متفرق مضامین

بنیادی مسائل کے جوابات (نمبر25)

(ظہیر احمد خان۔ مربی سلسلہ، انچارج شعبہ ریکارڈ دفتر پی ایس لندن)

(امیر المومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز سے پوچھےجانے والے بنیادی مسائل پر مبنی سوالات کے بصیرت افروز جوابات)

٭… ایک شخص کے اپنی بیوی کو تین طلاق دینے کے بعد رجوع کے مسئلے کےبارے میںحضور انور کی راہنمائی

٭… کسی کاروباری کمپنی میں نفع و نقصان کی شراکت کی شرط کے ساتھ سرمایہ کاری کرنے کے بارے میں حضور انور کی راہنمائی

٭… کیا صدقات کی رقم کو مساجد کی تعمیر میں خرچ کیا جا سکتا ہے؟

٭… صدقات کی رقم مساجد کی تعمیر میں خرچ کرنے نیز جماعت کے خلاف بد زبانی کرنے والے کی وفات پر تعزیت کےلیے جانے کے بارے میں حضوانور کی راہنمائی

٭… اللہ تعالیٰ سے دعا کرنے اور اس سے مانگنے میں کیا فرق ہے؟

٭… صلاۃ التسبیح کے متعلق حضور انور کی راہنمائی

٭…سورت النساء کی آیت 16 اور 17 کے حوالے سے حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ اور حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ کی بیان فرمودہ تفاسیر میں اختلاف پر حضور انور کی راہنمائی

٭…نکاح کے فوراً بعدقبل اس کے کہ خاوند بیوی کو چھوئے،رشتہ ختم ہوجانے کی صورت میں اس عورت پر کوئی عدت ہے؟ نیز ایسی صورت میں یہ عورت اپنے اس پہلے خاوند سے شادی کر سکتی ہے جس سے اسے طلاق بتہ ہو چکی ہے؟

سوال: محترم ناظم صاحب دارالافتاء نےایک شخص کے اپنی بیوی کو تین طلاق دینے کے بعد رجوع کے بارے میں استفسار کیا۔ اس مسئلے پر روشنی ڈالتے ہوئے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے مکتوب مورخہ یکم جولائی 2020ءمیں ارشاد فرمایا:

جواب: طلاق کے اسلامی حکم، جس کے متعلق حضور ﷺ کا فرمان ہے کہ

أَبْغَضُ الْحَلَالِ إِلَى اللّٰهِ تَعَالَى الطَّلَاقُ

کو انہوں مذاق بنایا ہوا ہے اور ذرا ذرا سی بات پر اپنی بیوی کو طلاق دیتے رہے ہیں۔

یہ کوئی طیش نہیں بلکہ سراسر جہالت ہے اور اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی ایک رخصت کی تضحیک ہے۔ صاف نظر آرہا ہے کہ ان کے دل میں بسا ہوا ہے کہ بیوی کو تنگ کرنے کےلیے طلاق ایک بہترین ہتھیار ہے۔ اور جب چاہیں بغیر سوچے سمجھے اسے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

ایسے لوگوں کی ہی تادیب اور اصلاح کےلیے حضرت عمررضی اللہ عنہ نے ایک وقت میں دی جانے والی تین طلاقوں کو تین شمار فرمایا تھا۔ اس لیے میرے نزدیک تو یہ طلاق ہو گئی ہے اور اب رجوع نہیں ہو سکتا۔ لیکن پھر بھی مزید جائزہ لے لیں۔

سوال: کسی کاروباری کمپنی میں نفع و نقصان کی شراکت کی شرط کے ساتھ سرمایہ کاری کرنے کے بارے میں محترم ناظم صاحب دارالافتاء کی ایک رپورٹ کے بارے میں راہنمائی فرماتے ہوئے حضور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے مکتوب مورخہ یکم جولائی 2020ء میں ارشاد فرمایا:

جواب:دنیا کی بڑی بڑی کمپنیاں بھی کئی قسم کے کاروبار کرتی ہیں۔ کچھ کاروبار انہوں نے ظاہر کیے ہوتے ہیں، جن میں کسی قسم کی شرعی یا قانونی خلاف ورزی نہیں ہوتی لیکن کچھ کاروبار انہوں نے سائیڈ بزنس کے طور پر اختیار کیے ہوتے ہیں جنہیں وہ اپنے Profile میں Highlight نہیں کرتیں۔ اور ایسے کاروباروں میں بعض اوقات دینی یا قانونی قواعد و ضوابط کا پوری طرح خیال نہیں رکھا گیا ہوتا۔

پس اگر کسی کمپنی کے کاروبار کی تفصیلات واضح ہوں یا آسانی سے ان کے کاروبار کی تفصیلات معلوم ہو سکیں اور ان میں کوئی غیر اسلامی یا غیر قانونی شق موجود ہوتو پھر ایسی کمپنی کے ساتھ نفع نقصان میں شراکت کی شرط کے ساتھ بھی کاروبار نہیں کرنا چاہیے۔

ہاں یہ ٹھیک ہے کہ چونکہ آج کل اکثر مسائل زیر و زبر ہو گئے ہیں۔ لہٰذا کمپنی کے جو کاروبار نظر آ رہے ہوں ان میں اگر کوئی غیر اسلامی یا غیر قانونی شق نہ ہو تو پھر نفع و نقصان میں شراکت کے ساتھ کاروبار میں شامل ہونے میں کوئی حرج نہیں۔ اگر اس کمپنی نے اپنے کاروبار کا کچھ حصہ سائیڈ بزنس کے طور پر رکھا ہوا ہے جس کے بارے میں وہ اپنے شراکت داروں کو کچھ نہیں بتاتی تو پھر اس بارے میں بلاوجہ وہم میں پڑنے یا خواہ مخواہ کرید کرنے کی ضرورت نہیں۔ لیکن اگر پتہ چل جائے کہ غیر قانونی ہے تو پھر اس سے علیحدگی کر لینی چاہیے۔

سوال: صدقات کی رقم کو مساجد کی تعمیر میں خرچ کرنے کے بارے میں فقہی مسائل میں دیے جانے والے ایک جواب کی درستی کرواتے ہوئے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے مکتوب بنام محترم ناظم صاحب دارالافتاء مورخہ یکم جولائی 2020ء میں ارشاد فرمایا:

جواب: صدقات کی رقم کو مساجد کی تعمیر میں خرچ کرنے کے بارے میں آپ کی طرف سے فقہی مسائل میں دیا جانے والا جواب مجھے کسی نےبھجوایا ہے، جس میں آپ نے سورت التوبہ کی آیات نمبر60سے استدلال کرتے ہوئےاس کے جواز کا فتویٰ دیا ہے ۔

صدقہ کا لفظ قرآن و حدیث میں اسلام کے ایک فرض رکن زکوٰۃ کےلیے بھی استعمال ہوا ہے اور زکوٰۃ کے علاوہ اللہ کی رضا کی خاطر غرباء و مساکین کی مدد اور اعانت کےلیے دیے جانے والے دیگر صدقات کےلیے بھی یہ لفظ آیا ہے۔اور ہر جگہ کا سیاق و سباق اس بات کو واضح کرتا ہے کہ اُس جگہ استعمال ہونے والا لفظ اسلامی رکن زکوٰۃ کےلیے آیا ہے یا دیگر صدقات کےلیے استعمال ہوا ہے۔ سورت التوبہ کی مذکورہ آیت میں بیان صدقات سے مراد اموال زکوٰۃ ہیں۔لہٰذا اس آیت سے استدلال کر کے زکوٰۃ کے علاوہ دوسرے صدقات کی رقم کو مسجد فنڈ میں خرچ کرنے کا فتویٰ درست نہیں ہے۔ کیونکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور خلفائے احمدیت نے زکوٰۃ اور دیگر صدقات میں فرق کیا ہے۔ چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے صدقہ کے گوشت کو صرف غرباء کا حق قرار دیا اور انہیں میں تقسیم کی ہدایت فرمائی۔ لیکن لنگرخانہ میں اس کے استعمال کی اجازت نہیں دی حالانکہ لنگر خانہ میں عام طور پر مسافروں کے قیام و طعام کا انتظام ہوتا ہے اور آپ کے استدلال کے مطابق تو پھر فی سبیل اللہ اور ابن السبیل کے تحت ان کےلیے بھی اس قسم کے صدقہ کے گوشت کی اجازت ہونی چاہیے تھی۔

فی سبیل اللہ یا ابن السبیل سے اس قسم کا استدلال خاص حالات میں تو ہو سکتا ہے اور ایسی تشریح کرنا بھی خلیفہ ٔوقت کا حق ہے۔ اگر ہر شخص اس قسم کے استدلال کر کے جواز کی راہیں نکالنا شروع کر دے تو مسائل میں بگاڑ پیدا ہو جائے گا۔

سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بھی جہاں بینکوں سے ملنے والے سود کو اشاعت اسلام کی مد میں خرچ کرنے کی اجازت دی ہے، اسے صرف اسلام کی غربت کی حالت میں اضطراری طور پر اور وقتی اجازت قرار دیا ہے۔ نیز صرف اشاعت اسلام کی مد میں لٹریچر وغیرہ کی اشاعت میں اس کے خرچ کی اجازت دی ہے، مساجد وغیرہ کی تعمیر کےلیے اجازت نہیں دی۔

پس ان امور کی روشنی میں پہلے خلفائے احمدیت کی طرح میرا بھی یہی موقف ہے کہ صدقات کی رقم مساجد فنڈ میں نہیں دی جا سکتی۔ لہٰذا اسی کے مطابق آپ کا بھی فتویٰ ہونا چاہیے۔

اس کے علاوہ آپ کے پاس اپنے موقف کے حق میں اگر کوئی اور دلائل ہیں تو علمی بحث کے طور پر بے شک مجھے اپنی رپورٹ بھجوا دیں۔

سوال: صدقات کی رقم مساجد کی تعمیر میں خرچ کرنے نیز جماعت کے خلاف بد زبانی کرنے والے کی وفات پر تعزیت کےلیے جانے کے بارے میں ایک مربی صاحب نے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت میں بغرض راہنمائی عریضہ تحریر کیا۔ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے مکتوب مورخہ یکم جولائی 2020ء میں ان امور کے بارے میں درج ذیل راہنمائی فرمائی۔ حضور نے فرمایا:

جواب: مساجد فنڈ کےلیے صدقہ کی رقم کے بارے میں آپ کا موقف بالکل درست ہے۔ صدقات کی رقم سے مساجد تعمیر نہیں کی جاتیں ۔ مسجد بنانے کےلیے الگ سے ہدیہ دینا چاہیے۔ اسی لیے جماعت میں بھی جہاں ضرورت ہو مساجد کی تعمیر کےلیے الگ مساجد فنڈ کی تحریک کی جاتی ہے۔

آپ کے دوسرے سوال کا جواب یہ ہے کہ جو شخص جماعت کے خلاف بد زبانی کرنے والا تھااس کی وفات پر تعزیت کےلیے جانے کی ضرورت کیا ہے؟ ہاں اگر کوئی ایسا شخص ہو جسے حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر ایمان لانے کی توفیق تو نہیں ملی لیکن اس نے اپنی زندگی میں کبھی جماعت کی مخالفت نہیں کی تو ایسے شخص کی وفات پر اس کے عزیزوں سے تعزیت کرنے میں کوئی حرج نہیں۔

سوال: ایک خاتون نے محمد بن عبدالجبار النفری کی کتاب ’’المواقف‘‘کی عبارت

’’اُدْعُنِیْ فِیْ رُوْیَتِیْ وَلَا تَسْئَالْنِیْ، وَ سَلْنِیْ فِیْ غَیْبَتِیْ وَلَا تَدْعُنِیْ‘‘

(یعنی میرے دیکھنے کی حالت ہوتے ہوئے مجھ سے دعا کرو مگرمجھ سے مانگو نہیں اور میرے غائب ہونے کی حالت میں مجھ سے مانگو اور مجھ سے دعا نہ کرو)حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت اقدس میں پیش کر کے دریافت کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ سے دعا کرنے اور اس سے مانگنے میں کیا فرق ہے؟ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے مکتوب مورخہ 02؍جولائی 2020ء میں اس سوال کے جواب میں درج ذیل ارشاد فرمایا۔ حضور نے فرمایا:

جواب: تصوف کی مذکوہ بالا کتاب میں بیان یہ عبارت نہ تو قرآن کریم کا کوئی حکم ہے اور نہ ہی کسی حدیث پر مبنی اصول ہے۔یہ اس کتاب کے مصنف کی بیان کردہ ایک عبارت ہے۔

قرآن کریم اور احادیث میں دعا کرنے اور اللہ تعالیٰ سے سوال کرنے میں کوئی فرق نہیں کیا گیا۔ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے

ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ۔

اس میں اللہ تعالیٰ نے کہیں یہ نہیں فرمایا کہ تمہاری دعا کسی سوال پر مبنی نہیں ہونی چاہیے۔

پھر ایک حدیث قدسی میں حضورﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ہر رات کے آخری تہائی حصہ میں نچلے آسمان پر اترتا ہے اور اعلان کرتا ہے

مَنْ يَّدْعُونِي فَأَسْتَجِيْبَ لَهُ مَنْ يَّسْأَلُنِي فَأُعْطِيَهُ۔

اس حدیث میں اللہ تعالیٰ ایک ہی موقع پر دعا کرنے اور سوال کرنے دونوں کا حکم فرما رہا ہے۔

پھر حدیث میں ہی حضور ﷺ کا فرمان ہے کہ سجدے کی حالت میں انسان اللہ تعالیٰ کے سب سے زیادہ قریب ہوتا ہے، اس لیے اس موقع پر کثرت سے دعا کیا کرو۔ اس میں بھی حضورﷺ نے ایسی کوئی ممانعت نہیں فرمائی کہ تمہاری یہ دعا کسی سوال پر مبنی نہیں ہونی چاہیے۔

حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بھی اپنے کلام میں ہمیں یہی نصیحت فرمائی ہے کہ ہمیں اپنی دینی و دنیوی تمام ضرورتیں اللہ تعالیٰ کے حضور ہی عرض کرنی چاہئیں۔ چنانچہ اپنے ایک شعر میں آپؑ فرماتے ہیں:

حاجتیں پوری کریں گے کیا تری عاجز بشر

کر بیاں سب حاجتیں حاجت روا کے سامنے

پھر مذکورہ بالا کتاب میں درج عبارت کے حوالے سے یہ بات بھی قابل غور ہے کہ اللہ تعالیٰ کب سامنے نہیں ہوتا؟ وہ تو ہر وقت اور ہر جگہ موجود ہے۔

پس میرے نزدیک اللہ تعالیٰ سے دعا کرنے اوراس سے سوال کرنے میں کوئی فرق نہیں۔علمی حد تک زیادہ سے زیادہ اس فقرہ کی یہ تشریح ہو سکتی ہے کہ چونکہ انسان کو جب کسی کے موجود ہونے کا ڈر ہو تو وہ برائی کرنے سے احتراز کرتا ہے۔ چنانچہ موجودہ دَور میں سی سی ٹی وی کیمروں کی مثال اس کی ایک بین دلیل ہے۔ اس لیے جب کبھی انسان کے دل میں یہ خیال آئے کہ اسے کوئی نہیں دیکھ رہا اور شیطان اسے کسی برائی کی طرف راغب کرنے کی کوشش کرے تو اسی وقت اسے اپنے ایمان کے بارے میں فکر مند ہو کر خدا تعالیٰ کے حضور اپنے ایمان کی سلامتی کےلیے اسی کے در کا سوالی بن کر اس کے سامنے جھک جانا چاہیے۔

سوال: مکرم انچارج صاحب عربک ڈیسک یوکے کے ایک استفسار بابت صلاۃ التسبیح کے متعلق راہنمائی کرتے ہوئے حضور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے مکتوب مورخہ 19؍ جولائی 2020ءمیں ذیل ارشاد فرمایا۔ حضور نے فرمایا:

جواب: علمائے سلف میں صلاۃ التسبیح کےمتعلق مروی احادیث پر دونوں قسم کی آراء موجودہ ہیں، کچھ نے ان احادیث کو قابل قبول قرار دیا ہے اور کچھ نے ان احادیث کی اسناد پر جرح کرتے ہوئے انہیں موضوع قرار دیا ہے۔ اسی طرح ائمہ اربعہ میں بھی اس بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ حضرت امام احمد بن حنبلؒ اس نماز کو مستحب کا درجہ بھی نہیں دیتے جبکہ دیگر فقہاء اسے مستحب قرار دیتے ہیں اور اس کی فضیلت کے بھی قائل ہیں۔

صلاۃ التسبیح کی بابت مروی احادیث سے یہ بات تو قطعیت کے ساتھ ثابت ہے کہ حضورﷺ نے خود اس نماز کو کبھی ادا نہیں کیا اور نہ ہی خلفائے راشدین سے اس نماز کے پڑھنے کا کوئی ثبوت ملتا ہے۔اسی طرح اسلام کی نشاۃٔ ثانیہ کےلیے مبعوث ہونے والے حضور ﷺ کے غلام صادق حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے بھی اس نماز کے پڑھنے کی کوئی روایت ہمیں نہیں ملتی۔

لیکن اس کے باوجود اگر کوئی شخص یہ نماز پڑھنا چاہتا ہے تو پھر ہمیں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے اس ارشاد کو پیش نظر رکھنا چاہیےجسے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بھی بیان فرمایا ہے کہ ایک شخص ایک ایسے وقت میں نماز پڑھ رہا تھا جس وقت نماز پڑھنا جائز نہیں۔ اس کی شکایت حضرت علیؓ کے پاس ہوئی تو آپ نے جواب دیا کہ میں اس آیت کا مصداق نہیں بننا چاہتا۔

اَرَءَیۡتَ الَّذِیۡ یَنۡہٰی۔عَبۡدًا اِذَا صَلّٰی۔

یعنی تونے دیکھا اس کو جو ایک نماز پڑھتے بندے کو منع کرتا ہے۔

باقی جہاں تک فقہ احمدیہ کی عبارت کا تعلق ہے تو فقہ احمدیہ میں کئی ایسی باتیں شامل ہو گئی ہیں جن کی تصحیح کی ضرورت ہے۔ اسی لیے فقہ احمدیہ کی نظر ثانی کروائی جا رہی ہے۔ جب فقہ احمدیہ کا نظر ثانی شدہ ایڈیشن شائع ہو گا تو انشاء اللہ اس عبارت کو بھی ٹھیک کر دیا جائے گا۔

سوال: ایک دوست نے حضور انورایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت اقدس میں تحریر کیا کہ سورت النساء کی آیت 16 اور 17 کی تفسیر کرتے ہوئے حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ اور حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ نے دو مختلف تفاسیر بیان فرمائی ہیں۔ حضور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے مکتوب مورخہ 19؍جولائی 2020ءمیں اس بارے میں درج ذیل راہنمائی فرمائی۔ حضور نے فرمایا:

جواب:قرآن کریم کسی ایک زمانے یا ایک قوم کےلیے نازل نہیں ہوا بلکہ اللہ تعالیٰ نے اسے قیامت تک تمام دنیا کی راہنمائی کےلیے نازل فرمایا ہے اور ہر زمانے میں وہ اپنے برگزیدہ لوگوں کو اس زمانے کے حالات کے مطابق اس سے مسائل کے استنباط کا علم بھی عطاء فرماتا ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے

وَ اِنۡ مِّنۡ شَیۡءٍ اِلَّا عِنۡدَنَا خَزَآئِنُہٗ ۫ وَ مَا نُنَزِّلُہٗۤ اِلَّا بِقَدَرٍ مَّعۡلُوۡمٍ (سورۃ الحجر:22)

یعنی ہمارے پاس ہر چیز کے (غیر محدود) خزانے ہیں ۔ لیکن ہم اسے (ہر زمانہ میں اس کی ضرورت کے مطابق) ایک معین اندازہ کے مطابق نازل کرتے ہیں۔

اللہ تعالیٰ نے حضرت اقدس محمد مصطفیٰ ﷺ سے کیے گئے وعدے کے مطابق آپ کے غلام صادق حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اس زما نے میں دین محمدی کی تجدید اور دنیا کی ہدایت کےلیے مبعوث فرمایا اور اسی قرآنی بشارت کے مطابق آپ کو قرآنی علوم اور اس کے روحانی معارف سے وافر حصہ عطا فرمایا۔ اور پھر آپ کے وسیلہ اور برکت سے آپؑ کے بعد جاری ہونے والی خلافت کی مسند پر متمکن ہونے والے ہر فرد کو علوم قرآنی سے نوازا۔ ان وجودوں نے اپنے اپنے دَور میں، اُس زمانے کے حالات کے مطابق خدا تعالیٰ سے علم پا کر اپنی سمجھ کے مطابق قرآن کریم کے معارف دنیا کےلیے بیان فرمائے۔

آنحضورﷺ نے قرآن کریم کے مختلف متن اور مختلف بطون ہونےکی جو بشارت دی ہے، اس کا ایک مطلب یہ بھی ہے کہ خدا تعالیٰ سے علم لدنی کا فیض پانے والے لوگ مختلف زمانوں میں اس سے ایسے مسائل اور علوم کا استنباط کرتے رہیں گے جس کے نتیجے میں یہ کتاب ہر زمانے میں ترو تازہ رہے گی۔

آپ نے اپنے خط میں جن آیات کا ذکر کیا ہے ، حضرت خلیفۃ المسیح اوّل رضی اللہ عنہ، حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ اور حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ سب نے اپنے اپنے خداداد علم کے نتیجے میں ان آیات کی تفسیر بیان فرمائی ہے۔ جس کے مطابق ان آیات سے معاشرے میں پائی جانے والی مختلف قسم کی برائیوں کا استنباط کر کے ان کی شناعت بیان کی اور اپنے متبعین کو ان برائیوں سے بچنے کی تلقین فرمائی ہے۔

چنانچہ حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان آیات سے ایسے ناپسندیدہ افعال اور بُرے اخلاق کی باتیں مراد لی ہیں، جن کا تعلق جھگڑا فساد جیسے قبیح امور سے ہے۔اورآج سے ستّر اسی سال قبل ایسے مردو خواتین جو اپنے گرد و نواح میں بلا وجہ جھگڑا فساد کی فضا پیدا کرتے تھے، اخلاقاً بہت بُرے سمجھے جاتے تھے اور اُس زمانے میں مردوں کی مردوں اور عورتوں کی عورتوں کے ساتھ جنسی بے راہ روی معاشرے میں عام نہیں ہوئی تھی۔ اس لیے حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے اُس زمانے میں ان آیات میں بیان ناپسندیدہ افعال کی وہی تشریح فرمائی جو اُس زمانے میں عام طور پر شناعت کے دائرہ میں داخل تھی۔

اور اب اس نئے زمانے میں مرد و خواتین کی اس قسم کی جنسی بے راہ روی جسےGay Movement کہا جاتا ہے، معاشرے میں عام ہو رہی ہے، اس لیے حضرت خلیفۃ المسیح الرابع ؒنے اس زمانے کے حالات کے مطابق قرآن کریم کی ان آیات کی یہ تشریح فرمائی ہے اور ان آیات میں بیان بُرائی سے موجودہ زمانے میں پھیلنے والی جنسی بے راہ روی مراد لی ہے۔

قرآن فہمی کے معاملے میں اس قسم کے اختلاف میں کوئی حرج نہیں بلکہ حضورﷺ نے اپنی امت میں پائے جانے والے اس قسم کے علمی اختلاف کو رحمت قرار دیا ہے۔ کیونکہ اس کے نتیجے میں قرآن کریم سے مختلف قسم کے استدلال کی نئی نئی راہیں کھلتی ہیں۔

سوال: ایک عرب خاتون نے حضور انورایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت اقدس میں تحریر کیا کہ نکاح کے فوراً بعدقبل اس کے کہ خاوند بیوی کو چھوئے،رشتہ ختم ہوجانے کی صورت میں اس عورت پر کوئی عدت ہے؟ نیز ایسی صورت میں یہ عورت اپنے اس پہلے خاوند سے شادی کر سکتی ہے جس سے اسے طلاق بتہ ہو چکی ہے؟حضور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے مکتوب مورخہ 20؍جولائی 2020ءمیں اس مسئلے کے بارے میں درج ذیل جواب عطا فرمایا۔ حضور نے فرمایا:

جواب: نکاح کے بعد اور میاں بیوی میں تعلقات قائم ہونے سے قبل ہونے والی طلاق میں عورت پر کوئی عدت نہیں جیسا کہ قرآن کریم اس بارہ میں واضح طور پر فرماتا ہے

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِذَا نَکَحۡتُمُ الۡمُؤۡمِنٰتِ ثُمَّ طَلَّقۡتُمُوۡھُنَّ مِنۡ قَبۡلِ اَنۡ تَمَسُّوۡھُنَّ فَمَا لَکُمۡ عَلَیۡہِنَّ مِنۡ عِدَّۃٍ تَعۡتَدُّوۡنَہَا ۚ فَمَتِّعُوۡھُنَّ وَ سَرِّحُوۡھُنَّ سَرَاحًا جَمِیۡلًا۔(سورۃالاحزاب:50)

یعنی اے مومنو! جب تم مومن عورتوں سے شادی کرو، پھر ان کو ان کے چھونے سے پہلے طلاق دےدو تو تم کو کوئی حق نہیں کہ ان سے عدت کا مطالبہ کرو، پس (چاہیے کہ) ان کو کچھ دنیوی نفع پہنچا دو اور ان کو عمدگی کے ساتھ رخصت کر دو۔

آپ کے دوسرے سوال کا جواب یہ ہے کہ ایسی صورت میں یہ عورت اپنے پہلے خاوندسے جس سے اسے طلاق بتہ ہو چکی ہے رجوع نہیں کر سکتی،کیونکہ طلاق بتہ کی صورت میں دوسرے خاوند کے ساتھ تعلقات زوجیت قائم ہونا ضروری ہیں۔ چنانچہ احادیث میں آتا ہے کہ ایک عورت جسے اپنے خاوند سے طلاق بتہ ہو چکی تھی اس نے کسی دوسرے شخص سے شادی کی اور شادی کے بعد حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر اس دوسرے خاوند کے تعلقات زوجیت قائم نہ کر سکنے کی شکایت کی۔ جس پر حضور ﷺ نے اس عورت کو فرمایا کہ شاید تم اپنے پہلے خاوند کے پاس لوٹنا چاہتی ہو لیکن ایسا نہیں ہو سکتا جب تک کہ یہ دوسرا خاوند تمہارے ساتھ تعلقات زوجیت قائم نہ کر لے۔

(صحیح بخاری کتاب الطلاق بَاب مَنْ أَجَازَ طَلَاقَ الثَّلَاثِ)

ایسی صورت میں یہ بات مد نظر رکھنا بھی بہت ضروری ہے کہ طلاق بتہ کے بعد دوسرے شخص سے اس غرض سے شادی کرنا کہ اس سے طلاق لے کر پہلے خاوند کے ساتھ رجوع کیا جا سکے،یا وہ مرد اس عورت سے اس غرض سے شادی کرے کہ شادی کے بعد وہ اسے طلاق دےدے گا تا کہ وہ عورت اپنے پہلے خاوند کی طرف لوٹ سکے، تو اس قسم کی منصوبہ بندی کو شریعت نے نہایت ناپسند فرمایا ہے اور اس قسم کی شادی کرنے اور کروانے والے مرد و عورت پر آنحضور ﷺ نے لعنت بھیجی ہے۔

(سنن ترمذی کتاب النکاح بَاب الْمُحِلِّ وَالْمُحَلَّلِ لَهُ)

٭…٭…٭

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close