متفرق مضامین

سلامتی کا شہزادہ: آنحضورﷺ کی اخلاقی تعلیم اور امن عالم

(ڈاکٹر محمد داؤد مجوکہ۔جرمنی)

سلامتی کے شہزادے کے متعلق پیشگوئی

گذشتہ صحیفوں میں جو پیشگوئیاں کی گئی تھیں ان میں ایک ’’امن کا شہزادہ‘‘ کے متعلق بھی ہے۔ چنانچہ حضرت یسعیاہ کی کتاب میں درج ہے:’’حکومت اس کے کاندھوں پر ہے۔ اس کا نام ’’تعجب خیز، مشیر،قوت والا خدا ، ہمیشہ رہنے والا باپ، سلامتی کا شہزادہ ‘‘ہو گا۔اس کا اختیار عظیم ہو گا۔ اور اس سلامتی کی،جسے وہ لیکر آئے گا کوئی انتہا نہ ہو گی۔ وہ داؤد کے تخت پر بیٹھے گا اور اس کی مملکت پر ہمیشہ کے لیے حکمرانی کرے گا۔ انصاف اور صداقت اسے مضبوطی فراہم کریں گے۔ خداوند قادر مطلق کی بے حد محبت کی وجہ سے یقیناً ایسا ہو گا ‘‘(یسعیاہ باب ۹آیت ۶تا۷)

یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ اس پیشگوئی سے آنحضورؐ ہی مراد ہیں (حضرت مصلح موعودؓ، انوار العلوم جلد ۲۰، صفحہ۱۴۵ )۔ کیونکہ آپؐ ہی پر اس جگہ بیان کردہ تمام علامات صادق آتی ہیں اور آپؐ کے سوا کسی اور شخص پر صادق نہیں آتیں۔ آپؐ کو ہی کو روحانی سلطنت کی ہمیشہ کی بادشاہت دی گئی جس کی کوئی انتہا نہیں۔ آپؐ کو داؤدؑ کی طرح ظاہری حکومت بھی دی گئی اور فلسطین جو کہ داؤد ؑ کا علاقہ ہے،دائمی طور پر آپؐ کو دیا گیا۔ آپؐ ہی کو خدا سے مماثلت دی گئی، انجیل میں بھی اور قرآن میں بھی۔

آپؐ کو سلامتی کا شہزادہ قرار دیا جانا دو وجوہات سے تھا۔ ایک تو ذاتی صفت کے طور پر۔ کیونکہ آپؐ کی لائی ہوئی تعلیم کے ذریعہ دنیا میں دیر پا اور حقیقی امن قائم ہونا تھا اور اسی لیے اس تعلیم کا نام ہی ’’اسلام‘‘رکھا گیا جس میں سلامتی اور امن کی جانب صاف اشارہ پایا جاتا ہے۔دوسرے رفع ذنب کے لیے کیونکہ آپؐ پر جنگ اور نقض ِامن کا الزام لگایا جانا تھا۔ یہ اللہ تعالیٰ کی سنت ہے کہ وہ الہامات میں ایسے الفاظ استعمال فرماتا ہے جن سے بعض الزامات کا رد مقصود ہوتا ہے۔

مذہبی تعلیم کا امن عالم سے تعلق

امن عالم کے متعلق مذہبی تعلیم کے تین حصے ہیں۔ پہلا حصہ تو وہ ہے جس کا براہ راست بین الاقوامی تعلقات اور امن سے تعلق ہے۔ اور یہ حصہ ہر ایک کو دکھائی دیتا ہے۔ مثلاً اقوام کی آپس کی تجارت، اختلاف، صلح، علاقہ کی تقسیم وغیرہ کے متعلق امور۔ اس حصہ پر بے شمار مضامین لکھے جا چکے ہیں اور اسلام کی بین الاقوامی تعلقات کے متعلق تعلیمات اور آنحضورؐ کی سیرت معروف ہیں۔ آپؐ نے صلح حدیبیہ سے ظاہر فرمایا کہ امن کی خاطر ضرورت پڑے تو اپنا حق اور مخالف قوم سے برابری کو چھوڑ دینا چاہیے۔ یہود مدینہ کے ساتھ معاہدہ کے ذریعہ ظاہر فرمایا کہ مختلف مذاہب کے لوگ ایک قوم اور ایک امت ہیں اور بطور شہری ان پر برابر کی ذمہ داریاں ہیں اور برابر کے حقوق بھی۔ فتح مکہ سے ثابت فرمایا کہ قیام امن کے لیے وسیع پیمانے پر عفو و درگزر سے کام لینا ضروری ہے۔

دوسرا حصہ وہ ہے جو بالواسطہ طور پر امن عالم پر اثر انداز ہوتا ہے۔ مثلاً مساوات کی تعلیم۔ یہودیت اور ہندومت میں انسانی مساوات کا تصور سرے سے مفقود ہے اور کسی ایک قوم یا نسل کو دیگر پر فوقیت دی گئی ہے یا ایک قوم کو چنیدہ اور دیگر کو کمتر خیال کیا گیا ہے۔ مسیحیت میں بھی دراصل یہی تعلیم تھی اور مسیحؑ نے اپنی تبلیغ اسی لیے بنو اسرائیل تک ہی محدود رکھی۔ آپؑ کے بعد اس موضوع پر آپؑ کے جانشینوں میں سخت اختلاف ہوا جس میں پطرس وغیرہ حضرت مسیحؑ کے قدیمی ساتھی دیگر اقوام کو تبلیغ کرنا غلط سمجھتے تھے۔ جبکہ پولوس، جسے مسیحؑ کی صحبت نصیب نہ ہوئی تھی، اس پر زور دیتا تھا۔ گو پولوس کامیاب ہوا اور مسیحیت کی تعلیم دیگر اقوام میں پھیل گئی لیکن حقیقت میں مسیحیت بھی قومی امتیاز کو تسلیم کرتی ہے۔ صرف آنحضورؐ کی تعلیم ہی کامل مساوات پر مبنی اور تمام دنیا کے لیے ہے۔ اقوام عالم میں برابری کی یہ تعلیم امن کی بنیادی شرط ہے جس کے بغیر کبھی بھی امن قائم نہیں ہو سکتا۔ اسی طرح تعلیم میں توازن اور حقیقت پسندی بھی امن کے لیے ضروری ہے۔ ہر وہ تعلیم جو صرف جنت میں رائج ہو سکے، ناقص تعلیم ہے کیونکہ ہم جنت میں نہیں دنیا میں رہ رہے ہیں۔ چنانچہ ہمیں اس ناقص دنیا میں رہنے اور اس میں عملی طور پر قابل نفاذ اور متوازن تعلیم کی ضرورت ہے۔ یہودیت میں آنکھ کے بدلہ آنکھ کی جو تعلیم دی گئی ہے اس کا نتیجہ سختی ہے جو کہ حد سے بڑھے تو ظلم پر منتج ہوتی ہے۔ اس تعلیم پر عمل پیرا لوگ کبھی بھی دنیا میں دیر پا امن قائم نہیں کر سکتے۔ دوسری انتہا پر مسیحیت کی تعلیم ہے جس میں ایک گال پر تھپڑ کھا کر دوسرا آگے کر دینے کا حکم دیا گیا ہے۔ یہ تعلیم ناقابل عمل اور قیام امن کے خلاف ہے۔ اس کا ناقابل عمل ہونا اسی سے ظاہر ہے کہ کبھی بھی کسی بھی مسیحی مملکت نے اس پر عمل نہیں کیا۔ اور قیام امن کے اس لیے خلاف ہے کہ اس میں ظلم و جارحیت کا معقول جواب پیش نہیں کیا گیا۔ ان کے مقابل پر اسلام کی تعلیم میانہ روی کی ہے اور حکمت سے کام لیتے ہوئے حسب ضرورت نرمی اور سختی کی اجازت دیتی ہے۔ یہ توازن امن کے قیام کے لیے لازم ہے اور قابل عمل بھی۔ اس بارے میں بھی متعدد مضامین یقیناً قارئین کی نظروں سے گزرے ہوں گے۔ چنانچہ مندرجہ ذیل مضمون میں اس حصہ کا تفصیلی ذکر چھوڑ دیا گیا ہے۔

مذہبی تعلیم کا تیسرا حصہ ایسا ہے جس کا اثر بالواسطہ طور پر انسان کی شخصیت پر اثر انداز ہونے کی وجہ سے امن عالم پر پڑتا ہے۔ اس جگہ یہ بیان کرنا مقصود ہے کہ آنحضورؐ نے جو اخلاقی تعلیم دی ہے، اس کے نتیجہ میں دنیا میں امن کس طرح قائم ہو سکتا ہے؟ اور کیسے اس بنا پر بھی آپؐ کو سلامتی کا شہزادہ قرار دیا جانا درست ہے۔

ماحول کا انسانی فیصلوں پر اثر

ہر انسان کا طرز عمل اور اس کے فیصلے، خواہ وہ ایک عام شخص ہو خواہ کسی قوم کا چنیدہ راہ نما، اس کے ذاتی تجربات کا نتیجہ ہوتے ہیں۔ انسان کا ماحول، ماں باپ، دوست، پڑوسی، اساتذہ، رشتہ دار، تعلیم، بیماریاں وغیرہ سب امور کا بچپن سے طبع اور طرز عمل پر گہرا اثر پڑتا ہے۔ اس مجموعی اثر کے نتیجے میں ہی انسان تمام فیصلے کرتا ہے خواہ وہ ذاتی فیصلے ہوں یا قومی۔ چنانچہ اخلاقی تعلیم کا اس طریق پر بالواسطہ طور پر ہر سطح کے امن پر اثر پڑتا ہے۔

اس اصول سے کوئی بھی شخص مبرا نہیں حتیٰ کہ انبیاء کے فیصلے بھی ان کے تجربات اور طبیعت کے موافق ہوتے ہیں۔ سوائے اس کے کہ اللہ تعالیٰ کسی خاص فیصلےکی طرف راہ نمائی فرمائے۔ مثلاً آنحضورؐ اور حضرت موسیٰؑ دونوں ماں باپ کے بغیر پلے بڑھے تھے۔ اگر ان کے فیصلوں کا موازنہ کیا جائے تو معلوم ہو گا کہ نبوت سے پہلے بھی حضرت موسیٰؑ کے فیصلوں میں سختی جبکہ آنحضورؐ کے فیصلوں میں رحم غالب تھا اور نبوت کے بعد بھی۔ مثلاً نبوت سے قبل حضرت موسیٰؑ نے جب اپنی قوم کے شخص کو قومِ فرعون سے پٹتے دیکھا تو اسے بچانے کے لیے ظالم کو گھونسا مار دیا اور اتنے زور سے مارا کہ وہ اس سے مر گیا (القصص:۱۶) ! جبکہ آنحضورؐ نے نبوت سے پہلے بھی کبھی کسی کو نہیں مارا، قتل تو بہت دور کی بات ہے۔ اس کی کیا وجہ تھی؟ کیوں حضرت موسیٰؑ نے گھونسا مارنے کا فیصلہ کیا جبکہ آنحضورؐ نے ایسا نہیں کیا؟ جس طرح حضرت موسیٰؑ کو ظلم کے خلاف اور مظلوم کی حمایت کا خیال تھا اسی طرح آنحضورؐ کو بھی تھا بلکہ آپؐ نے تو مظلوموں کی مدد کے لیے باقاعدہ حلف الفضول نامی معاہدے کے وقت بھی موجود تھے لیکن کوئی ایک بھی واقعہ ایسا نہیں کہ کسی مظلوم کی مدد کے لیے آپؐ نے کسی ظالم کو ہلکا سا بھی مارا ہو۔

فیصلوں میں اس فرق کی وجہ صاف طور پر یہ نظر آتی ہے کہ حضرت موسیٰؑ فرعون جیسے مطلق العنان بادشاہ کے محل میں تربیت پانے کی وجہ سے طاقت کا استعمال اور تحکم اور سختی کرنا جانتے تھے۔ جبکہ آنحضورؐ آغاز سے ہی ایسے ماحول میں رہے جس میں نہ تو کسی پر اپنا حق سمجھتے تھے نہ ہی کبھی کسی سے اپنا جائز حق لینے کے لیے بھی سختی فرماتے تھے۔ موسیٰؑ کے بچپن کے شاہانہ ماحول کے مقابل پر آپؐ کا بچپن انتہائی غریب گھرانے میں گزرا۔ والدہ غریب تھیں آگے دائی بھی۔ پھر دادا اور پھر چچا بھی۔ غربت کا یہ حال تھا کہ والدہ کچا گوشت کھایا کرتی تھیں، دائی کو کوئی شخص اپنا بچہ دینے کو تیار نہ تھا اور چچا کی حالت زار دیکھ کر حضرت خدیجہ ؓسے شادی کے بعد آپؐ نے ایک اور چچا کو کہا کہ ابو طالب کا ایک ایک بچہ ہم لے کر پالتے ہیں تاکہ ان کا بوجھ کم ہو۔ فیصلوں کا یہ فرق زمانہ قبل از نبوت تک محدود نہیں۔ نبوت کے بعد بھی یہ فرق نظر آتا ہے جس کے متعدد شواہد قرآن کریم اور سیرت النبیؐ میں موجود ہیں۔ مثلاً حضرت موسیٰؑ نے اپنے بھائی حضرت ہارونؑ کے ساتھ جو سختی کی اور ان کو بالوں اور داڑھی سے پکڑ لیا (طٰہٰ:۹۵) وہ اسی جلالی طبیعت کا نتیجہ تھا۔ جبکہ آنحضورؐ نے کسی کے ساتھ ایسی سختی نہیں کی۔پس خیال کیا جا سکتا ہے کہ عام انسان کس قدر اپنے ماحول سے متاثر ہوتا ہے۔

اخلاق اور امن عالم

مندرجہ بالا امور سے ظاہر ہے کہ اخلاق جو انسان کو آغاز سے انجام تک متاثر کرتے اور اس کی شخصیت کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرتے ہیں نیز قیام امن کے لیے بنیادی اینٹ کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ایسا دو طریق پر ہے۔ اول تو یہ کہ جو شخص خود امن اور سکون کی حالت میں نہ ہو وہ دوسروں کو کیونکرسکون مہیا کر سکتا ہے؟ مختلف قسم کی کمزوریاں، خوف اور احساس کمتری وغیرہ اس کے فیصلوں پر اثر انداز ہوتے ہیں اور ان کے زیرِاثر جو فیصلے وہ کرتا ہے وہ بھی اسی حد تک ناقص ہوتے ہیں۔ دوئم یہ کہ اعلیٰ اخلاق اور دوسروں کے ساتھ برتاؤ جس طرح انفرادی طور پر ضروری ہے، اسی طرح قوموں کے درمیان اور قومی راہنماؤں کے ایک دوسرے کے ساتھ برتاؤ کے لیے بھی ضروری ہے۔ بنیادی اخلاقیات پر سیرت النبیؐ کے حوالے سے الفضل انٹرنیشنل کے خصوصی شمارہ جات میں متعدد مضامین شامل ہیں جن میں ان کی تفصیل اور تشریح اور آنحضورؐ کے اس بارے میں نمونے بیان کیے گئے ہیں۔چنانچہ اس تفصیل میں جائے بغیر ذیل میں چند مثالیں پیش کی گئی ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ آنحضورؐ کے بیان فرمودہ اخلاق کس طرح قیام امن میں ممد اور ان کا فقدان نقضِ امن کا موجب ہوتا ہے۔

معاہدوں کی پابندی

قیام امن کے لیے سب سے ضروری چیز معاہدوں کی پابندی ہے۔اگر معاہدوں کی پابندی نہ کی جائے تو مختلف اقوام میں اعتماد کیونکر پیدا ہو سکتا ہے؟ اگر ہر وقت یہی خطرہ رہے کہ ایک فریق اچانک کسی معاہدہ سے پھر جائے گا تو پھر معاہدہ کرنے کا مقصد ہی فوت ہو جاتا ہے۔ آنحضورؐ نے اس خُلق پر جس قدر زور دیا ہے اور قرآن کریم نے جس وضاحت سے توجہ دلائی ہے کہ ایفائے عہد کے متعلق انسان جوابدہ ہے اور اس بارے میں اس سے باز پرس کی جائے گی، اسی سے اس خُلق کی اہمیت واضح ہے۔ آنحضورؐ نہ صرف ہر ممکنہ حد تک خود معاہدوں پر عمل فرماتے تھے، جیسا کہ صلح حدیبیہ کے معاہدے سے ظاہر ہے جس میں معاہدے پر ابھی دستخط نہیں ہوئے تھے تب بھی اس پر عمل کیا گیا، بلکہ معاہدے توڑنے والوں کو سزا بھی دیا کرتے تھے۔ چنانچہ فتح مکہ کی بنیاد اسی وجہ سے پڑی کہ اہل مکہ کے حلیفوں نے آپؐ کے حلیفوں کے ساتھ جو معاہدہ کیا تھا اس کا پاس نہ کیا۔ مدینہ سے یہودی قبائل کے اخراج کی بنیاد بھی ان کا معاہدوں سے پھر جانا تھا۔

اس بنیادی خلق پر عمل نہ کرنے کا نتیجہ امن کا فقدان ہے۔ ہٹلر نے ۱۹۳۹ء میں سٹالن کے ساتھ جنگ نہ کرنے اور پولینڈ کو نصف نصف بانٹ لینے کا معاہدہ کیا ۔ مگر پولینڈ پر قبضہ کے بعد ۱۹۴۱ء میں روس پر بھی حملہ کر دیا(Toland, Adolf Hitler. Moorhouse, The Devils’ Alliance)! امریکہ نے عراق کے ساتھ ایران کے خلاف معاہدہ کیا لیکن ایران کو بھی اسلحہ فروخت کرنا شروع کر دیا۔حال ہی میں امریکہ نے صدر ٹرمپ کے دور میں ایران کے ساتھ ایٹمی معاہدہ یک طرفہ طور پر ختم کرنے کا اعلان کیا۔ اس پر کوئی بازپرس نہیں ہوئی کوئی جوابی کارروائی نہیں کی گئی۔ غیر مسلموں سے کیا گلہ، جتنا زور آنحضورؐ نے معاہدوں کے ایفاء پر دیا ہے اس کے پس منظر میں ’’معاہدے کوئی قرآن و حدیث نہیں ہوتے‘‘جیسے اقوال سن کر انا للہ و انا الیہ راجعون کے سوا کیا کہا جا سکتا ہے؟

اس کے مقابل پر جب تک مسلمان ایفائے عہد پر قائم رہے، غیر قومیں بھی ان کی حمایت کرتی رہیں۔ حضرت عمرؓ کے وقت میں جزیہ واپس کیا گیا تو اہل شام نے ایسا ہی کیا۔ رومی مسیحیوں کی نسبت انہوں نے مسلمان فاتحین کی واپسی کی دعائیں مانگیں۔ خیبر کے یہود سے معاہدہ تھا کہ نصف اناج مسلمانوں کا ہو گا۔ تقسیم کے وقت دو ڈھیر بنا کر یہود کو اختیار دیا گیا کہ جو ڈھیر چاہیں اٹھا لیں دوسرا مسلمانوں کا ہو گا۔ اس پر انہوں نے بے اختیار کہا کہ ایسے کامل انصاف کی وجہ سے ہی آسمان قائم ہے! اس کا نتیجہ کیا تھا؟ آغاز اسلام میں جب برق رفتاری سے وسیع فتوحات ہوئیں تو سینکڑوں کلومیٹر تک مسلمانوں کی ایک چھوٹی سے فوج تعینات ہوتی تھی جو چاروں طرف سے غیر قوم اور غیر مذہب کے لوگوں میں گھری ہوتی تھی۔تاہم چند استثنائی واقعات کے علاوہ کہیں بغاوت نہیں ہوئی۔ کیونکہ مفتوحہ لوگ جانتے تھے کہ مسلمان اپنے معاہدوں پر پورا عمل کریں گے اور کسی قسم کی زیادتی نہ کریں گے۔ اپنے ہم قوم اور ہم مذہب حکمرانوں کی نسبت انہیں مسلمانوں پر زیادہ اعتماد تھا! اور یہی اعتماد سپین سے سندھ تک پھیلی سلطنت میں امن کا باعث تھا ورنہ آبادی میں اس وقت مسلمانوں کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر بھی نہ تھی۔

جنگ کرنے والوں کے حقوق

قیام امن کے لیے جنگ کرنے والوں کے حقوق سے زیادہ اہم شاید ہی کوئی بات ہو۔دیگر تمام بنیادی حقوق کا تعلق خانہ جنگی اور سلطنت کے اندرونی استحکام اور طاقت سے ہے جبکہ جنگ کرنے والوں کے حقوق کا تعلق حکومت کے بیرونی تعلقات اور بین الاقوامی امن سے ہے۔ان حقوق کی ادائیگی سب سے زیادہ مشکل ہے کیونکہ وہی دشمن جس کے ساتھ کسی قوم نے زندگی اور موت کی جنگ لڑی ہو اور اس کے ہاتھوں شدید جانی اور مالی نقصان اٹھایا ہو اور اس پر مستزاد یہ کہ اس دشمن کے خلاف بہت کچھ اپنی افواج اور عوام کے جذبات کو بھڑکایا ہو، اسی دشمن پر فتح پانے کے بعد اس کے ساتھ نہ صرف عدل بلکہ حسن سلوک کرنا نہایت ہی مشکل کام ہے۔ لیکن اسی کی تعلیم آپؐ نے دی اور اپنے نمونہ سے عمل کر کے دکھایا۔

اس کی ایک بڑی مثال جنگ عظیم اول کے بعد اتحادی طاقتوں کا جرمنی کے حقوق کو بری طرح پامال کرنا ہے۔ نہ صرف جرمنی کے وسیع علاقوں پر قبضہ کر لیا گیا بلکہ مختلف قسم کی پابندیاں بھی لگا دی گئیں(Neiberg, The Treaty of Versailles)۔ اس کا نتیجہ 20 سال ہی میں انہیں دوسری جنگ عظیم کی صورت میں بھگتنا پڑا۔اس کے مقابل پر دوسری جنگ عظیم میں فتح کے بعد سوویت بلاک سے مقابلہ میں اتحادیوں کی ضرورت کے پیش نظر جرمنی اور جاپان دونوں کے ساتھ زیادہ بہتر سلوک کیا گیا اور ان کو تباہی کے بعد اپنے پاؤں پر کھڑے ہونے میں مدد کی گئی (Hogan, The Marshall Plan)۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ 75 سال گزرنے اور ہر طرح کی طاقت کے حصول کے باوجود یہ دونوں ممالک اتحادی ممالک سے ہم آہنگ ہیں اور کسی عسکری چپقلش کے ابھی تک کوئی آثار نظر نہیں آتے۔یہ آنحضورؐ کی پیش فرمودہ پر حکمت تعلیم کے نتائج کی ایک عملی مثال ہے۔

غلاموں کے حقوق

آنحضورؐ نے جن حقوق پر خاص طور پر زور دیا ان میں ایک غلاموں کے حقوق ہیں۔یہاں تک کہ ان کو وہی کھلانے اور وہی پہنانے کی تعلیم دی جو مالک خود کھائے اور پہنے۔ غلاموں کے حقوق کا قیام امن سے جو تعلق ہے وہ کسی سے چھپا نہیں۔غلاموں کے حقوق ادا نہ کرنے کی وجہ سے ہی ان کی جانب سے بغاوتوں کا سلسلہ زمانہ قدیم سے موجود ہے۔اسی بنا پر رومی سلطنت کے خلاف ایک غلام سپارٹاکوس کے زیر قیادت غلاموں نے بغاوت کی اور متعدد رومی افواج کو شکست فاش دی(Appian, The Civil Wars)۔موجودہ زمانے میں امریکہ میں سیاہ فام غلاموں کے ساتھ جو سلوک کیا گیا اس کی باز گشت آج تک امریکہ میں ہر چند سال بعد برپا ہونے والے نسلی فسادات کی صورت میں سنائی دیتی ہے۔

اس کے مقابل پر جب بھی مسلمان بادشاہوں نے غلاموں کے ساتھ اچھا سلوک کیا تو اس کے ثمرات بھی پائے۔ شمالی ہندوستان پر مسلمانوں کے قبضہ کی ابتدا الپتگین کے حملوں سے ہوئی جو کہ ایک غلام تھا۔آگے الپتگین کا غلام سبکتگین تھا جس نے ایک نئی سلطنت کی بنیاد رکھی۔ غلاموں سے حسن سلوک کی انتہا یہ ہے کہ الپتگین نے اپنی بیٹی اس غلام سبکتگین کے ساتھ بیاہ دی تھی۔ اسی سبکتگین کا بیٹا محمود غزنوی تھا جو ہندوستان پر 17 حملوں کی وجہ سے مشہور ہے (K.S. Lal, Muslilm Slave System in Medieval India)۔آگے محمود کا اپنے غلام ایاز کے ساتھ حسن سلوک تو ضرب المثل بن چکا ہے۔ غرض جب آنحضورؐ کی تعلیم پر عمل کیا گیا تو اس کے ثمرات بھی ظاہر ہوئے اور سلطنت کو طاقت و دوام حاصل ہوا۔

والدین، بہن بھائیوں اور رشتہ داروں کے حقوق

والدین، اولاد، بہن بھائیوں اور رشتہ داروں کے حقوق اسلامی تعلیم کا ایک اہم حصہ ہیں۔آنحضورؐ نے اس بارے میں بہت تاکید فرمائی ہے۔والدین کے حقوق کا تو ذکر معروف ہے۔بہن بھائیوں اور دیگر رشتہ داروں کے حقوق کا بھی تفصیلی ذکر ہے۔ قرآن کریم نے ان کو وراثت میں شامل فرما کر ان کے حقوق کی حفاظت فرمائی ہے۔ افسوس کہ اس طرف بہت ہی کم توجہ دی جاتی ہے۔ برصغیر میں تو الٹا ’’شریک‘‘ کہہ کر ان کے حقوق تلف کرنے کی تربیت بچپن سے دی جاتی ہے۔ اس کا نتیجہ کیا نکلا؟یہ کہ جتنی خانہ جنگی ان حقوق کی ادائیگی نہ کرنے کی وجہ سے ہوئی ہے اس کی مثال شاید ہی کسی قوم میں ملتی ہو۔ عثمانی ترک اور ہندوستانی مغل بھائیوں کے قتل کے لیے مشہور تھے۔ چھوٹے بچوں تک کو نہ بخشا جاتا تھا۔نیا بادشاہ تخت پر بیٹھتے ہی اپنے سب بھائیوں کو قتل کروا دیتا تھا۔ دوسری طرف جب ایک بھائی بادشاہ بنتا تو دوسرے بھائی اس کے خلاف بغاوت کر دیتے۔ صرف بھائی ہی نہیں مغل اور ترک بادشاہوں نے تو اپنے والدین تک کو نہیں بخشا۔جہانگیر نے اپنے باپ اکبر کے خلاف بغاوت کی۔ آگے جہانگیر کے بیٹے خسرو نے اس کے خلاف بغاوت کی۔آگے شاہ جہاں کے بیٹے اورنگزیب نے اس کے خلاف بغاوت کی۔پھر اورنگزیب کے بیٹے نے اس کے خلاف بغاوت کی۔ وغیرہ (Faruqi, The Princes Of The Mughal Empire)۔ یہی حال عثمانی بادشاہوں کا تھا۔ بایزید ثانی نے اپنے بھائی جم کے خلاف جنگ کی۔ آگے بایزید کے بیٹے سلیم اوّل نے باپ کے خلاف بغاوت کی۔ سلیم نے تخت پوشی کے فوراً بعد اپنے بھائی اور بھتیجے قتل کروا دیے۔اس کے بعد مراد ثالث نے اپنے پانچ بھائی قتل کیے۔اس کے بیٹے محمد ثالث نے تخت نشین ہوتے ہی اپنے انیس بھائی قتل کر دیے (عزیر، تاریخ دولت عثمانیہ)۔عباسی خلفاء میں ہارون کے دونوں بیٹوں امین اور مامون کی آپس کی جنگیں معروف ہیں۔اور یہ مثالیں ایک باپ سے ہونے والے بھائیوں کی ہیں۔ اگر دیگر رشتہ داروں کو شامل کر لیا جائے تو شاید ہی کوئی بادشاہ ہو گا جس نے اپنے ہی رشتہ داروں کے خلاف جنگ نہیں کی اور اس وجہ سے اسلامی سلطنتوں کو جو نقصان پہنچا ہے اس میں نہ صرف لاکھوں انسان قتل ہوئے بلکہ دیگر قوموں کو دخل اندازی کا موقع بھی ملا اور اندرونی طور پر سلطنت بھی کمزور ہوئی۔

جنگ عظیم اوّل کے وقت برطانیہ، جرمنی اور روس کے بادشاہ، جن کے ہاتھ میں سلطنت کی باگ ڈور تھی اور آج کل کے بادشاہوں کی طرح محض نمائشی بادشاہ نہ تھے، آپس میں رشتہ کے بھائی تھے۔ لیکن انہوں نے ایک دوسرے کے حقوق کا خیال نہیں رکھا اور یورپ کو جنگ عظیم میں دھکیل دیا جس کے نتیجے میں نہ صرف ان کی سلطنتیں جاتی رہیں بلکہ لاکھوں انسان جان سے بھی گئے اور ایسی تباہی یورپ پر آئی جو پہلے کبھی نہ آئی تھی۔حال ہی میں سعودی عرب میں شاہ سلمان کی تخت نشینی پر ایسا ہی دیکھنے میں آیا ہے۔

دوستوں کے حقوق

ایک اہم حق دوستوں کا ہے۔اس ضمن میں جو تعلیم آنحضورؐ نے دی ہے اور اس کی جو تشریح حضرت مسیح موعودؑ نے فرمائی ہے وہ اس شمارے میں دیکھی جا سکتی ہے۔اس ضمن میں بھی آپؐ کی تعلیم بھلا کر مسلمانوں نے بہت نقصان اٹھایا ہے۔اسلامی تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو یہ حیرت انگیز بات سامنے آتی ہے کہ قریب ترین دوستوں کو دھوکا دینا اور ان کو قتل کرنا گویا ضروری سمجھا جاتا تھا۔ عثمانی بادشاہ سلیم نے آٹھ سالوں میں اپنے سات وزرائے اعظم قتل کروائے (عزیر، تاریخ دولت عثمانیہ)۔عباسی خاندان کے بانیوں نے اپنے تمام مددگار دوست، جن کی حمایت سے وہ بنو امیہ کا تخت الٹ کر تخت نشین ہوئے تھے، قتل کروا دیے۔یہاں تک کہ اپنے سب سے قریبی دوست اور سب سے بڑے مددگار، ابو مسلم خراسانی کو جس طرح دھوکے سے بلا کر قتل کروایا اس کا جتنا ماتم کیا جائے کم ہے۔ آگے ہارون الرشید کے ہاتھوں اس کے نزدیک ترین دوستوں، خاندان برامکہ، کا انجام کچھ کم افسوس ناک نہیں۔ ان چیرہ دستیوں کا یہ نتیجہ نکلا کہ بادشاہوں اور ان کے دوستوں میں عدم اعتماد پیدا ہو گیا۔ ہر ایک نے اپنے وفاداروں کی فوج پالنا شروع کر دی۔ بالآخر خلفائے بغداد نام کے بادشاہ رہ گئے۔ آغاز اسلام سے اب تک کوئی ایک بھی فاتح جرنیل نہیں جو معزول نہ کیا گیا ہو۔ موسیٰ بن نصیر اور طارق بن زیاد فاتحین اندلس، محمد بن قاسم فاتح سندھ، ابو مسلم خراسانی وغیرہ کی مثالیں کافی ہیں۔

پس اس بات سے قطع نظر کہ آنحضورؐ کی بنیادی اخلاقی تعلیم کسی انسان کو بچپن سے صراط مستقیم پر رکھنے اور اس کے فیصلوں کے متوازن اور نرم ہونے کے لیے ضروری شرط ہے، اس تعلیم پر عمل کسی بھی سلطنت کے اندرونی اور بیرونی امن کی ضمانت ہے۔ اور آپؐ کی تعلیم پر عمل نہ کرنے کا نتیجہ سلطنت میں رخنہ اور زوال ہے۔ واللہ اعلم۔

٭…٭…٭

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

For security, use of Google's reCAPTCHA service is required which is subject to the Google Privacy Policy and Terms of Use.

I agree to these terms.

Back to top button
Close