حضور انور سے ملاقات

امیر المومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے ساتھ طلبہ مجلس خدام الاحمدیہ مغربی کینیڈا کی (آن لائن) ملاقات

آپ کا ذاتی رویہ اور شخصیت بھی اسلام کی تبلیغ کو پھیلانے میں نہایت اہم ہے اور لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی طرف لانے میں بنیادی کردار ادا کرتی ہے

امام جماعت احمدیہ عالمگیر حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے 23؍اکتوبر 2021ء کو طلبہ مجلس خدام الاحمدیہ مغربی کینیڈا کے ساتھ آن لائن ملاقات فرمائی۔

حضورِانور نے اس ملاقات کو اسلام آباد (ٹلفورڈ) میں قائم ایم ٹی اے سٹوڈیوزسے رونق بخشی جبکہ 115 طلبہ نےبیت النور کیلگری کینیڈا سے آن لائن شرکت کی۔

اس ملاقات کا آغاز تلاوتِ قرآن کریم سے ہوا، جس کے شاملینِ ملاقات کو حضورِانور کی خدمت میں سوالات پیش کرنے کا موقع ملا۔

ایک خادم نے عرض کیا کہ حضورِانور یہ بات مشاہدہ میں آئی ہے کہ بعض خدام گریجوایٹ ہونے کے بعد بھی طلبہ کی شرح کے مطابق ہی چندہ دے رہے ہوتے ہیں۔

حضورِانور نے فرمایا کہ ا گر وہ کام کر رہے ہیں یا وظیفہ یا کوئی سکالر شپ یا کوئی جیب خرچ مل رہا ہے تو انہیں اس کے مطابق ادائیگی کرنی چاہیے جو وہ باقاعدگی سے حاصل کر رہے ہیں۔ وہ جن کی کوئی آمدنی نہیں ہے، نہ ہی وہ والدین سے کوئی جیب خرچ لے رہے ہیں اور کوئی سکالر شپ بھی نہیں ہے(وہ اس شرح پر چندہ دے سکتے ہیں)۔ بعض طلبہ ایسے ہیں جو تحقیق کر رہے ہیں اور انہیں بھی کچھ معمولی سی رقم یا وظیفہ مل رہاہے تو انہیں اس کےمطابق ادائیگی کرنی چاہیے۔ تو آپ انہیں کہہ سکتے ہیں کہ اگر تم کما رہے ہو تو یہی بہتر ہے کہ شرح کے مطابق چندہ ادا کرو۔ کیونکہ تم یہ چندہ صدر مجلس خدام الاحمدیہ کو یا جماعت کو نہیں دے رہےبلکہ محض اللہ تعالیٰ کی محبت اور خوشنودی حاصل کرنے کے لیے دے رہے ہو۔ یہ قرآنی احکامات میں سے ایک حکم ہے۔ دیکھو یہ قرآن کریم کے ابتدا میں بیان فرمودہ احکامات میں سے ایک حکم ہے۔ اس لیے اگر وہ کہتے ہیں کہ ہم روزمرہ کے اخراجات پورے کر رہے ہیں اور ہم شرح کے مطابق چندہ ادا نہیں کر سکتے تو پھر وہ صدر صاحب کو درخواست کر سکتے ہیں کہ وہ خدام کے چندہ سے رعایت دیں۔ اور اگر وہ جماعتی چندہ ہے تو پھر وہ نظام جماعت سے اجازت لے سکتے ہیں کہ فلاں فلاں وجوہات کی بناپر میں شرح کے مطابق چندہ دینے سے قاصر ہوں۔ ہم تو صرف ان سے درخواست کر سکتے ہیں، انہیں نصیحت کر سکتے ہیں، انہیں مجبور نہیں کر سکتے۔ اگر وہ یہ بات سمجھ جائیں کہ وہ یہ چندہ اللہ تعالیٰ کی خاطر دے رہے ہیں اور اللہ کی محبت کے حصول کے لیے دے رہے ہیں کیونکہ اللہ نے انہیں حکم دیاہے کہ وہ اپنی بہتری کے لیے چندہ دیں اور جماعت کے روزمرہ اخراجات کے لیے چندہ دیں۔ اگر وہ یہ بات سمجھ جائیں کہ یہ چندہ ایک خاص اور اچھےمقصد کے لیے استعمال ہو رہا ہے تو پھر وہ ادائیگی بھی کریں گے۔ اس لیے آپ کو انہیں سمجھانا ہوگا کہ آپ یہ چندہ کہاں خرچ کر رہے ہیں۔ جب میں تحریکِ جدید کے نئے سال کا اعلان کرتا ہوں تو بسا اوقات میں یہ تفصیل بھی بتا دیتا ہوں کہ یہ رقم افریقہ میں اس مقصد کے لیے خرچ ہو رہی ہے،کسی فلاں مقصد کے لیے قادیان میں یا انڈیا میں خرچ ہو رہی ہے یا دنیا کے کسی دوسرے حصے میں (خرچ ہو رہی ہے)۔ بعد میں کئی لوگ مجھے لکھتے ہیں کہ آپ کا خطبہ سننے کے بعد اب ہمیں احساس ہوا ہے کہ ہمیں کیوں چندہ دینا چاہیے۔ اور یہ کہ اب ہم اپنی استطاعت اور شرح کے مطابق چندہ دیں گے۔ اس لیے انہیں غلط طریق پر پیچھے دھکیلنے کی بجائے آپ انہیں توجہ دلائیں کہ ان کی کیا ذمہ داریاں ہیں اور انہیں کیوں چندہ ادا کرنا چاہیے۔ ’کیوں؟‘ (کا سوال)نئی نسل میں بہت عام ہے۔ تو آپ کو اس ’کیوں‘ کا جواب دینا ہوگا۔ آپ نے اس ’کیوں‘ کا حل نکالنا ہے۔

ایک خادم نے سوال کیا کہ بعض اوقات ہم لوگوں کو نظام جماعت کے خلاف بات کرتے ہوئے دیکھتے ہیں، ایسے موقع پر ہمیں کیا کرنا چاہیے۔

حضورِانور نے فرمایا کہ دیکھیں، پہلی بات یہ ہے کہ عہدیداران کو اپنی اصلاح کرنی چاہیے کہ جو بھی وہ کر رہے ہیں کیا وہ قرآنی تعلیمات کے مطابق ہے، اللہ تعالیٰ اور آنحضرتﷺ کی تعلیمات کے مطابق ہے یا نہیں۔ اگر عہدیداران ٹھیک ہیں اور اللہ کے خوف سے اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے والے ہیں تو پھر ان سے صرفِ نظر کیا جا سکتا ہے۔ اور الزام ان لوگوں پر آئے گا جو عہدیداران کے خلاف منفی باتیں کر رہے ہیں۔ بعض اوقات عہدیداران کے رویوں کی وجہ سے چند لوگوں کو ان عہدیداران کے خلاف کچھ شکایات بھی ہوتی ہیں۔ اس لیے پہلی بات تو یہ ہے کہ جماعتی عہدیداران کو اس بات کا خیال رکھنا چاہیے کہ ان کی طرف سے احبابِ جماعت کو کوئی منفی رویہ دیکھنے کو نہ ملے۔ انہیں کیوں عہدیداران سے شکایا ت ہیں یا وہ ان کے بارے میں بد کلامی کرتے ہیں، اس لیے کہ ان کے ذاتی تجربات ہیں اور شکایات ہیں۔ اور پھر وہ ذاتی شکایات کی وجہ سے نظام جماعت کے خلاف بولتے ہیں۔ اس لیے اگر وہ آپ کے قریبی دوست ہیں تو پھر آپ انہیں بتا سکتے ہیں کہ یہ ٹھیک نہیں ہے۔ اگر آپ کو کسی عہدیدار سےکوئی ذاتی شکایت ہے تو پھر بھی آپ کو نظام جماعت کے خلاف کوئی بری بات نہیں کہنی چاہیے۔ آپ کے اپنے ذاتی اختلافات ہوسکتے ہیں جو حل کیے جا سکتے ہیں یا آپ بالا نظام یا خلیفہ وقت تک اس معاملہ کو لے جاسکتے ہیں۔ لیکن اگر اس کے بعد بھی وہ نہیں رکتے یا اس بات پر مصر رہتے ہیں تو آپ ان کے لیے دعا کریں اور کچھ وقت کے لیے ان کی صحبت چھوڑ دیں تاکہ انہیں احساس ہو جائے کہ وہ جو کر رہے تھے وہ غلط تھا اور اس کی وجہ سے ان کا ایک قریبی دوست ان سے دور ہو گیا ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ ان کے لیے دعا بھی کرتے رہیں۔ اگر آپ سمجھتے ہیں کہ یہ بات جماعت کو بدنام کر رہی ہے یا جماعت کونقصان پہنچا رہی ہے توپھر آپ کو بالائی نظام کو مطلع کرنا چاہیے کہ یہ وہ لوگ ہیں جو نظام جماعت کے خلاف باتیں کر ر ہے ہیں، صرف عہدیداران کے بارے میں نہیں بلکہ نظام جماعت کے بارے میں بھی۔ تو یہ آپ کا فرض ہے۔ لیکن پہلی چیز یہ ہے کہ انہیں نصیحت کریں اور اگر وہ آپ کے قریبی دوست ہیں تو نرمی سے انہیں سمجھا ئیں کہ نہیں یہ درست رویہ نہیں ہے۔ یہ بات کرنے کا درست طریق نہیں ہے۔ یہ جماعت کو نقصان نہیں پہنچائے گا بلکہ یہ آپ کے لیے نقصان کا باعث ہوگا اس لیے اس معاملے کو چھوڑ دیں۔ تو یہ وہ طریقہ ہے جس سے ہم انہیں نصیحت کر سکتے ہیں۔ اگر وہ توبہ کرنے کی کوشش نہیں کرتےتو پھر ان کی صحبت چھوڑ دو۔ لیکن ان کو صرف چھوڑ نہیں دینابلکہ ان کے لیے دعا بھی کرنی ہے کہ اللہ تعالیٰ انہیں گمراہ ہونے سے بچائے۔

ایک اور خادم نے سوال کیا کہ اس وبا کے دوران ہماری زندگیوں میں بہت تبدیلی آئی ہے، چند مثبت چیزیں بھی ہوئی ہیں جیسے حضورِانور سے کلاسز کے ذریعہ ملاقات کا نصیب ہونا جو ہم اب بھی کر رہے ہیں، حضورِانور کا اس بارے میں کیا خیال ہے کہ ہم کب ذاتی ملاقاتیں کر سکیں گے۔

حضورا نور نے فرمایا کہ دیکھیں، آپ اس وقت کیلگری کینیڈا میں بیٹھے ہیں جو یہاں سے آٹھ ہزار کلو میٹر یا اس سے زیادہ دور ہے۔ تو آپ جب بھی لندن آئیں تو آپ مجھے مل سکتے ہیں۔ میں نے احباب سےذاتی ملاقاتوں کا سلسلہ شروع کر دیا ہے۔ لیکن اس سے ہٹ کر بھی یہ ایک نیا راستہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے ہمارے لیے کھولا ہےتو ہم اس سے مستفید ہو رہے ہیں۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ وہ راستہ بھی بند نہیں ہوا۔ وہ بھی کھلا ہے۔ اگر آپ یہ کہتے ہیں کہ میں کینیڈا کب آؤں گا، آپ سے ملنے کے لیے تو یہ اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے۔ لیکن جہاں تک آپ کا تعلق ہے تو آپ مجھ سے یہاں لندن ملنے آسکتے ہیں، اسلام آباد میں، لندن میں نہیں۔ ٹھیک ہے۔

ایک دوسرے خادم نے سوال کیاکہ بسا اوقات ہم دیکھتے ہیں کہ ایک عہدیدار کو ایک فیصلے کے بارے میں کچھ تحفظات ہوتے ہیں جبکہ وہ فیصلہ اجتماعی طور پر طے ہو چکا ہوتا ہے مثلاً عاملہ کے اجلاس میں۔ ایسی صورتحال میں حضور ا نور کی کیا ہدایت ہے؟

حضورِانور نے فرمایا کہ دیکھیں، آج کی دنیا میں ہم جمہوریت کو تسلیم کرتے ہیں۔ جب مجلس عاملہ کی اکثریت کوئی فیصلہ کرتی ہے تو ہمیں اس پر عمل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے اور اس پر کاربند ہو نا چاہیے۔ اور اگر کوئی فیصلہ شوریٰ میں طے ہوتا ہے تو شوریٰ میں کیا گیا کوئی بھی فیصلہ خلیفۃ المسیح کی خدمت میں ایک تجویز ہوتی ہے اور آپ کی تمام تجاویز یہاں میرے پاس آتی ہیں۔ میری منظوری کے بعد وہ متعلقہ جماعت یا متعلقہ اتھارٹیز کو عمل در آمد کے لیے واپس بھجوا ئی جاتی ہیں۔ اگر ان کو شوریٰ کے فیصلہ کے بارے میں تحفظات ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ وہ خلیفۃ المسیح کے فیصلے کو ماننے سے انکار کر رہے ہیں۔ اگر وہ خلیفۃ المسیح کے فیصلہ کو ماننے سے انکار کر رہے ہیں تو پھر ان کے احمدی ہونے کا کیا فائدہ؟ بعض اوقات لوگ کہتے ہیں کہ یہ معروف فیصلہ نہیں ہے اور معروف کے معنی یہ ہیں کہ ہر وہ فیصلہ جو قرآن کریم کے مطابق ہو، جو اسلامی تعلیمات کے مطابق ہو، جو سنت کے مطابق ہو۔ معروف کی اصطلاح بھی قرآن کریم میں استعمال ہوئی ہے۔ حضرت خلیفۃ المسیح الاولؓ نے ایک مرتبہ فرمایا تھا کہ کیا ان لوگوں نے آنحضورﷺ کے معروف اور غیر معروف فیصلوں کی کوئی فہرست تیار کر رکھی ہے۔ آپﷺ کے کون سے فیصلے اللہ تعالیٰ کے احکامات کے مطابق تھے اور معروف تھے اور کون سے غیر معروف تھے۔ تو ان کے پاس اس کا کوئی جواب نہیں۔ اس لیے معروف کو سمجھنے میں غلط فہمی پائی جاتی ہے۔ معروف کا معنی ہر اس بات کے ہیں جو قرآن کریم کے مطابق ہو، قرآنی احکامات کے مطابق ہو اور آنحضرتﷺ کے مطا بق ہو اور آج کے دور میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مطابق ہو۔ اور میں نہیں سمجھتا کہ کسی خلیفہ نے اس کے خلاف کوئی بات کہی ہو۔ اس لیے وہ لوگ جو شوریٰ کے فیصلوں پر عمل نہیں کرتے یا جن کو شوریٰ کے فیصلہ جات کے بارے میں کسی قسم کے بھی تحفظات ہیں وہ در حقیقت خلیفۃ المسیح کے فیصلہ جات کا انکار کر رہے ہیں۔ کیونکہ شوریٰ کے جملہ فیصلہ جات کی منظوری خلیفۃ المسیح نے دی ہوئی ہوتی ہے۔

ایک اور خادم نے سوال کیا کہ عوام اوراحباب جماعت میں بھی کووڈ ویکسین کے بارے میں تحفظات پائے جا تے ہیں۔ بعض احباب جماعت جو عہدیداران بھی ہیں انہوں نے بھی ابھی تک ویکسین نہیں لگوائی۔ پیارے حضور آپ کی ایسے احباب کے لیے کیا ہدایت ہے اور ہم انہیں حکومتی تدابیر کی پیروی کے بارہ میں کیسے ترغیب دلا سکتے ہیں؟

حضورِانور نے فرمایا کہ بات یہ ہے کہ حکومت جو بھی کر رہی ہے وہ ہمارے فائدے کے لیے ہے۔ اور ہمیں یہ بات سمجھنی چاہیے اور ویکسین لگوانی چاہیے۔ اگر عہدیداران ایسانہیں کر رہے تو وہ غلط کر رہے ہیں۔ اگر وہ یہ کہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دور میں طاعون پھیلی تھی، تو وہ ایک نشان تھا جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے لیے ظاہر ہوا تھا اور قادیان میں رہنے والے لوگوں کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا تھا کہ اگر آپ کو ٹیکا نہیں بھی لگوانا تو بھی اللہ تعالیٰ آپ کی حفاظت فرمائے گا۔ تاہم آپ نے کبھی جماعت کو مجموعی طور پر یہ نہیں فرمایا کہ کوئی بھی ویکسین نہ لگوائے۔ یا طاعون کے خلاف ٹیکا نہ لگوائے۔ اس لیے یہ دلیل غلط ہے۔ میرا مشورہ یہ ہے کہ انہیں ویکسین لگوانی چاہیے اور جہاں تک ماسک کا تعلق ہے انہیں ماسک پہننا چاہیے۔ انہیں اپنے منہ اور ناک کو ڈھانپ کر رکھنا چاہیے۔ اور یہ ایک ضرورت ہے کہ جب آپ ایک public placeمیں ہوں تو آپ کو یہ کرنا چاہیے۔ میں بس یہ کہہ سکتا ہوں کہ وہ لوگ جو ان ہدایات پر عمل نہیں کرتے وہ حقیقت میں اگر پڑھے لکھے ہیں بھی تو بھی وہ جاہل ہیں۔ وہ پڑھے لکھے جاہل لوگ ہیں۔ میں تو یہی کہہ سکتا ہوں۔ دیکھیں، یہاں اسلام آباد میں جو بھی گیٹ سے داخل ہو تا ہے تو اس کو یہ ثبوت فراہم کر نا ہوتا ہے کہ اس کو دو مرتبہ ویکسین لگی ہوئی ہے۔ پھر اس کا دوبارہ ٹیسٹ کیا جاتا ہے، کووِڈ ٹیسٹ۔ ٹمپریچر چیک ہوتا ہے۔پھر اسے اسلام آباد میں داخل ہونے کی اجازت ہوتی ہے۔ اور اس سب کے با وجود اس کو کہا جاتاہے کہ وہ اپنے چہرے کو ماسک سے ڈھانپ کر رکھے۔یہاں تک کہ مسجد میں، دوران جمعہ آپ نے دیکھاہو گا کہ جو لوگ میرے سامنے بیٹھے ہو تے ہیں وہ سب ماسک پہنے ہوئے ہوتے ہیں۔ اس لیے اگر یہ لوگ اس پر عمل نہیں کر رہے تو وہ صرف اپنے آپ کو ہی نہیں بلکہ دوسروں کو بھی نقصان پہنچانے کی کوشش کرتےہیں۔ یوں وہ بالکل جاہل لوگ ہیں اور انہیں عہدیدار نہیں رہنا چاہیے اگر وہ عہدیدار ہیں۔

ایک خادم نے سوال کیا کہ ایک پیشگوئی ہے کہ سورج مغرب سے طلوع ہوگا۔ میرا سوال یہ ہےکہ یہ واقعہ کس دَور میں پورا ہوگا۔ اور بطور احمدی اس حوالے سے ہماری کیا ذمہ داریاں ہیں؟

حضورِانور نے فرمایا کہ ہم آپ کو معین وقت تو نہیں بتا سکتے۔ یہ ایک پیشگوئی ہے جو ان شاء اللہ اپنے وقت پر پوری ہوگی۔ لیکن ہماری یہ ذمہ داری ہے کہ ہم اپنی دعاؤں، اپنے اعمال اور اپنے علم کے ذریعہ اس مقصد کو جلد از جلد حاصل کرلیں۔ بلکہ اپنے دور میں ہی پورا کرلیں۔ عین ممکن ہے کہ ہم اس پیشگوئی کو اپنے دور میں پورا ہوتا دیکھیں۔ اگر آپ اللہ کے سامنے جھکیں گے اور پانچوں نمازیں وقت پر ادا کریں گے، یہ دعا کرتے ہوئے کہ اللہ تعالیٰ آپ کو یہ موقع عطا فرمائے کہ آپ اس پیشگوئی کو پورا ہوتا دیکھیں۔ اور جب آپ کا ہر عمل اسلام کی تعلیم اور قرآن کریم کے مطابق ہوگا اور احمدیوں کی اکثریت اس کے مطابق عمل کرے تو پھر آپ اس پیشگوئی کو اپنے دور میں پورا ہوتا دیکھ سکیں گے۔ لیکن اگر ابھی نہیں تو پھر جب اللہ تعالیٰ چاہے گا اسے اپنے وقت پر پورا کردے گا۔

ایک خادم نے پوچھا کہ کیا کچھ گناہ جیسے جان بوجھ کر نماز چھوڑ دینا اور دیگر کبائر گناہ جیسے قتل یا چوری ایک جیسے ہی ہیں؟

حضورِانور نے فرمایا کہ کسی کا قتل یا چوری ایک ایسا گناہ ہے جو دوسروں کی حق تلفی ہے یا دوسرے انسانوں کے ساتھ درندگی سے پیش آنا ہے۔ جہاں تک نماز چھوڑنے کا تعلق ہے یا روزہ نہ رکھنا ہے خاص طور پر جب کوئی حقیقی وجہ بھی نہ ہو تو یہ ایسی مثالیں ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے احکامات پر جو ایک سچے مسلمان پر فرض ہیں ان سے رو گردانی ہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں تمہارے ایسے گناہ بخش سکتا ہوں جو میری ذات سے تعلق رکھتے ہیں یا حقوق اللہ میں کوتاہی سے متعلق ہیں یا جو دوسروں کے حقوق پر اثر انداز نہیں ہوتے لیکن میں تمہارے گناہ معاف نہیں کروں گا جو تم حقوق العباد کے حوالہ سے کرتے ہو۔ میں تمہیں معاف نہیں کروں گا اگر تم لوگوں کے حقوق میں تجاوز کرو گے۔ اس لیے قتل یا چوری نماز چھوڑنے سے زیادہ بڑے گناہ ہیں۔

حضورِانور نے مزید فرمایا کہ تاہم نماز لوگوں پر فرض کی گئی ہے۔ اسی لیے ہم ہمیشہ کہتے ہیں کہ حقوق اللہ اور حقوق العباد دونوں کو ادا کریں۔ بسا اوقات جب آپ نماز ادا کر رہے ہوتے ہیں اور آپ دیکھتے ہیں کہ کوئی کسی کے ساتھ کچھ غلط کر رہاہے اور وہ آدمی مدد کے لیے پکار رہاہے تو آپ کو اپنی نماز توڑ کر اس کی مدد کرنی چاہیے۔ یہ پہلی ترجیح ہے۔ یہ آنحضرتﷺ کی ایک حدیث میں بھی ہے۔ یوں حقوق العباد کا ادا کرنا بہت ضروری ہے اور ساتھ ساتھ حقوق اللہ کا ادا کرنا بھی بہت اہم ہے، اور اگر آپ نماز پڑھ رہے ہیں یا روزہ رکھ رہےہیں تو آپ صرف فرائض ادا نہیں کر رہے بلکہ آپ اپنی اصلاح بھی کر رہے ہیں۔ ان چیزوں کی مدد سے آپ اپنی روحانیت، نیکی اور تقویٰ میں اضافہ کرتے ہیں ۔

ایک اور خادم نے سوال کیاکہ وہ اپنے ساتھ پڑھنے والے طلبہ کو کس طرح اسلام کا پیغام پہنچائے، خاص طور پر اس ماحول میں جو غیر مذہبی ماحول ہے جہاں مذہب کو حساس موضوع قرار دیا جاتا ہے؟

حضورِانور نے فرمایا کہ اگر یہ ایک حساس موضو ع ہے اور آپ کے ساتھ طلبہ اس بارے میں آپ سے گفتگو نہیں کرنا چاہتے یا آپ کی بات نہیں سننا چاہتے تو پھر آپ ان کے لیے دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ ان کے دلوں کو بدلے۔ یوں بنی نوع انسان سے ہمدردی اور محبت کا تقاضا ہے کہ آپ ان کے لیے دعا کریں اور اللہ تعالیٰ آپ کی دعائیں سنے گا۔ اگر آپ کا اپنا رویہ مذہب کی مثبت عکاسی کرے گا اور وہ آپ میں ایسی مختلف بات محسوس کریں گے جو ان میں نہیں ہے تو پھر وہ بھی متوجہ ہوں گے۔ یوں آپ کا ذاتی رویہ اور شخصیت بھی اسلام کی تبلیغ کو پھیلانے میں نہایت اہم ہے اور لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی طرف لانے میں بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔ اس لیے پہلی بات تو یہ ہے کہ آپ دعا کریں دوسرا یہ کہ آپ میں اور غیروں میں نمایاں فرق ہونا چاہیے۔

٭…٭…٭

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

For security, use of Google's reCAPTCHA service is required which is subject to the Google Privacy Policy and Terms of Use.

I agree to these terms.

Back to top button
Close