متفرق مضامین

اسلام اور غیر مسلم رعایا (قسط دوم)

(حضرت ملک سیف الرحمان صاحب مرحوم)

غیرمسلم رعایا کا نظم و نسق حکومت میں دخل

پھر حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ حکومت کے نظم و نسق کے بارہ میں ہمیشہ اہل الرائے ذمیوں سے مشورہ لیتے تھے۔ عراق کے بندوبست کا سوال جب درپیش تھا تو آپ نے مدینہ میں ایک میٹنگ بلائی اور اس میں عجم کے غیر مسلم رئیسوں کو بھی مدعو کیا۔

(کتاب الخراج صفحہ 21 مطبوعہ مصر)

اسی طرح مصر کے نظم و نسق میں مقوقس سے جو وہاں کے باشندوں کا مذہبی پیشوا تھا ،آپ اکثر مشورہ لیتے تھے۔

(مقریزی صفحہ 74 جلد 1)

حضرت عمرؓ کے زمانہ میں ایک نسطوری پادری نے اپنے ایک دوست کو خط لکھا ۔ اس میں وہ اپنے علاقہ کے سیاسی حالات بیان کرتے ہوئے لکھتا ہے۔ مسلمان ہمارے دین کی حفاظت کرتے ہیں۔ ہمارے پادریوں اور فریسیو ں کا احترام کرتے ہیں اور ہمارے گرجوں اور کلیساؤں کو جاگیریں عطا کرتے ہیں۔

(یادگار فتوح الشام صفحہ 106 مرتبہ دی خوے فرانسیسی مستشرق)

فرانسیسی انسائیکلوپیڈیا اور قاموس تاریخ و جغرافیہ کلیسیا دونوں میں یہ تصریح ہے کہ کیا غیر مسلموں کے روحانی سرداروں کو خلفاء کی طرف سے دنیاوی و عدالتی اقتدار عطا کیے جاتے تھے۔

(عہد نبوی ؐ کا نظام حکمرانی صفحہ 167)

حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دربار میں ابن آثال نامی ایک عیسائی تھا جو ان کا طبیب بھی تھا اور مترجم بھی۔ آپ نے اسے حمس کا گورنر بھی بنایا تھا ۔

اسلامی ہدایات کی روشنی میں غیر مسلموں پر اعتماد کا یہ انداز قریباً قریباً آخر تک قائم رہا ۔ چنانچہ حضرت اورنگزیب عالمگیر کی خدمت میں ایک مرتبہ کسی محکمہ کے افسر نے اس مضمون کی عرضی گزاری کہ میرے ہاں دو پارسی سرکاری عملہ کی تنخواہ تقسیم کرنے کے لیے ملازم ہیں۔ میں نے خود ان کو ملازم نہیں رکھا بلکہ وہ پہلے سے نوکر ہیں۔ مگر چونکہ وہ آتش پرست ہیں اس لیے ہم مسلمانوں کو ان کافروں کی بھی سرپرستی نہیں کرنی چاہیے۔ جو کچھ پہلے ہو چکا وہ ہو چکا ،اب میری گزارش یہ ہے کہ حضور ارشاد فرمائیں تو ان دونوں پارسیوں کو برخاست کر دیا جائے۔ کیوں کہ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَتَّخِذُوۡا عَدُوِّیۡ وَ عَدُوَّکُمۡ اَوۡلِیَآءَ(الممتحنہ:2)’’

اے ایماندارومیرے اور اپنے دشمنوں کو دوست مت بناؤ ۔‘‘

جب یہ درخواست بارگاہ سلطانی میں پہنچی تو عالمگیر نے اس کا جواب لکھا کہ تمہاری عرضداشت پڑھی واضح ہو کہ کسی مجوسی یا ہندو ملازم کو محض اس وجہ سے برخاست نہیں کیا جاسکتا کہ وہ مسلمان نہیں ہے۔ قرآن کریم کی جو آیت تم نے اپنی عرضی میں لکھی ہے اس سے ہرگز یہ ثابت نہیں ہوتا کہ غیر مسلم سے قطعاً کسی قسم کا تعلق رکھنا ہی نہیں چاہیے۔ تم نے ادھوری آیت لکھی ہے پوری آیت یوں ہے:

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَتَّخِذُوۡا عَدُوِّیۡ وَ عَدُوَّکُمۡ اَوۡلِیَآءَ تُلۡقُوۡنَ اِلَیۡہِمۡ بِالۡمَوَدَّۃِ وَ قَدۡ کَفَرُوۡا بِمَا جَآءَکُمۡ مِّنَ الۡحَقِّ ۚ یُخۡرِجُوۡنَ الرَّسُوۡلَ وَ اِیَّاکُمۡ اَنۡ تُؤۡمِنُوۡا بِاللّٰہِ رَبِّکُمۡ (الممتحنہ:2)

’’ اے مومنین! جن لوگوں نے خدا کی آیات کا انکار کیا اور جو رسولؐ کو اور تمہیں محض اس لئے تمہارے وطن سے نکالتے ہیں کہ تم اللہ پر ایمان لائے جو تمہارا رب ہے تم ایسے کافروں سے دوستی نہ رکھو اور نہ ان سے محبت کے تعلقات قائم کرو ۔ وہ میرے بھی دشمن ہیں اور تمہارے بھی۔‘‘

اب ظاہر ہے کہ اس آیت میں صرف ان لوگوں سے تعلقات رکھنے اور دوستی کرنے سے منع کیا گیا ہے، جنہوں نے پے در پے مظالم کرکے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو وطن سے نکلنے پر مجبور کر دیا اور جنہوں نے مسلمانوں کو تکلیف پہنچانے میں کسی قسم کی کوئی کسر اٹھا نہ رکھی۔ لیکن جو لوگ ایسے نہیں ان سے تعلقات قائم کرنے اور ان کے ساتھ احسان و مرمت کرنے سے اللہ تعالی نے ہر گز منع نہیں فرمایا ۔ چنانچہ سورۂ ممتحنہ میں آگے چل کر اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

لَا یَنۡہٰٮکُمُ اللّٰہُ عَنِ الَّذِیۡنَ لَمۡ یُقَاتِلُوۡکُمۡ فِی الدِّیۡنِ وَ لَمۡ یُخۡرِجُوۡکُمۡ مِّنۡ دِیَارِکُمۡ اَنۡ تَبَرُّوۡہُمۡ وَ تُقۡسِطُوۡۤا اِلَیۡہِمۡ ؕ اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ الۡمُقۡسِطِیۡنَ ۔ اِنَّمَا یَنۡہٰٮکُمُ اللّٰہُ عَنِ الَّذِیۡنَ قٰتَلُوۡکُمۡ فِی الدِّیۡنِ وَ اَخۡرَجُوۡکُمۡ مِّنۡ دِیَارِکُمۡ وَ ظٰہَرُوۡا عَلٰۤی اِخۡرَاجِکُمۡ اَنۡ تَوَلَّوۡہُمۡ(الممتحنہ:9تا10)

’’ جن لوگوں نے تمہارے ساتھ دین کے معاملہ میں لڑائی جھگڑا نہیں کیا اور اس وجہ سے تمہیں تمہارے گھروں سے نہیں نکالا ، اللہ تعالیٰ تمہیں ان سے احسان اور انصاف کرنے سے نہیں روکتا۔بلکہ اللہ تعالیٰ تو انصاف کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے۔ اللہ تعالیٰ صرف ان لوگوں کے ساتھ تمہیں دوستی رکھنے سے منع کرتا ہے جنہوں نے دین کے معاملہ میں تم سے جنگ کی اور تم کو تمہارے گھروں سے نکالا اور تمہارے نکالنے میں دوسروں کی مدد کی ۔

پس جو آیت تم نے اپنی عرضداشت میں لکھی ہے ۔ اگر اس کا یہی مطلب ہو جو تم نے لکھا ہے تو پھر ہم کو چاہیے تھا کہ ہندوستا ن کے سب راجاؤں اور ساری غیر مسلم رعایا کو قتل کر دیتے۔لیکن واقعہ یہ ہے کہ فرمان خداوندی کا ہر گز یہ مطلب نہیں۔ سرکاری نوکریاں سب لوگوں کو بلا لحاظ مذہب و ملت ان کی لیاقت اور قابلیت کے موافق ملیں گی ۔ باقی رہا مذہب تو اس کے لیے خدا تعالیٰ کا یہ ارشاد ہمارے لیے دستورالعمل ہونا چاہیے: لَکُمْ دِیْنُکُمْ وَلِیَ دِیْنِ ۔(یعنی تمہارے لیے تمہارا دین اور ہمارے لیے ہمارا دین )

(دعوت اسلام صفحہ 278 بحوالہ پریچنگ آف اسلام آرنلڈ 1898ء)

قانون کی نظر میں سب مساوی تھے!

خلا فت عباسیہ کے مشہور قاضی امام ابو یوسفؒ اپنی شہرہ آفاق تصنیف کتاب الخراج میں ایک موقع پر لکھتے ہیں کہ عہدنبوی اور خلافت راشدہ میں تعزیرات اور دیوانی قانون دونوں میں مسلمان اور ذمی کا درجہ مساوی تھا ۔

(کتاب الخراج صفحہ 108)

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں ایک دفعہ ایک مسلمان نے ایک ذمی کو قتل کر دیا۔ حضورؐ نے قصاص کے طور پر اس مسلمان کے قتل کیے جانے کا حکم دیا اور فرمایا :’’انا احق من اوفیٰ بذمّتہ ‘‘(یعنی ذمیوں کے حقوق کی حفاظت میرا سب سے اہم فرض ہے )

(نصب الرایہ فی تخریج احادیث الھدایہ جلد 4 صفحہ 336)

حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس ایک مسلمان کو پکڑ کر لایا گیا جس نے ایک ذمی کو قتل کیا تھا ۔پورا ثبوت موجود تھا۔ اس لیے حضرت علیؓ نے قصاص میں اس مسلمان کو قتل کیے جانے کا حکم دیا ۔ قاتل کے ورثا نے مقتول کے بھائی کو معاوضہ دے کر معاف کرنے پر راضی کر لیا ۔ حضرت علیؓ کو جب اس کا علم ہوا تو آپ نے اس سے فرمایا ۔ شاید ان لوگوں نے تجھے ڈرا دھمکا کر تجھ سے یہ کہلوایا ہو ۔ اس نے کہا نہیں ۔ بات دراصل یہ ہے کہ قاتل کے قتل کیے جانے سے میرا بھائی تو واپس آنے سے رہا اور اب یہ مجھے اس کی دیت دے رہے ہیں جو پسماندگان کے لیے کسی حد تک کفایت کرے گی اس لیے خود اپنی مرضی سے بغیر کسی دباؤ کے میں معافی دے رہا ہوں۔ اس پر حضرت علی ؓنے فرمایا اچھا تمہاری مرضی۔ تم زیادہ بہتر سمجھتے ہو۔ لیکن بہرحال ہماری حکومت کا اصول یہی ہے کہ من کان لہ ذمتنا قومہ کومنا ودیتہ کویتا۔یعنی جو ہماری ذمی رعایا میں سے ہے اس کا خون اور ہمارا خون برابر ہے اور اس کی دیت ہماری دیت ہی کی طرح ہے۔

(نصب الرایۃ جلد 4 صفحہ 337)

ایک دفعہ حضرت عمرو بن عاصؓ والیٔ مصر کے بیٹے نے ایک غیر مسلم کو ناحق مارا ۔ خلیفۂ وقت امیر المومنین حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کے پاس جب اس کی شکایت ہوئی تو انہوں نے بر سرعام گورنر مصر کے بیٹے کو اس غیر مسلم مصری سے مار کا بدلہ دلوایا اور ساتھ ہی فرمایا :منذکم تعبدتم الناس وقد ولدتھم امھاتھم احراراً۔(یعنی کب سے تم نے لوگوں کو اپنا غلام سمجھ لیا ہے ۔ حالانکہ وہ آزاد پیدا ہوئے ہیں۔)

(کنزالعمال جلد 2 صفحہ 255 مطبوعہ حیدر آباد)

آیت کریمہ ’’ فَلَا تَکُن لِلْخَائِنِیْنَ خَصِیْماً ‘‘ کے شان نزول کے سلسلہ میں یہ روایت بیان کی گئی ہے کہ ایک مسلمان نے کسی کی زرہ چرا لی لیکن حالات کچھ اس قسم کے پیش آئے کہ اسے راز کے افشاء ہونے کا کچھ ڈر سا پیدا ہوگیا اور اس نے وہ زرہ ایک یہودی کے گھر پھینک دی۔چنانچہ تفتیش پر زرہ اس یہودی کے گھر سے نکلی ۔ یہودی نے چوری کرنے سے انکار کیا لیکن مسلمان نے اصرار کیا ہے کہ اسی یہودی نے زرہ چرائی ہے۔ دوسرے مسلمانوں نے بھی یہودی کے مقابلہ میں اپنے ہم مذہب کی حمایت کی اور یہودی کو زیر الزام گردانا۔ اس سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بھی یہ سمجھے کہ شاید یہودی مجرم ہے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کرکے آپؐ کو حقیقت حال سے اطلاع دی ۔ آپؐ نے اس مسلمان کو اس غلط بیانی پر شدید سرزنش فرمائی اور یہودی سے ناجائز جھگڑنے سے منع کیا اور توبہ استغفار کی تلقین فرمائی۔(احکام القرآن حصاص صفحہ 340 جلد 2)

جزیہ جس کا بیشتر حصہ خود غیر مسلموں کی بہبود پر خرچ ہوتا تھا

پھر غیر مسلم رعایاسے امن و امان کے قیام اور انتظامی امور کے لیےجو ٹیکس جزیہ کے نام سے وصول کیا جاتا تھا اس میں بنیادی شرط یہ تھی کہ یہ ٹیکس صرف ایسے مردوں پر عائد ہوگا جو کمانے کے قابل ہو ں اور بر سر روزگار ہوں ۔ بیس سال سے کم اور پچاس سال سے زائد عمر والے، اسی طرح عورت، مجنون، غلام، معذور، مفلوج، لنجا، اندھا، بہرا ، مفلس، راہب اور فوجی ملازم جزیہ سے مستثنیٰ تھے۔ سال بھر بیکار رہنے کی صورت میں بھی جزیہ معاف ہو جاتا تھا ۔ خواہ وہ دولت مند ہی کیوں نہ ہوتا۔(الایضاح ودر مختار باب الجزیہ)

اس کے علاوہ حیثیت کی تعین کے لیے ایسے مردوں کے تین درجے مقرر تھے۔ عام لوگوں سے تین روپے سالانہ، متوسط الحال سے چھ روپے سالانہ اور دولت مندوں سے بارہ روپے سالانہ جزیہ لیا جاتا تھا اور اس طرح سے جو رقم وصول ہوتی اس کا ایک معتدبہ حصہ خود ذمیوں کی فلاح و بہبود اور تعلیم و ترقی پر خرچ ہوتا تھا ۔(الاحکام السلطانیہ مطبوعہ مصر صفحہ 137)

اس کے ساتھ ہی جزیہ ادا کرنے والے لوگ ہر قسم کی فوجی خدمت سے مستثنیٰ تھے لیکن اگر وہ خوشی سے جنگ میں شرکت پسند کرتے ، یا مسلمانوں کو ان سے مدد لینے کی ضرورت پڑتی تو ایسی صورت میں ان کا جزیہ معاف ہو جاتا تھا ۔ چنانچہ فتح جرجان کے موقع پر فاتحین کی طرف سے جو فرمان جاری کیا گیا اس کا مفاد یہ تھا :’’ ہم نے اس شرط پر تمہاری حفاظت کی ذمہ داری قبول کی ہے کہ تم ہر سال بقدر طاقت جزیہ ادا کرو گے اور اگر ہم نے تم سے کوئی سول یا فوجی خدمت لی تو اس خدمت کے عوض تم سے جزیہ معاف ہو جائے گا ۔‘‘(طبری صفحہ 2497)

جزیہ کوئی مذہبی ٹیکس نہ تھا

علاوہ ازیں یہ جزیہ کوئی مذہبی ٹیکس نہ تھا بلکہ پہلی حکومتوں کو بھی یہ لوگ ایسا محصول ادا کیا کرتے تھے۔چنانچہ تاریخ میں یہ تصریح موجود ہے کہ اسلامی حکومت میں جزیہ کی وہی شرط رکھی گئی تھی جو ایران کی نوشیروانی حکومت نے مقرر کر رکھی تھی۔(الفاروق شبلی صفحہ 489)

اسی طرح مشہور عیسائی مؤرخ جرجی زیدان لکھتا ہے۔ پانچویں صدی قبل مسیح میں جب ساحل ایشیائے کوچک کے باشندوں کو یونانیوں نے اپنی حمایت میں لے کر انہیں قینقہ والوں کے حملوں سے بچایا تو ان پر جِزیہ عائد کیا گیا ۔ جس کو حفاظت جان کے صلہ میں یہ لوگ بخوشی ادا کرتے تھے ۔ اسی طرح رومانیوں نے جب گال (فرانس) کا ملک فتح کیا تو وہاں کے باشندوں پر نوگِنی سے پندرہ گِنی تک سالانہ جزیہ لگایا اس کے بعد یونانیوں سے ایران میں یہ ٹیکس آیا جس کا نام گزیت تھا ۔ گزیت کے معنی ہیں ’’زرے کہ حکام ہر سال از رعایا گیرند‘‘اسی کا معرب جزیہ ہے ۔ غرض جزیہ کوئی مذہبی ٹیکس نہیں تھا بلکہ یہ قدیم زمانے کا ایک ٹیکس تھا جو جان و مال کی حفاظت کا معاوضہ قرار پایا تھا ۔( تاریخ التمد ن الاسلامی جلد 1 صفہ 169 مطبوعہ مصر)

دوسری طرف مسلمان جن کے لیے ہر قسم کی فوجی خدمت لازمی تھی ، عام صدقات اور مختلف ہنگامی چندوں کے علاوہ ہر سال زکوٰۃ ادا کرتے تھے ۔ گویا جانی قربانی کے باوجود مسلمانوں پر مالی قربانی کا بوجھ بھی عام ذمّی رعایا کے مالی بوجھ سے زیادہ تھا۔

اسلام میں اقلیتوں کاکس قدرلحاظ رکھا گیا ہے۔اس کا اندازہ اس سے بھی ہوسکتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم، حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ تینوں کی آخری وصیت میں یہ ارشاد شامل تھا کہ ذمیوں سے بھلائی کرنا، ان سے رواداری برتنا اور انہیں کسی قسم کی تکلیف نہ ہونے دینا ۔(بخاری صفحہ 187 والاحکام السلطانیہ صفحہ 137)

انسانی مساوات کا بے مثال منشور

حجۃ الوداع کے موقع پر شاہ دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو خطبہ ارشاد فرمایا وہ انسانی آزادی اور شہری مساوات کا ایک شاہکار تھا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

اَیُّھَاالنَّاسُ اِنَّ رَبَّکم وَاحِدٌ کُلُّکُمْ لِاَدَمَ وَاٰدَمَ مِنْ تُرَابٍ اِنَّ اَکْرَمَکُمْ عِنْدَاللّٰہِ اتْقٰکُم وَلَیْسَ لِعَرَبِیّ عَلیٰ عَجَمِیّ فَضْلٌ اِلَّا بِالتَّقْوٰی اَلَاھَلْ بَلَّغْتُ اَللّٰھُمَّ فَاشْھَدْ۔

(البیان والتبیین جلد2صفحہ24، سیرۃ ابن ہشام صفحہ968،طبری صفحہ1757، تاریخ الیعقوبی جلد2 صفحہ122)’’اے لوگو! تمہارا رب ایک ہے ۔ تم ایک ہی باپ کی نسل ہو ۔ اس لیے تم میں چھوٹے بڑے کی تقسیم قابل قبول نہیں۔ نہ کسی عربی کو کسی عجمی پر فضیلت ہے نہ کسی عجمی کو کسی عربی پر۔ نہ سفید سیاہ پر فضیلت رکھتا ہے اور نہ سیاہ سفید پر۔ صرف تقوی اور ذاتی قابلیت ہی وجہ فضیلت ہوگی اور اسلامی اقدار میں رنگ و نسل کو کوئی اختیار حاصل نہیں ہوگا ۔ ‘‘

اسی تسلسل میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حاضرین کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا :

عن ابن عبّاس انَّ رسول اللّٰہﷺ خطب النّاس یوم النّحر فقال ایُّھَاالنَّاسُ ایّ یومٍ ھَذَا قَالُوْا یومٌ حرامٌ فقال فایِّ بَلَدٍ ھَذا قَالُوْا بلدٌ حرامِ قال فایُّ شھر ھذا قالو شھرٌ حرامٌ قال فان دمآءکم و اموالکم واعراضکم علیکم حرامٌ کحرمۃ یومکم ھذا فی بلدکم ھذا فی شھرکم ھذا فاعادھا مرارًا ثمّ رفع راسہ فقال: اللّھمّ ھل بلّغتُ۔ قال ابن عبّاس فوالّذی نفسی بیدہ انّھا لوصیّۃ الیٰ امّتہٖ۔ فلیبلّغ الشّاھدُالغائبَ لاترجعوا بعدی کفارًا یضرب بعضکم رقاب بعض۔(بخاری کتاب المناسک باب الخطبۃ ایّامِِ منی جلد1صفحہ 234)

’’جس طرح تم حج کے دن ،حج کے مہینے اور حج کے مقدس مرکز کا احترام کرتے ہو ،اسی طرح ہر انسان کی جان ، اس کے مال اور اس کی آبرو کا بھی احترام کرو ۔ کیونکہ ان کو بھی ویسی ہی شرعی حفاظت حاصل ہے جیسی شرعی حفاظت اس مقدس دن ،اس مقدس مہینہ اور اس مقدس شہر کو دی گئی ہے۔‘‘

اسی طرح نظم و نسق کے لیے جو افسر مقرر ہوتے۔ آنحضرتﷺ کی طرف سے انہیں برابر یہ تلقین کی جاتی کہ وہ رعایا کی خیر خواہی میں کوشاں رہیں۔ کیونکہ جو حاکم خیرخواہی کے ساتھ اپنی رعایاکی حفاظت نہیں کرتا وہ جنت کی خوشبو سے بھی محروم رہے گا۔(تجرید البخاری کتاب الاحکام جلد 2 صفحہ 511 مطبوعہ لاہور)

4 ھ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے سینٹ کیتھرائن متصل کوہ سینا کے راہبوں اور تمام عیسائیوں کو ایک امان لکھ کر دی جس کا مفہوم یہ تھا کہ اگر کوئی مسلمان ان احکام کی خلاف ورزی کرے گا تو وہ خدا کے عہد کو توڑنے والا، اس کے احکام کے خلاف کرنے والا اور اپنے دین کو ذلیل کرنے والا خیال کیا جائے گا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس امان نامہ میں حکم دیا کہ مسلمان عیسائیوں کے گر جاؤں ،راہبوں کے مکانوں اور زیارت گاہوں کو ان کے دشمنوں سے بچائیں اور تمام مضر اور تکلیف دہ چیزوں سے پورے طور پر ان کی حفاظت کریں، نہ ان پر بےجا ٹیکس لگایا جائے، نہ کوئی اپنی حدود سے خارج کیا جائے، نہ کوئی عیسائی اپنا مذہب چھوڑنے پر مجبور کیا جائے، نہ کوئی راہب اپنی خانقاہ سے نکالا جائے، نہ کوئی زائر اپنی زیارت سے روکا جائے اور نہ مسلمانوں کے مکان بنانے کے لیے عیسائیوں کے گرجا گھر مسمار کیے جائیں … اگر عیسائیوں کو اپنے گرجوں اور سومعوں کی تعمیر میں یا اپنے کسی مذہبی امر میں مدد کی ضرورت ہو تو مسلمانوں کوہر طرح ان کی اعانت کرنی چاہیے۔ تم یہ خیال مت کرو کہ اس سے ان کے مذہب میں شرکت ہوتی ہے۔ بلکہ یہ تو صرف ان کے احتیاج کو رفع کرنا ہے اور رسول خدا ؐکے ان احکام کی پیروی کرنا ہے جو خدا کے حکم سے ان کے حق میں تحریر ہوئے ۔

جنگ کے وقت یا اس زمانہ میں جب کہ مسلمان اپنے دشمنوں سے بر سرِ پیکار ہوں کسی عیسائی سے اس لیے نفرت یا عداوت نہیں رکھنی چاہیے کہ وہ مسلمانوں میں رہتا ہے ۔جو کوئی مسلمان کسی عیسائی سے ایسا سلوک کرے گا تو وہ نا منصف اور رسول کا نافرمان اور سرکش خیال کیا جائے گا ۔

اس امان نامہ کو نقل کرتے ہوئے مشہور مؤ رخ ایڈمنڈ اولی لکھتا ہے۔ یہ ایک نہایت وقیع اور عظیم الشان پروانۂ آزادی ہے اور دنیا کی تاریخ میں اعلیٰ درجہ کی مساواتِ حقوق کی ایک قابل وقعت شریفانہ یادگار ہے۔(جنگ روس و روم (کاسل) مصففہ ایڈمنولی جلد اول صفحہ 176-177(بحوالہ اعظم الکلام)

خلاصہ یہ کہ اس عظیم القدر رواداری اور رعایا کے حقوق کی اس بے مثال حفاظت نے مفتوحہ اقوام کو یہ اطمینان دلا دیا تھا کہ وہ اپنے نئے سرداروں کے زیر سایہ اپنے اپنے مرتبہ اور مقام پر قائم رہ سکتی ہیں ۔ چنانچہ عہد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم اور خلافت راشدہ تک ان اقوام کی حالت انتہائی اطمینان بخش رہی اور کبھی بھی ایسی صورت پیدا نہیں ہوئی کہ ان اقوام کو اپنے حقوق کے بارے میں کسی پریشانی سے دوچار ہونا پڑا ہو یا انہوں نے ان حقوق کے حصول کے لیے جدوجہد کی ضرورت محسوس کی ہو۔

سیاسی غلطی اور اخلاقی پستی کا آغاز

لیکن افسوس ہے کہ یہ زریں عہد ہمیشہ کے لیے قائم نہ رہا اور ایک لمبے عرصہ کے بعد جب سیاسی حالات بدلے اور خلافت کی جگہ شخصی ملوکیت نے قدم جما لیے تو جہاں خود مسلمانوں کے حقوق غصب ہونے لگے۔ ان کی جان و مال کے احترام کو حکام نے نظر انداز کرنا شروع کیا اور اسلام کی کئی مایہ ناز ہستیاں ان کے ظلم و ستم کا نشانہ بنیں ۔ وہاں ذاتی اغراض کے ماتحت ذمی رعایا کے سلوک میں بھی فرق پیدا ہونے لگا اور قریباً وہی حالات پیدا ہوگئے جو روم و فارس کی حکومتوں کے زوال کا ذریعہ بنے تھے۔ گو ان حالات کے پیدا کرنے میں خود ذمیوں کی بدعہدی اور شرارت کا بھی کافی حصہ تھا کیونکہ امتداد زمانہ کی وجہ سے وہ خود بھی احسان فراموش بن چکے تھے اور بھول چکے تھے کہ کس طرح مسلمانوں نے ان کو خود ان کے ہم مذہبوں کے ظلم و ستم اور لوٹ کھسوٹ سے نجات دلائی تھی ۔ اس بے راہ روی کی وجہ سے یہ غیر مسلم اپنی وفاداریاں دوسری غیر مسلم حکومتوں کی طرف منتقل کرنے لگے تھے۔ بہرکیف یہ سیاسی حالات علمائے فقہ اور شارحین قانون پر بھی اثر انداز ہوئے اور انہوں نے ذمیوں کے لیے بعض ایسے قوانین وضع کیے جن کے لیے کوئی صحیح بنیاد اسلامی ماخذوں میں موجود نہ تھی۔ ہمارے لیے ان قوانین کا تفصیلی ذکر ایک ناخوشگوار فرض ہے۔ لیکن مضمون کے سارے پہلوؤں کی تکمیل کے لیے ہم اس تفصیل کا ذکر کرنے پر مجبور ہیں۔ کیونکہ ہمیں یہ دکھانا ہے کہ غیر مسلم رعایا کے متعلق اسلام کے اصل احکام کیا تھے اور پھر سیاسی حالات کی وجہ سے اسلام کو اپنے ہی دوستوں کے ہاتھوں کن غلط فہمیوں کا شکار ہونا پڑا ۔

مسلمانوں کے سیاسی ادبار کے متعلق ایک عجیب پیشگوئی

لیکن اصل موضوع کی طرف آنے سے پیشتر ہم سیّدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک پیشگوئی کا بیان ضروری سمجھتے ہیں۔ کیونکہ اس پیشگوئی میں مسلمانوں کے سیاسی ادبار کے بعض اسباب کے بارہ میں چند ایسے لطیف اشارے ملتے ہیں جن کا زیرِ بحث موضوع سے قریبی تعلق ہے۔ وہ پیشگوئی یوں ہے کہ ایک دفعہ حضرت ابوہریرہؓ نے مجلس وعظ میں کہا ۔ تمہاری کیسی بُری حالت ہوگی جب تمہاری حکومت مالی اور اقتصادی بحران سے دوچار ہوجائے گی اور تم ذمّیوں سے ان کی رضا مندی قائم رکھتے ہوئے ایک حبّہ تک وصول نہیں کر سکوگے۔ حیرت زدہ سامعین میں سے بعض نے کہا ۔ اے ابوہریرہ! کیا واقعی ایسا ہوجائے گا؟ انہوں نے جواب دیا۔ اللہ تعالیٰ کی قسم مجھے مخبرِصادق صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا کہ جب اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولؐ کی ذمہ داری کی ہتک کی جائے گی اور ذمّیوں کو ذلیل سمجھا جائے گا تو ایسے حالات میں ان ذمّیوں کے دل سخت ہوجائیں گے اور وہ جزیہ دینے سے انکار کر دیں گے۔(تجرید البخاری باب علامات الساعۃ صفحہ 102 شائع کردہ فیروز سنز لاہور)

لیکن افسوس کہ اس واضح انذار کے باوجود سمجھ نے ٹھوکر کھائی اور وہی کچھ ہوا جس سے ڈرایا گیا تھا۔ بہرحال یہ حالات کیونکر پیدا ہوئے اور یہ انذار کس طرح نظر انداز ہوا۔ اس سوال کا جواب ان فقہی احکام کی بین السطور میں ڈھونڈھئے جن کی تفصیل اب آپ کے سامنے پیش کی جارہی ہے۔

ذمّی رعایا کے متعلق فقہی احکام

اس سلسلہ میں سب سے پہلی پابندی جس کی طرف مختلف وجوہات کے پیش نظر علمائے فقہ کی توجہ مبذول ہوئی۔ وہ مسلم اور غیر مسلم رعایا کے درمیان ظاہری امتیاز قائم کرنے کی ضرورت کا تصور تھا۔

پہلا حکم اور اس کی تفصیلات

جس ذہنیت کے ماتحت اس تصور کو عملی جامہ پہنایا گیا وہ یہ تھی کہ ظاہری امتیاز کے لئے جو علامات مقرر کی جائیں وہ ایسی ہوں جن سے ذمّیوں کی تحقیر اور تذلیل ہو اوروہ مسلمانوں کے مقابلہ میں کم حیثیت دکھائی دیں۔ چنانچہ صاحبِ ہدایہ مسلم اور ذمّی کے درمیان ایسے امتیاز کے قائم کرنے کی ضرورت پر بحث کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

ویوخذ اھل الذمّۃ بالتمیز عن المسلمین فی زیّھم ومراکبہم وسروجھم۔(ہدایہ باب الجزیہ جلد2 صفحہ 363)

(11)ذمّیوں کو مجبور کیا جائے کہ وہ اپنے لباس ، سواری اور اس کی کاٹھی کے استعمال میں مسلمانوں کی برابری نہ کریں اور اپنے آپ کو ان چیزوں کے استعمال میں علیحدہ رکھیں۔

وقد صرح فی فتح القدیر یمنع عن الثیاب الفاخرۃ حریرًا وغیرہٗ … ویحبّ التمیز فی النّعال ایضًا فیلبسون الخشبۃ الفاسدۃ اللّون تحقیرًا لھم … و شرط فی القمیص ان یکون ذیلہ قصیرًا…والکستیج خَیطٌ غلیظٌ بقدرالاصبح یشدّہ الذّمّی فوق ثیابہٖ وما یتزیّنون بہٖ من الزنّانیر المتخذۃ من الابریشم ولیس العمامۃ فجفاء فی حق اھل الاسلام و مکسرۃ لقلوبہم و یمنعون عن لباس یختصّ بہٖ اھل العلم والزّھد والشّرف وکذا لایلبسون ملباسۃ مثل لباسۃ المسلمین۔ والکستیج حقیقتہ العجز والذّلُّ بلغۃِ العجم وھی علامۃ الکفر۔(بحرالرائق شرح کنزالدقائق مصری فصل الجزیہ صفحہ 112تا صفحہ 115جلد 5و حاشیہ کنزلدقائق صفحہ 191 جلد 8)

(12)اس کے بعد اس امتیاز کی تفصیل کو یوں بیان کیا گیا کہ ذمّی خاص قسم کا لباس پہنیں۔ یہ لباس گھٹیا قسم کا ہو۔ ریشمی اور بیش قیمت لباس نہ ہو۔ ان کی قمیص چھوٹے دامن والی ہو۔ جوتیاں بد رنگ اور بھدی شکل کی، کسی سخت چیز کی بنی ہوئی ہوں، کمر میں وہ ایک خاص قسم کا انگل کے برابر اُون کا دھاگا باندھیں۔ اس دھاگے کا اصطلاحی نام کستیج ہے۔ یہ ایک عجمی لفظ ہے جس کے معنی عجز اور ذلت کے ہیں۔ اس لئے یہ دھاگا ریشم کا نہ ہو کیونکہ اس سے زینت بڑھتی ہے اور اصل مقصدجو ذمّیوں کی تذلیل اور تحقیر ہے فوت ہوجاتا ہے۔ نیز اس سے دوسرے غریب مسلمانوں کے دل پر بھی بُرا اثر پڑتا ہے۔ اسی طرح وہ ایسی چادریں بھی نہ اوڑھیں جیسی مسلمان استعمال کرتے ہیں۔ ایسا ہی اہل ِعلم و شرف کا لباس بھی وہ نہ پہنیں۔

دوسرا حکم اور اس کی تفصیلات

ولایرکبون الخیل ولھم ان یرکبوا الحمر عند المتقدّمین علی سروج کھیئۃ الاُکفّ و اختار المتاخرون ان لَا یرکبوا اصلًا الَّا اذا خرجوا قریۃً … او کان مریضا فیرکب ثم ینزل فی مجامع المسلمین اذا مرّبھم۔(ہدایہ باب الجزیہ جلد2صفحہ 563، بحرالرائق جلد5صفحہ 114)

(13)اس کے بعد دوسرا امتیاز سواری کے بارہ میں ہے۔ چنانچہ قانون بنایا گیا کہ ذمّی گھوڑے پر سوار نہ ہوں۔ البتہ خچر یا گدھے کی سواری وہ کر سکتے ہیں۔ لیکن اس پر بھی وہ ایسی کاٹھی استعمال نہ کریں جوگھوڑے کے لئے استعمال ہوتی ہے۔ بلکہ پالان کی قسم کی ہنّےوالی ادنیٰ قسم کی کاٹھی ہو۔ بعض فقہاء نے ہر قسم کی سواری کی ممانعت کی ہے۔ اور صرف اشدضرورت کے وقت اس کی اجازت دی ہے۔مثلاًبیمار کو کسی جگہ پہنچانا ہے یا دور کا سفر درپیش ہے ۔ لیکن اس صورت میں بھی مسلم آبادی سے گذرتے وقت وہ سواری سے اتر پڑیں اور پیدل چلیں۔

تیسرا حکم اور اس کی تفصیلات

ویُحمل علی دورھم علامات کی لا یقف علیہا سائِلٌ یرعولھم بالمغفرۃ … و یمنعون عن تعلیۃالبنیان علی جیرانہم المسلمین وکذا یؤمربتمییز نسآءھم عن نسآء نا فی الطّرق والحمامات … ولایبتدؤن بالسّلام ویضیّقون فی الطّریق و ینبغی ان یلازم الذمّی الصّغار فی کل شیءٍ فعلیٰ ھذا یمنع من العقود حال مقام المسلم عندہٗ واذا وجب علیہم اظھار الذّلّ والصغارمع المسلمین وجب علی المسلمین عدم تعظیمہم۔(ہدایہ جلد2صفحہ 563، الاختیارات العملیۃ لابن تیمیہ باب مقدالمقدمۃ صفحہ 189، کنزالدقائق صفحہ 191 حاشیہ نمبر8، بحرالرائق صفحہ 114، جلد5۔)

(14)تیسری دفعہ ذمّیوں کے لئے یہ تجویز ہوئی کہ وہ اپنے گھروں پر خاص قسم کے نشان لگائیں جس سے ان کے گھر پہچانے جاسکیں اور ہر کوئی جانے کہ یہ ذمّی کا گھر ہے۔ تاکہ کوئی مسلمان ناواقفی میں اہل خانہ کے لئے دعائے مغفرت نہ کر دے۔ اسی طرح ان کے مکان مسلمان پڑوسیوں کے مکانوں سے زیادہ بلند نہ ہوں۔ ایسے ہی مسلمان عورتیں ذمّی عورتوں سے اسی طرح پردہ کریں جس طرح وہ اجنبی مردوں سے پردہ کرتی ہیں۔ اگر کوئی ذمّی عورت کسی بے پردہ مسلمان عورت کو دیکھنے کی کوشش کرے تو اس ذمّی عورت کو سرزنش کی جائے۔ مسلمان اور ذمّی عورتوں کے راستے اور حمام بھی الگ الگ ہونے چاہئیں تاکہ ان میں خلا ملا نہ ہو۔ ذمّیوں کو سلام کرنے میں پہل نہ کی جائے۔ نیز ان کو مجبور کیا جائے کہ وہ راستہ سے ہٹ کر چلیں۔ سڑک کے وسط میں چلنے کی انہیں اجازت نہ ہونی چاہیئے۔ اگر کوئی مسلمان کھڑا ہو تو ذمّی کو اس کے سامنے بیٹھے رہنے کی اجازت نہیں ۔ اسے چاہئے کہ وہ فوراً باادب کھڑا ہوجائےورنہ اسے بے ادب اور گستاخ سمجھا جائے گا اور مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ ذمّیوں کی تکریم و توقیر نہ کریں اور نہ ان سے عزت سے پیش آئیں۔ غرض ہر مرحلہ پر ان کی حیثیت کوکم دکھایا جائے۔

چوتھا حکم اور اس کی تفصیلات

ذمّیوں کے لئے چوتھی پابندی یہ تجویز ہوئی کہ سلطنت کی مسلم آبادیوں میں نہ وہ اپنا کوئی معبد بنا سکتے ہیں اور نہ ہی کوئی خانقاہ تعمیر کر سکتے ہیں۔ البتہ پرانے معبدوں کی مرمت کرائی جاسکتی ہے۔ لیکن ان میں بھی کسی اضافہ کی اجازت نہ ہوگی۔

لایٰجوزاحداث بیعۃ ولاکنیسۃ فی دارالاسلام لقولہ علیہ السّلام لاخصاء فی الاسلام ولاکنیسۃ والمراد احداثھا وان انھرمت البیع والکنائس القدیمۃ اعادوھا … وامصارُالمسلمین ھی الّتی تقامُ فیہا الجمع والاعیاد والحدود … قیل امصار المسلمین ثلاثۃ احدھا ما مصرہ المسلمون منہا کالکوفۃ والبصرۃ و بغداد و واسط فلا یجوزفیہا احداث بیعۃ ولاکنیسۃ ولامجتمع لصلوٰتھم ولاصومعۃ باجماع العلماء ولا یمکنون فیہ من شرب الخمر واتحاذالخنزیر وضرب النّاقوس۔

وثانیھا ما فتحہ المسلمون عنوۃ فلایجوزا حداث شی فیہا بالاجماع و ثالثہا ما فتح صُلْحًا فان صالحھم علی شرط تمکین الاحداث لانمنعھم والاولیٰ ان لّایصالحھم علیہ و یُمنَعون عن الاحداث وان وقع صلح علیہ … واذا حضرلھم عید یخرجون فیہا صلبانھم وغیر ذلک … فاما ان یخرجوا ذٰلک من الکنائس حتّٰی یظھر فی المصر فلیس لھم ذلک ولٰکن یخرجواً خفیۃ من کنائسھم۔(ہدایہ جلد 2 صفحہ 563، ہدایہ جلد 7 صفحہ 113، بحرالرائق جلد 5صفحہ 112 مع حاشیہ، و جلد 7صفحہ 214)

(15) دارالاسلام میں ذمّیوں کو نئےمعبد تعمیر کرنے کی اجازت نہ ہوگی۔ کیونکہ حدیث میں آتا ہے کہ اسلام میں کسی کو خصّی کرنا یا غیر مسلموں کو کسی معبد کی تعمیر کی اجازت دینا جائز نہیں۔ اسلامی آبادیوں سے مراد ایسے شہر اور دیہات ہیں جہاں جمعہ اور عیدین کی نمازیں ہوتی ہیں اور سزاؤں کے اجراء کا وہاں انتظام ہے۔ بعض یہ کہتے ہیں کہ اسلامی شہروں کی تین قسمیں ہیں۔ ایک وہ جنہیں مسلمانوں نے خود آباد کیا ہو۔ جیسے بصرہ، کوفہ، بغداد اور واسطہ وغیرہ ہیں۔ اس قسم کے شہروں میں غیر مسلموں کو کسی قسم کے معبد بنانے کی اجازت نہ ہوگی اور نہ ہی مذہبی مظاہرے کی اجازت دی جاسکے گی۔ دوسری قسم ایسے شہروں کی ہے جن کو مسلمانوں نے بزورِ شمشیر فتح کیا ہو۔ ان میں بھی ذمّی اپنا کوئی نیا معبد تعمیر نہیں کر سکتے۔ تیسری قسم یہ ہے کہ وہ شہر صلح سے فتح ہوا ہو۔ ان میں شرائط صلح کے مطابق عمل ہوگا۔ لیکن بہتر یہی ہے کہ صلح میں معبد تعمیر کرسکنے کی شرط کو تسلیم نہ کیا جائے اور اس شرط کو تسلیم کرلیا گیا ہو تو اس کے پورا کرنے سے پہلو بچایا جائے۔ اسی طرح مذہبی تہواروں میں ذمّی اپنے معبدوں سے باہر صلیب یا کسی مورتی کا جلوس نہیں نکال سکتے اور نہ ہی کسی قسم کا مظاہر ہ کر سکتے ہیں۔

یکرہ للمسلم الدّخول فی البیعۃ والکنیسۃ یکرہ من حیث انہ مجمع الشیاطین لامن حیث انہ لیس لہ حقّ الدّخول۔(بحرالرائق صفحہ 214جلد 7۔ مطبوعہ مصر)

(16)کسی مسلمان کے لئے غیر مسلموں کے معبدوں میں جانا غیر پسندیدہ ہے۔ اس کی وجہ یہ نہیں کہ وہاں جانے کا کسی مسلمان کو حق نہیں بلکہ وجہ یہ ہے کہ وہ جگہ مجمع الشیاطین ہے جہاں شیاطین جمع ہوتے ہیں۔

پانچواں حکم اور اس کی تفصیلات

انّ الجزیۃ لاتقبل من الذمی لوبعثہا علی ید نائبہٖ بل یکلّفُ ان یاتی بنفسہٖ فیوتی قائمًا والقابض منہ قائدًا ویاخذ بتلبیسہٖ ویھزّہ ھزًّا ویَقول اعطی الجزیۃ یا عَدُوَّاللّٰہِ۔(بحرالرائق صفحہ 112جلد 5۔ مطبوعہ مصر)

(17)ذمّیوں پر پانچویں پابندی یہ لگائی گئی ہے کہ ہر ذمّی جزیہ کی رقم خود ذاتی طور پر حاضر ہو کر ادا کرے۔ کسی نمائندہ یا وکیل کے ذریعہ ادا کرنے کی اجازت نہ ہوگی۔ جزیہ دینے والا ذمّی کھڑا ہو کر اور وصول کرنے والا محصل بیٹھا ہوا ہو اور جزیہ لیتے وقت ذمّی کو اسے ذلیل کرنے کے لئے گریبان سے پکڑے اور جھنجھوڑتے ہوئے کہے۔ اے اللہ کے دشمن جزیہ ادا کرو۔

ذمّیوں کے لئے فقہی احکامات کی مبیّنہ حکمت

انّما یوخذون بذلک اظہارًا للصّغار علیہم وصیانۃ لضعفۃ المسلمین ولان المسلم یکرم والذمّی یھانُ … وایضالولم تکن علامۃٌ ممیّزۃ فلعلّہ یعامل معاملۃ المسلمین من التّوقیر والاجلال وذلک لایجوز … واذا وجب التمیز وجب بما فیہ صغار لااعزاز لانَّ اذلالھم لازم … وفی اظھار ھذہ العلامات اظھار اٰثارالذلّۃ علیھم۔

(ہدایہ صفحہ 563جلد 2، بحرالرائق صفحہ 113جلد5، ردّالمختار شامی صفحہ 373جلد3، بدائع الصناع صفحہ 113جلد7)

(18)اس ضمن میں یہ واضح کرنا خالی از دلچسپی نہ ہوگا کہ علمائے فقہ نے مذکورہ بالا پابندیوں کے جواز کے لئے جو وجوہات بیان کی ہے وہ بھی نہایت عجیب ہیں۔ چنانچہ کتبِ فقہ میں لکھا ہے کہ اس قسم کی پابندیاں اس لئے ضروری ہیں تاکہ ذمّیوں کی تذلیل اور کمزوری ظاہر ہو اور کمزور مسلمانوں کی حفاظت ہوسکے۔ نیز جس طرح مسلمان کی تعظیم ضروری ہے اسی طرح ذمّیوں کی تذلیل بھی سیاست کا تقاضا ہے کیونکہ اگر مسلم اور غیر مسلم میں تمیز کے لئے کوئی علامت نہ ہو تو بہت ممکن ہے کہ کوئی شخص ذمّی کا بھی اسی طرح اعزاز و اکرام کرے جس طرح وہ ایک مسلمان کا کرتا ہے اور یہ جائز نہیں۔ اس لئے کچھ علامات ہونی چاہئیں جن سے ذمّی بآسانی پہچانے جاسکیں۔ لیکن یہ علامات اور پابندیاں ایسی ہونی چاہئیں جن سے ان کے اعزاز کی بجائے ان کی تذلیل کا پہلو نکلتا ہو۔ کیونکہ ان کو کمزور اور جکڑ کر بند رکھنا سیاستِ ملکی کا ایک ضروری حصہ ہے۔

بعض لوگ مذکورہ بالا پابندیوں کے جواز کی یہ توجیہ کرتے ہیں کہ دراصل ان پابندیوں میں خود ذمّیوں کا فائدہ مدّنظر تھا تاکہ ان کے ذریعہ سے ذمّیوں کی ثقافت، ان کے کلچر اور ان کے تمدن کی حفاظت ہوسکے۔ کیونکہ اپنے اس امتیاز کی وجہ سے وہ بآسانی پہچانے جاسکتے تھے اور اس طرح لوگ ان پر زیادتی کرنے سے باز رہتے اور باہمی تصادم کے امکانات کا سدّباب ہوجاتا۔ لیکن ظاہر ہے کہ یہ توجیہ صرف انہی لوگوں کو مطمئن کر سکتی ہے جو استعمار پسند قوموں کے جواب سے مطمئن ہوجاتے ہیں کہ مشرقی ممالک پر ان کا تسلط وہاں کے عوام کے فائدے کے لئے ہے تاکہ ان کی علمی حالت کو سدھارا جائے اور ان کو تہذیب و تمدن سکھایا جائے اور اس طرح ان کو حکومتِ خود اختیاری کے اہل بنایا جائے۔ اسی طرح ممکن ہے کہ اس جواب کو ایسے لوگ بھی صحیح مان لیں جو گاؤ کشی کی ممانعت کے بارے میں اس دلیل کو صحیح مانتے ہیں کہ زرعی معیشت کی بہتری کے لئے گاؤ کشی کو روکنا ضروری ہے۔ ورنہ یہ ممانعت کسی مذہبی عقیدہ کے بناء پر نہیں۔ جس طرح یہ دونوں جواب حقیقت اور اصلیت سے دور ہیں اسی طرح ذمّیوں سے متعلق پابندیوں کے جواز کے بارہ میں بعض علماء کا یہ جواب بھی بعید از حقیقت ہے۔

بعض لوگ یہ کہہ کر اپنی جان چھڑانے کی کوشش کرتے ہیں کہ یہ باتیں ذمہ وار لوگوں نے کہی ہیں یا غیر معتبر کتب سے حاصل کی گئی ہیں۔ لیکن یہ جواب بھی درست نہیں۔ کیونکہ جن کتابوں سے یہ مطالب لئے گئے ہیں وہ فقہ کی معتبر ترین کتابیں ہیں۔ مثلاً ہدایہ فقہ حنفی کی ایک مشہور کتاب ہے۔ محمڈن لاء کے بنیادی ماخذوں میں اس کا شمار ہوتا ہے۔ ملک کے تمام دینی مدارس میں اس کو بطور نصاب شامل کیا گیا ہے اسی طرح اس کتاب کی شرح فتح القدیر ابن ہمامؒ جیسے فاضل اور مانے ہوئے حنفی عالم کی تصنیف ہے۔ بحر الرائق ، کنز الدقائق کی شرح ہے اور ایک مستند ماخذ ہے۔ بدائع الصناع حنفی مسلک کی ایک بلند پایہ تصنیف ہے۔ یہی مقام عینی شرح کنز الدقائق اور فتاویٰ شامی کا ہے۔ امام نوویؒ کی کتاب شرح صحیح مسلم کے پایۂ اعتبار سے کسے انکار ہے۔ اسی طرح کتاب الاختیارات العلمیہ امام ابن تیمیہ جیسے یگانۂ روزگار کی مرتّبہ ہے ۔ غرض جس قدر بھی حوالے مضمون زیرِ بحث کےدوران میں دئے گئے ہیں وہ سب مستند کتابوں سے ماخوذ ہیں۔ یہ کتابیں اپنے اپنے زمانہ کی اسلامی حکومتوں کے دستور العمل کا اہم ماخذ رہی ہیں اور اہل سنت و الجماعت کا کوئی بھی فرد ان کتابوں کو غیر معتبر کہنے کی جرات نہیں کرسکتا۔ لیکن اس تصریح سے ہمارا یہ مقصد ہرگز نہیں کہ اسلام کامنشاء بھی یہی ہے جو ان کتب میں بیان ہوا ہے۔ بلکہ غرض صرف یہ دکھانا ہے کہ کتب فقہ میں یہ تفاصیل موجود ہیں اور جن لوگوں کو اصرار ہے کہ ان فقہی مذاہب کی روشنی میں اس زمانہ میں اسلام کا آئین مرتب کیا جائے اور ان تفاصیل کو اپنائے بغیر اپنا مقصد حاصل نہیں کر سکتے اور اس کے جو نتائج مرتب ہوسکتے ہیں ان سے انہیں ضرور عہدہ برآ ہونا پڑے گا۔ اسی طرح ہمارا مقصد یہ بھی نہیں کہ تمام سابقہ اسلامی حکومتوں نے عملاً ان پابندیوں کو اختیار بھی کیاتھا ۔ بلکہ واقعہ یہ ہے کہ ان احکام کے علی الرغم صحیح اسلامی روح کے مطابق کئی حکومتوں نے ذمّیوں سے نہایت فراخدلانہ سلوک کیا اور خود غیر مسلموں نے اس کا اعتراف کیا۔ چنانچہ اپنے تعصب میں مشہور شہرہ آفاق عیسائی مؤرخ جرجی زیدان نے لکھا ہے:’’مسلمانوں کے نہایت تیزی کے ساتھ علمی ترقی کرنے کا ایک زبردست سبب یہ بھی تھا کہ خلفائے اسلام ہر قوم اور ہر مذہب کے علماء کے بہت بڑے قدر دان تھے اور ہمیشہ ان کو انعام و اکرام سے مالا مال کرتے رہتے تھے۔ ان کے مذہب، ان کی قومیت اور ان کے نسب کا کچھ خیال نہیں کرتے تھے۔ ان میں نصرانی، یہودی، صابی، سامری اور مجوسی غرض ہر ملت کے لوگ تھے۔ خلفاء ان کے ساتھ نہایت عزت اور عظمت کا برتاؤ کرتے تھے۔ غیر مسلموں کو وہی آزادی اور درجہ حاصل تھا جو مسلمان امرا یا حکام کو حاصل ہوتا تھا۔‘‘

(تاریخ التمدن الاسلامی جلد 3 صفحہ 194)

اسی طرح ابو اسحاق بن ابراہیم موصلی دربارِ ہارونی کا مشہور فنکار راوی ہےکہ ایک روز ہارون الرشید شکار کو گیا اور مجھے بھی اپنے ہمراہ لے گیا۔ خلیفہ تو شکار کے تعاقب میں آگے بڑھ گیا مگر میں تکان کےباعث پیچھے رہ گیا۔ اتفاقاً سامنے ایک گرجا نظر آیا۔ میں تھکا ہوا تھا، خیال کیا کہ یہاں تھوڑی دیر سستانے کا موقع مل جائے۔ اس خیال سے میں گرجا کے احاطہ میں داخل ہوگیا۔ جب گرجا کے بوڑھے پادری نے مجھے دیکھا تو بہت خوش اخلاقی سے میرے پاس آیا اور میری بڑی خاطر مدارت کی۔ نرم بستر میرے لئے بچھا دیا اور پنکھا جھلنے کے لئے ایک خادمہ کو میرے پاس بھیج دیا۔ پھر فوراً میرے لئے اچھے اچھے کھانے پکوائے۔ اس دوران میں مجھے اپنی عمر کے عجیب عجیب واقعات اور حالات سناتا رہا۔ کھانے کے بعد مجھے بہت عزت و احترام سے رخصت کیا۔ جب میں وہاں سے چل کر ڈھونڈتا ڈھونڈتا خلیفہ کے کیمپ میں پہنچا تو خلیفہ نے مجھ سے پوچھا کہ تم کہاں رہ گئے تھے؟ میں نے ساری کیفیت بیان کی اور پادری کی مہمان نوازی کی تعریف کی جس پر خلیفہ کو بھی شوق پیدا ہوا کہ ایسے اخلاق، ملنسار اور مہمان نواز انسان سے ضرور ملنا چاہئے۔ چنانچہ خلیفہ نے اپنی واپسی کا ارادہ اس رات ملتوی کر دیا اور میرے ساتھ تنہا پادری سے ملاقات کے لئے چل کھڑا ہوا۔ گرجا پہنچ کر جب پادری کو معلوم ہوا کہ دنیا کا سب سے بڑا شہنشاہ اس کی ملاقات کو آیا ہے ۔تو وہ بے انتہا خوش ہوا۔ ظاہر ہے کہ اس کے لئے اس سے زیادہ فخر اور کیا ہو سکتا تھا۔ گرجا کے سارے آدمی خلیفہ کی خدمت اور خاطر و مدارات میں لگ گئے۔ بڑی پُرتکلف دعوت ہوئی اور جنگل میں امیر المومنین کو محل کا مزا آگیا۔

خلیفہ اپنی آؤ بھگت اور مہمان نوازی سے بڑا خوش ہوا اور چلتے وقت ایک ہزار دینار اسے مرحمت فرمائے اور حکم دے دیا کہ گرجا سے متعلق جس قدر مزروعہ زمین اور باغات ہیں سات سال تک اس کا کچھ مالیہ وصول نہ کیا جائے۔

پادری گرجے کے احاطہ کے دروازے تک خلیفہ کو چھوڑنے آیا۔ رخصت کے وقت خلیفہ نے بڑی گرمجوشی کے ساتھ پادری سے مصافحہ کیا اور کہنے لگا:’’میں آپ سے مل کر نہایت خوش ہوا اور مجھے اس بات کا فخر ہے کہ میری رعایا میں ایسے مہمان نواز اور خوش اخلاق بزرگ موجود ہیں‘‘

(ہارون الرشید مصنفہ مسٹر پامر بحوالہ الہارون صفحہ283)

قیصر روم کی بار بار عہد شکنی اور سرکشی اور سرحد پر قتل و غارت سے ہارون تنگ آگیا تھا۔ ایک روز نہایت غصے سے اس نے قاضی القضاۃ حضرت امام ابو یوسف سے پوچھا کہ عہد اسلامی میں عیسائیوں کے گرجے کیوں محفوظ رہے اور کس نے ان کو اس بات کی اجازت دی کہ شہروں میں اعلانیہ صلیب کا جلوس نکالیں؟

اس پر امام یوسف نے بڑی جرات سے جواب دیا۔ ’’حضرت عمرؓ کے عہد میں رومی ممالک فتح ہوئے تو عیسائیوں کو یہ لکھ کر دے دیا گیا تھا کہ تمہارے گرجے محفوظ رہیں گے اور تمہیں اپنے مذہبی اعمال بجالانے اور صلیب نکالنے میں پوری آزادی ہوگی۔ پس اب کسی کو اختیار نہیں کہ بنیادی حقوق سے تعلق رکھنے والے اس حکم کو منسوخ کر دے۔‘‘

(الہارون صفحہ 284)

اسی طرح تاریخِ سپین کا مصنف لکھتا ہے:’’جن عیسائیوں نے مفتوحہ ملک میں رہنا پسند کیا ان کے جان و مال کی پوری حفاظت کی گئی۔ انہیں پورا حق حاصل تھا کہ اپنے طور پر اپنی عبادت کریں۔ معینہ حدود میں انہی کے قوانین رائج تھے۔ بعض ملکی اور قومی عہدوں پر ان کا تقرر کیا گیا۔ ان کی عورتوں کو اجازت تھی کہ وہ فاتحوں کے ساتھ شادی بیاہ کریں۔ غرض از روئے قانون ان کے ساتھ کوئی ایسا برتاؤ نہیں کیا جاتا تھا جس سےوہ مفتوح یا غلام معلوم ہوں۔‘‘

ایک شخص جارج برنیکو وچ جو گریک چرچ کا پیرو تھا اس نے ایک مقتدر رومن کیتھولک افسر ہینا ڈس سے پوچھا کہ تم فتح یاب ہوئے تو کیا کرو گے؟ اس نے جواب دیا کہ تمام باشندوں کو جبراً رومن کیتھولک بناؤں گا۔ اس کے بعد برنیکووچ سلطانِ ترکی کی خدمت میں گیا اور ان سے بھی یہی سوال کیا۔ وہاں سے جواب ملا میں مسجد کے قریب ایک گرجا بناؤں گا اور تمام لوگوں کو اجازت دوں گا کہ وہ اپنے اپنے مذہب کے مطابق خواہ مسجدوں میں سجدہ کریں یا گرجاؤں میں صلیب کے سامنے جھکیں۔ جب اہل سروبا نے یہ سنا تو انہوں نے لٹین چرچ کے محکوم بننے کے مقابلہ میں سلطان کی اطاعت کو زیادہ پسند کیا۔

(ٹرکی اِن یورپ صفحہ 279 مصنفہ جیمس بیکر ایم۔اے)

یہ سارے واقعات بتاتے ہیں کہ خلافت راشدہ کے بعد کے مسلمانوں نے بھی بالعموم اپنی غیر مسلم رعایا سے نہایت مشفقانہ اور خسروانہ سلوک کیا اور ان فقہی احکام کی کوئی زیادہ پروا نہیں کی۔ لیکن اس میں بھی شک نہیں کہ جب کسی حکومت نے اپنی پست اغراض کے ماتحت ذمّیوں پر زیادتی کی تو وہ اپنی روح کی تسکین فقہ کے ایسے ہی احکام میں تلاش کرنے کی کوشش کرتی رہی اور اس وجہ سے دوسری اقوام کو اسلام پر اعتراض کرنے کے مواقع میسر آئے۔

(جاری ہے)

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

For security, use of Google's reCAPTCHA service is required which is subject to the Google Privacy Policy and Terms of Use.

I agree to these terms.

Back to top button
Close