یورپ (رپورٹس)

شعبہ تبلیغ جرمنی کی مساعی کی مختصر رپورٹ

قارئین الفضل انٹرنیشنل کی خدمت میں ماہ اکتوبر2021ء میں شعبہ تبلیغ جرمنی کے ذریعہ ہونے والی مساعی کی مختصر جھلکیاں بغرض دعا پیش خدمت ہیں:

اسلام و قرآن نمائش جماعت Bad Kreuznach

جماعت احمدیہ جرمنی کو گذشتہ دو دہائیوں سے غیر مسلم احباب کو احمدیت یعنی حقیقی اسلام کا تعارف کروانے کے لیے اسلام وقرآن نمائشیں لگانے کی توفیق مل رہی ہے۔ لیکن کورونا کی وجہ سے ان نمائشوں کو لگانا ممکن نہ تھا اب کچھ حالات بہتر ہوئے ہیں اور حکومتی پالیساں نرم ہونے پر مورخہ18؍ستمبر2021ء کو جماعت Bad Kreuznach کو ایک روزہ نمائش لگانے کی توفیق ملی۔

مقامی جماعت نے اس نمائش کو لگانے کے لیے تقریباً ایک ماہ قبل تیاری شروع کردی تھی۔ اس نمائش کی تشہیر کے لیے 2500دعوت نامے مقامی احباب جماعت نے مختلف ذرائع سے تقسیم کیے اور اپنے جاننے والے جرمن احباب اور مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے لوگوں تک پہنچائے۔

اس نمائش کے لیے ایک ہال کرائے پر حاصل کیا گیا جس میں ایک دن قبل مکرم احسن فہیم بھٹی صاحب مربی سلسلہ شعبہ تبلیغ کی نگرانی میں نمائش لگائی گئی۔ اس نمائش میں اسلامی تعلیمات پر مبنی 16بڑےبڑے بینرز ترتیب کے ساتھ لگائے گئے تھے۔ اسی طرح دُنیا بھر کی 70سے زائد زبانوں میں جماعت احمدیہ کی طرف سے کیے جانے والے تراجم قرآن نمائش کے لیے رکھے گئے۔ اس نمائش کو دیکھنے کے لیےصوبہ ہیسن (Hessen) کے ایڈمنسٹر کے علاوہ 25مہمان تشریف لائے جنہیں اللہ کے فضل سے جماعت کا تفصیلی تعارف کروایا گیا۔ دیگر مقامی احباب کے علاوہ مکرم عبدالسمیع صاحب مقامی سیکرٹری تبلیغ اور اُن کے صاحبزادے نے خصوصی تعاون کیا۔

Open Mosque Day

3؍اکتوبر کا دن جرمنی کے لیے بڑی خصوصیت اور اہمیت کا حامل دن ہے۔ اس دن کو دیوارِ برلن گرنے اور مغربی اور مشرقی جرمنی کے ادغام کو علامتی طور پر بڑی شان وشوکت سے منایا جاتا ہے۔ ہم احمدی بھی جذبہ حب الوطن من الایمان کے تحت اس دن اپنی مساجد میں اہالیان یورپ اور دیگر اقوام ومذاہب کے خواتین وحضرات کو مدعو کرتے ہیں۔ اس طرح ہمیں موقع ملتا ہے کہ ہم انہیں احمدیت یعنی حقیقی اسلام کا تعارف کرائیں اور انہیں اپنی مساجد دکھائیں اور اسلام کے روشن اور جاذبِ نظر چہرے کو دکھائیں ۔

1997ءسے جماعت احمدیہ جرمنی کو 3؍اکتوبر کو جرمنی کی تمام مسا جد میں Open Mosque Day منانے کی توفیق مل رہی ہے۔ الحمدللہ

امسال کورونا وبا کی وجہ سے یہ پروگرام صرف جرمنی کی 50مساجد میں وفاقی و صوبائی سطح پر مقررہ پابندیوں اور احتیاطی تدابیر کو مد نظر رکھتے ہوئے منعقد کیا گیا۔ اللہ کے فضل سے مختلف اقوام کے1825 مردو زن نے ہماری مساجد کا دورہ کیا۔

خدام الاحمدیہ نے اس دن کی مناسبت سے بین المساجد سائیکل ٹوؤر بھی پلان کیا تھا۔ اللہ کے فضل سے 45 سے زائد مساجد سے سائیکل سوار نکلے اور سفر کیا۔ اس سفر کا مقصد وطن سے محبت اور یکجہتی کا اظہار تھا۔ ہمارے نوجوان ’’حب الوطن من الایمان‘‘ کے عنوان کی ٹی شرٹس پہنے ہوئے تھے۔

امسال ہماری50مساجد میں مجموعی طور پر 2100 جرمن مہمان تشریف لائے۔

سوشل میڈیا یعنی ٹوئٹر، انسٹاگرام اور فیس بک کے ذریعے ایک ملین احباب تک جماعت احمدیہ کا پیغام پہنچا۔

امسال نور مسجد فرانکفورٹ میں اسی دن کی مناسبت سے ایک پینل ڈسکشن کا بھی اہتمام کیا گیا جس کا عنوان ’’فرانکفورٹ میں مختلف مذاہب‘‘ رکھا گیا تھا۔ اس پروگرام میں مذاہب کے حوالے سے مواقع، نقطۂ نظر اور فی زمانہ مذہبی چیلنجز و مسائل پر بات ہوئی۔ اس گفتگو کی میزبانی مکرم منان ناصر صاحب نے کی جبکہ معزز مہمانوں میں جناب Bastian Bergergoffجو سیاسی پارٹی گرین سے تعلق رکھتے ہیں اور فرانکفورٹ کے خزانچی و چرچ کے نگران ہیں شامل تھے۔ دوسرے مہمان مکرم Stephan Siegler صاحب تھے۔ موصوف کا تعلق سیاسی پارٹی CDUفرانکفورٹ سے ہے اور یہاں کونسلر کی حیثیت سے کام کر رہے ہیں۔ تیسرے مہمان مکرم Turgut Yüksel صاحب تھے موصوف کا تعلق سیاسی پارٹی SPDسے ہے اور جرمنی کے صوبہ ہیسن کے ممبر آف پارلیمنٹ ہیں۔ جماعت کی طرف سے مکرم امتیاز احمد شاہین صاحب مربی سلسلہ شریک گفتگو ہوئے۔ یہ پروگرام بہت اچھا رہا اس دن فرانکفورٹ کی مسجد نور میں 135مہمان تشریف لائے۔

اسی طرح Wittlich جماعت کے صدر صاحب اپنی تفصیلی رپورٹ میں بتاتے ہیں کہ ایک سال کے تعطل کے بعد پروگرام منعقد کیا۔ سوشل میڈیا کے ذریعہ تقریباً 2800افراد تک دعوت نامہ پہنچا۔ مسجد صبح 10بجے سے شام 6بجے تک کھلی رہی۔ مہمانوں کے لیے بک سٹال اور اسلام نمائش بھی لگائی گئی تھی۔ اس موقع پر شہری انتظامیہ کی طرف سے کونسلر اور آئندہ بننے والے میئر صاحب کے علاوہ 12ایسے مہمان تشریف لائے جنہوں نے کافی دیر مسجد میں گزاری اور مختلف موضوعات پر دوستانہ ماحول میں گفتگو ہوئی۔ کل 33مہمان تشریف لائے۔

امسال ہماری مختلف مساجد میں سیاسی، سماجی، مذہبی اور شہری انتظامیہ کے ممبران تشریف لائے جیساکہ مسجد بیت القادر Vechta میں تشریف لانے والوں میں مندرجہ ذیل شخصیات آئیں۔ مقامی میئر کے نمائندے اپنی فیملی کے ساتھ، سیاسی پارٹی SPDکے سرگرم رکن، شہری انتظامیہ کا ایک نمائندہ، ایک پروفیسر صاحب اور مقامی چرچ کے پادری صاحب۔ ان مہمانوں کے ساتھ دلچسپ گفتگوہوئی اور انہیں جماعت احمدیہ کا حتی المقدور تعارف کروایا گیا اور بعض جماعتی کتب انہیں بطور تحفہ پیش کی گئیں۔

کاسل کی مسجد میں ہونے والے پروگرام کے متعلقFHHریڈیو چینل نے دو تین بار خبر نشر کی۔ دیگر مہمانوں جن کی تعداد67تھی کہ علاوہ مقامی میئر کے نمائندے، صوبائی ممبر آف پارلیمنٹ، 6سکول ٹیچرز، ایک آرمی افسر، نوجوانوں کی تنظیم کی سربراہ کے علاوہ چرچ کی طرف سے نمائندہ خاتون تشریف لائیں۔

اخبارات ، ریڈیو اور سوشل میڈیا کوریج

اس پروگرام کے حوالے سے جرمنی بھر کی مختلف مقامی ونیشنل سطح کی اخبارات نے پروگرام سے پہلے بھی اور بعد میں بھی خبریں شائع کیں۔ اسی طرح تقریباً 28 آن لائن اخبارات نے بھی جماعت احمدیہ کی مساجد کے حوالے سے خبریں شائع کیں۔ نیز سوشل میڈیا کے ذریعہ بھی لاکھوں افراد تک جماعت احمدیہ کا پیغام پہنچا۔

(رپورٹ: صفوان احمد ملک۔ شعبہ تبلیغ جرمنی)

٭…٭…٭

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button