متفرق مضامین

غیبت کی ممانعت اور ناپسندیدگی

(’ابن زاہد شیخ‘)

اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے:

وَ لَا یَغۡتَبۡ بَّعۡضُکُمۡ بَعۡضًا ؕ اَیُحِبُّ اَحَدُکُمۡ اَنۡ یَّاۡکُلَ لَحۡمَ اَخِیۡہِ مَیۡتًا فَکَرِہۡتُمُوۡہُ(الحجرات: 13)

ترجمہ: اور تم میں سے کوئی کسی دوسرے کی غیبت نہ کرے۔ کیا تم میں سے کوئی پسند کرتا ہے کہ اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھائے پس تم اس سے سخت کراہت کرتے ہو۔

غیبت کا افواہ سازی کے ساتھ گہرا تعلق ہے۔ جب بھی کسی کی غیبت ہو تو اس بات کا اندیشہ پیدا ہو جاتا ہے کہ وہ بات بغیر سوچے سمجھے عوام الناس میں پھیلا دی جائے گی۔ اس کے متعلق اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے:

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِنۡ جَآءَکُمۡ فَاسِقٌۢ بِنَبَاٍ فَتَبَیَّنُوۡۤا اَنۡ تُصِیۡبُوۡا قَوۡمًۢا بِجَہَالَۃٍ فَتُصۡبِحُوۡا عَلٰی مَا فَعَلۡتُمۡ نٰدِمِیۡنَ(الحجرات: 7)

ترجمہ: اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو ! تمہارے پاس اگر کوئی بدکردار کوئی خبر لائے تو اس کی چھان بین کر لیا کرو، ایسا نہ ہو کہ تم جہالت سے کسی قوم کو نقصان پہنچا بیٹھو پھر تمہیں اپنے کیے پرپشیمان ہونا پڑے۔

ایک مرتبہ حضورؐ نے صحابہؓ سے پوچھا کہ جانتے ہو غیبت کیا ہوتی ہے۔ صحابہؓ نے عرض کیا کہ اللہ اور اس کے رسولؐ ہی بہتر جانتے ہیں۔ فرمایا: تُو اپنے بھائی کا اس انداز میں ذکر کرے جسے وہ پسند نہیں کرتا۔ عرض کیا گیاکہ حضورؐ کا کیا خیال ہے کہ اگر وہ بات جو میں نے کہی ہے میرے بھائی میں پائی جاتی ہو۔ توآپؐ نے فرمایا کہ اگر وہ بات جو تو نے کہی ہے تیرے بھائی میں موجود ہے تو تُو نے اس کی غیبت کی ہے اگر موجو دنہیں ہے تو تُو نے اس پر بہتان باندھا ہے۔ (صحیح مسلم کتاب البر والصلۃ باب تحریم الغیبۃ)

اسی طرح آنحضرتؐ نے فرمایا کہ ’’جس کے پاس اِس کے کسی (دینی) بھائی کی غیبت کی جائے اور وہ اِس کا د فاع کرکے اِس کی مدد نہ کرے حالانکہ وہ اِس کی مدد کرسکتا تھا تو اِس کا گناہ دنیا اور آخرت میں اُسے بھی پہنچے گا‘‘۔(الترغیب والترھیب جلد 3 صفحہ 334)

حضرت عقبہؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے آنحضرتؐ سے عرض کیا کہ نجات کیسے حاصل ہو؟ آپؐ نے فرمایا: اپنی زبان روک کر رکھو، تیرا گھر تیرے لیے کافی ہو( یعنی حرص سے بچو)۔ اگر کوئی غلطی ہو جائے تو نادم ہو کر اللہ تعالیٰ کے حضور گڑگڑا کر معافی طلب کرو۔(ترمذی ابواب الزھد باب حفظ اللسان)

حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرتؐ نے فرمایا: انسان بعض اوقات بے خیالی میں اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کی کوئی بات کہہ دیتا ہے جس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ اس کے بےانتہا درجات بلند کر دیتا ہے اور بعض اوقات وہ لاپروائی میں اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کی کوئی بات کر بیٹھتا ہے جس کی وجہ سے وہ جہنم میں جا گرتا ہے یعنی اللہ تعالیٰ سے ہر وقت راہنمائی اور ہدایت کی توفیق مانگتے رہنا چاہیے کہ وہ ہمیشہ بھلی اور نیک بات ہی منہ سے نکلوائے۔(بخاری کتاب الرقاق باب حفظ اللسان)

حضرت ابن مسعودؓ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرتؐ نے فرمایا: طعنہ زنی کرنے والا، دوسرے پر لعنت کرنے والافحش کلامی کرنے والا یاوہ گو زبان دراز مومن نہیں ہو سکتا۔(ترمذی ابواب البر و الصلۃ باب فی اللعنۃ )

حضرت ابن عمرؓ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرتؐ نے فرمایا: جب کوئی شخص اپنے بھائی کو کافر کہتا ہے تو یہ کفر دونوں میں سے کسی ایک پر ضرور آ پڑتا ہے اگر تو وہ شخص جسے کافر کہا گیا ہے واقعہ میں کافر ہے تو خیر ورنہ یہ کفر اس پر لوٹ آئے گا جس نے اپنے مسلمان بھائی کو کافر کہا ہے۔(مسلم کتاب الایمان باب حال ایمان من قال لاخیہ المسلم کافر)

حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرتؐ نے فرمایا: بدترین آدمی تم اسے پاؤ گے جو دو منہ رکھتا ہے ان کے پاس آکر کچھ کہتا ہے، دوسروں کے پاس جا کر کچھ کہتا ہے یعنی بڑا منافق اور چغل خور ہے۔(مسلم کتاب البر و الصلۃ باب ذم ذی الوجھین)

حضرت انسؓ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرتؐ نے فرمایا: جب مجھے معراج ہوا تو حالت کشف میں مَیں ایک ایسی قوم کے پاس سے گزرا جن کے ناخن تانبے کے تھے اور وہ ان سے اپنے چہروں اور سینوں کو نوچ رہے تھے۔ میں نے پوچھا اے جبرائیل! یہ کون ہیں تو انہوں نے بتایا کہ یہ لوگوں کا گوشت نوچ نوچ کر کھایا کرتے تھے اور ان کی عزت و آبرو سے کھیلتے تھے یعنی ان کی غیبت کرتے اور ان کو حقارت کی نظر سے دیکھتے تھے۔(ابوداؤد کتاب الادب باب فی الغیبۃ)

حضرت حذیفہؓ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرتؐ نے فرمایا: چغل خور جنت میں نہیں جا سکے گا۔(بخاری کتاب الادب باب ما یکرہ من النمیمۃ)

حضرت حذیفہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہؐ نے فرمایا: چغل خور جنت میں داخل نہیں ہو گا۔ (بخاری کتاب الادب باب ما یکرہ من النمیمۃ)

اسی طرح کسی کے بارہ میں سنی سنائی بات اور افواہ بلا تحقیق آگے بیان کرنا اور پھیلانا بھی غیبت کی طرح کا گناہ بن جاتا ہے۔ چنانچہ رسول کریمؐ نے فرمایا کہ کسی شخص کے گناہگارہونے کے لیے یہ بات کافی ہے کہ وہ ہرسنی سنائی بات لوگوں میں بیان کرتا پھرے۔ (سنن ابی داؤدکتاب الادب باب التشدید فی الکذب)

آنحضرتؐ نے ایک موقع پر فرمایا: سنی سنائی بات خود دیکھنے کی طرح نہیں ہوتی۔(مسند احمد بن حنبل )

از ارشادات حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام

حضرت اقدس مسیح موعودؑ نے اپنی جماعت کو اس عادت سے بچنے کے لیے سختی سے ممانعت کی اور اس بارہ میں تاکیدی نصائح فرمائی ہیں۔ بطور نمونہ چند ارشادات ملاحظہ ہوں:

’’وہ جماعت جماعت نہیں ہو سکتی جو ایک دوسرے کو کھائے اور جب چار مل کر بیٹھیں تو ایک اپنے غریب بھائی کا گلہ کریں اور نکتہ چینیاں کرتے رہیں اور کمزوروں اور غریبوں کی حقارت کریں۔ ‘‘(ملفوظات جلد2صفحہ 264)

’’بعض گناہ ایسے باریک ہوتے ہیں کہ انسان ان میں مبتلا ہوتا ہے اور سمجھتا ہی نہیں۔ جوان سے بوڑھا ہو جاتا ہے مگر اُسے پتہ نہیں لگتا کہ گناہ کرتا ہے۔ مثلاً گِلہ کرنے کی عادت ہوتی ہے۔ ایسے لوگ اس کو بالکل ایک معمولی اور چھوٹی سی بات سمجھتے ہیں ؛ حالانکہ قرآن شریف نے اس کو بہت ہی بڑا قرار دیا ہے۔ چنانچہ فرمایا ہے:

أَیُحِبُّ أَحَدُکُمْ أَن یَّأْکُلَ لَحْمَ أَخِیْہِ مَیْتاً(الحجرات: 13)

خدا تعالیٰ اس سے ناراض ہوتا ہے کہ انسان ایسا کلمہ زبان پر لاوے جس سے اس کے بھائی کی تحقیر ہواور ایسی کارروائی کرے جس سے اس کو حر ج پہنچے۔ ایک بھائی کی نسبت ایسا بیان کرنا جس سے اس کا جاہل اور نادان ہونا ثابت ہو یااس کی عادت کے متعلق خفیہ طور پر بے غیرتی یا دشمنی پیداہو۔ یہ سب بُرے کام ہیں۔‘‘ (ملفوظات جلد 4صفحہ653-654)

’’چاہیے کہ جسے کمزور پاوے اسے خفیہ نصیحت کرے۔ اگر نہ مانے تو اس کے لیے دعا کرے اور اگر دونوں باتوں سے فائدہ نہ ہو تو قضاء و قدر کا معاملہ سمجھے۔ جب خدا تعالیٰ نے ان کو قبول کیا ہوا ہے تو تم کو چاہئے کہ کسی کا عیب دیکھ کر سرِ دست جوش نہ دکھلایا جاوے۔ ممکن ہے کہ وہ درست ہو جاوے۔ قطب اور ابدال سے بھی بعض وقت کوئی عیب سرزد ہو جاتا ہے…ایسے ہی اپنےکسی بھائی کو ترک نہ کرنا چاہئے بلکہ اس کی اصلاح کی پوری کوشش چاہئے۔ قرآن کریم کی یہ تعلیم ہرگز نہیں ہے کہ عیب دیکھ کر اسے پھیلاؤ اور دوسروں سے تذکرہ کرتے پھرو بلکہ وہ فرماتا ہے

وَ تَوَاصَوۡا بِالصَّبۡرِ وَ تَوَاصَوۡا بِالۡمَرۡحَمَۃِ (البلد:18)

کہ صبر اور رحم سے نصیحت کرتے ہیں۔ مرحمہ یہی ہے کہ دوسرے کے عیب دیکھ کر اسے نصیحت کی جاوے اور اس کے لیے دعا کی جاوے۔‘‘(ملفوظات جلد4صفحہ60)

انسان صدیق نہیں کہلا سکتا جب تک جھوٹ کے تمام شعبوں سے پرہیز نہ کرے۔ (ملفوظات جلد 3صفحہ 99)

از ارشادات خلفائے عظام

خلفائے سلسلہ نے بھی ہمیشہ جماعت کو گھن کی طرح کھا جانےوالی اس تباہ کن برائی غیبت سے ہمیشہ بچنے کی نصیحت فرمائی ہے:

حضرت خلیفۃ المسیح الاولؓ نے ان اخلاقی برائیوں کا آپس میں ربط بیان کرتے ہوئے فرمایا:

بعض گناہ ہوتے ہیں کہ وہ اوربہت سے گناہوں کو بلانے والے ہوتے ہیں۔ اگران کو نہ چھوڑا جائے تو ان کی ایسی ہی مثال ہے کہ ایک شخص کے بتوں کو تو توڑا جائے مگر بُت پرستی کو اس کے دل سے دور نہ کرایا جاوے… جب انسان کسی کی نسبت سوء ظن کی وجہ سے ایک خراب رائے قائم کر لیتا ہے تو پھر کوشش کرتا ہے کہ کسی نہ کسی طرح اس کے کچھ عیب مل جاویں اور پھر عیب جوئی کی کوشش کرتا اور اسی جستجو میں مستغرق رہتا ہے اور یہ خیال کرکے کہ اس کی نسبت میں نے جو یہ خیال ظاہر کیا ہے۔ اگر کوئی پوچھے تو پھر اس کا کیا جواب دوں گا۔ اپنی بدظنی کو پورا کرنے کے لیے تجسس کرتا ہے اور پھر تجسس سے غیبت پیدا ہوتی ہے۔ جیسے فرمایا اللہ کریم نے

وَلَا یَغْتَبْ بَعْضُکُمْ بَعْضًا۔

(حقائق الفرقان جلد4صفحہ 5-6)

حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ کے ارشادات ملاحظہ ہوں:

’’ہمیں واضح حکم ہے کہ جو باتیں معاشرے میں بگاڑ پیدا کرنے والی ہوں یا بگاڑ پیدا کرنے کا باعث بنتی ہوں۔ ان کی تشہیر نہیں کرنی، ان کو پھیلانا نہیں ہے۔‘‘ (خطبات محمود جلد2صفحہ 833)

’’رسول کریمؐ نے نہ صرف غیبت سننے کو گناہ بتایا بلکہ اس کے رد کرنے کو نیکی ٹھہرایا ہے…تین باتیں مومن کا فرض ہیں۔ اول یہ کہ اگر کوئی اس کے سامنے کسی بھائی کا عیب بیان کرے تو اسے کہے جو نتیجہ تم نکالتے ہو یہ صحیح نہیں، اصل بات یہ ہے۔ دوم اسے سمجھائے کہ ایسا نہ کرو اور سوم یہ کہ اگر وہ نہ مانے تو وہاں سے اٹھ کر چلا جائے۔‘‘ (خطبات محمود جلد 6صفحہ644)

’’غیبت بھی نہیں کرنی چاہئے۔ کیا اپنے نقص کم ہوتے ہیں کہ دوسروں کے نقص بیان کرنے شروع کردیئے جاتے ہیں؟ تمہیں چاہئے کہ دوسروں کے عیب نکالنے کی بجائے اپنے عیب نکالو تاکہ تمہیں کچھ فائدہ بھی ہو۔ دوسروں کے عیب نکالنے سے سوائے گناہ کے کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔‘‘ (انوار العلوم جلد 5 صفحہ 161)

’’ایک شخص دوسرے شخص کے عیب بیان کرتا ہے اور دیکھنے والا دیکھتا ہے کہ سننے والے کو بڑا مزا آرہا ہے۔ اسی طرح بیان کرنے والے کوبھی اور جُوں جُوں زیادہ تشریح کرتا جاتاہے ان کے چہرے سے خوشی کے آثار ظاہر ہونے لگتے ہیں۔ بعض دفعہ جس کے عیب بیان کئے جا رہے ہوں۔ وہ ان کا دوست ہوتا ہے۔ بعض دفعہ محسن ہوتا ہے اور بعض دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ اس کے عیوب کے اظہار پر ان کو نقصان بھی پہنچتا ہے مگر باوجود اس کے ان کو مزہ آتا ہے۔ کیوں؟ دنیا میں قلیل ہی ایسے اشخاص ہوںگے جو اس کی وجہ بیان کرسکیں اور جو مزہ اٹھانے والے ہیں وہ تو قریباً تمام کے تمام ایسے ہوںگے۔ کہ کوئی وجہ بیان نہیں کر سکیں گے۔ مگر باوجود اس کے گھنٹہ گھنٹہ ایک شخص غیبت کرتا جائے گا۔ اور اس کے چہرے پر ایسے آثار ظاہر ہوںگے کہ گویااُسے کوئی عظیم الشان کامیابی حاصل ہورہی ہے۔ اور سننے والے بھی اتنے مشغول ہوتے ہیں کہ اگر کوئی ضروری کام کے لئے بھی بلائے تو ناراض ہوتے ہیں۔ اور کہتے ہیں۔ ٹھہرو ابھی آتے ہیں، کام کررہے ہیں اور ان کے بُشروں سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ انہیں کوئی ایسی خوشی کی بات معلوم ہوئی ہے جیسے کسی کے ہاں بیٹا پید اہو یا کوئی جائداد مل جائے یا حکومت اور عزت حاصل ہو۔ گویا ایسا معلوم ہوتا ہے کہ دنیاوی انعام کی بڑی سی چیز ان کومل گئی ہے۔ جس پر خوشی کا اظہار کررہے ہیں۔ کبھی ہاتھ ماریں گے کبھی سر ہلائیں گے کبھی مسکرائیں گے کبھی ہنسیں گے اور ایسے لطف کا اظہار کریں گے کہ ان کی زیست کا مدار وہی بات ہے، لیکن اگر پوچھو کہ کیوں مزا آرہا ہے اس کی کیا وجہ ہے تو قطعاً نہیں بتا سکیں گے۔ نہ بیان کرنے والا اور نہ سننے والے۔‘‘ (خطبات محمودجلد6صفحہ526-527)

’’ہماری شریعت نے عیوب کا عام تذکرہ ممنوع قرار دیا ہے اور فرمایا ہے کہ جو اولی الامر ہیں ان تک بات پہنچا دو اور خود خاموش رہو۔ اگر ایسا نہ کیا جائے اور ہر شخص کو یہ اجازت ہو کہ وہ دوسرے کا جو عیب بھی سنے اسے بیان کرتا پھرے۔ تو اس کے نتیجہ میں قلوب میں سے بدی کا احساس مٹ جاتا ہے اور برائی پر دلیری پیدا ہو جاتی ہے۔ پس اسلام نے بدی کی اس جڑ کو مٹایا اور حکم دیا کہ تمہیں جب کوئی برائی معلوم ہو تو اولی الامر کے پاس معاملہ پہنچاؤ جو سزا دینے کا بھی اختیار رکھتے ہیں اور تربیتِ نفُوس اور اصلاحِ قلوب کے لئے او ر تدابیر بھی اختیار کر سکتے ہیں۔ اس طرح بدی کی تشہیر نہیں ہوگی۔ …..اسی لئے قرآن نے ہمیں یہ تعلیم دی ہے کہ جب تم کسی کی نیکی دیکھو تو اسے خوب پھیلاؤ۔ اور جب کسی کی بدی دیکھو اس پر پردہ ڈالو۔ ایک بلی بھی جب پا خانہ کرتی ہے تو اس پر مٹی ڈال دیتی ہے۔ پھر انسان کے لئے کس قدر ضروری ہے کہ وہ بدی کی تشہیر نہ کرے بلکہ اس پر پردہ ڈالے اور اس کے ذکر سے اپنے آپ کو روکے۔ اگر اس ذکر سے اپنے آپ کو نہیں روکا جائے گا تومُتَعَدِّی اَمْرَاض کی طرح وہ بدی قوم کے دوسرے افراد میں بھی سرایت کر جائے گی اور خود اس کا خاندان تو لازماً اس میں مبتلا ہو جائے گا۔ کیونکہ انسان کا قاعدہ ہے کہ جو چیز کثرت سے اس کے سامنے آئے وہ اس کی نظر میں حقیر ہو جاتی ہے اور جس بات کے متعلق یہ عام چرچا ہو کہ لوگ کثرت سے کرتے ہیں وہ بالکل معمولی سمجھی جاتی ہے۔ اس اصول کے ماتحت جو بات لوگوں میں عام طور پر پھیلائی جائے اس کا لوگوں پر یہ اثر پڑتا ہے کہ معمولی بات ہے اور جب اس قسم کے الزام کثرت سے لگائے جائیں اور لوگ ان کے پھیلانے میں کسی کی عزت کی پرواہ نہ کریں تولازماً وہ ان باتوں کو معمولی سمجھیں گے اور جب معمولی سمجھیں گے تو ان کا ارتکاب بھی ان کے لئے معمولی بات ہو گی۔ خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر تم ایسا کرو گے اور اس قسم کی افواہوں کو نہیں روکو گے تو تمہاری قوم ان کو معمولی سمجھنے لگے گی اور جب بھی معمولی سمجھے گی تو اس کا اِرْتِکَاب بھی کثرت سے کرے گی۔ اس لئے ایسی باتوں کو پھیلنے ہی نہ دو۔‘‘ (تفسیر کبیر جلد6صفحہ 276-277)

حضرت خلیفۃ المسیح الثالثؒ نے معاشرے کو ہر قسم کے فساد سے بچانے کے متعلق فرمایا:

اسی کی طرف اشارہ ہے

وَثِیَابَکَ فَطَھِّرْ

میں کہ لباس تقویٰ کی پاکیزگی کو بچانا تمہارا فرض ہے۔ یعنی تربیت کے جس مقام پر تم کھڑے ہو اس مقام سے کبھی نہ گرنا بلکہ کوشش کرنا کہ اس سے بھی بلند تر مقام پر پہنچو۔ اور ہمیشہ بلند سے بلند تر ہوتے چلے جاؤ۔ اس آیت میں ہمیں یہ گُربھی بتایا گیا ہے کہ ضروری ہے کہ تم اپنے ماحول کا جائزہ لیتے رہو۔ وہ ماحول جو کپڑے کی طرح تمہارے ساتھ چمٹا ہوا ہے۔ تم اس کے اندر کسی گندگی کے گھسنے کو کبھی برداشت نہ کرو۔ بلکہ جب کبھی تمہیں کوئی رخنہ نظر آئے تو فوراً اسے بند کر دو۔ یا کہیں تمہیں کوئی جسمانی، اخلاقی، روحانی نجاست نظرآئے تو اسے دور کرنے کی کوشش میں فوراً لگ جاؤ۔ اگر تم چوکس ہو کر اپنے ماحول کو پاک رکھو گے تو اللہ تعالیٰ بھی تمہیں اپنی برکتوں سے نوازے گا۔ (خطبہ جمعہ فرمودہ 10؍دسمبر 1965ء خطباتِ ناصر جلد اول صفحہ 40، 41)

حضرت خلیفۃ المسیح الرابعؒ نے بھی غیبت کے گناہ سے بچنے کے لیے جماعت کو بار بار تاکید فرمائی ہے۔ آپ فرماتے ہیں:

’’بعض لوگ کہتے ہیں جی ہم نے تو صرف سنی ہے غیبت، ہم نے تو حصہ نہیں لیا خود کسی کے خلاف برائی نہیں کی۔ ان کے متعلق آنحضرتؐ فرماتے ہیں کہ انہوں نے بھی گناہ سے حصہ پالیا۔ اگر تم سنتے ہو اور منع نہیں کرتے اور برا نہیں مناتے یا اپنے بھائی کا دفاع نہیں کرتے تو ایسی صورت میں غیبت کے گناہ میں تم بھی حصہ دار ہو گئے۔ پھر سنن ابی داؤد میں آنحضرتؐ کا ارشاد ہے جب مجھے معراج کے لئے لے جایا گیا تو میں ایسے لوگوں کے پاس سے گزرا جن کے ناخن تانبے کے تھے اور وہ ان سے اپنے چہروں اور سینوں کو نوچ رہے تھے، میں نے جبرائیل سے دریافت کیا کہ یہ کون ہیں؟ تواس نے بتایا کہ یہ وہ لوگ ہیں جو لوگوں کی غیبت کرتے تھے اور ان کی آبرو کے پیچھے پڑے رہتے تھے۔‘‘ (خطبات طاہر جلد3صفحہ54)

’’یہاں تَجَسُّس کا بھی ذکر فرمادیا، کسی کے متعلق ایسی باتوں کی تلاش کرنا کہ وہ بے آبروئی کاموجب بنے اور پھر غیبت کرکے لوگوں تک پہنچانا یہ برائیاں اتنی خطرناک ہیں کہ ان کی سزا جو خدا تعالیٰ نے تجویز فرمائی وہ آنحضرتؐ کو معراج کے روز دکھائی گئی۔‘‘ (خطبات طاہر جلد3صفحہ54)

’’عہدِ بیعت میں بھی یہ بات داخل ہے کہ میں غیبت نہیں کروں گا، میں بد ظنی نہیں کروں گا لیکن کچھ ایسا چسکا ہے، ایسی مصیبت ہے اور یہ بیماری کہ گھر گھرمیں، سینے سینے میں داخل ہوئی ہوئی ہے اوراتنی عادت ہے خصوصاً عورتوں میں کہ وہ برداشت نہیں ہوتا ان سے کہ کسی کی برائی دیکھیں یا سنیں اور وہ آگے نہ پہنچائیں۔ دیکھ کر پہنچانا بھی بہت بری بات ہے لیکن سن کر پہنچانا تو اِفک بھی بن جاتا ہے اور غیبت بھی بن جاتی ہے اور پھر چسکے پورے کرنے کے لئے وہ ظن بھی کرتی ہیں اور من گھڑت باتیں بنا کر بہتان میں بھی داخل ہوجاتی ہیں اور یہ بیماری مردوں میں بھی آتی ہے اور اس کے نتیجہ میں ہمارے معاشرے کا بہت برا حال ہے۔‘‘ (خطبات طاہر جلد3صفحہ60-61)

’’مَردوں میں جب یہ بیماری پھیلتی ہے تو نہایت خطرناک شکل اختیار کر جاتی ہے۔ ایک تو یہ کہ مَردوں کو ویسے اپنے کاموں کی نوعیت کے لحاظ سے زیب نہیں دیتی اور دوسرے وہاں قومی نقصان پہنچانے کا موجب بنتی ہے۔ …. جب مرد غیبت کرتے ہیں تو وہ پھر بڑی تباہی مچاتے ہیں وہ تو یوں لگتا ہے جیسے قبرستان اکھیڑ اکھیڑ کر کھائے جارہے ہیں اور پھر بھی بھوک بند نہیں ہوتی ان کی۔ اس لئے بہت خطرناک بیماری ہے۔ قرآن کریم نے بے وجہ اس پر زور نہیں دیا۔‘‘ (خطبات طاہر جلد6صفحہ619)

’’یہ جومُردار خور جانور ہیں یہی گوشت کھاتے ہیں مثلاً چیلیں ہیں، گدھیں ہیں اور دوسرے اس قسم کے جانور جو مُردوں کا گوشت کھانے پر خاص طور پر مقرر ہیں وہ دوسروں کا بھی گوشت کھاتے ہیں، اپنوں کا بھی کھاتے ہیں۔ ان کے حالات پر آپ غور کریں تو وہ ساری دنیا سے کٹ کر الگ ہو چکے ہوتے ہیں عملاً ساری دنیاکی زندگی نے ان سے بائیکاٹ کیا ہوا ہے۔ وہ نہ باغ میں چہچہاتے ہوئے نظر آئیں گے، نہ جنگلوں کی زینت بنیں گے دوسرے جانوروں کی طرح، کسی نہ کسی چوٹی کے اوپر جاکر اکیلے زندگی بسر کر رہے ہوتے ہیں۔ صرف اُس وقت اکٹھے ہوتے ہیں۔ جب مردار ہاتھ آجائے ورنہ اکٹھے ہو ہی نہیں سکتے۔ سارے گدھوں اور سارے مُردار خور جانور وں کی نہ آواز میں کوئی رونق ہے نہ ان کی شکل میں کوئی زینت ہے نہایت منحوس قسم کی چیزیں ہیں اور تنہائی کی زندگی بسر کر رہے ہیں ….غیبت کرنے والے بالآخر قرآن کی اس آیت کی روشنی میں تنہا ہوتے چلے جاتے ہیں اورصرف اس وقت اکٹھے ہوتے ہیں جب کسی کی برائی کرتے ہیں۔‘‘ (خطبات طاہرجلد 2صفحہ489-490)

’’مدینہ میں بہت سے افواہیں پھیلانے والے ایسی افواہیں پھیلاتے تھے کہ ان کو سچ مان کر محض شک کی بنا پر بعض لوگوں کے دلوں میں بعض دوسروں سے قِتال کرنے کا خیال پیدا ہوتا تھا۔ چنانچہ ان کواس جلد بازی سے سختی سے منع فرمایا گیا ہے۔ کیونکہ عین ممکن ہے کہ اس قسم کی افواہوں کے نتیجہ میں بعض بےقصور لوگوں پر بھی زیادتی ہو جائے اور اس کے نتیجہ میں مومنوں کو شرمندگی اٹھانی پڑے۔‘‘ (حاشیہ قرآن کریم اردو ترجمہ از حضرت خلیفۃ المسیح الرابعؒ صفحہ 932)

ہمارے پیار ے موجودہ اِمام سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے غیبت سے ممانعت کے بارہ میں ارشادات

’’کسی کا اس کے پیچھے بُرے الفاظ میں ذکر کرنا، قطع نظر اس کے کہ وہ برائی اس میں ہے یا نہیں۔ اگر اس کی کسی برائی کا اس کے پیچھے ذکر ہوتا ہے اور باتیں کی جاتی ہیں تو یہ غیبت ہے۔ اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جب بیعت لیا کرتے تھے تو اس بات پر خاص طور پر بیعت لیا کرتے تھے کہ غیبت نہیں کروں گا۔ توکتنی اہمیت ہے اس بُرائی کی کیونکہ اس سے معاشرے میں بگاڑ پیدا ہوتا ہے۔ ایک دوسرے کے خلاف نفرتیں پیدا ہوتی ہیں۔ ‘‘( خطبات مسرور جلد3صفحہ285)

’’غیبت جو ہے یہ مردہ بھائی کا گوشت کھانے کے برابر ہے۔ اب دیکھیں ظالم سے ظالم شخص بھی، سخت دل سے سخت دل شخص بھی، کبھی یہ گوارا نہیں کرتاکہ اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھائے۔ اس تصور سے ہی ابکائی آنے لگتی ہے، طبیعت متلانے لگتی ہے۔‘‘ (خطبات مسرور جلد 1صفحہ 566)

’’کسی کی پیٹھ پیچھے باتیں کرنے والوں کو ہمیشہ یہ یاد رکھنا چاہئے کہ وہ باتیں صحیح ہیں یاغلط یہ غیبت یا جھوٹ کے زمرے میں آتی ہیں۔ اور غیبت کرنے والوں کو اس حدیث کو یاد رکھنا چاہئے کہ اگلے جہان میں ان کے ناخن تانبے کے ہوجائیں گے جس سے وہ اپنے چہرے اور سینے کا گوشت نوچ رہے ہوں گے۔ ‘‘( خطبات مسرور 1صفحہ233)

’’دیکھیں یہ کتنا خوفنا ک منظر ہے۔ غیبت کرنے والوں کی مرنے کے بعد کی سزا کتنی خوفناک ہے۔ انسان عام طورپر بعض دفعہ بے احتیاطی میں باتیں کرجاتاہے۔ بعض اوقات نیت نہیں بھی ہوتی کہ چغلی یا غیبت ہولیکن آنحضرتؐ اس معاملہ میں اتنے محتاط تھے اور اس حد تک گہرائی میں اور باریکی میں جاتے تھے کہ جہاں ذرا سا شائبہ بھی ہو کہ بات غیبت کے قریب ہے تو سخت کراہت فرماتے تھے اور فوراً تنبیہ فرمایا کرتے تھے۔‘‘ (خطبات مسرور جلد 1صفحہ 573)

حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ ایک حدیث کی وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ’’رسول اللہؐ نے ارشاد فرمایا کہ قیامت کے دن آدمی کے پاس اس کا کھلا ہوا اعمال نامہ لایا جائے گا۔ وہ اس کو پڑھے گا، پھر کہے گا اے میرے رب مَیں نے دنیا میں فُلاں فُلاں نیک کام کئے تھے وہ تو اس میں نہیں ہیں۔ تو اللہ تعالیٰ جواب دے گا کہ لوگوں کی غیبت کرنے کی وجہ سے وہ نیکیاں تمہارے نامۂ اعما ل سے مٹا دی گئی ہیں۔ (ترغیب و الترھیب)دیکھیں غیبت کی وجہ سے وہ تمام نیک کام نماز، روزے، صدقے، کسی غریب کی خدمت کرنا، سب نیکیاں نامۂ اعما ل سے مٹا دی گئیں صرف اس لئے کہ وہ لوگوں کی غیبت کرتاتھا۔ اس بارہ میں جتنی بھی احادیث پڑھیں، خوف بڑھتاچلا جاتاہے اس کا ایک ہی علاج ہے کہ آدمی ہروقت استغفار کرتا رہے۔‘‘ (خطبات مسرور جلد 1صفحہ 574)

’’غیبت ایک بڑا گناہ ہے۔ کسی کا افسر اپنے ماتحت کو تکلیفیں دیتا ہے، ظلم و ستم کرتا ہے لیکن ما تحت اپنے افسر کے خلاف کچھ نہیں کر سکتا۔ اتفاقاً اس ماتحت اس افسر سے بھی بڑے افسر سے ملاقات ہو جاتی ہے اور وہ بڑا افسر اس افسر کے خلاف کچھ کہتا ہے تو یہ شخص جس کو اپنے افسر سے تکلیفیں پہنچ رہی ہوتی ہیں خوش ہو جاتا ہے کہ جس موقع کی مجھے تلاش تھی وہ آج مل گیا۔ اوراس چھوٹے افسر کے خلاف جس نے اسے تنگ کیا ہوتا ہے ایسی باتیں کرتا ہے اور اس کے ایسے عیوب بیان کرتا ہے کہ بڑا افسر اس چھوٹے افسر پر اور زیادہ ناراض ہو اور جھوٹ، سچ جو کچھ ہو سکتا ہے بیان کر دیتا ہے تا کہ اپنا بدلہ لے سکے اور اس وقت اسے یہ خیال آتا ہے کہ آج اگر میں غیبت نہ کروں تو میری جان اور مال کا خطرہ دور نہیں ہو گا۔ اور اس وجہ سے بے دھڑک غیبت کا ارتکاب کر دیتا ہے اور اس دنیا کا فائدہ اٹھا لیتا ہے۔ پس دنیوی فوائد کے لئے انسان بدیوں کا ارتکاب کر لیتا ہے۔‘‘ (خطبہ جمعہ فرمودہ20؍دسمبر2013ءمطبوعہ الفضل انٹرنیشنل 10؍جنوری2014ءصفحہ5)

’’پھر ایک بیماری ہے، زبان کے چسکے کے لئے مزے لینے کے لئے ہر سنی سنائی بات مجلسوں میں یا اپنے دوستوں میں بیان کرنے لگ جاتے ہیں کہ فلاں شخص نے یہ بات کی تھی… حالانکہ بات کچھ بھی نہیں ہوتی سوائے اس کے کہ اس سے فتنہ پیدا ہو کچھ حاصل نہیں ہوتا۔ دوسرے شخص کی یا اشخاص کی جن کے متعلق باتیں کی جارہی ہیں صرف بدنامی ہو رہی ہوتی ہے۔ اس بیہودگی کو روکنے کیلئے آنحضرتؐ نے فرمایا کہ کسی انسان کے جھوٹا ہونے کے لئے اتنا ہی کافی ہے کہ وہ ہر سنی سنائی بات لوگوں میں بیان کرتا پھرے۔ پھر ایک بیماری ہے کسی بات کو دو آدمیوں کے درمیان اس طرح بیان کرنا جس سے دو مومنوں کے درمیان رنجش پیدا ہو یا پیدا ہونے کا خطرہ ہو اور کئی دفعہ ایسے واقعات ہوتے ہیں جس سے ایک شخص اپنی بدفطرتی کی وجہ سے دو خاندانوں میں پھوٹ ڈال دیتا ہے، فتنہ پیدا کردیتا ہے۔ پہلے کہا جاتا تھا کہ عورتیں ایسی باتیں کرتی ہیں لیکن اب تو مردوں میں بھی یہ بیہودگی اور لغویات پیدا ہو چکی ہیں …جس سے دو خاندانوں کے تعلقات ختم ہو جاتے ہیں۔ لیکن اب تو اس حد تک یہ بڑھ چکی ہے کہ بعض دفعہ فکر پیدا ہوجاتی ہے۔ میاں بیوی میں پھوٹ ڈال دی جاتی ہے۔ تو ایسے فتنہ پیدا کرنے والے شخص کے بارے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’وہ آدمی بدترین ہے جس کے دو منہ ہوں‘‘ یعنی ایک کے پاس جا کے کوئی بات کی دوسرے کے پاس جا کے کچھ بات کی تاکہ فتنہ پیدا ہو۔ اور بڑا منافق اور چغل خور ہے ایسا شخص۔ پس ہمیشہ ایسی باتوں سے بچنا چاہئے۔ یہ عمر ہے بچوں کی بھی، نوجوانوں کی بھی، جو جوانی میں داخل ہو رہے ہیں ان کی بھی اور جو نوجوان ہیں ابھی ان کی بھی کہ اس عمر میں اپنے آپ کو جتنی عادت ڈال لیں گے برائیوں سے بچنے کی، اتنی زیادہ اصلاح کی طرف قدم بڑھتا چلا جائے گا۔‘‘(اختتامی خطاب برموقع سالانہ اجتماع مجلس خدام الاحمدیہ جرمنی فرمودہ 11؍جون 2006ء از مشعل راہ جلد5حصہ 4صفحہ 54-55)

اللہ تعالیٰ ہمیں غیبت کے گناہ اور اس کے بُرے نتائج سے بچنے کی توفیق عطا فرماتا چلا جائے۔ آمین

(نوٹ:یہ مضمون الفضل انٹرنیشنل کی ویب سائٹ پر 31؍دسمبر2021ء کو شائع کیا گیا)

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close