الفضل ڈائجسٹ

الفضل ڈائجسٹ

(محمود احمد ملک)

اس کالم میں ان اخبارات و رسائل سے اہم و دلچسپ مضامین کا خلاصہ پیش کیا جاتا ہے جو دنیا کے کسی بھی حصے میں جماعت احمدیہ یا ذیلی تنظیموں کے زیرانتظام شائع کیے جاتے ہیں۔

مکرم محمد اشرف اسحاق صاحب مبلغ سلسلہ

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 5؍اپریل 2013ء میں مکرم محمد اشرف اسحاق صاحب مربی سلسلہ کا تفصیلی ذکرخیر اُن کی اہلیہ محترمہ ف۔ بشیر صاحبہ کے قلم سے شامل اشاعت ہے۔

مضمون نگار رقمطراز ہیں کہ 4؍ستمبر2011ء کو میرے شفیق اور مخلص شوہر مکرم محمد اشرف اسحاق صاحب چالیس سالہ رفاقت کے بعد اپنے مولائے حقیقی سے جاملے۔ پاکستان بننے کے بعد جب آپ کے والدین ہجرت کرکے پاکستان آئے تو آپ کی عمر قریباً دو سال کی تھی۔ چھ ماہ بعدہی آپ کے والد محترم چودھری محرم دین صاحب انتقال کرگئے۔آپ کی والدہ کے سارے رشتہ دار چونکہ انڈیا میں رہ گئے تھے اس لیے اُن کے لیے بڑی مشکل زندگی کا آغاز ہوا۔ عزیزوں نے اُن کا نکاح ثانی کرادیا اور وہ اپنی برادری کے لوگوں کے ساتھ مختلف علاقوں سے ہوتے ہوئے نواب شاہ سندھ میں مکرم حاجی قمردین صاحب اور مکرم حاجی کریم بخش صاحب کی گوٹھ قمرآباد میں مقیم ہوگئیں۔ یہ دونوں بھائی احمدی تھے اور ان دونوں کے نیک نمونے سے متأثر ہوکر اس نئی برادری نے بھی احمدیت قبول کرلی۔

مکرم اشرف صاحب کی والدہ کو اپنے بچوں کو تعلیم دلانے کا بہت شوق تھا۔ ایک بار کسی مولانا صاحب نے اپنی تقریر میں لوگوں کو ترغیب دلائی کہ وہ اپنے بچوں کو تعلیم کے لیے ربوہ بھجوائیں تو انہوں نے اُسی وقت فیصلہ کرلیا کہ آپ کو ضرور ربوہ بھیجیں گی۔ چنانچہ اس سال جب جلسہ سالانہ پر محترم حاجی قمرالدین صاحب کی اہلیہ مکرمہ راستی بیگم صاحبہ ربوہ آئیں تو انہوں نے اُن کے ہمراہ اپنے بیٹے کو بھی بھجوادیا۔ ربوہ میں آپ کو محترم میر داؤد احمد صاحب کے سپرد کردیا گیا۔ محترم میر صاحب نے جب دیکھا کہ بچہ کم عمر ہے اور اس ماحول میں بالکل نیا ہے، اردو زبان بھی نہیں آتی۔ تو انہوں نے کچھ عرصے کے لیے آپ کو محترمہ صاحبزادی امۃالنصیر بیگم صاحبہ کے گھر میں رکھا اور بعد میں جامعہ احمدیہ میں داخل کرلیا۔

مکرم اشرف صاحب کا گھر چونکہ بہت دُور تھا اس لیے کئی بار عید وغیرہ پر بھی نہ جاسکتے تو تنہائی اور جدائی کا مداوا کرنے کے لیے اکیلے ہی گراؤنڈ میں جاکر فٹ بال کھیلتے رہتے۔ جامعہ کی فٹ بال ٹیم کے کیپٹن بھی رہے۔ طبیعت میں بہت نفاست اور صفائی تھی۔ ایک بار کسی نے محترم میر داؤد احمد صاحب کو کہا کہ اشرف اپنے کپڑوں پر بہت خرچ کرتا ہے۔ میر صاحب نے آپ کو اپنے دفتر بلوایا، اوپر سے نیچے تک دیکھ کر فرمایا: ایسے ہی رہا کرو۔ اور واپس بھیج دیا۔

جامعہ پاس کرنے کے بعد کچھ عرصہ تخت ہزارہ میں متعین رہے اور پھر یوگنڈا کے لیے نامزدگی ہوئی۔ اُن دنوں ہدایت تھی کہ مبلغین شادی کرکے جائیں۔ اُنہی دنوں میرے والد مکرم بشیر احمد صاحب کو بنگلہ دیش میں شہید کردیا گیا تو ہمارے گھر میں معاشی مسائل نے سر اٹھایا اور اس کے حل کے طور پر ہم بہنوں کی شادی کرنے کی تجویز ہوئی۔ چنانچہ میرا رشتہ آپ کے ساتھ ہوگیا۔ مَیں اُس وقت تھرڈ ایئر میں تھی۔ آپ نے میری امّی کو کہا کہ یہ بےشک پڑھتی رہے۔ اس طرح آپ کی معاونت سے میری خواہش پوری ہوگئی اور آپ شادی کے تین ماہ بعد 1972ء میں یوگنڈا چلے گئے۔ لیکن عدی امین نے ایشین لوگوں کو وہاں سے نکال دیا تو چھ ماہ بعد ہی آپ واپس آگئے۔ پھر 1973ء کے شروع میں تنزانیہ بھجوائے گئے۔ اسی سال ہماری پہلی بیٹی پیدا ہوئی۔مئی 1977ء میں ہمیں بھی تنزانیہ بھیج دیا گیا جہاں اللہ تعالیٰ نے ایک بیٹا اور دو بیٹیاں مزید عطا فرمائے۔بیٹے کی پیدائش سے قبل آپ نے نماز کے لیے مسجد میں داخل ہوتے وقت یہ آواز سنی: رَبّ لَا تَذَرْنِیْ فَرْدًا وَّ اَنْتَ خَیْرُالْوَارِثِیْن۔ تو گھر آکر مجھے بتایا اور کہا کہ ہمیں خداتعالیٰ بیٹا عطا فرمائے گا۔

حضرت خلیفۃالمسیح الثالثؒ کے آخری دنوں میں ہم دونوں میاں بیوی نے ایک ہی خواب دیکھی کہ حضرت مرزا طاہر احمد صاحبؒ تنزانیہ کی مسجد میں ایسے انداز سے چل رہے ہیں کہ بہت بڑا رتبہ ہے۔ بعد میں حضورؒ نے بحیثیت خلیفۃالمسیح تنزانیہ کا دورہ بھی فرمایا۔ اگرچہ ہماری فیملی 1981ء میں واپس ربوہ آگئی تھی۔ وہ ہمارے لیے مشکل سال تھے جب چھوٹے بچوں کے ساتھ دوبارہ سیٹ ہونا تھا۔ آپ کی تعیناتی دفتر پرائیویٹ سیکرٹری میں ہوگئی۔ انتخاب خلافتِ رابعہ کے وقت بھی آپ کو خدمت کا موقع ملا۔ آپ خود بھی خلافت کمیٹی کے ممبر تھے۔ آپ ناظم اطفال مجلس خدام الاحمدیہ مقامی بھی رہے اور آپ کی اَن تھک محنت اور دعاؤں سے ربوہ کی مجلس عَلم انعامی کی حقدار قرار پائی۔ بعدازاں آپ کو مجلس خدام الاحمدیہ مرکزیہ میں بطور معتمد خدمت کا موقع ملا۔ اسی دوران بطور امیرو مبلغ انچارج سورینام تقرری ہوگئی اور جنوری 1984ء میں آپ روانہ ہوگئے۔ ایک سال بعد ہمیں بھی وہاں بھجوادیا گیا۔ 1989ء میں وہاں سے واپسی کا ارشاد ملا تو آپ کی خواہش تھی کہ جوبلی کے سال میں لندن کے جلسے میں شرکت کا موقع مل جائے لیکن آپ نے اس کا اظہار نہیں کیا تھا کہ اتنے میں حضرت خلیفۃالمسیح الرابعؒ کی طرف سے جلسہ میں شامل ہونے کے بعد ربوہ واپس جانے کے متعلق ہدایات مل گئیں۔چنانچہ ہم نے لندن میں ایک ماہ قیام کیا اور پھر ربوہ آگئے جہاں شعبہ تاریخ احمدیت میں آپ کی تقرری ہوئی۔

مکرم اشرف صاحب کو 1991ء کے جلسہ سالانہ قادیان میں شمولیت کا بھی موقع ملا۔ اس موقع پر حضورؒ سے ملاقات کا شرف حاصل ہوا اور آپ نے اپنی والدہ کے رشتہ داروں کو تلاش کرکے اُنہیں قادیان بلواکر اپنی والدہ سے بھی ملاقات کروادی (جو قیام پاکستان کے بعد سے اپنے عزیزوں کو ملنے کے لیے بےچین رہتی تھیں۔)

ستمبر 1992ء میں آپ کو فجی بھجوادیا گیا۔ 1995ء میں آپ کی والدہ کی وفات ہوگئی۔ پردیس میں والدہ کی جدائی بہت بڑا دکھ تھا۔ دسمبر 1995ء میں آپ واپس آگئے اور کچھ عرصہ پشاور میں متعین رہے۔ پھر وکالت تصنیف میں تقرری ہوگئی اور وفات تک یہیں خدمت کی توفیق پائی۔

2007ء میں ہم دونوں قادیان جلسہ میں شرکت کے لیے گئے۔ واپسی پر آپ کو نمونیا ہوگیا۔ زیادہ پروا نہ کرنے پریہ بگڑ گیا اور علاج کے باوجود سردیوں میں تکلیف زیادہ ہوجاتی جو بالآخر جان لیوا ثابت ہوئی۔

آپ بہت بہادر اور حوصلہ مند تھے۔ بچپن میں کئی بار کھیتوں کی نگرانی اکیلے کیا کرتے تھے۔ تنزانیہ کے ایک جلسہ سالانہ کے موقع پر ایک بار ایک مخالف چھرا لہراتا ہوا سٹیج پر پہنچ گیا تو بھگدڑ مچ گئی۔ آپ کے پاس ٹیپ ریکارڈر موجود تھا، آپ نے وہی اُس کے چھرے پر مارا۔ اس دوران دوسرے افراد نے لپک کر اُسے پکڑلیا۔

آپ نمازوں کے بہت پابند تھے۔ جب تک ہوسکا نمازباجماعت ادا کرتے رہے۔ چندوں میں بھی آگے ہی رہتے۔ نئی کتاب چھپتی تو خرید کر لے آتے۔ آخری چند سال کوارٹرز تحریک جدید کے صدر بھی رہے۔ دوسروں کے جذبات کا خاص طور پر خیال رکھتے۔ بچوں کی تعلیم و تربیت کا بہت خیال رکھتے۔ اللہ کے فضل سے سب بچوں نے اعلیٰ تعلیم حاصل کی اور اُن کی شادیوں کی خوشیاںبھی خدا نے دکھائیں۔

………٭………٭………٭………

مکرم مولوی سلطان صاحب

روزنامہ’’الفضل‘‘ربوہ 5؍اپریل 2013ء میں مکرم مولوی سلطان صاحب معلّم وقف جدید کا ذکرخیر مکرم عطاءالعلیم شاہد صاحب کے قلم سے شامل اشاعت ہے۔

مکرم مولوی سلطان صاحب خود مطالعہ کرکے احمدی ہوئے اور پھر اپنی زندگی وقف کرکے وقف جدید میں بطور معلّم خدمت کی توفیق پاتے رہے۔ آپ جماعت احمدیہ چک سکندر کے ابتدائی معلّمین میں سے تھے۔ لمبا عرصہ پنجاب و سندھ کے مختلف اضلاع میں خدمت کی توفیق پائی۔ بالآخر بوجہ بیماری و عمر ریٹائرڈ ہوگئے لیکن اس کے باوجود مقامی جماعت میں پہلے کی طرح اپنے مفوضہ امور بجالاتے رہے۔ نماز فجر کے بعد بچوں کو پڑھانا، عصر کے بعد گھروں میں بڑی بچیوں کو پڑھاتے اور مغرب کے بعد اطفال کی کلاس لیتے۔ بچوں کی تعلیم و تربیت میں کمی پر بہت دکھی ہوتے اور ہمہ وقت اُن کی تربیت کی فکر میں رہتے۔ سمجھانے کا انداز بہت سادہ تھا۔ رشتہ ناطہ کے کام میں بھی بہت دلچسپی لیتے اور جھگڑوں میں صلح کروانے کی بھرپور کوشش کرتے۔اسیران کی لمبی اسیری کا بہت غم محسوس کرتے۔ خلافت سے عشق تھا۔ نماز جمعہ کے بعد حضورانور کا خطبہ جمعہ سن کر ہی واپس گھر لَوٹتے۔ آپ کی نرینہ اولاد ہوتی تو تھی مگر جلدی فوت ہوجاتی تھی۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ایک بیٹا محمودؔ عطا کیا جسے آپ نے وقف نو میں شامل کروایا۔ خداتعالیٰ کے فضل سے وہ اب شادی شدہ ہے۔

………٭………٭………٭………

مگرمچھ

عموماً گرم علاقوں میں پائے جانے والے جانور مگرمچھ کے بارے میں ایک مختصر معلوماتی مضمون ماہنامہ ’’تشحیذالاذہان‘‘ ربوہ دسمبر 2012ء میں شامل ہے۔

مگرمچھ پانی اور خشکی دونوں جگہوں پر رہ سکتا ہے۔ خشکی پر اس کی بعض اقسام کی رفتار گیارہ کلومیٹر فی گھنٹہ ہوتی ہے۔ اس کا منہ بڑا، جبڑے مضبوط اور دانت بہت تیز اور بہت زیادہ ہوتے ہیں۔ اپنے مضبوط جبڑوں سے جب کسی کو پکڑے تو کوئی اُسے چھڑا نہیں سکتا۔ اس کی جلد بہت سخت ہوتی ہے۔ زیادہ تر مچھلیاں اور پرندے کھاتا ہے لیکن کبھی کبھار چھوٹے مگرمچھوں، دیگر جانوروں اور شارک مچھلیوں کو بھی کھا جاتا ہے۔ عام طور پر اپنے شکار کا بہت خاموشی سے انتظار کرتا ہے البتہ غصّے میں آئے تو آوازیں بھی نکالتا ہے۔ زیادہ تر پانی کے اوپر تیرتا رہتا ہے لیکن باہر سے نظر نہیں آتا۔ اگر اسے تنگ کیا جائے تو انسانوں پر بھی حملہ کردیتا ہے۔عموماً اس کی عمر ستّر سال ہوتی ہے لیکن بعض مگرمچھ سو سال سے زیادہ عرصہ زندہ رہتے ہیں۔ مگرمچھ میں پسینہ خارج کرنے والے غدود نہیں ہوتے اس لیے یہ منہ کھول کر سوتے ہیں۔ ایک بڑے مگرمچھ کا وزن تقریباً بارہ سو کلوگرام تک اور عموماً جسامت ایک سے ڈیڑھ میٹر تک ہوسکتی ہے لیکن بعض اقسا م کے مگرمچھ پانچ میٹر لمبے ہوتے ہیں۔ سب سے بڑا مگرمچھ 1974ء میں آسٹریلیا میں مارا گیا تھا جس کی لمبائی 6.2 میٹر تھی۔

مگرمچھ کو اس کی کھال کے لیے شکار کیا جاتا ہے جس کی وجہ سے ان کی نسل خطرے میں ہے اور کئی ممالک میں ان کے شکار پر پابندی ہے۔

………٭………٭………٭………

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close