تعارف کتاب

’’میرا سفرِ زندگی‘‘ (قسط اوّل)

(فرخ سلطان محمود)

یہ خودنوشت سوانح حیات …جماعت احمدیہ کی تاریخ کے بعض ایسے پوشیدہ گوشوں سے بھی پردہ اٹھاتی ہے جو اس سے پہلے قرطاس کی زینت نہیں بن سکے تھے۔

قریباً چھ دہائیوں تک خلفائے کرام کے دست راست رہنے والے مخلص خادمِ سلسلہ محترم چودھری حمیداللہ صاحب کی وفات (بتاریخ 7؍فروری 2021ء)پر سیّدنا حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے خطبہ جمعہ فرمودہ 12؍فروری 2021ء میں مرحوم کا نہایت محبت سے ذکر کرتے ہوئے فرمایا:

’’آج میں جماعت کے ایک دیرینہ خادم مکرم چودھری حمید اللہ صاحب کا ذکر کرنا چاہتا ہوں جن کی گزشتہ دنوں میں وفات ہوئی۔ آپ تحریک جدید پاکستان کے وکیل اعلیٰ تھے۔ صدر مجلس تحریک جدید انجمن احمدیہ تھے اور ایک لمبے عرصے سے افسر جلسہ سالانہ کی خدمت پر بھی مامور تھے۔ 7؍فروری کو طاہر ہارٹ انسٹی ٹیوٹ میں 87 سال کی عمر میں ان کی وفات ہوئی۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیہِ رَاجِعُوْنَ۔‘‘

(حضورانور نے محترم چودھری صاحب کے خاندانی حالات، ذاتی واقعات، خلفائے کرام کا آپ پر اعتماد اور بہت سے احباب جماعت کے تأثرات بیان کرنے کے بعد اپنے ذاتی مشاہدات بیان کرتے ہوئے فرمایا: )

’’ان کے بارے میں جو خصوصیات بیان ہوئی ہیں ان میں کوئی مبالغہ نہیں ہے۔ بےشمار باتیں جو لوگوں نے لکھی ہیں بعض اتنی زیادہ تھیں کہ مَیں بیچ میں سے لے بھی نہیں سکا اور بلکہ بعضوں کو پڑھ بھی نہیں سکا۔ غیر معمولی صلاحیتیں رکھنے والی شخصیت تھے۔ درویش صفت تھے اور انتہائی محنت کرنے والے تھے۔ ان کے ساتھ مَیں نے بھی کام کیا ہے اور بڑے نرم انداز میں یہ کام سکھایا بھی کرتے تھے۔ پھر جب ناظر اعلیٰ بنا ہوں تو اس وقت بھی یا امیر مقامی تو اس وقت بالکل ان کا اَور رویہ ہو گیا۔ نہایت اطاعت کے ساتھ انہوں نے وہ وقت بھی گزارا اور خلافت کے ساتھ تو پھر انتہائی وفاداری کے ساتھ ایک احمدی کی حیثیت سے ایک کارکن کی حیثیت سے بیعت کا حق ادا کرنے والے کی حیثیت سے اپنے تمام حق ادا کیے۔ خلیفۂ وقت کی ہر آواز کو اور ہر حکم کو بڑی سنجیدگی سے لیا اور لفظاً نہیں بلکہ حرفاً حرفاً اس پر عمل کیا۔ کبھی کوئی تاویلیں نہیں دیں کہ اس کی یہ تاویل ہوتی ہے یا یہ تاویل ہوتی ہے۔

جامعہ جونیئر سیکشن ایک زمانے میں علیحدہ ایک عمارت تھی۔ مَیں نے ان کو کہا کہ میرا خیال ہے کہ زائد خرچ ہے، ضرورت بھی نہیں ہے اس کو اب بڑے جامعہ میں، سینئر سیکشن میں مدغم کر دیا جائے۔ تو اس وقت ان کی کچھ reservationsتھیں، کچھ اَور بزرگوں کی بھی تھیں۔ میں نے رائے مانگی تھی تو انہوں نے اپنی رائے دی کہ نہیں ہونا چاہیے لیکن بعد میں جب مَیں نے فیصلہ کر دیا تو بغیر کسی چون وچرا کے فوری طور پر چوبیس گھنٹے کے اندر اندر اس پر عمل درآمد کروا کے، میرا خیال تھا کہ چند دن لگیں گے، مجھے رپورٹ بھی دے دی کہ یہ سب کچھ ہو گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائے اور خلافت کو ان جیسے سلطان نصیر ملتے رہیں۔‘‘

خلافت احمدیہ کے اسی سلطان نصیر کی خودنوشت سوانح حیات ’’میرا سفر زندگی‘‘ آج ہمارے زیرنظر ہے۔ اس کتاب کا ہر ورق یہ احساس دلاتا ہے کہ محترم چودھری صاحب کی زندگی کا مطمحٔ نظر خلفائے سلسلہ کی بےمثال اطاعت کرتے ہوئے خدمتِ اسلام کا حق ادا کرنے کی بھرپور کوشش کرتے چلے جانا تھا۔ چنانچہ منفرد خدمات دینیہ کی سعادت پاتے ہوئے خلفائے کرام کے قابل فخر مشیر اورہمہ وقت لبّیک کہنے والے دست راست کے طور پر کامیاب زندگی گزار کر آپ اپنے مولائے حقیقی کے حضور حاضر ہوئے۔ یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ زیرنظر کتاب آپ نے اپنی زندگی میں مکمل کرلی تھی اور سیٹنگ کا عمل جاری کروا چکے تھے کہ آپ کی وفات ہوگئی۔

یہ خودنوشت سوانح حیات نہ صرف ادب (لٹریچر) میں خوبصورت اضافہ ہے بلکہ جماعت احمدیہ کی تاریخ کے بعض ایسے پوشیدہ گوشوں سے بھی پردہ اٹھاتی ہے جو اس سے پہلے قرطاس کی زینت نہیں بن سکے تھے۔ چنانچہ اس منفرد سوانح سے ہمیں بہت سی ایمان افروز روایات کا علم ہوتا ہے، خلافت احمدیہ کی عظمت اور تعلق باللہ کا ادراک ہوتا ہے، خلفائے کرام کی پُرحکمت نصائح پر بِلاتوقّف لبّیک کہنے کی اہمیت کا احساس ہوتا ہے، جماعت احمدیہ کے منجانب اللہ ہونے کے شواہد سامنے آتے ہیں اور ایک منکسرالمزاج اور وقف کے عہد کو نبھانے کے لیے ہمہ وقت پُرعزم وجود (یعنی محترم چودھری صاحب)کی زندگی کے بعض ایسے پہلو بھی آشکار ہوتے ہیں جو خدامِ دین کے لیے مشعل راہ ہیں۔

ساڑھے تین صد صفحات پر مشتمل خودنوشت ’’میرا سفرِ زندگی‘‘ کا انداز بیان سادہ، سلیس اور رواں ہونے کے ساتھ ساتھ اتنا دلچسپ ہے کہ آغاز سے اختتام تک قاری یکساں تجسّس اور ذوق کے ساتھ محوِ مطالعہ رہتا ہے۔ بالفاظِ دیگر ایک سچی کہانی اپنے کرداروں کے ساتھ جس خوبصورتی سے آگے بڑھتی ہے، پڑھنے والا اس کے کرداروں میں جذب ہوکر بےشمار پُرحکمت نصائح اور پُرمعارف نکات کو اپنے دامن میں سمیٹتا چلا جاتا ہے۔ دراصل یہ وہ موتی ہیں جو دین کو دنیا پر مقدّم رکھنے کے خواہشمند کے لیے منزل مقصود تک پہنچنے کی راہیں متعین کرنے میں نشانِ راہ ثابت ہوتے ہیں۔

کتاب کی ابتدا میں محترم چودھری صاحب مرحوم نے اپنے والدین اور آبا واجداد کا تفصیل سے ذکر کیا ہے۔ بھیرہ کے نواحی علاقے سے تعلق رکھنے والے اس خاندان میں احمدیت آپ کے والد محترم (بابو) محمد بخش صاحب کے ذریعے آئی جب انہوں نے 1929ء میں قبولِ احمدیت کی سعادت حاصل کی۔ وہ1895ء میں پیدا ہوئے اور 1983ء میں وفات پاکر بہشتی مقبرہ ربوہ میں مدفون ہیں۔

محترم بابو محمد بخش صاحب کُل تین بھائی اور ایک بہن تھے۔ آپ نے بھیرہ سے آٹھویں جماعت تک تعلیم حاصل کی۔ آپ کا حافظہ غیرمعمولی تھا جو آخر تک رہا۔ اُردو کے علاوہ فارسی، عربی اور انگریزی زبان سے بھی اچھی واقفیت تھی۔ 1911ء میں آپ لاہور گئے اور Signaller کا کورس کیا۔ پھر لوئرجہلم سرکل میں مختلف مقامات پر کام کرتے ہوئے 1945ء میں سرگودھا میں سرکاری ملازمت سے ریٹائرڈ ہوئے۔ سرگودھا میں آپ جماعت کے سیکرٹری مال تھے اور اکثر خطبہ جمعہ بھی آپ ہی دیا کرتے تھے۔

جب بعض احمدیوں کی تبلیغ اور ایک مبشر خواب دیکھنے کے نتیجے میں محترم بابو محمد بخش صاحب نے احمدیت قبول کی تو ساتھ ہی آپ کی اہلیہ مکرمہ عائشہ بی بی صاحبہ نے بھی بیعت کرلی۔ اس پر بھائیوں اور والدہ کی طرف سے شدید مخالفت ہوئی۔ چنانچہ بچوں کی تربیت کی خاطر آپ 1932ء کے جلسہ سالانہ کے موقع پر مع فیملی قادیان منتقل ہو گئے اور ایک مکان کرایہ پر لے لیا۔ بعدہٗ اپنی اہلیہ صاحبہ کے زیورات بیچ کر اپنا مکان بنالیا۔

جائے ملازمت پر بھی بابو صاحب کی سخت مخالفت ہوئی، قاتلانہ حملہ بھی کیا گیا، جانور بھی چوری ہوئے، ملازمت سے برخاست کروانے کی کوشش بھی ہوئی لیکن خداتعالیٰ نے معجزانہ طور پر حفاظت فرمائی۔

آپ نماز، روزہ اور احکام شریعت کے سخت پابند تھے، جماعت کے بغیر نماز پڑھنے کا وہ تصور بھی نہ کر سکتے تھے۔ بارش آندھی کبھی مسجد جانے کے رستہ میں روک نہ بنی۔ ایک دفعہ بیمار تھے اور چل نہ سکتے تھے تو بیٹھ کر اور گھسٹ گھسٹ کر مسجد میں نماز پڑھنے جاتے رہے۔ دارالنصر شرقی ربوہ میں 1953ء میں آپ نے مکان بنایا۔ محلہ کی مسجد احمد کی تعمیر آپ کی اَن تھک محنت اور مسلسل توجہ سے ہوئی۔ کئی مرتبہ مجلس شوریٰ کے ممبر بنے۔ میرے والدین تحریک جدید کے دفتر اوّل کے مجاہدین میں شامل تھے۔ 1944ء میں حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ کی تحریک پر آپ نے اپنا مکان واقع دارالفضل قادیان سلسلہ کی ضروریات کے لیے وقف کر دیا۔ آپ صاحب رؤیا و کشوف تھے۔ پُرجوش داعی الی اللہ تھے۔ وفات کے وقت عمر اٹھاسی سال تھی لیکن ایک سال پہلے تک ہمیشہ پورے روزے رکھتے رہے۔ آخری سال نصف رکھ سکے۔ 12نومبر 1983ء کو آپ کی وفات ہوئی۔ آپ کی اہلیہ قبل ازیں 13ستمبر 1979ء کو وفات پاچکی تھیں۔ پسماندگان میں چار بیٹے اور پانچ بیٹیاں چھوڑیں۔

محترم چودھری صاحب رقمطراز ہیں کہ میری پیدائش 4؍مارچ 1934ءکو قادیان میں ہوئی اور حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ نے میرا نام حمیداللہ رکھا۔ بہت بچپن کی بعض باتیں مجھے یاد ہیں۔ مثلاً والدہ صاحبہ کے ساتھ حضرت سیدہ اُمّ ِطاہر صاحبہؓ کے گھر گیا۔ صاحبزادی امۃ الجمیل صاحبہ چھوٹی سی تھیں، ان کے پاس 3مالٹے تھے اور وہاں ایک غریب لڑکی بھی تھی۔ حضرت سیدہ اُمِّ طاہر صاحبہ نے محترمہ اَمۃالجمیل صاحبہ کو کہا کہ اس لڑکی کو مالٹا دو لیکن وہ مالٹا دینے پر آمادہ نہ تھیں۔ حضرت سیدہ اُمِّ طاہرصاحبہؓ نے اصرار کے ساتھ اُن سے ایک مالٹا اس غریب لڑکی کو دلوایا۔

اسی طرح ایک بار مَیں اپنی والدہ صاحبہ کے ساتھ حضرت سیّدہ اُمِّ ناصرؓ کے گھر گیا۔ حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ بھی وہاں تشریف فرما تھے۔ ڈاکٹر نذیر احمد صاحب کی اہلیہ صاحبہ اپنے بچے کا نام رکھوانے وہاں آئیں۔ حضورؓ نے فرمایا: لڑکے کا نام نذیر احمد رکھ دیں۔ اس پر بچے کی والدہ نے کہا کہ یہ تو بچے کے والد کا نام ہے۔ اس پر حضورؓ نے فرمایا کہ مَیں نے ’ظ‘ سے نظیر احمد نام رکھا ہے۔

1946ء میں حضرت مصلح موعودؓ نے وقف کی تحریک کی تو میں ساتویں کلاس میں تھا اور میں نے بھی وقف زندگی کا فارم پُر کیا۔ مڈل کا امتحان پاس کیا تو والدہ صاحبہ مجھے حضورؓ کی خدمت میں لے گئیں اور پوچھا کہ یہ آگے مدرسہ احمدیہ میں داخل ہو یا سکول میں تعلیم جاری رکھے۔ حضور نے فرمایا کہ سکول میں تعلیم جاری رکھے۔ کم عمر میں ہی والدہ صاحبہ نے مجھے رستہ دکھا دیا کہ ہر قدم حضور سے پوچھ کر اُٹھانا ہے۔

ہندوستان کی تقسیم کا اعلان ہوا تو شدید فسادات پھوٹ پڑے۔ اکتوبر 1947ء کے شروع میں قادیان پر بڑا حملہ ہوا۔ ساری رات فائرنگ کی آوازیں آتی رہیں۔ اگلے دن تک سارا محلہ خالی ہوگیا اور ہم تعلیم الاسلام ہائی سکول کے بورڈنگ ہاؤس میں چلے گئے۔ بورڈنگ ہاؤس عورتوں اور بچوں سے بھرا پڑا تھا۔ ایک کمرے میں جاکر فرش پر ایک چادر بچھا کر بیٹھ گئے اور اگلے چند دن وہیں قیام کیا۔ ہمارے گھر اور بورڈنگ کے درمیان بس ایک گراؤنڈ ہی حائل تھی۔ بہنیں گھر کو دیکھ کر روتی تھیں۔ ہم گھر کے سامنے بے گھر بیٹھے تھے۔

قادیان میں احمدیوں کے گھروں میں گندم کی کمی نہ تھی لیکن بجلی بند ہونے کی وجہ سے آٹے کی چکّیاں بند تھیں اور آٹا میسر نہیں تھا جس کی وجہ سے سخت دقّت تھی۔ ہاتھ سے چلنے والی چکّیوں پر آٹا پیستے تھے۔ یہ بہت مشقت کا کام تھا اورجن گھروں میں یہ چکّیاں تھیں اُن پر آٹا پیسنے کی باری مشکل سے آتی تھی۔ بورڈنگ ہاؤس والوں نے سال کی ضرورت کے لیے گندم خرید کر رکھی ہوئی تھی، وہی دیگوں میں اُبال اُبال کر اور نمک ڈال کر سب کو کھانے کے لیے دی جاتی تھی۔ صفائی اور گند کو تلف کرنا بھی ایک بہت بڑا مسئلہ تھا۔

اگست 1947ء کے آخر میں جماعت کے مشورہ پر حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ قادیان سے لاہور تشریف لے گئے تو مغرب کی نماز کے بعد حضورؓ کا پیغام پڑھ کر سنایا گیا کہ کیوں حضور کا قادیان چھوڑنا ضروری تھا؟

حضور نے جب دیکھا کہ قادیان کی آبادی کا انخلا بھی ناگزیر ہو گیاہے تو آپؓ نے بڑی بھاری تعداد میں ٹرکوں کا اور حفاظت کا انتظام کیا۔ ایسے ہی ایک قافلے میں ہم ایک شام کو جودھا مل بلڈنگ لاہور پہنچے۔ لاہورمیں اس وقت جماعت کے پاس چار عمارات تھیں۔ رتن باغ میں حضور اور حضور کے خاندان کے افراد ٹھہرے ہوئے تھے۔ اسی عمارت کا بڑا کمرہ بطور مسجد استعمال ہو رہا تھا، جمعہ کی نماز اُس کے لان میں ادا کرلی جاتی تھی۔ رتن باغ کے ایک حصہ میں ہی لنگرخانہ اور کچھ کوارٹرز تھے۔ ان میں جماعت کے کچھ کارکنان مقیم تھے۔ جودھا مل بلڈنگ میں جماعت کے دفاتر اور ڈسپنسری تھی۔ جسونت بلڈنگ میں بھی فیملیز مقیم تھیں۔ چوتھی عمارت سیمنٹ بلڈنگ تھی۔ یہاں ہمیں اور قادیان سے آنے والے دوسرے قافلوں کو ٹھہرایا گیا۔ لنگر سے فی کس ایک خمیری روٹی ملتی تھی اور چاول بھی ملتے تھے۔ ان دنوں لاہور میں ہیضہ پھیلا ہوا تھا۔ ہماری بلڈنگز کے سامنے سے جنازے گزرتے رہتے تھے اور کلمہ شہادت کی آوازیں آتی رہتی تھیں۔ والدہ صاحبہ سخت گھبرائی ہوئی تھیں کہ یہاں سے ہمیں نکلنا چاہیے لیکن انتظار تھا کہ والد صاحب یا بڑے بھائی آجائیں تو لے جائیں۔ اُس وقت والد صاحب ریاست بہاول پور میں ملازم تھے۔ فسادات کی وجہ سے ریل اور ڈاک کا نظام ختم ہوچکا تھا اور ہمارا ان سے کوئی رابطہ نہ تھا۔ وہ اپنی جگہ فکرمند تھے کہ بیوی بچے کس حال میں ہیں، زندہ بھی ہیں یا نہیں اور دعائیں کرنے میں مصروف تھے۔ وہ فرمایا کرتے تھے کہ مسلسل مجھے یہ الہام ہوتا رہتا تھا کہ نَمْنَعُکُمْ (یعنی ہم تم کو بچا لیں گے)۔

مَیں نے میٹرک ہارون آباد سے کیا جہاں والد صاحب متعین تھے۔ مَیں سکول میں اوّل آیا اور یہیں مَیں نے سگنیلر کا کام سیکھ کر اس میں اتنی مہارت حاصل کرلی کہ والد صاحب کا کام بآسانی کرلیتا تھا۔ چنانچہ والد صاحب کم و بیش اپنا سارا وقت دعوت الی اللہ میں صرف کرتے تھے۔ اس وجہ سے بہت مخالفت بھی ہوتی۔ قتل کا جھوٹا الزام بھی لگایا گیا اور خداتعالیٰ نے بری کیا۔ وہاں کافی متروکہ جائیدادیں تھیں۔ والد صاحب کو تحصیل دار نے خود کہا کہ آپ کے بچے چھوٹے ہیں آپ کو زمین الاٹ کردیتا ہوں۔ والد صاحب نے کہاکہ نہیں، اگر یہاں زمین لے لی تو پھر میرے بچے ربوہ نہیں جائیں گے۔

میٹرک پاس کرنے کی اطلاع وکیل الدیوان ربوہ کو دی اور ان کے کہنے پر 14 ستمبر 1949ء کو ربوہ آگیا۔ اگلے روز ہم چند لڑکوں کا حضرت مصلح موعودؓ نے تحریری امتحان لیا۔ سب نے پرچے حل کرلیے تو حضورؓ نے ہمیں اپنے دفتر میں ہی بلوالیا جہاں صدرانجمن احمدیہ کا اجلاس جاری تھا۔ کچا کمرہ اور کچا ہی فرش تھا، سفیدی بھی نہیں ہوئی تھی، کباڑ میں سے خرید کردہ کھڑکیاں اس کمرہ میں لگی ہوئی تھیں، حضورؓ کے داخل ہونے کے لیے حضورؓ کے گھر کے صحن سے ایک کھڑکی تھی۔ فرش پر ایک پرانی دری بچھی ہوئی تھی جس پر حضورؓ اور ناظر صاحبان بیٹھے ہوئے تھے۔ جماعت کے لیے بڑا ہی مالی تنگی کا دور تھا۔ لیکن سب کام اللہ تعالیٰ کے فضل سے جاری تھے۔

حضور نے اجلاس کی کارروائی روک دی۔ ناظر صاحبان کی موجودگی میں ہی ہم میں سے ہر ایک کا پرچہ پڑھ کر سنایا اور ہمارے جوابات پر تبصرے فرمائے۔ طلبہ کے دلچسپ جوابات، حضور کی شفقت، معصوم غلطیوں پر مسکراہٹ اور غلطیوں کی نشان دہی پربڑا ہی خوشگوار ماحول پیدا ہوگیا۔ دوسرے سکولوں سے میٹرک کرنے والوں کی نسبت تعلیم الاسلام ہائی سکول چنیوٹ سے میٹرک کرنے والوں کے سائنس کے سوالات کے جوابات نسبتاً زیادہ غلط تھے۔ جس پر حضورؓ نے تبصرہ فرمایا کہ تعلیم الاسلام ہائی سکول میں سائنس کی تدریس تسلی بخش نہیں۔ بعد ازاں ہم سب کاطبی معائنہ ہوا اور سب کے وقف منظور ہوئے۔ میری طبی رپورٹ میں یہ درج تھا کہ دل کی دھڑکن تیز ہے اس لیے میرے بارے میں حضور نے فرمایا کہ آرٹس کے مضمون لے۔

مجھے تعلیم الاسلام کالج لاہور میں داخل کروادیا گیا اور میتھ، اکنامکس اور عربی کے مضامین دیے گئے۔ انگریزی لازمی تھی۔ مکرم پروفیسر سلطان محمود صاحب شاہد (جو خود واقف زندگی تھے) ہم واقف زندگی طلبہ کے نگران مقرر ہوئے۔ ہم واقفِ زندگی طلبہ کو حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ نے بڑی توجہ اور شفقت دی۔ مَیں نے1951ء میں پنجاب یونیورسٹی سے ایف۔ اے کا امتحان فرسٹ ڈویژن میں پاس کیا تو حضورؓ نے بی ایس سی کرنے کا ارشاد فرمایا۔ مضمون Mathematics اور Statistics تجویز ہوئے۔ 1953ء میں بی ایس سی کا امتحان پاس کیا توپنجاب یونیورسٹی میں دوم رہا۔

بی۔ ایس سی کا نتیجہ نکلنے پر حضرت مرزا ناصر احمد صاحبؒ (تعلیم الاسلام کالج کے پرنسپل) نے حضورؓ سے درخواست کی کہ یہ لڑکا کالج کے سپرد کردیں۔ ہم اس کو حساب کا ایم اے کروائیں گے تاکہ کالج میں لیکچرار لگا سکیں کیونکہ کالج لاہور سے ربوہ منتقل ہونا ہے اور غیر احمدی سٹاف ربوہ نہیں آئے گا۔ حضورؓ کی منظوری سے مَیں لاہور مزید تعلیم کے لیے چلا گیا۔ تدریس کا عمل پنجاب یونیورسٹی میں ہوتا تھا۔ 1953ء میں پنجاب یونیورسٹی میں شعبہ ریاضی کے ہیڈمکرم پروفیسر ڈاکٹر عبدالسلام صاحب تھے۔ ڈاکٹر صاحب وقت کی سختی سے پابندی کرتے تھے۔ کلاس کا وقت شروع ہونے سے ایک منٹ پہلے دروازہ کے باہر آکر کھڑے ہوجاتے تھے۔ ایک دفعہ ہماری کلاس نے کہا کہ ہم نے کل چھٹی کرنی ہے لیکن ڈاکٹر صاحب نے کہا کہ نہیں۔ طلبہ نے کہا کہ پھر ہم کل نہیں آئیں گے۔ آپ نے کہا کہ مَیں آؤں گا آپ نہیں ہوں گے تو دیواروں کو لیکچر دے کر چلا جاؤں گا۔ بہرحال طلبہ نے اپنا چھٹی کرنے کا خیال ترک کر دیا۔

1954ء میں تعلیم الاسلام کالج ربوہ منتقل ہوگیا تو میں گورنمنٹ کالج لاہور میں منتقل ہوگیا۔ اس وقت مکر م قاضی محمد اسلم صاحب پرنسپل تھے۔ ایک سال وہاں رہا۔ وہاں بہت غیرمعمولی محنت کرنے والے طالب علم دیکھے جو 15گھنٹے روزانہ سے بھی زائد پڑھتے تھے۔ ایم اے کے آخری سال میں بہت محنت کرنا پڑی۔ یونیورسٹی سے آکر ڈیڑھ یا دو گھنٹے سوجاتا تھا۔ پھر نمازیں جمع کر کے اور کھانا کھا کر پانچ چھ بجے شام سے صبح قریباً 4بجے تک پڑھتا تھا۔ دن کو یونیورسٹی میں پڑھنے کے علاوہ بھی پڑھتا تھا۔ 1955ء میں ایم اے کا امتحان دیا تو پنجاب یونیورسٹی میں چوتھی پوزیشن آئی اور گورنمنٹ کالج سے اکیڈیمک رول آف آنر ملا۔

1948ء میں جب ربوہ کی بنیاد رکھی گئی اور ربوہ کے پلاٹس کی فروخت کا سلسلہ شروع ہوا تو اس وقت ہم ہارون آباد میں تھے۔ دس مرلہ کے پلاٹ کی قیمت 50روپے تھی لیکن یہ رقم بھی موجود نہ تھی۔ کسی غیر احمدی سے 20روپے والدصاحب نے قرض لیا، 30روپے اپنے پاس سے ڈالے اور 50روپے دس مرلہ زمین کے لیے ربوہ بھجوادیے۔ ہمیں محلہ دارالنصر شرقی میں پلاٹ الاٹ ہوا جس پر والد صاحب نے 1953ء میں مکان بنایا۔ اس کے لیے رقم کا انتظام ایسے ہوا کہ والد صاحب 1929ء میں احمدی ہوئے تھے۔ اس سے پہلے انہوں نے زندگی کا بیمہ کروایا ہوا تھا۔ جب احمدی ہوئے تو یہ سوال اٹھا کہ جماعت کے نزدیک زندگی کا بیمہ ناجائز تھا۔ جب تفصیلات میں گئے تو یہ سامنے آیا کہ اگر بیمہ کی رقم کی ادائیگی بند کردیں اور بیمہ سے الگ ہوجائیں تو جو رقم اقساط کے طور پر دی تھی وہ اصل رقم سے بھی کم ملتی تھی۔ اس لیے یہی طے ہوا کہ بیمہ جاری رکھیں۔ جب بیمہ کی مدت ختم ہو تو اصل سے جو زائد رقم ملے وہ اشاعت اسلام میں دے دیں اور اصل رقم ذاتی استعمال میں لے آئیں۔ پاکستان بننے کے قریب بیمہ کی مدت ختم ہوئی۔ بمبئی کی ایک بیمہ کمپنی جس نے بیمہ کیا ہوا تھا اس نے ہندوستان کے ایک بنک کا چیک بھجوایا جو پاکستان میں کیش نہ ہوسکتا تھا۔ اس لیے وہ چیک ایک تاجر کے پاس بیچ دیا کہ وہ چیک کیش کروالے اور ہمیں رقم دے دے۔ چیک بیچنے سے اتنی ہی رقم ملی جتنی کہ والد صاحب نے ادا کی ہوئی تھی۔ اسی رقم سے ربوہ کا مکان بنا اور ہم 1952ء میں ربوہ منتقل ہوئے تھے۔

محلہ دارالنصر میں ابتدائی قیام میں بہت سی مشکلات تھیں۔ پہلا مسئلہ حفاظت کا تھا، دوسرا ضروریات زندگی کا مہیا ہونا تھا۔ محلہ میں اس وقت ایک بوٹی ہرمل بکثرت ہوتی تھی۔ ایک لمبے عرصہ تک اس کو ہی کاٹ کر جلاتے رہے۔ سودا لینے کے لیے جانا ہوتا تھا تو کہتے تھے شہر جانا ہے۔ شہر سے مراد گول بازار یا منڈی والی جگہ ہے۔ گدھا، ریڑھا، ٹانگہ نہ ہونے کے برابر تھے۔ سر پر ہی گندم اٹھا کر گول بازار یا منڈی لے جاتے تھے اور وہاں سے پسواکر سر پر ہی اٹھا کر گھر لاتے تھے۔ سبزی، گوشت، دوسرے سودے اور لکڑی (جلانے کے لیے) بھی وہاں سے لے کر آتے تھے۔ پھر سانپ بہت تھے۔

1960ء میں میری شادی مکرم عبدالجبار خان صاحب آف سرگودھا کی بیٹی مکرمہ رضیہ خانم صاحبہ سے ہوئی۔ میری اہلیہ محترمہ کے دادا جان حضرت حاجی عبداللہ خان صاحبؓ نے جہلم میں بیعت کی تھی جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کرم دین کے مقدمہ کے سلسلہ میں وہاں تشریف لے گئے تھے۔ میری اہلیہ کے نانا اور اُن کے والد بھی صحابہ میں شامل ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے مجھے ایک بیٹا اور دو بیٹیاں عطا کیں۔

مجھے تعلیم الاسلام کالج ربوہ میں 1955ء تا 1974ء بطور پروفیسر اور پھر دارالضیافت ربوہ میں (1974ء تا 1982ء) اور بعدازاں تحریک جدید انجمن احمدیہ پاکستان ربوہ میں بطور وکیل اعلیٰ اور صدر مجلس خدمت کی توفیق ملی۔ نیز صدر مجلس خدام الاحمدیہ مرکزیہ (1969ء تا 1973ء )، صدر مجلس انصاراللہ مرکزیہ اور صدر مجلس انصاراللہ پاکستان (1982ء سے31دسمبر 1999ء) کے طور پر بھی خدمت کی توفیق ملی۔ اسی طرح افسر جلسہ سالانہ ربوہ (1973ء تا وفات)، صدر منصوبہ بندی کمیٹی فضل عمر ہسپتال، ایڈیشنل ناظر اعلیٰ صدر انجمن احمدیہ (برائے ہنگامی امور سندھ و بلوچستان) (1986ء تا وفات)، صدر انٹرنیشنل رشتہ ناطہ کمیٹی، سرپرست انٹرنیشنل ایسوسی ایشن آف احمدی آرکیٹیکٹس وانجینئرز(1982ء تا 1999ء، دوبارہ 2010ء تا وفات)، سیکرٹری صدسالہ احمدیہ جوبلی منصوبہ بندی کمیٹی پاکستان اور صدر صدسالہ احمدیہ جوبلی منصوبہ کمیٹی بیرون پاکستان کے طور پر خدمت کی سعادت ملی۔ نیز نگران ادارہ تعمیرات بھی رہا اور خلافت ثالثہ میں کئی بار امیرمقامی بھی مقرر ہوا۔

محترم چودھری صاحب نے ان منفرد خدمات کی ادائیگی کے دوران وقوع پذیر ہونے والے متعدد ایمان افروز واقعات، مستند تاریخی حوالوں کے ساتھ رقم کیے ہیں جو خلفائے سلسلہ کی شفقتوں کا مورد بنتے ہوئے آپ نے مشاہدہ کیے۔ ان واقعات میں سے انتخاب ہدیۂ قارئین ہے:

٭…حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحبؒ جب صدر انجمن احمدیہ کے صدر تھے تو آپ نے کسی انکوائری کے لیے ایک کمیشن مقرر فرمایا۔ کچھ دنوں کے بعد کمیشن کا صدر تبدیل کردیا۔ بعد میں مجھے اس تبدیلی کی وجہ بتائی اور فرمایا کہ میں نے ایک ہفتہ دعا کرنے کے بعد یہ تبدیلی کی ہے۔

٭…1972ء میں تعلیم الاسلام کالج کو جب بھٹو کی حکومت نے نیشنلائز کرلیا تو حضورؒ نے کالج کے واقف زندگی اساتذہ کا اجلاس بلایا اور فرمایا اصل چیز کالج کی روایات ہیں وہ قائم رہنی چاہئیں اور یہ واقفین زندگی اساتذہ کی ذمہ داری ہے۔ خاکسارکو حضور نے ان اساتذہ کی مجلس کا سیکرٹری مقرر فرمایا۔ نیز فرمایا کہ ایک رپورٹ تیار کرلی جائے کہ کالج کی موجودہ حالت کیا ہے؟ اور روایات کیا ہیں؟ اس رپورٹ میں حضورؒ نے معمولی اصلاح بھی فرمائی تھی۔

٭… میرے صدر مجلس خدام الاحمدیہ مرکزیہ منتخب ہونے کے بعد سابق صدر محترم صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صا حبؒ کو دی جانے والی الوداعی پارٹی میں حضرت خلیفۃ المسیح الثالثؒ نے بھی شمولیت فرمائی اور اپنی تقریر میں فرمایا:

’’…جنہوں نے مجلس کی صدارت کا چارج لیا ہے وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام کے خونی رشتہ کے لحاظ سے خاندان کے فرد نہیں ہیں لیکن روحانی رشتہ کے لحاظ سے ہر شخص اپنی ہمت اور کوشش اور اپنی دعا اور عاجزی کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ کی روحانی اولاد بننے کے قابل ہے اور سچا اور حقیقی روحانی بیٹا اسے بننا چاہیے اور بہت لوگ ہیں جو جسمانی اولاد سے بھی زیادہ آگے نکل جاتے ہیں حالانکہ وہ محض روحانی اولاد ہوتے ہیں۔ جسمانی تعلق تو ایک دنیوی تعلق ہے۔ مذہب یا روحانیت سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہے۔‘‘

٭…1959ء میں مَیں ناظم مکانات جلسہ سالانہ تھا۔ ہم جس کمپنی سے خیمے شامیانے لیتے تھے اُن کا ہمارے ساتھ معاملہ اچھا تھا اور ریٹ بھی مناسب تھے۔ لیکن جلسہ سے قبل لاہور کی ایک کمپنی منان سنز کا نمائندہ حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ سے ملا اور پھر حضرت مرزا ناصراحمد صاحبؒ افسرجلسہ سالانہ سے آکر کہا کہ حضور نے فرمایا ہے کہ جلسہ کے سامان کا آرڈر ہمیں دیا جائے۔ افسر جلسہ نے بحیثیت ناظم مکانات مجھے ان سے نرخ معلوم کرنے کے لیے کہا نیز یہ کہا کہ اُن سے کہیں کہ لاہور سے کوئی شخص ضامن دیں۔ منان سنز والے حضرت شیخ رحمت اللہ صاحبؓ مالک انگلش ویئر ہاؤس کے پوتے تھے اور شیخ عبدالحمید صاحب کے بیٹے تھے جو حضرت مصلح موعودؓ کے کلاس فیلوبھی رہے تھے۔ انہوں نے جواب دیا کہ ہم نے ضامن کوئی نہیں دینا، حضرت صاحب نے فرمادیا ہے کہ آرڈر تم کو ملے گا۔ چنانچہ افسر صاحب جلسہ کے فرمانے پر مَیں نے ساری صورتحال حضرت صاحب کو لکھ کر پوچھا کہ کیا ارشاد ہے؟ اس پر حضورؓ نے فرمایا کہ ریٹس میں تھوڑا فرق ہو تو کوئی بات نہیں۔ چنانچہ منان سنز کو آرڈر دے دیا گیا۔ جلسہ ختم ہونے کے بعد وہ بِل لینے آئے تو کہا کہ ہم نے حضرت خلیفۃ المسیح الثانی سے ملنا ہے۔ میں نے اُن سے گزارش کی کہ حضور اس وقت آرام فرمارہے ہوں گے۔ لیکن انہوں نے اصرار کیا نیز یہ کہا کہ حضرت صاحب نے مجھے فرمایا تھا کہ جس وقت مرضی ہو آجاؤ تمہاری ملاقات ہوجائے گی۔ چنانچہ اُن کے اصرار پر مَیں اُن کو پرائیویٹ سیکرٹری صاحب کے پاس لے گیا۔ انہوں نے بھی اُس وقت ملاقات کروانے سے معذرت کی لیکن اُن صاحب نے اتنا اصرار کیا کہ وہ حضرت صاحب کو اطلاع کرنے پر مجبور ہوگئے۔ اطلاع کی تو حضورؓ نے اُسی و قت بلا لیا۔ اُن صاحب نے جاتے ہی حضور سے شکایت کی کہ دفتر والوں نے میری ملاقات کروانے میں پس وپیش کی تھی۔ حضور نے فوراً دفتر والوں کو بلایا اور فرمایا کہ نوٹ کرلیں کہ ان کے دادا صحابی حضرت مسیح موعودؑ تھے اور ان کے والد میرے کلاس فیلو تھے، یہ جس وقت بھی آئیں ان کی ملاقات کروادی جائے۔

٭… 1966ء کے جلسہ سالانہ کے موقع پر نانبائیوں نے ایک رات ہڑتال کردی جس کی وجہ سے اگلے دن صبح کھانا پوری مقدار میں تیار نہ ہوسکا۔ فجر سے قبل مکرم سیدمیر داؤد احمد صاحب افسر جلسہ سالانہ نے حضرت خلیفۃ المسیح الثالثؒ کو اس کی اطلاع کی۔ فجر کی نماز کے بعد حضور نے جماعت کو ارشاد فرمایا کہ سب لوگ ایک وقت ایک روٹی کھائیں نیز یہ کہ گھروں والے گھروں میں روٹیاں پکا کر لنگرخانہ کو دیں تاکہ لنگرخانہ کو تقسیم کے لیے مناسب مقدارمیں روٹی مل جائے۔

اس واقعہ کا ایک پس منظر بھی ہے۔ جس رات کے پچھلے حصہ میں یہ صورت حال پیدا ہوئی اس رات کے ابتدائی حصہ میں ایک خط کی پشت پر حضرت خلیفۃ المسیح الثالثؒ کا لکھا ہواایک نوٹ افسر جلسہ سالانہ کو ملا جو پڑھا نہ جاسکا۔ حضور کا خط (تحریر) پہچاننے والوں سے بھی پڑھوایا گیا لیکن نہ پڑھا جاسکا۔ جب افسر صاحب جلسہ فجر سے قبل حضور کی خدمت میں حاضر ہوئے تو اُن کی بات سن کر حضورؒ نے فرمایا کہ میں نے تو کل آپ کو warnکردیا تھا۔ دراصل وہ الفاظ یہ تھے کہ ’’کل کی فکر کریں۔‘‘ تقدیر الٰہی معلوم ہوتی ہے کہ یہ امتحان پیش آئے ورنہ حضور نے تو warnکردیا تھا۔

٭…اسی طرح کا ایک اورواقعہ بعدمیں بھی پیش آیا جبکہ خاکسار افسر جلسہ سالانہ تھا۔ جلسہ سالانہ کی افتتاحی تقریر سننے کے لیے مکرم صاحبزادہ مرزاخورشید احمد صاحب (نائب افسر جلسہ سالانہ)اور خاکسار سٹیج کی پچھلی طرف کھڑے تھے۔ دعا کے بعد جب حضورؒ کار میں بیٹھ گئے اور کار چل پڑی، پہیہ ایک دو چکر ہی گھوما ہوگا تو حضور نے کار رکوائی اور انگلی کے اشارے سے مجھے بلایا۔ کار کا شیشہ کھول کر فرمایا کہ ’’لنگروں کی فکر کریں۔‘‘ یہ فرماکر حضور تشریف لے گئے۔ میں نے صاحبزادہ صاحب سے کہا کہ قریب ترین لنگرخانہ نمبر3ہے، وہاں چلتے ہیں۔ وہاں پہنچے تو شور مچا ہوا تھا کہ گیس کا پریشر قریباً ختم ہے۔ قریباً گیارہ بجے تھے اور تشویش یہ تھی کہ دوسر ے لنگروں اور گھروں میں بھی یہی صورت حال ہوئی تو شام کا کھانا بروقت تیار کرنا ممکن نہ ہوگا۔ فیصل آباد سوئی گیس کے محکمہ سے رابطہ کے لیے کوشش شروع کی گئی۔ ابھی ہم اسی تگ و دو میں تھے کہ محکمہ سوئی گیس کی ایک وین سرگودھا کی طرف جا رہی تھی۔ انہوں نے گیس سٹیشن کے پاس لوگوں کاجمگھٹا دیکھا تو اپنی وین روک لی۔ ان کو بتایا کہ گیس کا پریشر گر گیا ہے تو انہوں نے اپنی master keyسے سٹیشن کا تالا کھولا، چند منٹ میں پریشر ٹھیک کیا اور چلے گئے۔ اللہ تعالیٰ نے بہت فضل کیا اور ایک crisisجو بہت بڑا ہوسکتا تھا خلیفۂ وقت کی وارننگ پر فوراً عمل درآمد کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے ٹل گیا۔

٭… 1971ء میں جنگ کی وجہ سے جلسہ نہ ہوسکا۔ اوائل 1972ء میں حضرت خلیفۃ المسیح الثالثؒ نے انجمنوں کا مشترکہ اجلاس بلایا جو صدر انجمن احمدیہ کے کمیٹی روم میں منعقد ہوا۔ حضورؒ نے فرمایا کہ جلسہ نہیں ہوسکا اور جماعتیں مرکز میں نہیں آسکیں۔ اب مرکز کا فرض ہے کہ جماعتوں کے پاس جائے۔ اس انتظام کے لیے حضورؒ نے ناظرصاحب اعلیٰ کو صدر اور مجھے سیکر ٹری مقرر فرمایا۔ چنانچہ ملک بھر میں وفود بھجوانے کا انتظام کیا گیا۔

٭…حضرت خلیفۃالمسیح الثالثؒ نے ایک نئی ایڈیشنل نظارت اصلاح و ارشاد (تعلیم القرآن) قائم فرمائی تھی۔ اس کے قیام کے ساتھ حضورؒ نے یہ فیصلہ بھی کیا تھا کہ قرآن کی تعلیم پر عمل کرنے کا انتظام بھی ہو اور قرآن مجید کے اس ارشاد کے مدنظر کہ فِی اَمْوَالِھِمْ حَقٌّ لِّلسَّائِلِ وَالْمَحْرُومِ کہ اُن کے مالوں میں سوال کرنے والوں اور سوال نہ کرنے والے حاجت مندوں کا حصہ ہے۔ ارشاد فرمایاکہ کوئی احمدی بھوکا نہیں رہنا چاہیے۔ اس غرض کے لیے ایک کمیٹی مقرر فرمائی جس کا نام تھا: ’’کمیٹی امداد مستحقین‘‘ (برائے گندم)۔ اس کمیٹی کا کام تھا کہ گندم کی فصل کے موقع پر ان تمام ضرورت مندوں کو فیملی کی ضرورت کے مطابق گندم خرید کر مہیا کرے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے1977ء تا 1999ء کل 22سال اس کمیٹی کی صدارت کے فرائض سرانجام دینے کی توفیق بخشی۔ کمیٹی کا کام جملہ Cases کا جائزہ لینا ہوتا تھا کہ کس کو کتنی گندم دی جائے۔ صدر کمیٹی کا کام گندم خریدنا اور ربوہ میں لوگوں کے گھر تک پہنچانا تھا۔ ربوہ سے باہر کی فیملیز کو رقم بھجوادی جاتی تھی۔

٭…حضرت میرداؤد احمد صاحب کی وفات کے بعد اپریل 1973ء میں خاکسارکو افسر جلسہ سالانہ مقرر کیا گیا۔ اُس وقت ربوہ میں کُل تین لنگرخانے تھے۔ جبکہ اِس وقت کُل چودہ لنگرخانے اور تین پرہیزی کھانے کے لنگر ہیں جبکہ روٹی پکانے کے دس پلانٹ بھی نصب کیے گئے ہیں۔

1973ء میں حضرت خلیفۃ المسیح الثالثؒ نے صد سالہ جوبلی (1989ء)کے جلسہ کے مدّنظر سلسلہ کے اداروں کو مہمان خانے بنانے کی تحریک کی تھی۔ چنانچہ متعدد گیسٹ ہاؤسز تعمیر کیے گئے۔ سرائے محبت (مہمان خانہ صدر انجمن احمدیہ) کا افتتاح غالباً مارچ 1976ء میں حضورؒ نے فرمانا تھا۔ حضورؒ نے فرمایا کہ اصل افتتاح تو مہمان ٹھہرانے سے ہونا چاہیے۔ چنانچہ دو مہمان جو دارالضیافت میں ٹھہرے ہوئے تھے اُن کو سرائے محبت میں منتقل کیا گیا۔

جماعت کے تعلیمی اداروں میں جلسہ کے موقع پر مہمان ٹھہرا کرتے تھے۔ 1972ء میں یہ ادارے نیشنلائز ہوگئے لیکن اس کے باوجود 1974ء تک ان میں مہمان ٹھہرتے رہے۔ 1975ء کے جلسہ میں ابھی چند دن باقی تھے تو اچانک محکمہ تعلیم کی طرف سے پیغام آیا کہ جماعت کو تعلیمی ادارے امسال جلسہ پر نہیں ملیں گے۔ جب حضورؒ کی خدمت میں یہ اطلاع کی گئی تو حضور نے ارشاد فرمایا کہ ’’اگر مہمان باہر کھلے آسمان کے نیچے سوئیں گے تو مَیں بھی کھلے آسمان کے نیچے سوؤں گا۔‘‘

اس صورتحال کے پیدا ہونے پرایک وفد کمشنر سرگودھا ڈویژن کو ملا۔ یہ وہی صاحب تھے جو اکتوبر 1974ء میں کمشنر تھےجبکہ سرگودھا میں احمدیوں کے مکانات جلائے گئے تھے۔ سب سے پہلے تو انہوں نے اس واقعہ پر بہت معذرت کی کہ میں نے D.Cاور S.Pکو بروقت warnکر دیا تھا کہ فضا ٹھیک نہیں، ضروری اقدام کر لیں، لیکن انہوں نے ایسا نہیں کیا۔ پھر انہوں نے ہم سے آنے کا مدّعا پوچھا جو مکرم مرزا عبدالحق صاحب نے بیان کیا کہ اوّل تو ہماری جماعت کے افراد نے چندے دے دے کر یہ ادارے بنائے۔ اگر وہ جلسہ کے چند دن ان میں رہ لیں تو یہ ان کا حق ہے۔ دوسرے اب جب کہ جلسہ میں بمشکل 10دن باقی ہیں ہمیں یہ نوٹس دیا گیا ہے اور ہم کوئی متبادل انتظام نہیں کر سکتے۔ انہوں نے کہا کہ اس بارے میں حکومت پنجاب ہی فیصلہ کرسکتی ہے اور وہ اس سے پوچھ کر بتائیں گے۔ کچھ دیر بعد اُن کا فون آیا کہ حکومت نے صرف اس سال کے لیے تعلیمی ادارے استعمال کرنے کی اجازت دی ہے۔ اس پر حضورؒ نے ارشاد فرمایا کہ جماعتیں جلسہ کے موقع پر اپنی رہائش کے لیے اپنی اپنی بیرکس تعمیر کریں۔ چنانچہ ایک سال میں چند جماعتوں نے ربوہ میں اپنی بیرکس تعمیر کرلیں لیکن اگلے جلسہ تک یہ انتظام کافی نہ تھا۔ چنانچہ حضورؒ کی خدمت میں درخواست کی گئی کہ مساجد میں مہمان ٹھہرانے کی اجازت دی جائے۔ حضور نے حالات کی مجبوری کے مدّنظر اجازت تو دے دی لیکن فرمایا کہ مساجد کے تقدّس کا خیال رکھا جائے۔ غالباً ایک سال ہی مساجد رہائش کے لیے استعمال ہوئیں۔

اس کے دو سال بعد سرکاری انتظامیہ نے ربوہ کی دیواروں پر لکھے ہوئے الہامات اور اقتباسات پر بھی اعتراض کردیا۔ جلسہ سے قبل ایک سرکاری وفد نے میٹنگ میں انہیں مٹانے کا مطالبہ کیا تو حضرت مرزا منصور احمد صاحب نے فرمایا کہ دیواروں پر اس طرح لکھنے کو ہم بھی زیادہ پسند نہیں کرتے اور نہ یہ کسی سکیم کے ماتحت لکھا گیا ہے، لوگوں نے اپنے شوق سے لکھا ہے اور اس میں کوئی ایسی قابل اعتراض بات بھی نہیں ہے۔ اس پر وہ تحریریں انتظامیہ نے پڑھنی شروع کیں۔ S.P صاحب خاموش بیٹھے حقّہ پی رہے تھے۔ جب حضرت خلیفۃ المسیح الثالثؒ کا یہ اقتباس پڑھا گیا کہ’’کسی ماں نے وہ بچہ نہیں جنا جو ہم سے ہماری مسکراہٹیں چھین سکے‘‘ تو وہ بولے کہ یہ اقتباس تو بے شک رہنے دیں۔ تاہم بعد میں سرکاری انتظامیہ نے جلسے سے ایک دو روز پہلے سیاہی پھیر کر ساری تحریریں مٹادیں۔ اور 1983ء کے بعد تو ہمیں جلسہ سالانہ کے انعقاد کی اجازت ہی نہیں دی گئی۔

٭…حضرت خلیفۃ المسیح الثالثؒ کی اس طرف بہت توجہ تھی کہ جلسہ پر اچھی کوالٹی کا گوشت پکے۔ چنانچہ اس کی تعمیل میں جلسہ کے نظام نے جلسہ پر گوشت کی سپلائی کا ٹھیکہ دینا بند کر دیا اور جلسہ سے تقریباً ایک ماہ پہلے منڈیوں اور دیہات سے جانور خرید کر پالے جاتے اور جلسہ کے موقع پر صرف جانور ذبح کرنے کا اور گوشت کاٹنے کا ٹھیکہ دیا جاتا۔ 1974ء میں حضورؒ کے ارشاد پر شروع سال میں چالیس کٹّے خرید کر مختلف جماعتوں کو پالنے کے لیے دیے گئے جن کا گوشت جلسے کے موقع پر مہمانوں کے استعمال میں لایا گیا۔ نیز 1974ء میں عیدالاضحی جلسہ کے دنوں میں تھی تو حضورؒ نے جماعت کو حکم دیا کہ دوست اپنی قربانی ربوہ میں کریں اور گوشت جلسہ کے مہمانوں کے استعمال میں آئے۔ چنانچہ بھاری مقدار میں قربانی کے جانور خریدنے کے لیے رقوم وصول ہوئیں۔

1973ء سے جلسہ سالانہ صدسالہ جوبلی 1989ء مستقلاً حضرت خلیفۃ المسیح الثالثؒ کے مدّنظر تھا۔ اس پس منظر میں حضورؒ نے جلسہ سالانہ کے لیے دیگیں عطیہ کرنے کی تحریک فرمائی جس پر بڑی کثرت سے دوستوں نے لبّیک کہا۔

نومبر 1974ء میں خاکسارنے جب دارالضیافت کاچارج لیاتو بہت سے کام ہونے والے تھے۔ چنانچہ مزید کمروں اور بیوت الخلا کی تعمیر، فلش سسٹم، واٹر سپلائی، رنگ و روغن، فرنیچر، چارپائیوں، بستروں، برتنوں وغیرہ کی ضرورتوں کی سکیم اور اندازۂ خرچ لے کر حضورؒ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ حضورؒ نے اس کوبعینہٖ منظور فرمالیا اور پرائیویٹ سیکرٹری صاحب کو ارشاد فرمایا کہ دفتر میں جتنے لحاف موجود ہیں وہ دارالضیافت کو دے دیں۔ ان لحافوں کی تعداد 141 تھی۔ چونکہ تعمیرات اور مرمتوں میں وقت لگنا تھا اور مجلس مشاورت قریب تھی اس لیے حضورؒ نے فرمایا کہ مشاورت سے پہلے سفیدی کرواکر دروازے کھڑکیاں دھلوادیں۔

1974ء کے بعد ربوہ میں پہلی دفعہ ریذیڈنٹ مجسٹریٹ کا تقرر ہوا۔ جو میونسپل کمیٹی کے بھی نگران تھے۔

ستمبر1979ء میں حضرت خلیفۃ ا لمسیح الثالثؒ کی خدمت میں ملاقات کے لیے حاضر ہوا تو فرمایا کہ دارالضیافت کے جانب مشرق میں جو خالی جگہ پڑی ہو ئی ہے اس پر تعمیر کرنی ہے۔ نقشے وغیرہ بنا لیں۔ رقم میں آپ کو اپریل1980ء میں دے دوں گا۔ چنا نچہ ’جدید بلاک‘ کا نقشہ فائنل کرکے حضورؒ سے منظوری کے بعد میونسپل کمیٹی سے منظوری لی۔ اس کا سنگ بنیاد رکھنے کے لیے کسی تقریب منعقد کرنے کا کوئی پروگرام نہ تھالیکن اچانک حضور کا ارشاد موصول ہوا کہ حضوؒ ر خود بنیاد رکھیں گے۔ چنانچہ دن اور وقت طے ہو گیا۔ غالباً 18جون 1980ء کو تین اینٹیں بنیاد میں رکھ کرحضورؒ نے دعا کروائی۔

اسی دوران پرانا قصرِِخلافت گراکر نئی تعمیر شروع کی گئی تو حضور احاطہ قصر خلافت میں واقع نئے تعمیر شدہ گیسٹ ہاؤس (سرائے محبت نمبر2) میں منتقل ہوگئے۔ اس گیسٹ ہاؤس میں جلسہ پر ممالک بیرون سے آنے والی خواتین قیام کرتی تھیں۔ جلسے سے قبل دو تین بار حضورؒ نے پوچھا کہ غیرملکی خواتین اب کہاں ٹھہریں گی؟ ہر بار عرض کیا گیا کہ دارالضیافت کے (زیرتعمیر)جدید بلاک میں ٹھہریں گی۔ جب حضور معائنہ پرتشریف لائے تو آپؒ نے فرمایا کہ عمارت نئی ہے، گیلی ہے اور ٹھنڈی ہے۔ اس لیے اُپلوں کی ہلکی آگ سب کمروں میں جلادیں تاکہ نمی خشک ہوجائے اور کمرے گرم ہوجائیں۔

جب22دسمبر1980ء کو حضور معائنہ کے لیے تشریف لائے تو دارالضیافت کے جدید بلاک کا نہ صرف رنگ و روغن ہوچکا تھا بلکہ کمرے پوری طرح آراستہ تھے۔

دارالضیافت کی طرف سے حضورؒ اور محترمہ آپا طاہرہ صدیقہ ناصر صاحبہ کی شادی کے بعد 21مئی 1982ء کو دعوت دی گئی۔ آپ تشریف لائے اور فرمانے لگے کہ جب کسی تقریب میں جانا پڑتا ہے تو پھر ڈاک کا کام رہ جاتا ہے۔ اگلے دن حضورؒ اسلام آباد تشریف لے گئے جہاں حضورؒ کی وفات ہو گئی۔ یہ آخری تقریب تھی جس میں حضورؒ شریک ہوئے۔

(جاری ہے)

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close