خلاصہ خطبہ جمعہ

خلاصہ خطبہ جمعہ سیّدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمد خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 15؍ اکتوبر 2021ء

آنحضرتﷺ کے عظیم المرتبت خلیفہ ٔراشد فاروقِ اعظم حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے اوصافِ حمیدہ کا تذکرہ

٭… حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شہادت کے واقعات کا مختلف مؤرخین و سیرت نگار وں کے حوالہ جات سے تفصیلی ذکر

٭…حال کے بعض مؤرخین وسیرت نگار حضرت عمرؓ کے قتل کو باقاعدہ طے شدہ منصوبہ اور سازش قرار دیتےہیں

٭…خلفاء پر کوئی ایسی مصیبت نہیں آئی جس سے انہوں نے خوف کھایا ہو اور اگر آئی تو اللہ تعالیٰ نے اُسے امن سے بدل دیا

٭…قرآن مجیدکے صراحتاً حکم سے استدلال کے تحت نماز کے وقت پہرے کا انتظام کرنا نماز کے اُصول یا وقار کے خلاف نہیں

خلاصہ خطبہ جمعہ سیّدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمدخلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 15؍اکتوبر 2021ء بمطابق 15؍اخاء1400ہجری شمسی بمقام مسجد مبارک،اسلام آباد،ٹلفورڈ(سرے)، یوکے

امیرالمومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے مورخہ 15؍ اکتوبر 2021ء کو مسجد مبارک، اسلام آباد، ٹلفورڈ، یوکے میں خطبہ جمعہ ارشاد فرمایا جو مسلم ٹیلی وژن احمدیہ کے توسّط سے پوری دنیا میں نشرکیا گیا۔ جمعہ کی اذان دینےکی سعادت فیروز عالم صاحب کے حصے میں آئی۔تشہد،تعوذ اور سورةالفاتحہ کی تلاوت کے بعد حضورِ انور ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا:

حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شہادت کے حوالے سے صحیح بخاری کی روایت سے معلوم ہوتا تھا کہ حضرت عمرؓ پر حملے کے وقت نماز فجر کی ادائیگی کی گئی جبکہ صحیح بخاری کی ایک دوسری روایت کے مطابق حضرت ابن عباسؓ کہتے ہیں کہ حضرت عمرؓ کا زیادہ خون بہنے کے باعث غشی طاری ہو گئی تو میں نے لوگوں کے ساتھ اُٹھاکر انہیں گھر پہنچا دیا۔ صبح کی روشنی ہونے پر آپؓ کوجب ہوش آیا تو آپؓ کے پوچھنے پر بتایا گیا کہ لوگوں نے نماز پڑھ لی ہے ۔ اس پر آپؓ نے فرمایا اُس کا کوئی اسلام نہیں جس نے نماز ترک کی۔پھر آپؓ نے وضو کیا اور نماز پڑھی۔ طبقات کبریٰ میں بھی یہی بیان ہوا ہے کہ حضرت عمرؓ کو گھر پہنچانے کے بعد حضرت عبد الرحمٰن بن عوفؓ نے نماز پڑھائی جس میں دو چھوٹی سورتیں پڑھنے کا ذکر ملتا ہے۔

طبقات کبریٰ میں لکھا ہے کہ حضرت عبد اللہ بن عباسؓ نے جب لوگوں سے حضرت عمرؓ کو خنجر مارنے والے شخص کے بارہ میں پوچھا تو لوگوں نے مغیرہ بن شعبہ کے غلام ابو لو لو کا نام لیاجس نے پکڑے جانے پر اُسی خنجر سے خودکشی کرلی۔ مؤرخین کے بیانات سے یہ تاثر ملتا ہے کہ ابولؤلؤہ فیروز نےوقتی جوش اور غصہ میں حضرت عمرؓ کو قتل کر دیا تھا۔ تاریخ و سیرت کی اہم کتاب البدایہ والنھایہ میں حضرت عمرؓ کے قتل میں ہرمزان اور جفینہ پر کئے گئے شبہ کے نتیجہ میں حال کے بعض مؤرخین حضرت عمرؓ کے قتل کو باقاعدہ طے شدہ منصوبہ اور سازش قرار دیتےہیں اور مدینہ میں رہنے والےبظاہر مسلمان ایرانی سپہ سالار ہرمزان کو اس میں شامل سمجھتے تھے۔

محمد رضا صاحب اپنی کتاب سیرت عمر فاروق ؓمیں لکھتے ہیں کہ حضرت عمر ؓنے والئ کوفہ حضرت مغیرہ ؓبن شعبہ کی سفارش پر اُن کے ایک ہنر مند غلام ابو لولوکو جو لوہار اور نقش و نگار کا ماہربڑھئی تھا مدینہ آنے کی اجازت دی۔غلام کی شکایت پرکہ حضرت مغیرہؓ نے اُس پرماہانہ سو درہم ٹیکس مقرر کیا ہے حضرت عمرؓ نے وہ ٹیکس اُس کے کام کی مہارت کے مطابق قرار دیاجس سے وہ ناراض ہوگیا۔ ایک دن حضرت عمرؓ کے ہوا سے چلنے والی چکی بنانے کے پوچھنے پر ابولؤلؤہ نے غصے اور ناپسندیدگی کے عالم میں دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ میں آپؓ کے لیے ایسی چکی بناؤں گا جس کا لوگ چرچا کریں گے۔اُس نے حضرت عمر ؓکو شہید کرنے کا پختہ ارادہ کر کے وسطی دستہ والا دو دھاری خنجر بناکر زہر آلود کرکے ایرانی سپہ سالار ہرمزان کو دکھایا جس نے خیال ظاہر کیا کہ اس کے ذریعہ جس پر بھی وار ہو گا قتل ہوجائے گا۔ ہرمزان کو مسلمانوں نے تُستر کے مقام پر قید کرکے مدینہ بھیج دیا تھا۔ہرمزان قتل ہونے کے خوف سے مسلمان ہوگیا تھا ۔

طبقات ابن سعد میں نافع کی روایت کے مطابق حضرت عبدالرحمٰن بن عوف ؓنے ہرمزان اور جفینہ کے پاس وہ چھری دیکھی جس سے حضرت عمرؓ کو شہید کیا گیا۔جبکہ طبری میں مذکور سعید بن مسیب ؓکی روایت کے مطابق عبدالرحمٰن بن ابی بکرؓ نے وہ خنجر دیکھا تھا جو ابولؤلؤہ جفینہ اور ہرمزان کے درمیان گر گیا تھا۔ حضرت عبیداللہ بن عمر ؓکو جب اس بات کا علم ہوا تو انہوں نے اپنی تلوار سے دونوں کو قتل کردیا ۔حضرت عثمانؓ نے اپنی امان کی موجودگی میں دونوں کے قتل کرنے پر حضرت عبیداللہؓ سے وجہ پوچھی تو انہوں نے حضرت عثمان ؓ کو پکڑ کر زمین پر گرادیا حتیٰ کہ لوگوں نے انہیں بچایا۔لیکن حضرت عثمانؓ کے واقعہ کی صداقت اللہ بہتر جانتا ہے۔ایک اور جگہ بیان ہے کہ حضرت عبیداللہ بن عمرؓ نےجب ہرمزان پرتلوار کا وار کیاتو اُس نے لَا اِلٰہ اِلَّا اللّٰہ پڑھا اور جب جفینہ کو تلوار ماری تو اُس نے اپنی آنکھوں کے سامنے صلیب کا نشان بنایا۔بعد ازاں انہوں نے ابولؤلؤہ کی بیٹی کو بھی قتل کردیا۔

اسی طرح ایک اور سیرت نگار ڈاکٹر محمد حسین ہیکل اپنی کتاب میں لکھتے ہیں کہ ایرانی یہودی اور عیسائی مسلمانوں سے عبرت ناک شکست پر اپنے دلوں میں عربوں کے خلاف عموماً اور حضرت عمر ؓکے خلاف خصوصاً کینہ و بغض کے جذبات چھپائے بیٹھے تھے۔ ہوسکتا ہے کہ ابولؤلؤہ کا فعل مدینہ میں عجمی بے دینوں کی مختصر سی ایک جماعت کے غضب اور انتقام سے لبریز لوگوں کی سازش کا نتیجہ ہو۔حضرت عمرؓ کے صاحبزادے اس سازش سے پردہ اٹھاکر اُس کی تہ تک پہنچ سکتے تھے اگر ابولؤلؤہ فیروز خود کشی نہ کرتا لیکن قضا و قدر نے اس سازش کی طرف رہنمائی کی ۔ حضرت عبدالرحمن بن عوفؓ اور حضرت عبدالرحمٰن بن ابی بکرؓ مسلمانوں میں سب سے زیادہ قابل اعتبار گواہی دے رہے ہیں کہ جس چھری سے حضرت عمرؓ کو شہید کیا گیا وہ ہرمزان اور جفینہ کے پاس تھی۔اس کے بعد شبہ کی کوئی گنجائش نہیں کہ حضرت عمرؓ اس سازش کا شکار ہوئے ۔

بہرحال حضرت عبیداللہ بن عمر ؓکے اقدام کی قانونی طور پر اجازت نہیں تھی۔ کسی شخص کو اختیار نہیں کہ وہ خود انتقام لینے کے لیے کھڑا ہو جائے یا اپنا حق خود وصول کرے جبکہ معاملات کا فیصلہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپؐ کے بعد آپؐ کے خلفاء کے لیے مخصوص تھا کہ وہ لوگوں کے درمیان منصفانہ فیصلے اور مجرم کے خلاف قصاص کا حکم صادر کرتے تھے۔ بعید از قیاس نہیں کہ یہ قتل ایک باقاعدہ سازش ہو۔کچھ مؤرخین کے دلائل میں وزن ہے کیونکہ حضرت عثمان ؓبھی اسی طرح کی ایک سازش کا شکار ہوئےجس سے اس شبہ کو مزید تقویت ملتی ہے کہ اسلام کی بڑھتی ہوئی ترقی اور غلبہ کو روکنے اور اپنے انتقام کی آگ کو ٹھنڈا کرنے کے لئے بیرونی عناصر کی ایک سازش کے تحت حضرت عمر ؓکو شہید کیا گیا تھا۔ واللہ اعلم۔ حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ آیت

وَ لَیُبَدِّلَنَّہُمۡ مِّنۡۢ بَعۡدِ خَوۡفِہِمۡ اَمۡنًا۔

کی تفسیر کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ خلفاء پر کوئی ایسی مصیبت نہیں آئی جس سے انہوں نے خوف کھایا ہو اور اگر آئی تو اللہ تعالیٰ نے اسے امن سے بدل دیا۔ حضرت عمرؓ متواتر دعائیں کیا کرتے تھے کہ یا اللہ مجھے مدینہ میں شہادت نصیب کر ۔پس اُن کی شہادت پر کس طرح کہا جاسکتا ہے کہ اُن پرخوفناک وقت آیا مگرخدا تعالیٰ نےا من سے نہ بدلا۔اللہ تعالیٰ نے حضرت عمر ؓکی دعا قبول کر لی اور ایسے سامان پیدا کر دیے جن سے اسلام کی عزت قائم رہی۔ چنانچہ مدینہ پرکسی بیرونی لشکر کے حملہ آور ہونے کے بجائے اندر سے ہی ایک خبیث اٹھا اور اس نے خنجر سے آپؓ کو شہید کر دیا۔

حضرت مصلح موعود ؓنے غلاموں کی آزادی کے حوالے سے اسلامی تعلیم بیان کرتے ہوئے حضرت عمرؓ کی شہادت کا سبب بیان فرمایا کہ یہ حکم تھا کہ غلاموں کو بغیر کسی تاوان کے رہا کر دو۔اگر ایسا نہیں کرسکتے اور کوئی غلام تاوان ادا کرنے کی طاقت نہ رکھتا ہوتو وہ اپنی تاوان کی قسطیں مقرر کروا سکتا ہے۔ حضرت عمرؓ کو ایک ایسے غلام نے ہی مارا تھا جس نے مکاتبت کی ہوئی تھی۔ ایک مقدمہ آپؓ کے پاس آیا کہ کسی شخص کا غلام کماتا بہت تھا لیکن مالک کو دیتا کم تھا۔ حضرت عمر ؓنے ساڑھے تین آنے اس کے ذمہ لگا دیے کہ مالک کو ادا کیا کرو۔ اس فیصلہ کو اُس نے ایرانی ہونے کی وجہ سے اپنے خلاف سمجھا اور غصہ میں دوسرے ہی دن خنجر سے آپؓ پر حملہ کر دیا اوراُس کے زخموں کے نتیجہ میں آپؓ شہید ہوگئے۔

حضرت مصلح موعودؓ نے نماز کے موقع پرچند آدمی حفاظت کے لیےمقرر کرنے کے ضمن میں بھی حضرت عمرؓ کی شہادت کا واقعہ بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ حضرت عمرؓ کے ساتھ مسلمان بھی نماز میں مشغول تھے کہ ایک بدمعاش شخص نے آگے بڑھ کر خنجر سے وار کر دیا۔ قرآن مجید کا صراحتاً حکم ہے کہ حفاظت کے لیے مسلمانوں میں سےآدھے کھڑے رہا کریں گو یہ جنگ کے وقت کی بات ہے لیکن اس سے استدلال کیا جاسکتا ہے کہ چھوٹے فتنے کے انسداد کے لیے اگر چند آدمی نماز کے وقت کھڑے کردیے جائیں تو یہ قابل اعتراض اَمر نہیں۔ اس واقعہ کے بعد صحابہ نے انتظام کیا کہ جب بھی نماز پڑھتے ہمیشہ حفاظت کے لیے پہرے رکھتے۔

حضرت عمرؓ کی وفات پر ضرورت مندوں اور غریبوں پر خرچ کرنے کی وجہ سے اُن کے ذمہ چھیاسی ہزار درہم قرض تھا۔ کتاب وفاء الوفا میں حضرت ابن عمر ؓسے روایت ہے کہ حضرت عمرؓ نے حضرت عبداللہ ؓاور حضرت حفصہ ؓکو قرض کی ادائیگی کے لئے اپنے مکان کو بیچنےاور بنو عدی اور قریش کے علاوہ کسی اور سے مدد نہ مانگنے کی ہدایت فرمائی۔ حضرت عبداللہ بن عمر ؓ نے حضرت معاویہ ؓ کو وہ مکان بیچ کر حضرت عمر ؓ کا قرض ادا کر دیا۔ اس گھر کو

دَارُالقَضَاءِ دَیْنِ عُمَر

کہا جانے لگا یعنی وہ گھر جس کے ذریعہ حضرت عمرؓ کا قرض ادا کیا گیا تھا۔

یہ ذکر ابھی مزید چل رہا ہے انشاء اللہ آئندہ ذکر ہو گا۔

٭…٭…٭

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

For security, use of Google's reCAPTCHA service is required which is subject to the Google Privacy Policy and Terms of Use.

I agree to these terms.

Back to top button
Close