متفرق مضامین

ایک جاسوس کی کہانی

(مصنف:مورگن ڈن ترجمہ محمد فاروق سعید ۔یوکے)

ترکي ميں برطانوي سفير کے ہمراہ 1943 ء سے 1944ء تک ايليسہ بزناElysa Baznaنامی ايک شخص ذاتي خدمت گار کي حيثيت سے کام کرتا رہا جبکہ حقيقت ميں وہ خفيہ دستاويزات کي تصاوير بنا کر جرمن نازيوں کو فراہم کرتا تھا۔

ايليسہ بزنا کي زندگي چاليس سال تک کي عمر تک بے مقصد اور بے راہ روي ميں گزري جو فرانسيسي فوج ميں ڈرائيور، ايک کار سازکے پاس تالے مرمت کرنے اور ايک اوپيرا گائيک کے طور کام کرتا رہا۔مگر 1943 ءميں جب وہ ايک درمياني عمر کے خدمت گار کے طور پر انقرہ کے سفارت خانے ميں متعين ہوا تو اُس نے سوچا کہ کيا يہی اُس کی زندگی کا انجام ہوگا؟

ايک دن وہ انقرہ پيلس ہوٹل کے لاؤنج ميں بيٹھا کافي پی رہا تھا کہ بجلی کی طرح ايک خيال اُس کے دماغ ميں لپکا کہ اُسے اپنی اس برطانوی خدمت گار کي حيثيت کا فائدہ اُٹھانا چاہیے اور اپنے آپ کو دولتمند بنانے کی کوشش کرنی چاہیے۔اِس مقصد کے لیے اُس نے اپنی خدمات اُن لوگوں کو بيچ ديں جو کہ اُس کي حيثيت کا بہتر فائدہ اُٹھا سکيں۔

يہ ايليسہ بزنا کي کہاني ہے۔ ايک جاسوس کی کہانی جس نے ہٹلر کو اُس کے مخالفين پر قريب قريب فتح دلا دی تھی۔

ايليسہ بزنا جب پہلی مرتبہ برطانوي سفيرSir Hughe Montgomery Knatchbull – Hugessenکے سامنے پيش ہوا تو وہی خدمت گار کی نوکری کے لیے بہترين لگا، کيونکہ اس کی قابليت کی بہت سے معززين نے سفارش کی تھی۔ وہ فرانسيسی زبان پہ عبور رکھنےکے ساتھ ساتھ عمدہ ڈرائيور اور مکينک بھی تھا۔ انقرہ ميں امريکہ کے فوجی اتاشی اور يوگوسلاويہ کے سفير نے اِس سے جان پہچان اور صلاحيتوں کا اعتراف کياہوا تھا۔ برطانوی سفير نے يہ فرض کرتے ہوئے کہ ايليسہ بزنا کے پس منظر کي جانچ پڑتال ہو چکي ہےاس کو فوراً اپنے ذاتي خدمت گار کی حيثيت سےنوکری پر رکھ ليا۔

بعد ميں جب سفير کو بزنا کی موسيقی سے لگاؤ اور خوبصورت آواز کا علم ہوا تو اُس کو يقين ہو گيا کہ اس نے نوکری کے لیے بہترين آدمی کاانتخاب کيا ہے۔

بزنا برطانوی سفير کے کپڑے تيار رکھتا، اُس کے Study Room کے باہر کھڑا رہتا تا کہ سفير کو کسی قسم کی مداخلت کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ ہميشہ سفير کي ايک آواز پر حاضر ہو جاتا۔ برطانوی سفير کو يہ پتہ نہ چل سکا کہ بزنا کو اس کي پرانی ملازمت سے اس لیے نکال ديا گيا تھا کہ وہاں وہ ايک دفعہ جرمن سفيرکے ايما پر خفيہ دستاويزات کي تصاوير ليتے پکڑا گيا تھا۔ برطانوی سفير اس بات سے بھي لاعلم رہا کہ 26؍اکتوبر 1943ء کوبزنا نے اپنے ساتھ کیے ايک خودساختہ وعدے پر عمل کرتے ہوئے جرمن سفارت خانے کو ايک اہم فون کيا تھا۔

25؍اکتوبر 1943ء کو بزنا نے اپنے پہلے برطانوی مالک ڈگلس بسک( Douglas Busk) کے باورچی خانے ميں سرکاری دستاويزات کی تصاوير کھينچيں۔ ڈگلس ہي وہ شخص تھا جس نے بزنا کي ملاقات برطانوي سفير سے کرائی تھی۔

چونکہ بزنا انگلش پڑھنے، لکھنےاور بولنے سے نابلد تھا اس لیے اسے اندازہ نہيں تھا کہ جن دستاويزات کي اُس نے تصاوير بنائي ہيں ان کا متن کياہے۔ مگر يقيناً وہ اہم دستاويزات تھيں کيونکہ جرمن سفير فرانز وان پاپين Franz von Papenنے بزنا کو اُن دستاويزات کي پہلی قسط کي خاطربيس ہزار پاؤنڈز ادا کیے تھے اور مزيددستاويزات کے لیے پندرہ ہزار پاؤنڈز ہر قسط پر ادا کرنے کا وعدہ کيا تھا۔ بزنا يہ رقم برطانوي سفارت خانے ميں واقع اپنی رہائش گاہ کے قالين کے نيچے چھپاتا تھا۔

سر ہيگ اپني سیکيورٹی کے سلسلے ميں خاصے لاپروا اور پرسکون ثابت ہوئے تھے جس کی وجہ سے بزنا کا کام مزيد آسان ہوگيا تھا۔ قانون کےمطابق برطانوی سفارت کاروں کو حساس دستاويزات کي حفاظت کے لیے سخت قواعد و ضوابط پر عمل کرنا ہوتا تھا، بشمول يہ کہ ہر طرح کي سرکاري دستاويزات مضبوط و محفوظ سيف ميں رکھنا لازمي ہوتي تھیں مگر سر ہيگ انتہائي خفيہ دستاويزات بھي اپنے ذاتی سامان کے ساتھ اپني رہائش گاہ میں لےجانا پسند کرتے تھے۔

ايک ماہر قفل ساز ہونے کے ساتھ ساتھ بزنا کو سر ہيگ کا اعتماد بھی حاصل تھا اس لیے ايک صبح جب سر ہيگ غسل لے رہے تھے بزنا کوحفاظتي سيف کي چابياں حاصل کر کے ان کي کاپياں بنانے ميں کوئي دشواري نہ ہوئی۔ اس لیے جلد فرانزوان پاپين کو احساس ہوگيا کہ اس کانيا جاسوس کتنا اہم اور قيمتي ہے تو اُس نے فيصلہ کيا کہ بزنا کو اس کی خدمات کی منہ مانگی قيمت ادا کی جائے گي۔ پاپين نے بزنا کا ايک نيا خفيہ نام ’’سيسرو‘‘(Cicero) رکھ ديا۔

بزنا نے پاپين کو جو پہلي خفيہ فلم دي اُس ميں ماسکو کانفرنس کے منٹس تھے جس ميں اتحاديوں کے سينئر راہ نماؤں نے جرمنی کے خلاف جنگی پيش بندی پر تبادلہ خيال کيا تھا۔ سيسرو (بزنا) نازيوں کے دُشمنوں کي اہم صفوں ميں چور دروازہ بنانے ميں کامياب ہو چکا تھا ۔ 1943ءکے پورے سال سيسرو (بزنا) ’’موسٹ سيکريٹ‘‘اور ’’ٹاپ سيکريٹ‘‘رينک کی درجنوں دستاويزات چُرا کر نازيوں کو فراہم کر چکا تھا ۔اس کي ہر چوری کے ساتھ اس کی قسمت چمکتی گئی۔ انگريزي سے ناآشنا بزنا اپنا کام بڑے محفوظ طريقے سے کرتا چلا گيا اور اُس نے ہر اُس چيزکي تصويريں بنا کر نازيوں کو فراہم کيں جو اُس کے ہاتھ لگيں۔ جن ميں برطانوي سفير کي کرسمس شاپنگ لسٹ سے ليکر بادشاہ جارج ششم کےساتھ نجي خط و کتابت بھي شامل تھي۔

دسمبر 1943ءميں اتحادي انٹيليجنس کو خفيہ معلومات کے ليک ہونے کا شک ہوا۔ جب برطانوي انسداد انٹيليجنس کے افسران تحقيق وتفتيش کے لیے برطانوي سفارت خانے پہنچے تو تمام عملے کے انٹرويوز ليے گئے مگر بزنا يہاں شک سے بچ گيا کيونکہ تفتيشي افسران کے مطابق بزنا کسي بھي صورت انگريزي زبان سے نابلد ہونے کي وجہ سے ايک اچھا جاسوس نہيں بن سکتا تھا۔

دوسري طرف نازي بزنا کي فراہم کردہ معلومات کي مدد سے کوئي بڑا کام سر انجام دينے سے قاصر رہے اور بزنا کي محنت ضائع کر دي۔ اکثرمعلومات جرمني کي بيوروکريٹک نظام ميں ہونے والي باہمي چپقلشوں ميں گُم ہو گئيں۔ مزيد يہ کہ جرمن افسرانِ بالا کي اکثريت کا ماننا تھا کہ بزناکي فراہم کردہ تصاويري معلومات اِس قدر واضح اور شفاف ہيں جو کہ کسي بھي صورت میں سچ نہيں ہو سکتيں۔ اور جن افسران کو ان معلومات پريقين تھا وہ بھي اُن کے مطابق عمل کرنے اور کرانے ميں ناکام رہے۔ ماہرين کا ماننا ہے کہ بزنا کي فراہم کردہ معلومات کے اگر نصف پربھي عمل کر ليا جاتا تو جنگ کا نقشہ بدل جاتا اور پوري دُنيا بدل جاتي۔

جنوري 1944ء ميں بزنا کے ہينڈلر Moyzischنے اپنے لیے ايک نئي سیکرٹری مقرر کي جسے وہ الزبيت (Elisabet) کے نام سے جانتا تھاجبکہ درحقيت ا س کا نام کورنيليا نيلے کيپ(Cornelia Nele Kapp) تھا جو کہ اوہائيو ميں جرمن کونسلر کي بيٹي تھي اور اپني نئي سیکرٹری کي جاب سے چند دن پہلے امريکہ کي خاطر اِس لیے جاسوسي کرنے پر رضامند ہوئي تھي کہ بدلے ميں ُاسے امريکي شہريت مل جائے گي۔ جنوري سےلےکر مارچ تک ’’کيپ‘‘ نے متعدد مرتبہ اپنے باس کا پيچھا کيا مگر ہر مرتبہ وہ نامعلوم شخص کا چہرہ ديکھنے ميں ناکام رہي جس سے اس کا باس خفيہ ملاقاتيں کرتا تھا۔

مارچ کے مہينے تک اتحادي افسران اپنے اردگرد حفاظتي تدابير کرنے ميں مزيد کامياب ہو گئے اور يوں بزنا کے لیے مزيد معلومات تک رسائي تقريباً ناممکن ہو گئي۔ جلد ہي بزنا نے ملازمت سے استعفيٰ دے ديا۔ بعد ميں اُسے احساس ہوا کہ برطانوي سفارت کار کو دھوکا دے کر جومعلومات وہ جرمن نازيوں کو فراہم کرتا رہا ہے جرمن نازي بدلے ميں جعلي پاؤنڈز ادا کر کے بزنا کو دھوکا ديتے رہے ہيں۔ نازيوں نےبزنا کو آج کے دور کے تقريباً 17 ملين ڈالرز کے برابر ماليت کے جعلي نوٹ ديے تھے۔ ہٹلر کا ارادہ تھا کہ جنگ کے بعد وہ بزنا کو اس کي خدمات کے بدلے عاليشان گھر بنوا کر دے گا مگر جنگ اتحاديوں کي جيت اور ہٹلر کي ہار کے نتيجے ميں ختم ہوئي۔ بزنا نے اپنی باقي ماندہ عمر اپني يادداشتيں شائع کرنے اور مغربي جرمني ميں نائٹ واچ مين کي حيثيت سے گزار دي۔ اس کي پنشن کي درخواست مغربي جرمني ميں مسترد ہو گئي اور آخر کار 21 ؍دسمبر 1970ءکو 66سال کي عمر ميں بزنا کا غربت اور کس مپرسي کی حالت ميں انتقال ہوگيا۔ موت کے وقت اس کے پاس ايک وقت کھانے کے پيسے بھي نہيں تھے۔

٭…٭…٭

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

For security, use of Google's reCAPTCHA service is required which is subject to the Google Privacy Policy and Terms of Use.

I agree to these terms.

Back to top button
Close