حالاتِ حاضرہ

خبرنامہ (اہم عالمی خبروں کا خلاصہ)

Covid-19 کی تازہ عالمی صورتِ حال

(20؍دسمبر ۔ 08:00 GMT)

کل مریض: 275,063,925

صحت یاب ہونے والے: 246,849,537

وفات یافتگان: 5,372,188

٭… 16؍دسمبر بروز جمعرات برسلز میں یورپین کونسل کے منعقدہ اجلاس میں یورپین لیڈرز نے مختلف موضوعات پر غور کیا جن میں کووڈ19کی تازہ صورتحال، کرائسز مینجمنٹ، انرجی کی قیمتوں میں اضافہ، سیکیورٹی اور ڈیفینس، مائیگریشن کے بیرونی اثرات، بیلاروس، یوکرین، ای یو، افریقن یونین سمٹ اور یورو سمٹ شامل تھے۔

اجلاس کے دوران سیکیورٹی کے مسئلے پر گفتگو کرتے ہوئے یورپین ممبر ممالک کی قیادت نے نوٹ کیا کہ بڑھتے ہوئے عالمی عدم استحکام، پیچیدہ اسٹریٹجک مسابقت اور سلامتی کے خطرات سے نمٹنے کے لیے یورپین یونین اب اپنی حفاظت کی زیادہ ذمہ داری لے گی۔ اس حوالے سے لیڈرز نے کمیشن، کونسل اور یورپین ایکسٹرنل ایکشن سروس سے کہا کہ وہ دفاع کے لیے ایک اسٹریٹیجک طریقہ کارپر عمل اور اس کے لیے اپنی صلاحیت میں اضافہ کریں۔

اجلاس کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے یورپین کمیشن کی صدر ارسلا واندرلین اور یورپین کونسل کے صدر چارلس مشل نے روس کو خبردار کیا کہ اگر اس نے یوکرین کے خلاف اپنی فوجی جارحیت جاری رکھی تو اس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔ یورپین یونین فوری طور پر روس کے خلاف پابندیاں عائد کردے گی جس کی روس کو بھاری قیمت ادا کرنا ہوگی۔

٭…امریکی صدر جو بائیڈن کے مشیر برائے قومی سلامتی جیک سلیوان نے واشنگٹن میں مقامی تھنک ٹینک سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ افغان عوام کی امداد کے لیے کوششیں جاری ہیں، افغانستان کی امداد انسانی ہمدردی کی بنیاد پر کر رہے ہیں۔ افغانستان کے پیسے جاری کرنے کے لیے قانونی راستہ اختیار کرنا ہو گا، امریکہ کی کوشش ہے کہ افغانستان کو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد دی جائے۔

انہوں نے کہا کہ اس وقت افغانستان کو عالمی اداروں کے ذریعے امداد دی جا رہی ہے اور جانتے ہیں کہ افغانستان میں اس وقت زندگی اور موت کا مسئلہ بن رہا ہے۔ افغانیوں کی امداد کے لیے امریکہ کے علاوہ دوسرے ممالک کی بھی ذمہ داری بنتی ہے۔

٭…برطانیہ میں لاک ڈاؤن کے دوران 10 ڈاوننگ اسٹریٹ میں پارٹی کے تنازع پر تحقیقات کرنے والے برطانوی کیبنٹ سیکرٹری سائمن کیس نے تحقیقات سے دستبرداری کا اعلان کردیا۔ انہوں نے تحقیقات سے مستعفی ہونے کا فیصلہ اس لیے کیا کیونکہ پارٹی ان ہی کے دفتر میں ہوئی تھی۔ تحقیقات میں اس بات کا تعین کیا جانا ہے کہ تقریب میں کورونا قواعد کی خلاف ورزی ہوئی تھی یا نہیں ؟ اب تحقیقات کی ذمہ داری سینئر سول سرونٹ Sue Grey سرانجام دیں گی۔

٭…افغانستان کی صورتحال پر سعودی عرب کی تجویز اور پاکستان کی میزبانی میں اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے رکن ممالک کے وزرا ئے خارجہ کی کونسل کا 17واں غیر معمولی اجلاس اتوار کو اسلام آباد میں ہوا۔پاکستان 40 سال بعد اسلامی تعاون تنظیم کے وزرائے خارجہ کے اجلاس کی میزبانی کر رہا ہے۔ اس سے قبل سنہ 1980ء میں جب پاکستان میں یہ اجلاس منعقد ہوا تھا تب بھی توجہ کا مرکز افغانستان ہی تھا۔

اسلامی تعاون تنظیم کے اختتام پر وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی نے او آئی سی رکن ممالک کی جانب سے منظور شدہ قرارداد پیش کرتے ہوئے افغانستان میں طالبان کی عبوری حکومت کو دہشت گرد تنظیموں جیسے کہ داعش، القاعدہ، تحریکِ طالبان پاکستان اور ایسٹ ترکستان اسلامک موومنٹ (ای ٹی ایم) کے خلاف مضبوط اقدامات اٹھانے کا کہا ہے۔

اکتیس نکات پر مبنی اس قرار داد میں عالمی برادری کو اندرونی اور بیرونی ‘سپائلرز’ سے محتاط رہنے اور افغانستان میں امن کے قیام کو یقینی بنانے کی تنبیہ کی ہے۔ جبکہ افغانستان میں طالبان کی عبوری حکومت کو شراکت داری پر مبنی حکومت بنانے، اور اس حکومت کے ساتھ ساتھ افغان معاشرے میں افغان بچیوں اور خواتین کو شامل کرنے پر زور دیا ہے۔

19 دسمبر کے اجلاس میں شامل ہونے والے او آئی سی رکن ممالک، غیر ملکی اور علاقائی وفود کی تعداد 70 کے قریب ہے، جن میں سے 20 وفود وزارتی سطح اور دس ڈپٹی منسٹر کی سطح کے شامل ہوئے ہیں۔

وزیرِ اعظم عمران خان نے اجلاس سے اپنے خطاب میں واشنگٹن کو براہِ راست مخاطب کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ کو چار کروڑ افغان عوام اور طالبان کی حکومت کو الگ کر کے دیکھنا ہوگا۔

٭…دنیا بھر میں 18 دسمبر کو مہاجرین کا عالمی دن منایا گیا۔ اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے انٹرنیشنل آرگنائزیشن فار مائیگریشن (آئی ایم او) کے مطابق صرف گذشتہ سال 2020ء میں 281 ملین افراد مہاجرین کے طور پر تھے، اس لحاظ سے یہ تعداد پوری دنیا کی آبادی کا 3.6 فیصد بنتی ہے۔

اس دن کو منانے کا مقصد دنیا بھر میں ایک ملک سے دوسرے ملک میں ہجرت کرنے والے افراد کے بنیادی انسانی حقوق کا خیال رکھتے ہوئے ان کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھانا ہے۔اس دن کے حوالے سے جاری کردہ ایک مشترکہ پیغام میں یورپین خارجہ امور کے سربراہ جوزپ بوریل اور یورپین کمیشن نے کہا کہ ہر سال تقریباً 2 ملین لوگ یورپین یونین میں آباد ہوتے ہیں اور 1 ملین افراد یورپین یونین سے کہیں اور آباد ہونے کے لیے ہجرت کرتے ہیں۔ ہجرت ہمیشہ سے ہماری یورپی شناخت کا حصہ رہی ہے اور یہ ہمیشہ رہے گی۔

٭…کرائسٹ چرچ حملہ آور کا مقابلہ کرنے والے نیوزی لینڈ کے دو شہری نعیم رشیدشہید اور زندہ بچنے والے عبدالعزیز کو ملک کا اعلیٰ ترین بہادری ایوارڈ دیا گیا ہے۔ وزیر اعظم جیسنڈا آرڈن کا کہنا ہے کہ یہ ایوارڈ اعلیٰ ترین وکٹوریا کراس کے مساوی سویلین ایوارڈ ہے، نیوزی لینڈ میں یہ ایوارڈ اس سے پہلے صرف دو مرتبہ دیا گیا ہے۔ کرائسٹ چرچ حملہ آور کا مقابلہ کرنے والے 2پولیس اہلکار سمیت مزید 8 افراد کو بہادری کے میڈل دیے گئے ہیں۔ واضح رہے کہ 2019ء میںکرائسٹ چرچ مساجد پر دہشت گرد حملے میں 51 مسلمان شہید ہوئے تھے۔

٭…افغانستان کے دارالحکومت کابل میں 18 دسمبر کو فائرنگ سے مذہبی اسکالر مولوی بسم اللہ شاکر کو کابل کے علاقے پی ڈی 17 میں ٹارگٹڈ حملے میں قتل کر دیا گیا۔

اسی روز کابل ہی میں پولیس ڈسٹرکٹ 4 میں ہونے والے دھماکے میں مذہبی اسکالر اور خطیب مولوی عبدالسلام عابد زخمی ہوگئے تھے۔مولوی عبدالسلام کا شمار طالبان کے مرکزی نظریاتی راہنماؤں میں ہوتا ہے۔

٭…آسٹریلیا کے تسمانیہ آئی لینڈ کے پرائمری اسکول میں بچوں کے لیے تفریحی سرگرمیوں کے لیے نصب کیے گئے جھولوں میں سے ایک Jumping Castel بھی تھا۔ بچوں کی ایک بڑی تعداد جمپنگ کیسل سے لطف اندوز ہورہی تھی کہ اس دوران ہَوا کا تیز جھونکا آیا، جس کی وجہ سے جمپنگ کیسل میں موجود کئی بچے 10میٹر کی بلندی سے نیچے گرے۔ جن میں سے 5 بچے ہلاک جبکہ 5 زخمی ہوگئے۔آسٹریلوی وزیراعظم نے واقعے پر دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔

٭…اٹلی کے شمالی علاقے برگیمو شہر کے ساتھ ساتھ میلان میں بھی زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے ہیں۔ اطالوی جیوفزکس انسٹیٹیوٹ کے مطابق زلزلے کی شدت 4 اعشاریہ 8 ریکارڈ کی گئی۔ زلزلے سے فوری طورپر کسی جانی مالی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔

٭…جمعرات کو فلپائن کے ساحلی علاقوں سے ٹکرانے والے سمندری طوفان ‘رائے’ کی تباہ کاریوں سے مختلف حادثات میں اموات کی تعداد 90 سے بڑھ گئی جبکہ ساحلی علاقوں سے 3 لاکھ سے زائد افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جاچکا ہے۔ فلپائن کے جنوبی اور وسطی ساحلی علاقے طوفان سے شدید متاثر ہوئے ہیں۔ بجلی اور مواصلات کا نظام بری طرح متاثر ہوا، مکانات کی چھتیں اُڑ گئیں اوردرخت گر گئے، بارشوں سے متعدد گاؤں سیلابی ریلوں کی زدّ میں ہیں۔

٭…فرانسیسی وزیرِ اعظم جین کاسٹیکس نے ایک بیان میں کہا ہے کہ آئندہ سال 2022ء کے آغاز سے فرانس میں اومی کرون غالب آسکتا ہے۔ اومی کرون سے متعلق ابھی زیادہ معلومات نہیں، بظاہر کورونا وائرس کی اومی کرون قسم ڈیلٹا سے زیادہ خطرناک نہیں دکھائی دیتی۔ دستیاب ڈیٹا کے مطابق ویکسین اور بوسٹر ہی بچاؤ کا مؤثر حل ہے۔

واضح رہے کہ فرانس میں کورونا وائرس سے اب تک 1 لاکھ 21 ہزار 333 افراد موت کے منہ میں پہنچ چکے ہیں۔ فرانس میں تاحال 85 لاکھ 18 ہزار 840 کورونا وائرس کے کیسز سامنے آچکے ہیں۔

٭…کرونا وائرس کے نئے ویرینٹ اومی کرون کے تیز پھیلاؤ کے باعث ہالینڈ میں آئندہ سال 14 جنوری تک جاری رہنے والے نئے نافذ کردہ لاک ڈاؤن کے دوران صرف خوراک فراہم کرنے والی ضروری دکانوں کے علاوہ غیر ضروری تمام دکانیں، بازار، ریسٹورنٹ اور جِم وغیرہ بند رہیں گے۔ اسی طرح لوگ اپنے گھروں میں 2 مہمانوں سے زیادہ اور کرسمَس اور نئے سال کی آمد پر 4 افراد سے زائد کو مدعو نہیں کر سکیں گے۔اسکول اور تمام غیر نصابی سرگرمیاں بھی 9؍جنوری تک بند ہونگی۔

٭…٭…٭

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close