الفضل ڈائجسٹ

الفضل ڈائجسٹ

(محمود احمد ملک)

اس کالم میں ان اخبارات و رسائل سے اہم و دلچسپ مضامین کا خلاصہ پیش کیا جاتا ہے جو دنیا کے کسی بھی حصے میں جماعت احمدیہ یا ذیلی تنظیموں کے زیرانتظام شائع کیے جاتے ہیں۔

حضرت میاں محمد اکبر صاحبؓ

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 20؍مارچ 2013ء میں مکرم غلام مصباح بلوچ صاحب کے قلم سے حضرت میاں محمد اکبر صاحبؓ آف بٹالہ گورداسپورکی سیرت و سوانح پر ایک تفصیلی مضمون شامل اشاعت ہے۔

حضرت میاں محمد اکبر صاحب ولد گلاب دین صاحب قوم راجپوت اصل میں بٹالہ کے قریب ایک گاؤں بلہووال ضلع گورداسپور کے رہنے والے تھے لیکن اپنے کاروبار کی وجہ سے بٹالہ میں سکو نت پذیر تھے۔ آپ کی شادی قادیان میں ہوئی تھی نیز آپ کی ایک ہمشیرہ بھی قادیان ہی میں بیاہی ہوئی تھیں اس وجہ سے آپ کا قادیان آناجانا رہتاتھا اور اسی آمدورفت کی وجہ سے آپ حضرت مسیح موعودؑ کے پرانے ملنے والوں میں سے تھے اور حضور بھی آپ سے محبت و شفقت سے ملتے۔ قادیان آنے کے لیے بٹالہ گویا دروازہ تھا اس لیے قادیان آنے والے اکثر دوست بٹالہ میں آپ ہی کے مکان پر ٹھہرتے اور آپ ان کی خدمت نہایت اخلاص سے کرتے۔

1880ء میں جب ’’براہین احمدیہ‘‘ لکھی گئی تو آپ نے بھی اس کی اشاعت کی اعانت میں حصہ لیا اور دو آنے بطور اعانت دیے حضور اقدسؑ نے کتاب کی ابتدا میں ’’فہرست معاونین کتاب براہین احمد یہ‘‘ درج فرمائی ہے جس میں آپ کانام بھی موجود ہے: (02)میاں اکبر ساکن بلہووال ضلع گورداسپور 2۔ بطور اعانت

آپؓ کاسن بیعت معلوم نہیں۔ آپؓ کے چھوٹے بھائی حضرت میاں اﷲ یار صاحبؓ ٹھیکیدارکی بیعت1889ء کی محفوظ ہے، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ آپؓ بھی آغاز میں ہی داخل سلسلہ احمدیہ ہوئے کیونکہ بٹالہ میں حضرت اقدسؑ سے وابستہ ہونے والے پہلے شخص آپؓ ہی تھے۔ حضرت شیخ یعقوب علی عرفانی صاحبؓ جماعت احمدیہ بٹالہ کی تاریخ کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں: اس جماعت کے آدم میاں محمد اکبر ٹھیکیدار چوب تھے جو براہین احمدیہ کے زمانے سے حضرت اقدسؑ سے ارادت رکھتے تھے اور جن کو یہ شرف اور سعادت حاصل تھی کہ حضرت اقدسؑ اکثر ان کے قیام گاہ پر قیام فرما ہوتے تھے وہ ذیل گھر کے پاس اپنی دکان کرتے تھے اور احباب وہاں ہی آکر اترتے تھے، وہ گویا ایک قسم کا مہمان خانہ تھا۔ جس محبت اور اخلاص سے وہ کام کرتے تھے وہ قابل رشک ہے۔

حضرت مسیح موعودؑ کی کتب میں آپؓ کاتذکرہ محفوظ ہے۔ 1892ء میں دوسرا جلسہ سالانہ منعقد ہوا جس میں تقریباً 800؍احباب شامل ہوئے۔ بیرون از قادیان سے آئے ہوئے 327؍افراد کے نام حضورؑ کی کتاب ’’آئینہ کمالات اسلام‘‘ میں درج ہیں جس میں آپؓ کانام 145نمبر پر موجود ہے۔

اسی طرح حضوؑ ر نے اپنی کتاب ’’آریہ دھرم‘‘ میں گورنمنٹ کے نام یہ اطلاع دی ہے کہ مخالفین کی طرف سے جھوٹی روایات کو بنیاد بنا کر ہمارے آقا و مولیٰ حضرت محمد مصطفیٰﷺ پر دل آزار حملے کیے جاتے ہیں۔ اس سلسلے میں دو تجاویز پیش کرنے کے بعد تقریباً 700 افراد کے اسماء درج ہیں جن میں آپؓ کا نام بٹالہ کے تحت موجود ہے۔

پھر حضورؑ نے اپنی کتاب ’’سراج منیر‘‘ میں ’’فہرست آمدنی چندہ برائے طیاری مہمان خانہ و چاہ وغیرہ‘‘ کے تحت متعدد احمدیوں کے نام بمع چندہ درج کیے ہیں۔ حضرت میاں محمد اکبر بٹالہ کا نام بھی اس میں موجود ہے۔

جون 1897ء میں قادیان میں ملکہ وکٹوریہ کی ڈائمنڈ جوبلی منائی گئی۔ اسماء حاضرینِ جلسہ حضورؑ کی کتاب ’’تحفہ قیصریہ‘‘ کے آخر میں محفوظ ہیں۔ حضرت محمد اکبر صاحبؓ کا نام 123نمبر پر (چار آنے) چندہ کے ساتھ موجود ہے۔

فروری 1898ء میں حضور نے مخالفین احمدیت کی طرف سے لگائے گئے الزامات کی تردید کرتے ہوئے اپنی پُرامن جماعت کے 316 افراد کے نام ’’کتاب البریہ‘‘ میں درج فرمائے جس میں 185 نمبر پر حضرت میاں محمد اکبر صاحب ٹھیکیدرا چوب بٹالہ نام موجود ہے۔

1893ء میں حضور نے عیسائیوں سے مباحثہ (مشہور بہ جنگ مقدس)سے پہلے مباحثہ کے شرائط معین کرنے کے لیے ایک وفد ڈاکٹر مارٹن کلارک کی طرف بھیجا۔ اس وفد میں حضرت میاں اکبر صاحبؓ بھی شامل تھے۔ (حجۃ الاسلام)

کتا ب ’’انجام آتھم‘‘ میں حضورؑ نے اپنے 313صحابہ کے اسماء کی فہرست میں آپؓ کا نام بھی درج فرمایا ہے:

77۔ میاں محمد اکبر صاحب بٹالہ

7مارچ 1898ء کو حضورنے ایک اشتہار بعنوان ’’کیا محمد حسین بٹالوی ایڈیٹر اشاعت السنہ کو عدالت صاحب ڈپٹی کمشنر ضلع گورداسپور میں کُرسی ملی؟‘‘ شائع فرمایا جس میں 100 سے زائد احباب کے نام بطور گواہ تحریر فرمائے جس میں آپؓ کا نام بھی شامل ہے: محمد اکبر صاحب ٹھیکیدار بٹالہ۔ (مجموعہ اشتہارات جلد سوم صفحہ37)

31 دسمبر1892ء کو حضورؑ نے محمد حسین بٹالوی کے نام ایک خط میں 16؍احباب کے نام بطور گواہ تحریر فرمائے۔ پندرھویں نمبرپرمحمد اکبر ساکن بٹالہ تحریر ہے۔ (آ ئینہ کمالات اسلام)

حضرت اقدس مسیح موعودؑ بیرون از قادیان سفروں کے لیے اکثر بٹالہ ہی سے روانہ ہوتے جہاں حضرت محمد اکبر صاحبؓ کو حضورؑ کی خدمت کی توفیق ملتی۔ آپؓ کے برادر اصغر حضرت میاں اﷲیار صاحبؓ بیان کرتے ہیں کہ ہمارے بڑے بھائی محمد اکبرصاحب مرحوم وہاں ٹھیکہ کا کام کرتے تھے۔ وہاں ہمارے مکانات بھی تھے۔ حضورؑ دوسری شادی کرکے جب دہلی سے واپس تشریف لائے تو بٹالہ میں ہم نے حضورؑ کی دعوت کی تھی، حضورؑ ہمارے ہاں ہی ٹھہرے تھے۔ وہ فضل الدین کی حویلی تھی جس میں حضورؑ کو ٹھہرایا گیا تھا اس کے بعد ہی ہم نے بٹالہ میں اپنے مکان تعمیر کرا ئے تھے۔

حضرت ڈاکٹر غلام غوث صاحبؓ (1898-1957ء) فرماتے ہیں کہ میر ی بیوی نے حضرت اماں جانؓ سے سنا کہ ایک دفعہ حضرت اقدسؑ بٹالہ تشریف لے گئے اور چونکہ کافی دن ٹھہرنا تھا اس لیے فرمایا کہ ہم اپنے ٹھہرنے کا خود انتظام کریں گے۔ چنانچہ حضورؑ سرائے میں ٹھہر گئے، میاں محمد اکبر صاحبؓ کا وہاں لکڑیوں کا ٹال تھا۔ انہوں نے عرض کیا کہ حضور! لکڑیاں تو میرے اپنے ٹال کی ہیں اس لیے یہ تو اَور جگہ سے لینی مناسب نہیں، یہ استعمال فرماویں۔ دوسرے دن حاضر ہو کر عرض کیا کہ یہاں کا آٹا بڑا خراب ہے مَیں نے خود گندم صاف کروا کر آٹا پسوایا ہے چنانچہ وہ ایک بوری آٹا کی لے آئے۔ تیسرے روز حاضر ہوکر عرض کیا کہ حضور یہاں کا گھی بڑا خراب ہے اس سے صحت پر برا اثر پڑے گا چنانچہ انہوں نے گھی کا ایک ٹین حضورؑ کی خدمت میں پیش کردیا۔

حضرت میاں اﷲ یار صاحبؓ ٹھیکیدار فرماتے ہیں کہ حضوؑر مقدمہ کلارک میں ایک دفعہ جب بٹالہ تشریف لائے تھے تو ہم اکثر حضورؑ کی خدمت میں حاضر ہوتے۔ ایک دفعہ جب مَیں حضورؑ کی خدمت میں حاضر ہوا توحضورؑ نے فرمایا: محمد اکبر کہاں ہے؟ مَیں نے عر ض کی کہ حضور! ایک گاؤں میں گئے ہوئے ہیں۔ حضورؑ تشریف فرما تھے مَیں پائوں دبانے لگا۔ ابھی دس منٹ ہی گزرے ہوں گے کہ محمد اکبر صاحب بھی حاضر ہوگئے اور پوچھاکہ حضور کھانے کے لیے کیا حکم ہے؟ فرمایا کہ کھانا تو کھالیا ہے مگر بعض دوست باقی رہ گئے ہیں چنانچہ اسی وقت مَیں تندور سے روٹیاں لینے کے لیے چلا گیا اور لاکر جو دوست رہ گئے تھے ان کو کھانا کھلایا۔ نیز میرے بھائی کا کاروبار بٹالے میں تھا۔ قادیان میں ان دنوں میں لنگر اور حضور کے گھر کے لیے اچھا آٹا دستیاب نہیں ہوتا تھا اس لیے حضور نے میرے بھائی کو حکم دیا کہ تم بٹالے سے آٹا لنگر کے لیے مہیا کیا کرو جو ہم مہیا کیا کرتے تھے۔

حضرت حافظ نور محمد صاحبؓ (بیعت 1889ء – وفات 1945ء) فرماتے ہیں: ڈاکٹر مارٹن کلارک والے مقدمہ کے دوران حضرت اقدسؑ یکہ پر روانہ ہوگئے اور نوبجے کے قریب ڈاک بنگلہ بٹالہ میں گئے۔ شام کے بعد میاں محمد اکبر صاحب ٹھیکیدار لکڑی نے (جو بڑے ہی مخلص اور ہنس مکھ تھے اور حضورؑ کے فدائیوں میں سے تھے) دعوت کی۔

حضرت محمد اکبر صاحبؓ کے بیٹے حضرت محمد ابراہیم صاحبؓ فرماتے ہیں کہ حضرت مسیح موعودؑ کے زمانہ میں جب ریل، موٹر، ٹانگہ نہیں ہوتا تھا تو یکہ پر حضورؑ قادیان سے بٹالہ تک جاتے تھے یا کبھی ڈولی میں بیٹھ کر جایا کرتے تھے۔ ریلوے روڈ پر ذیل گھر کے ساتھ ہمارے والد صاحب کی زمین تھی جس میں لکڑی کی دکان تھی۔ حضرت مسیح موعودؑ اس ذیل گھر کے اوپر کے بالا خانہ میں فروکش ہوا کرتے تھے اور کھانے کا انتظام ہمارے گھر میں ہوا کرتا تھا، کھانا شہر سے تیار ہوکر مزدوروں کے سروں پر ذیل گھر میں پہنچ جایا کرتا تھا اور وہاں حضورؑ اپنے خادموں اور مہمانوں کے ساتھ تناول فرمایا کرتے اور پھر آرام کرکے جہاں تشریف لے جانا ہوتا تشریف لے جاتے اور یہ دستور عموماً آتے اور جاتے وقت ہوتا۔

حضرت میاں محمد اکبر صاحبؓ پُرجوش داعی الی اللہ تھے۔ حضرت میاں فضل محمد صاحب آف ہرسیاں (بیعت 1896ء- وفات 1956ء) فرماتے ہیں کہ پہلے میری سکونت موضع ہرسیاں تحصیل بٹالہ کی تھی اور بعض دوست میرے پاس آکر حضرت مسیح موعودؑ کی باتیں کیا کرتے تھے۔ اتفاقاً جلسہ1896ء کے موقعہ پر جبکہ میں گھوڑے پر سوار ہوکر ایک دوست کو ملنے کے واسطے براستہ قادیان سری گوبندپور جارہا تھا۔ میں جب مسجد اقصیٰ کے دروازے کے سامنے پہنچا تو میرے ایک دوست محمداکبر صاحب (بٹالوی) مسجد کے اندر سے باہر نکلے اور مجھ سے ملے اور انہوں نے میرے گھوڑے کی باگ پکڑلی اور مجھے گھوڑے سے اتار دیا اور فرمایا کہ آج جلسہ ہے میں ہرگز آپ کو نہیں جانے دوں گا۔ چنانچہ انھوں نے میرا گھوڑا کسی رشتہ دار کے ہاں باندھ دیا اور مجھے ساتھ لے کر مسجد کے اندر چلے گئے۔ جب میں اندر گیا تو مَیں نے دیکھا کہ حضرت مسیح موعودؑ بیٹھے ہیں اور مولوی عبد الکریم صاحب مرحوم تقریر فرما رہے تھے، مَیں وہاں بیٹھا رہا اور تقریر یں سنتا رہا۔ چنانچہ میں دو دن قادیان شریف ہی میں رہا اور میں نے چندہ بھی دیا۔ جو دوست چندہ لے رہا تھا اس نے میرا نام پوچھا مگر میں نے اس کو نام نہ بتلا یا اور چندہ دے دیا۔ آخری دن جب بیعت شروع ہوئی تو محمد اکبر صاحب نے میرا ہاتھ پکڑ کر اوپر رکھ دیا۔ مَیں نے دل میں کہا جب تک میر ا ارادہ نہ ہو بیعت کیا ہو گی۔ مَیں نے ہاتھ نہ اٹھایا اور دعا میں شامل ہو گیا۔ جب میں واپس گھر گیا تو میرے دل میں یہی خیال گزرتا کہ قادیان میں سوائے قر آن شریف کے اور نیک دینی باتوں کے اَور کچھ نہیں سنا۔ اس خیال کو مدنظر رکھتے ہوئے میں نے نمازوں میں اﷲ تعالیٰ کے حضور عاجزانہ دُعا کرنی شروع کی۔ کئی دن کے بعد مَیں بٹالہ میں سودا خریدنے کے لیے گیا تو پہلے محمد اکبر صاحب کے پاس چلا گیا۔ انہوں نے باتوں میں ذکر کیا کہ کل سیٹھ صاحب مدراس سے تشریف لائے ہیں اور قادیان تشریف لے گئے ہیں۔ چنانچہ ایسی باتوں سے میرے دل میں جوش پیدا ہوا اور میں نے محمد اکبر کو کہا کہ اُس روز آپ نے میرا ہاتھ پکڑ کر بیعت والوں میں شامل ہونے کے لیے حضرت صاحب کے ہاتھ پر رکھ دیا تھا مگر میرا دل نہیں چاہتا تھا مگر آج مجھے اﷲ تعالیٰ کی طرف سے جوش پیدا ہوا ہے اور اب میں یہیں سے قادیان جاتا ہوں اور سچے دل سے توبہ کرکے بیعت میں داخل ہوتا ہوں۔ اس پر وہ نہایت خوش ہوئے اور اپنے گھوڑے پر سوار ہوکر میرے ہمراہ قادیان پہنچے۔

سلسلہ کے لیے مالی قربانیوں میں بھی محمداکبر صاحبؓ ایک جوش رکھتے تھے اور مالی معاونت کا یہ سلسلہ ’’براہین احمدیہ‘‘ کے دور سے شروع کررکھا تھا۔ کتاب ’’سراج منیر‘‘ میں لنگر خانہ کے لیے چندہ کا ذکر محفوظ ہے۔ اسی طرح جلسہ ڈائمنڈ جوبلی1897ء میں بھی آپ کے چندے کا ذکر محفوظ ہے۔ 1899ء میں حضورؑ نے حضرت پیر سراج الحق نعمانی صاحب کے مکان کے لیے چندے کی تحریک فرمائی جس میں آپ نے 10 آنے چندہ دیا۔ حضرت مولوی فتح الدین صاحب دھرم کوٹ بگہ نے پنجابی نظم وفات نامہ حضرت عیسیٰؑ چھپوائی تو آپ نے اس کے تمام حقوق خریدلیے۔

1897ء میں حضورؑ نے تعلیم الاسلام سکول کے اجراء کا اعلان فرمایا جس کا اشتہار شائع کرتے ہوئے حضورؑ نے فرمایا: ’’…اول بنیاد چندہ کی اخویم مخدومی مولوی حکیم نور الدین صاحب نے ڈالی ہے کیونکہ انہوں نے وعدہ کیا ہے کہ میں اس سکول کے لیے ماہوار دس روپیہ دوں گا اور مرزا خدا بخش صاحب نے دو روپیہ اور محمد اکبر صاحب نے ایک روپیہ ماہواری اور میر ناصر نواب نے ایک روپیہ اور اﷲ داد صاحب کلرک شاہ پور نے 8؍آنے ماہواری چندہ دینا قبول کیا ہے۔

المشتہر میرزا غلام احمداز قادیان۔ 15 ستمبر 1897ء‘‘

(مجموعہ اشتہارات جلد دوم صفحہ 455)

حضرت شیخ یعقوب علی صاحب عرفانیؓ اس اشتہار کے ضمن میں فرماتے ہیں: اس اشتہار کے پڑھنے سے معلوم ہوجاتا ہے کہ جن بزرگوں کا سکول کے چندہ میں سابقون الاولون کا ذکر ہے ان میں مکرم میاں اکبر سلسلہ کے سابقون الاولون میں بہت قدیم تھے۔ براہین احمدیہ کے آغاز سے حضرت اقدسؑ سے عقیدت رکھتے تھے۔ براہین کی اشاعت کے وقت2آنے چندہ دیا تھا اور یہ ایسا ہی تھا جیسے ایک وقت کے ایک مٹھی جَو احد پہاڑ کے برابر سونا دینے سے افضل ہے اور حضرت اقدسؑ نے اسے نہ صرف قبول فرمایا بلکہ براہین میں اس کی اشاعت کی۔ غرض نہایت مخلص اور ہنس مکھ مہمان نواز اور ملنسار تھے اس تحریر کے وقت میرے تصور کی آنکھ کے سامنے کھڑے ہیں۔ (حیات احمد جلد دوم نمبرچہارم)

حضرت میاں محمد اکبر صاحبؓ کو درد گردہ کی تکلیف تھی جس کی وجہ سے پیشاب بھی بند ہوگیا تھا۔ ایک مرتبہ جب گردہ کی تکلیف ہوئی توآ پؓ قادیان چلے آئے او رحضرت اقدسؑ کے قدموں میں رہنا پسند کیا۔ حضورؑ نے کمال شفقت اور ہمدردی سے آپؓ کے علاج کی طرف توجہ دی اور ہر طرح کا خیال رکھا۔ حضرت سید فضل شاہ صاحبؓ یکے از 313صحابہ فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ میں نے دوپہر کو کشفی حالت میں یا خواب میں دیکھا کہ نہایت فربہ اور کھپت رنگ کا گھوڑا ہے اور اس کا پیشاب بند ہے اور پیٹ پھولا ہوا ہے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ گر کر مرجائے گا۔ حضرت مولوی حکیم نور الدین صاحبؓ کو دیکھتا ہوں کہ وہ بھی میرے پاس کھڑے ہیں مگر اس کے علاج کی طرف توجہ نہیں کرتے او رمجھے ان کی طرف دیکھ کر نہایت پریشانی ہوتی ہے کہ یہ حکیم ہیں کیوں متوجہ ہوکر علاج نہیں کرتے۔ مجھے سخت گھبراہٹ ہوئی اور اس گھبراہٹ میں مَیں بیدار ہوکر حضرت مسیح موعودؑ کے پاس دالان میں پہنچا کیونکہ اُن دنوں مَیں بیت الفکر میں بحکم حضرت صاحب رہا کرتا تھا، مَیں نے دستک دی۔ حضور نے بُلایا۔ میں حضور کی خدمت میں بیٹھ گیا اور اپنا سارا کشف یا خواب بیان کیا۔ آپؑ نے فورا ًحکم دیا میرا چوغہ لائو، سوٹی لائو۔ مَیں نے اُلٹا کر چوغہ پہنایا اور سو ٹی پیش کردی۔ فرمایا: یہ کشف محمد اکبر ٹھیکیدار کی نسبت ہے اور آئو چلو۔ مَیں اور حضرت صاحبؑ زنانہ ڈیوڑھی کے راستہ سے باہر آئے اور حضرت مولوی نور الدین صاحبؓ کے شفاخانہ کے دروازہ پر آکر ٹھہرے اور مولوی صاحب کو آواز دی۔ مولوی صاحب ننگے سر بیٹھے تھے۔ آواز دینے پر ننگے سر ہی دوڑے، جُوتا بھی حضرت صاحبؑ تک پہنچنے تک بمشکل پہنا اور دوپٹہ تو حضرت صاحب کے پاس آکر جلدی جلدی باندھا۔ حضرت صاحبؑ نے مولوی صاحب کو بڑے زور سے سمجھانا شرو ع کیا کہ دیکھو شاہ صاحب نے ایساخواب یا کشف دیکھا ہے اور یہ محمد اکبر کے متعلق معلوم ہوتا ہے آپ نے اس کے علاج کی طرف سے توجہ چھوڑ دی ہے۔ حکیم کو چاہیے جب تک مریض زندہ ہو مایوس اور نا امید ہوکر توجہ نہ چھوڑے اور اسی طرح سمجھاتے ہوئے بہمراہی مولوی صاحب و دیگر حاضرین کے حضور محمد اکبر کے مکان کی طرف تشریف لے گئے۔ وہاں جاکر دیکھا کہ واقعی اس کا پیٹ بہت پھولا ہوا ہے اور پیشاب بند ہے۔ حضورؑ نے فرمایا اگر ایسا مریض بائیس دن بھی بیمار رہے تو وہ مرتا نہیں اچھا ہوجاتا ہے۔ پھر حضور نے فی الفور دیگیں منگا کر پانی گرم کرایا اور اس میں اس کو بٹھایا اور علاج شروع کردیا۔ حضرت حکیم صاحب خاموش کھڑے رہے، حضرت مسیح موعودؑ کبھی اس کے سرہانے کبھی پائنتی جاتے تھے۔ تقریباً بیس دفعہ حضور نے چکر لگائے ہوں گے۔ اور جو جو علاج حضور فرماتے تھے بعض لوگ چپکے سے حکیم صاحب کو بتاتے تھے کہ یہ نقصان کا باعث ہوگا مگر حکیم صاحب یہی جواب دیتے کہ آپ خود عرض کرلیں، مَیں اس وقت حضور کے سامنے بول نہیں سکتا۔ تقریباً حضورؑ آدھا گھنٹہ علاج کرتے رہے اور اس عرصہ میں محمد اکبر کو پیشاب بھی آگیا۔ مَیں نے محمد اکبر کو یہ کہتے سنا کہ حضرت صاحبؑ نے جو بائیس دن کا ذکر کیا ہے مجھے امید ہے کہ یہ مرض بائیس دن میں جائے گا۔ چنانچہ محمد اکبر کو بیس بائیس دن میں آرام آگیا۔

حضرت میاں فضل محمد صاحب ہرسیاں والے بیان کرتے ہیں کہ حضورؑ کی سیرت کا یہ واقعہ ہے کہ حضور کبھی اور کسی مرحلہ پر مایوس نہیں ہوتے تھے۔ میاں محمد اکبر صاحب مرحوم ایک دفعہ سخت بیمار ہوگئے۔ حضرت خلیفہ اولؓ نے بہت علاج کیا مگر کوئی کامیابی نہ ہوئی۔ آخر آپؓ نے علاج بند کردیا تو کسی نے حضرت اقدسؑ کو بھی اطلاع کردی۔ حضورؑ حضرت مولوی صاحب سے فرمانے لگے: کیا آپ مایوس ہوگئے؟ انھوں نے فرمایا حضور ان کے بچنے کی کوئی امید نہیں اس لیے علاج بند کردیا ہے۔ حضور یہ سن کر فرمانے لگے اچھا اب آپ علاج نہ کریں ہم علاج کریں گے چنانچہ حضورؑ نے علاج شروع کردیا اور میاں محمد اکبر صاحب اس مرض سے اچھے ہوگئے۔

ڈاکٹر عبدالستار صاحب نے بیان کیا کہ محمد اکبر خان بیمار تھے، پیشاب بند تھا، حضرت صاحبؑ مجھے ساتھ لے کر ان کے پاس تشریف لے گئے۔ چنانچہ معائنہ پر میں نے عرض کیا کہ اس کے لیے کیتھیٹر ( Catheter) کی ضرورت ہے، چنانچہ فوراً ایک آدمی امرتسر روانہ کیا وہ وہاں سے یہ اوزار لایا اور پھر پیشاب نکالا گیا۔

ان روایات سے حضرت مسیح موعودؑ کی اپنے خدام کے ساتھ شفقت اور محبت کا پتا لگتا ہے۔ آپؓ اسی مرض کے نتیجے میں 23جولائی 1900ء کو وفات پاگئے۔ حضرت اقدسؑ نے جنازہ پڑھایا اور قادیان میں تدفین ہوئی۔ آپ کی وفات کی خبر دیتے ہوئے اخبار الحکم نے یہ بھی لکھا: ’’…ایسا ہی اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْن کا بھی الہام ہواتھا جس سے حضرت اقدسؑ کے کسی مخلص دوست کی موت کا پتہ ملتا تھا۔ آخر یہ ساری باتیں (جو خدائے علیم کا کلام تھا) اپنے وقت پر پوری ہوئیں اور ان الہامات کے موافق ہماری جماعت کے بعض نہایت مخلص اور پُرجوش دوست ہم سے علیحدہ ہوئے از انجملہ میاں محمد اکبر صاحب ٹھیکیدار ساکن بٹالہ ہیں جو اس الہام کے موافق فوت ہوئے۔ مرحوم حضرت کا سچا عاشق اور مخلص خادم تھااور ہمیشہ اس سلسلہ کی خدمت کے لیے کمر بستہ رہتا تھا۔ حضرت اقدسؑ بعض اوقات فرمایا کرتے تھے کہ بٹالہ سے تو ہمارے حصہ میں میاں محمد اکبر ہی آئے ہیں۔

دارالامان قادیان سے آنے کے واسطے بٹالہ گویا دروازہ تھا اس لیے اکثر دوست آ کر بٹالہ میں ان کے ہی مکان پر ٹھہرا کرتے تھے اور اپنے بھائیوں کی خدمت نہایت اخلاص سے کیا کرتے تھے۔ پھر حضرت اقدسؑ اور دوسرے احباب متعینہ قادیان کی جو بلٹیاں وغیرہ باہر سے آیا کرتی تھی وہ سب میاں محمد اکبر ہی ریلوے سٹیشن سے چھڑوا کر روانہ کیا کرتے تھے۔ حضرت اقدسؑ کے ہاں مہمانوں کی آمد و رفت کے بکثرت ہونے کی وجہ سے اور الہام وَسِّعْ مَکَانَکَکے موافق سلسلہ تعمیرات شروع رہتا ہے اس کے مصالحہ وغیرہ کے بہم پہنچانے اور بھیجنے میں بڑی ہمت سے کام لیتے تھے اور یہ ان کا معمول تھا کہ جمعہ علی الخصوص حضرت کے ہمراہ پڑھا کرتے تھے کوئی بڑے سے بڑی ضرورت بھی ان کو نہ روکتی تھی۔ مرحوم کودرد گردہ کی شکایت تھی جس سے گردہ کے عمل میں خلل واقع ہوا اور پیشاب بند ہو گیا۔ پہلی مرتبہ جب ان کو یہ شکایت ہوئی تو وہ حضرت اقدس ہی کی قدموں میں آ رہے، حضرت اقدس نے جس دل سوزی اور ہمدردی اور غمخواری کے ساتھ ان کے علاج میں سعی کی ہم خدا کی قسم کھا کر کہتے ہیں کہ اس قدر جوش اور غم وہم نے حقیقی والدین میں بھی محسوس نہیں کیا، ہر پندرہ منٹ کے بعد خبر منگواتے اور خود بار بار ان کے مکان پر تشریف لے جاتے۔ آپ کی اس قدر ہمدردی اور غمخواری ہی ایک سلیم الفطرت انسان کے لیے آپ کی صداقت کی دلیل ہے، افسوس ہے ہم اس جوش کو جو حضرت اقدسؓ کو میاں محمد اکبر کی بیماری کے علاج میں تھا الفاظ میں بیان نہیں کر سکتے، آخر آپ کی پرسوز نیم شبی دعاؤں نے مسیحائی اثر دکھایا اور ایک مُردہ کو زندہ کر دیا۔ کوئی دو مہینہ کے بعد پھر یہ دورہ ہوا، مرحوم کی دلی آرزو تھی کہ میری موت حضرت اقدسؑ کے قدموں پر ہو۔ اس مرتبہ حضرت اقدس ہی کے مکان میں ٹھہرا۔ بہت علاج کیا لیکن موت کا کیا علاج! آخر 23؍جولائی 1900ء بروز جمعرات نماز مغرب کے بعد مرحوم نے جان دی، جمعہ کی صبح کو حضرت نے جنازہ پڑھا اور دارالامان ہی میں دفن ہوا۔ …‘‘

آپؓ کے بڑے بیٹے حضرت محمد ابراہیم صاحبؓ فرماتے ہیں: ’’میرے والد صاحب مکرم میاں محمد اکبر صاحب ٹھیکیدار جولائی 1900ء میں قادیان میں آ کر فوت ہوئے تھے، حضرت مسیح موعودؑ نے ان کا جنازہ بڑ کے درخت کے نیچے پڑھایا۔ میں اور میرے چھوٹے بھائی چارپائی کے ارد گرد پھرتے تھے اور حضور کے پیچھے بہت لوگ تھے، مولوی خیرالدین صاحب سیکھوانی کی زبانی معلوم ہوا کہ نماز جنازہ بہت لمبی پڑھائی تھی، نماز جنازہ کے بعد حضرت نورالدین اعظمؓ نے فرمایا کہ کاش یہ جنازہ میرا ہوتا۔ حضرت میاں خیرالدین صاحب سیکھوانی ؓفرماتے ہیں: حضورؑ کو اپنے خادموں کی جدائی پر بہت صدمہ محسوس ہوتا تھا، چنانچہ جس روز میاں محمد اکبر صاحب تاجر چوب بٹالہ فوت ہوئے تو مولوی عبداللہ صاحب کشمیری نے ایک نظم تیار کی تھی انہوں نے بعد نماز جمعہ سنانے کی درخواست کی تو آپؑ نے فرمایا کہ ’’آج محمد اکبر فوت ہو گیا ہے اس وقت میری طبیعت سننا نہیں چاہتی‘‘۔

حضرت میاں محمد اکبر صاحبؓ کی وفات کے بعد حضورؑ نے آپؓ کی اولاد سے بہت مشفقانہ سلوک فرمایا۔ چنانچہ حضرت ابراہیم صاحبؓ فرماتے ہیں: کچھ دنوں کے بعد حضورؑ نے مجھ کو کہ میں اپنے بھائی بہنوں میں بڑا تھاقادیان میں بلا لیا۔ مغرب کی نماز کے معاً بعد شیخ محمد اسماعیل صاحب سرساوی نے مسجد مبارک میں پیش فرما کر عرض کی کہ حضور یہ محمد اکبر مرحوم ٹھیکیدار کا لڑکا ہے۔ سکول میں داخل کرلیا ہے، اس کے لیے کھانے کا انتظام کیا ہو؟ حضور نے ارشاد فرمایا ہمارے لنگر سے۔ یہ واقعہ 1900ء کا ہے۔ اس برکت کی وجہ سے ہی میں قادیان میں پڑھا، چلا، بڑھا، پھولا اور پھلا۔

حضرت میاں محمد اکبر صاحب کے دو بھائیوں کو بھی صحابی ہونے کی سعادت حاصل ہے، جن میں سے ایک حضرت میاں محمد بخش صاحبؓ (وفات مارچ 1932ء) ہیں جو حضرت مولوی محمد حسین صاحبؓ سبز پگڑی والے کے والد محترم تھے اور دوسرے حضرت میاں اللہ یار صاحبؓ (وفات 26نومبر 1944ء بعمر 110سال مدفون بہشتی مقبرہ قادیان)ہیں۔

حضرت میاں محمد اکبر صاحبؓ نے دو شادیاں کیں۔ دونوں بیویوں نے 1900ء سے پہلے ہی بیعت کرلی تھی۔ دونوں بیویاں ایک ہی گھر میں رہتی تھیں لیکن آپس میں کوئی سوتنوں والا سلوک نہیں تھا بلکہ ایک دوسرے کو آپس میں بہن جی کہتی تھیں۔ پہلی بیوی حضرت امام بی بی صاحبہؓ قادیان ہی کی رہنے والی تھیں۔ اُن کی پیدائش 1862ء کی ہے۔ شادی کے بعد حضرت میاں محمد اکبر صاحبؓ کے ساتھ بٹالہ ہی میں رہیں اور اُن کی وفات کے بعد قادیان آگئیں جہاں خاندان حضرت اقدس مسیح موعودؑ کی خدمت کا موقع پایا۔ حضرت اماں جانؓ کی خصوصی خدمت کا شرف حاصل تھا اور کئی سفروں میں اُن کے ساتھ رہیں۔ ان کے بطن سے حضرت میاں محمد اکبر صاحبؓ کے تین بیٹے اور ایک بیٹی جبکہ دوسری بیوی سے دو بیٹے ہوئے۔ آپ کے بچوں کو بوجہ قادیان میں رہنے کے حضرت مسیح موعودؑ کی زیارت کا شرف حاصل تھا۔

………٭………٭………٭………

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 27؍اپریل 2013ء میں مکرمہ امۃالباری ناصر صاحبہ کی ایک نظم بعنوان ’’نئے عزم‘‘ شامل اشاعت ہے۔ اس نظم میں سے انتخاب ہدیۂ قارئین ہے:

اپنے رہبر سے قدم ہم کو ملانے ہوں گے

اب عبادات کے معیار بڑھانے ہوں گے

ساری دنیا کو خدا پاک کا رنگ دینا ہے

اب نئے ارض و سما ہم کو بنانے ہوں گے

جو دیا مولا نے سب اُس کو ہی لَوٹانا ہے

خود کو بیچا ہے تو اقرار نبھانے ہوں گے

معاملے سیدھے، کھرے، صاف ہی رکھنے ہوں گے

اس کی درگہ میں کہاں عذر بہانے ہوں گے

اس بھری دنیا میں کوئی بھی نہیں جائے پناہ

اِک فقط آپؐ کے سائے میں ٹھکانے ہوں گے

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button