ایڈیٹر کے نام خطوط

مدیر کے نام خط

مکرم سعید احمد انورصاحب بریڈفورڈ۔انگلستان سے تحریر کرتے ہیں :

الفضل انٹرنیشنل کے شمارہ 88 کے صفحہ24 پر پہلے کالم میں پہلی سطر یہ تھی “ نماز جنازہ حاضر” مکرم منور احمد صاحب (Carshalton۔یو کے)۔ اِس خبر کو پڑھ کر آج سے قریباً 73 سال پہلے کی یادیں لوٹ آئیں۔

خاکسار نے 1947ءسے 1952ء تک کا عرصہ چونڈہ میں اپنے ننھیال کے گھر اپنی امی اور بھائی بہنوں کے ساتھ گذارا تھا۔ منور احمد مرحوم کے والد محترم ماسٹر رشید احمد صاحب (مرحوم )ہندوستان کی تقسیم کے بعدہوشیار پور کے کسی علاقے سے ہجرت کر کے چونڈہ اپنی فیملی کے ساتھ رہائش پذیر ہوئے تھے۔ خاکسار بھی اپنی امی اور اپنے بھائی اور دو بہنوں کے ساتھ چونڈہ اپنے ننھیال کے پاس آیا تھا۔ خاکسار کے والد صاحب ( جیسا کہ پہلے بھی اپنے کسی مضمون میں ذکر کر چکا ہوں) حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ کی تحریک پر لبیک کہتے ہوئے درویشی کی زندگی کے لیے اپنے آپ کو پیش کر کے قادیان میں رہے تھے۔

اس تمہید کے بعد خاکسار اب مکرم منور احمد صاحب (مرحوم) کی زندگی کا کچھ ذکر کرنے کی کوشش کرتا ہے(وباللہ التوفیق)

مکرم منور احمد صاحب (مرحوم)کے دو بڑے بھائی حمید احمد صاحب اور لطیف احمد صاحب تھے اور ایک چھوٹے بھائی جیسا کہ الفضل میں ذکر ہوا ہے۔ ڈاکٹر مظفر احمد صاحب (شہید۔ امریکہ) تھے۔ ان چار بھائیوں کی ایک بہن سعیدہ بھی تھیں۔ان کے والد ماسٹر رشید احمد صاحب ریاضی کے کامیاب استاد تھے جن کی ڈسٹرکٹ بورڈ ہائی سکول چونڈہ میں تقرری ہوئی تھی۔ وہ خصوصاً احمدی بچوں کی تعلیمی ترقی کے لیے ایک ہمدرد دل رکھتے تھے۔ اور چاہتے تھے کہ احمدی بچے خاص طور پر اپنی تعلیم میں ترقی کریں۔ اور چونڈہ کے احمدی بچوں کے والدین کو انہوں نے یہ پیشکش کی تھی کہ وہ ان کے بچوں کو بعد از سکول بغیر کوئی فیس لیے پڑھایا کریں گے۔

خاکسار کو یاد ہے کہ ان کے مکان کے نچلے حصہ میں ایک بہت بڑا دالان تھا۔ جن احمدی بچوں کے والدین نے اُن کی پیشکش کو قبول کیا۔ وہ اپنے بچوں کو شام کے وقت مکرم ماسٹر رشید احمد صاحب کے گھر چھوڑ جاتے۔ جہاں ماسٹر صاحب ان بچوں کی تعلیمی حالت بہتر بنانے میں ان کی مدد کرتے تھے۔ صرف یہی نہیں بلکہ انہوں نے بچوں کے والدین کو یہ بھی پیشکش کی تھی کہ ان کے بچے رات اُن کے گھر کے دالان میں سو سکتے ہیں اور صبح نماز فجر کے بعد اپنے گھر جا کر تیار ہو کر سکول جا سکتے ہیں۔ ہم سب بچوں کے ساتھ ان کے تین بیٹے حمید احمد، لطیف احمد اور منور احمد بھی اس تعلیمی کلاس سے فائدہ اٹھاتے اور وہیں دالان میں دوسرے بچوں کے ساتھ رات گذارتے تھے۔ خاکسار کی یادداشت کے مطابق مظفر احمد (شہید) اُس وقت چھوٹے تھے اس لیے وہ پروگرام میں شامل نہیں ہوتے تھے۔

1952ءتک خاکسار چونڈہ سکول میں زیر تعلیم رہا اور مڈل کا امتحان پاس کرنے کے بعد ہماری امی جان نے فیصلہ کیا کہ ربوہ منتقل ہو جائیں جہاں بچوں کی تعلیم اور خصوصاً تربیت کے لیے ماحول زیادہ بہتر رہے گا۔ چنانچہ ہم ربوہ منتقل ہو گئے۔ جہاں سے خاکسار نے میٹرک کا امتحان بڑی اچھی پوزیشن میں پاس کیا۔

ربوہ منتقل ہونے کے بعد خاکسار ایک دن حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ؓ سے ملاقات کے لیے گیا تو وہاں مکرم ماسٹر رشید احمد صاحب اپنے بیٹے منور احمد کے ساتھ ملاقات کے لیے آئے تھے۔ کمرہ انتظار میں خاکسار نے انہیں دیکھا تو انہیں بھی اور خاکسار کو بھی بہت خوشی ہوئی۔ زیادہ خوشی اُس وقت ہوئی جب ماسٹر صاحب نے بتایا کہ منور میٹرک کے امتحان میں پورے صوبہ پنجاب میں اول آیا ہے۔ خاکسارنے مبارکباد دی۔یہ خاکسار کی باپ بیٹے سے آخری ملاقات تھی۔

انگلستان میں منور احمد صاحب (مرحوم ) کے بھائی لطیف احمد صاحب سے ملاقات ہوئی۔ بہت سال پہلے کی بات ہے کہ اسلام آباد میں انصار اللہ یو کے کا سالانہ اجتماع تھا۔ اس موقع پر خاکسار نے تقریری مقابلہ میں حصہ لیا اور محض اللہ تعالیٰ کے فضل سے اول پوزیشن حاصل کی اور حضرت خلیفۃالمسیح الرابع رحمہ اللہ کے دستِ مبارک سے انعام وصول کیا۔ اُسی دن اس تقریب کے بعد ایک صاحب میرے پاس آئے اور فرمایا “ مبارک ہو سعید”

خاکسار نے انہیں دیکھا تو کہا۔ لطیف صاحب! آپ یہاں؟ انہوں نے کہا ۔’’ کیوں ؟ تم انگلینڈ آ سکتے ہو تو میں کیوں نہیں آ سکتا۔‘‘ یہ مکرم منور صاحب کے بڑے بھائی لطیف صاحب تھے۔

خاکسار نے ان سے عرض کیا کہ میرا ہر گز یہ مطلب نہیں۔ بلکہ میرے علم کے مطابق تو آپ پاکستان میں اچھی ملازمت کر رہے تھے۔انہوں نے جو فرمایا وہ کچھ اس طرح تھا کہ “ دور کے ڈھول سہانے سعید! یہ سچ ہے کہ پنجاب یونیورسٹی سے سِول انجینیرنگ کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد راولپنڈی میں میری تقرری بطور S.D.O ہوئی تھی اور میں بہت خوش تھا لیکن اس ملازمت میں کچھ عرصہ گذارنے کے بعد مجھے یہ احساس ہوا کہ جو بڑے بڑے ٹھیکیدار کسی کام کا ٹھیکہ لینا چاہتے تھے وہ میرے گھر پر آ کر مجھے بڑی بڑی رشوت پیش کرتے تھے تا کہ ٹھیکہ اُن کو دے دیا جائے۔ یہ بات مجھے ہرگز گوارہ نہیں تھی۔ میں ہر گز حرام کی کمائی نہیں چاہتا تھا۔ اس لیے میں انہیں صاف انکار کر دیتا۔ اس محکمہ میں ایک اور دُکھ کی بات یہ تھی کہ میرے اعلیٰ افسران میرے اس رویے سے ناخوش تھے اور اسی طرح میرے نیچے کا سٹاف بھی میرے اس رویہ سے نا خوش تھا۔ کیونکہ یہ وہاں کا کلچرتھا۔ ان سب میں ملی بھگت تھی۔اور میں ہر گز ان کی ملی بھگت میں شامل نہیں ہونا چاہتا تھا۔ میں ایسی گھٹیا حرکت کرنے کی بجائے کہیں مزدوری کر کے روزی کمانے کو ترجیح دیتا تھا اور پھر اس پر مستزاد یہ کہ میرے بڑے بھائی حمید وفات پا گئے تھے۔ جس کا مجھے بہت صدمہ تھا۔ ان حالات کی وجہ سے میں نے وہ ملازمت چھوڑ دی ۔ اور اللہ تعالیٰ نے میرے انگلستان آنے کے خود ہی سامان کر دیے۔”

خاکسار کو مکرم لطیف صاحب کی باتیں سُن کر دُکھ ہوا لیکن دُکھ سے زیادہ خوشی ہوئی کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ پر توکل کرتے ہوئے حرام کی زیادہ کمائی والی ملازمت پر لات ماری اور اللہ تعالیٰ جو رازق اور مالک ہے نے ان کے لیے اس ملک میں آنے کے سامان کر دیے۔

مکرم لطیف صاحب نے مجھے اپنا فون نمبر دیا۔ وہ لندن کے قریب کسی علاقے میں رہائش پذیر تھے۔ ان کے ساتھ فون پر ایک دو دفعہ بات ہوئی لیکن اس کے بعد رابطہ منقطع ہو گیا کیونکہ وہ نمبر ہی ختم ہو چکا تھا۔ مجھے آج تک یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ کیا حالات ہوئے۔ اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے۔

مکرم لطیف صاحب کا ذکر تو ضمنی طور پر آ گیا۔ اصل بات تو مکرم منور احمد صاحب کے بارے میں ہو رہی تھی۔ خاکسار کے علم میں یہ بات آئی کہ مکرم منور صاحب بھی انگلستان آ چکے تھے اور گلاسگو میں کہیں رہتے تھے۔ میں نے کچھ عرصہ بعد ان کے بارے میں تحقیق کرنی شروع کی تو مجھے بتایا گیا کہ وہ گلاسگو چھوڑ کر کہیں اَور جا چکے ہیں لیکن ان کے بارے میں مزید معلومات نہ مل سکیں۔ جس کا مجھے بہت دُکھ ہوا کہ ان کے اتنے قریب آنے کے باوجود ان کی زندگی میں ان سے نہ مل سکا۔ آج جب اُن کا وجود اس دنیا میں نہیں ہے تو مجھے محسوس ہوتا ہے کہ اُن کی روح مجھ سے کہہ رہی ہے کہ ؎

جب مر گئے تو آئے ہمارے مزار پر

پتھر پڑیں صنم ترے ایسے پیار پر

اور ان کی روح کو میرا دل یہ جواب دیتا ہے کہ میں نے انہیں ان کی زندگی میں ڈھونڈنے کی کوشش کی تھی اور اب اتنا ہےکہ

جانے والے جا۔ خدا حافظ ترا

اللہ تعالیٰ مکرم منور احمد (مرحوم) کے درجات بہت زیادہ بلند فرمائے اور اُن کے پسماندگان کو صبر اور ہمت سے اس صدمہ کو برداشت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین

٭…٭…٭

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

For security, use of Google's reCAPTCHA service is required which is subject to the Google Privacy Policy and Terms of Use.

I agree to these terms.

Back to top button
Close