۔ زینبؓ سے کہا: تمہیں کیا علم ہے ؟یا (فرمایا:)تمہاری کیا رائے ہے؟ وہ کہنے لگیں: یا رسول اللہ! میں اپنی شنوائی اور بینائی محفوظ رکھوں گی۔ اللہ کی قسم! سوائے بھلائی کے مجھے کچھ علم نہیں۔ حضرت عائشہؓ کہتی تھیں: یہی وہ تھیں جو نبی ﷺ کی ازواج میں سے میری برابری کیا کرتی تھیں مگر اللہ نے تقویٰ کی وجہ سے انہیں بچائے رکھا۔ کہتی تھیں: اور ان کی بہن حمنہ ان کی خاطر لڑنے لگ جایا کرتی تھی اور وہ ان لوگوں کے ساتھ جو ہلاک ہوئے، ہلاک ہوگئی۔

ابن شہاب کہتے تھے:یہ وہ حدیث ہے جو مجھے ان لوگوں کی روایتوں سے پہنچی ہے۔ پھر عروہ نے یہ بھی کہا: حضرت عائشہؓ کہتی تھیں: اللہ کی قسم! اور وہ شخص جس کے متعلق بہتان باندھا گیا ہے، وہ کہتا تھا: سبحان اللہ، اس ذات کی قسم ہے جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! میں نے کبھی کسی عورت کے پہلو کو برہنہ نہیں کیا۔ کہتی تھیں: پھر اس کے بعد وہ اللہ کی راہ میں شہید ہوگیا۔‘‘

(صحیح بخاری کتاب المغازی باب حدیث الافک)

ہماری ماں حضرت عائشہؓ سیدة المعصومات کی یہ دردناک سچی کہانی پڑھ کر کسی بھی صاحب دل کی آنکھیں اشکبار ہوئے بغیر نہیں رہ سکتیں اور کوئی صاحب بصیرت ایسا نہیں جو اس سے نصیحت اورکئی سبق حاصل نہ کرسکتے مثلاً یہی سبق کہ اللہ تعالیٰ نے اس شر انگیز واقعہ افک کے بارہ میں فرمایا کہ ’’اس سانحہ کو اپنے لیے موجب شر نہ سمجھو بلکہ یہ تمہارے لیے بہتر ہے۔‘‘ بلاشبہ انجام کے لحاظ سے تویہ بہتر تھا ہی مگر اس سے کیا سبق حاصل ہوئے؟اس کی تفصیل کا یہ مضمون متحمل نہیں ہوسکتا۔آئندہ نشست میں اس موضوع پر بات ہوگی۔ انشاء اللہ

……………………(باقی آئندہ)

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close