کلام امام الزمان علیہ الصلاۃ والسلام

حضرت عیسیٰؑ کے وقت میں یہودیوں کے علماء کا عموماً چال چلن بہت بگڑ چکا تھا۔ اور اُن کا قول اور فعل باہم مطابق نہ تھا۔

(گزشتہ سے پیوستہ۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام میں مذہبی پہلو کے رُو سے سولہ خصوصیتیں)

(۳)تیسری یہ کہ وہ ایسے وقت میں آیا تھا کہ جبکہ یہودی بہت سے فرقوں میں منقسم ہو چکے تھے اور ہر ایک فرقہ دوسرے فرقہ کا مخالف تھا اور ان سب میں باہم سخت عناد اور خصومتیں پیدا ہوگئی تھیں اور توریت کے اکثر احکام بباعث ان کے کثرت اختلافات کے مشتبہ ہوگئے تھے صرف وحدانیّت الٰہی میں وہ باہم اتفاق رکھتے تھے باقی اکثر مسائل جزئیہ میں وہ ایک دوسرے کے دشمن تھے اور کوئی واعظ ان میں باہم صلح نہیں کرا سکتا تھا اور نہ ان کا فیصلہ کر سکتا تھا۔ اس صورت میں وہ ایک آسمانی حکم یعنی فیصلہ کنندہ کے محتاج تھے جو خدا سے جدید وحی پاکر اہلِ حق کی حمایت کرے اور قضاو قدر سے ایسی ضلالت کی ملونی ان کے کل فرقوں میں ہوگئی تھی۔ جو خالص طور پر ان میں ایک بھی اہلِ حق نہیں کہلا سکتا تھا۔ ہر ایک فرقہ میں کچھ نہ کچھ جھوٹ اور افراط و تفریط کی آمیزش تھی۔ پس یہی وجہ پیدا ہوگئی تھی کہ یہود کے تمام فرقوں نے حضرت مسیح کو دشمن پکڑ لیا تھا اور ان کی جان لینے کی فکر میں ہوگئے تھے کیونکہ ہر یک فرقہ چاہتا تھا کہ حضرت مسیح پورے طور پر ان کا مصدق ہو اور ان کو راستباز اور نیک چلن خیال کرے اور ان کے مخالف کو جھوٹا کہے اور ایسا مداہنہ خدا تعالیٰ کے نبی سے غیر ممکن تھا۔ (۴)چہارم یہ کہ مسیح ابن مریم کیلئے جہاد کا حکم نہ تھااور حضرت موسیٰؑ کا مذہب یونانیوں اور رومیوں کی نظر میں اِس وجہ سے بہت بدنام ہو چکا تھا کہ وہ دین کی ترقی کیلئے تلوار سے کام لیتا رہا ہے گو کسی بہانہ سے۔ چنانچہ اب تک ان کی کتابوں میں موسیٰؑ کے مذہب پر برابر یہ اعتراض ہیں کہ کئی لاکھ شیر خوار بچے اس کے حکم اور نیز اس کے خلیفہ یشوع کے حکم سے جو اس کا جانشین تھا قتل کئے گئے۔ اور پھر داؤدؑ اور دوسرے نبیوں کی لڑائیاں بھی اس اعتراض کو چمکاتی تھیں پس انسانی فطرتیں اس سخت حکم کو برداشت نہ کر سکیں اور جب یہ خیالات غیر مذہب والوں کے انتہاء تک پہنچ گئے تو خدا تعالیٰ نے چاہا کہ ایک ایسا نبی بھیج کر جو صرف صلح اور امن سے مذہب کو پھیلائے توریت پر سے وہ نکتہ چینی اُٹھاوے جو غیر قوموں نے کی تھی۔ سو وہ صلح کا نبی عیسیٰؑ ابن مریم تھا (۵) پانچویں یہ کہ حضرت عیسیٰؑ کے وقت میں یہودیوں کے علماء کا عموماً چال چلن بہت بگڑ چکا تھا۔ اور اُن کا قول اور فعل باہم مطابق نہ تھا۔ ان کی نمازیں اور ان کے روزے محض ریاکاری سے پُر تھے اور وہ جاہ طلب علماء رومی سلطنت کے نیچے ایسے دنیا کے کیڑے ہو چکے تھے کہ تمام ہمتیں ان کی اسی میں مصروف ہوگئی تھیں کہ مکر سے یا خیانت سے یا دغا سے یا جھوٹی گواہی سے یا جھوٹے فتووں سے دنیا کما ویں۔ ان میں بجز زاہدانہ لباس اور بڑے بڑے جبّوں کے ایک ذرہ روحانیت باقی نہیں رہی تھی۔ وہ رومی سلطنت کے حکام سے بھی عزت پانے کے بہت خواہاں تھے۔ اور طرح طرح کے جوڑ توڑ اور جھوٹی خوشامد سے سلطنت سے عزت اور کسی قدر حکومت حاصل کرلی تھی اور چونکہ ان کی دنیا ہی دنیا رہ گئی تھی اس لئے وہ اس عزت سے جو توریت پر عمل کرنے سے آسمان پر مل سکتی تھی بالکل لاپروا ہو کر دنیا پرستی کے کیڑے بن گئے تھے اور تمام فخر دنیا کی وجاہت میں سمجھتے تھے اور اسی وجہ سے معلوم ہوتاہے کہ اس ملک کے گورنر پر جو رومی سلطنت کی طرف سے تھا کسی قدر ان کا دباؤ بھی تھا۔ کیونکہ ان کے بڑے بڑے دنیا پرست مولوی دور دراز سفر کر کے قیصر کی ملاقات بھی کرتے۔ اور سلطنت سے تعلقات بنا رکھے تھے اور کئی لوگ ان میں سے سلطنت کے وظیفہ خوار بھی تھے۔ اسی بناء پر وہ لوگ اپنے تئیں سلطنت کے بڑے خیر خواہ جتلاتے تھے اس لئے وہ اگرچہ ایک نظر سے زیر نگرانی بھی تھے مگر خوشامدانہ طریقوں سے انہوں نے قیصر اور اس کے بڑے حکام کو اپنی نسبت بہت نیک ظن بنا رکھا تھا۔ انہیں چال بازیوں کی وجہ سے علماء ان میں سے سلطنت کے حکام کی نظر میں معزز سمجھے جاتے تھے اور کرسی نشین تھے۔ لہٰذا وہ غریب گلیل کا رہنے والا جس کا نام یسوع بن مریم تھا۔ ان شریر لوگوں کیلئے بہت کوفتہ خاطر کیا گیا۔ اس کے منہ پر نہ صرف تھوکا گیا بلکہ گورنر کے حکم سے اس کو تازیانے بھی مارے گئے۔ وہ چوروں اور بدمعاشوں کے ساتھ حوالات میں دیا گیا۔ حالانکہ اس کا ایک ذرہ قصور نہ تھا۔ صرف گورنمنٹ کی طرف سے یہودیوں کی ایک دل جوئی تھی۔ کیونکہ سلطنت کی حکمت عملی کا یہ اصول ہے کہ گروہ کثیر کی رعایت رکھی جائے سو اس غریب کو کون پوچھتا تھا۔ یہ عدالت تھی جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ آخر وہ یہودیوں کے مولویوں کے سپرد ہوا۔ اور انہوں نے اس کو صلیب پر چڑھا دیا ایسی عدالت پر خدا جو زمین و آسمان کا مالک ہے لعنت کرتا ہے مگر افسوس ان حکومتوں پر جن کی آسمان کے خدا پر نظر نہیں۔

(تذکرۃ الشہادتین، روحانی خزائن جلد 20صفحہ26تا 28)

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

For security, use of Google's reCAPTCHA service is required which is subject to the Google Privacy Policy and Terms of Use.

I agree to these terms.

Back to top button
Close