نماز

خطبہ جمعہ کے آخر پر امام بیٹھتا ہے اور پھر اٹھ کر خطبہ ثانیہ پڑھتا ہے، وہ ایسا کیوں کرتا ہے؟

سوال: ایک خاتون نےحضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزسے دریافت کیا کہ خطبہ جمعہ کے آخر پر امام نیچے بیٹھتا ہے اور پھر اٹھ کر خطبہ ثانیہ پڑھتا ہے، وہ ایسا کیوں کرتا ہے؟حضور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے مکتوب مورخہ 23؍فروری 2020ءمیں اس مسئلہ کے بارے میں درج ذیل ارشاد فرمایا۔ حضور نے فرمایا:

جواب: یہ آنحضور ﷺ کی سنت ہے۔ چنانچہ کتب احادیث میں حضورﷺ کا خطبہ جمعہ ارشاد فرمانے کا یہ طریق بیان ہوا ہے کہ آپ پہلے کھڑے ہو کر خطبہ ارشاد فرمایا کرتے تھے اور جب وعظ و نصیحت وغیرہ سے فارغ ہوتے تو چند لمحوں کےلیے خاموشی سے نیچے بیٹھ جاتے اور پھر اٹھ کر خطبہ ثانیہ ارشاد فرماتے۔ اس کی وجہ جیسا کہ بعض علماء نے لکھا ہے شاید یہ ہے کہ اس کے ذریعہ دونوں خطبوں میں فرق واضح کیا جاسکے۔

لیکن اس کے ساتھ یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیے کہ اگر کوئی امام کسی تکلیف کی وجہ سے بیٹھ نہ سکے تو وہ پہلا خطبہ دےکر چند لمحے خاموشی سے کھڑے رہ کر خطبہ ثانیہ پڑھ سکتا ہے۔ جیسا کہ حضرت خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ کیا کرتے تھے، جب آپ گھوڑے سے گرنے کی وجہ سے نیچے بیٹھ نہیں سکتے تھے۔ اس وقت آپ پہلا خطبہ ارشاد فرمانے کے بعد چند لمحوں کےلیے خاموشی سے کھڑے رہتے اور پھر خطبہ ثانیہ پڑھا کرتے تھے۔ اسی طرح جب میرا پتّے کا آپریشن ہوا تھا تو اس کے بعد جو پہلا جمعہ آیا تھا اس کے خطبے کے دوران میں نے بھی یہی طریق اختیار کیا تھا کہ چند لمحے خاموشی سے کھڑے رہ کر خطبہ ثانیہ پڑھا تھا۔

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button