خلاصہ خطبہ جمعہ

خلاصہ خطبہ جمعہ سیّدنا امیر المومنین خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 08؍ اکتوبر 2021ء

آنحضرتﷺ کے عظیم المرتبت خلیفہ ٔراشد فاروقِ اعظم حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے اوصافِ حمیدہ کا تذکرہ

٭… حضرت عمرؓ کےزمانےکی فتوحات کاذکر

٭…حضرت عمرؓ کے واقعہ شہادت کا تفصیلی تذکرہ

٭…آج جرمنی کا جلسہ سالانہ بھی شروع ہو رہا ہے اللہ تعالیٰ اسے بابرکت فرمائے۔ زیادہ سے زیادہ جرمن احمدیوں کو اس سے استفادہ کرنے کی توفیق دے

٭…دو مرحومین مکرم قمر الدین صاحب مبلغِ سلسلہ انڈونیشیا اور مکرمہ صبیحہ ہارون صاحبہ اہلیہ سلطان ہارون خان صاحب مرحوم کا ذکر خیر اور نماز جنازہ غائب

خلاصہ خطبہ جمعہ سیّدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمدخلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 08؍ اکتوبر 2021ء بمطابق 08؍اخاء1400ہجری شمسی بمقام مسجد مبارک،اسلام آباد،ٹلفورڈ(سرے)، یوکے

امیرالمومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے مورخہ 08؍ اکتوبر 2021ءکو مسجد مبارک، اسلام آباد، ٹلفورڈ، یوکے میں خطبہ جمعہ ارشاد فرمایا جو مسلم ٹیلی وژن احمدیہ کے توسّط سے پوری دنیا میں نشرکیا گیا۔ جمعہ کی اذان دینےکی سعادت فیروز عالم صاحب کے حصے میں آئی۔تشہد،تعوذ اور سورةالفاتحہ کی تلاوت کے بعد حضورِ انور ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا:

حضرت عمرؓ کےزمانےکی فتوحات کاذکر ہوا تھا۔علّامہ شبلی نعمانی حضرت عمرؓ کی فتوحات اور اس کےاسباب وعوامل کاذکرکرتےہوئے لکھتے ہیں کہ ایک مؤرخ کےدل میں فوراً یہ سوال پیدا ہوں گے کہ چندصحرانشینوں نے کیونکر فارس اور روم کا تختہ الٹ دیا۔کیا یہ تاریخِ عالَم کا کوئی مستثنیٰ واقعہ تھا۔ کیا ان فتوحات کو سکندر اور چنگیزخان کی فتوحات سے تشبیہ دی جاسکتی ہے؟

حضرت عمرؓ کے خاص مفتوحہ ممالک کا کُل رقبہ بائیس لاکھ اکاون ہزار تیس مربع میل تھا۔ ان فتوحات کے متعلق یورپین مؤرخوں کی رائے ہے کہ اس وقت فارس اور روم دونوں سلطنتیں اوجِ اقبال سے گِر چکی تھیں۔خسروپرویز کےبعد فارس کی سلطنت کا نظام بالکل درہم برہم ہوگیا تھا۔ نوشیرواں سے کچھ پہلے ملحد وزندیق فرقہ مزدکیہ کا بہت زور ہوگیاتھا جن کے نزدیک لالچ دُورکرنےکےلیے عورت سمیت تمام مملوکات کو مشترکہ ملکیت قرار دیا جاتاتھا۔ اسی طرح نسطوری عیسائیوں کو بھی کسی حکومت میں پناہ نہ ملتی تھی۔ مسلمان چونکہ مذہبی عقائد سے تعرض نہیں کرتے تھے لہٰذا مدت سے مشقِ ستم چلے آرہےیہ دونوں فرقے اسلام کےسائے میں آکر مخالفین کے ظلم سے بچ گئے۔

رومی سلطنت کے متعلق یورپین مؤرخین کی رائے ہےکہ عیسائیت سے باہمی اختلافات اُن دنوں زوروں پر تھے اور سلطنت کمزور ہوچکی تھی۔ علّامہ شبلی اس کی تردید کرتے ہوئے کہتےہیں کہ بےشک اس وقت فارس و روم کی سلطنتیں عروج پر نہ تھیں لیکن اتنی کمزور بھی نہ ہوئی تھیں کہ عرب جیسی بےسروسامان قوم سے ٹکرا کر پرزےپرزے ہوجاتیں۔ روم و فارس فنونِ جنگ میں ماہر تھے،آلاتِ جنگ کا تنوع تھا، اپنے قلعوں اور مورچوں میں رہ کر ملک کی حفاظت کرنا تھی۔

دوسری جانب عرب کی تمام فوج تعداد میں ایک لاکھ سے بھی کم تھی اور وہ بھی ایسی کہ مروجہ آلاتِ جنگ سے تہی دست اور جدید فنون ِحرب سے ناواقف۔ پس اس سوال کا اصل جواب یہ ہے کہ مسلمانوں میں اُس وقت پیغمبرِ اسلامﷺ کی بدولت جوش،عزم،استقلال،بلندحوصلگی،دلیری پیداہوگئی تھی جسے حضرت عمرؓ نے مزید تیزکردیاتھا۔مسلمانوں کی راست بازی اور دیانت داری نے انہیں حکومت میں مدد دی اور اسی وجہ سے رعایا نے کبھی مزاحمت نہ کی۔ عراق اور شام کے رؤسا اور عمائدینِ حکومت انہی اخلاق کو دیکھ کر مسلمان ہوگئے۔ پس یہاں سکندرو چنگیز خاں کا نام لینا بالکل بےموقع ہے،ان دونوں نے قہر،ظلم اور قتلِ عام کی بدولت بڑی بڑی فتوحات حاصل کیں جبکہ مسلمانوں نے سچائی، حلم اور انصاف پسندی سے رعایا کے دل جیتے۔ چنگیز خاں،بخت نصر،تیمور،نادر شاہ وغیرہ سب سفّاک تھے لیکن حضرت عمرؓ کی فتوحات میں کبھی قانون اور انصاف سے تجاوز نہ ہوسکتا تھا۔ مُثلہ، بچوں کا قتل،بدعہدی اور آدمیوں کا قتلِ عام تودرکنار ایک درخت بھی کاٹنے کی اجازت نہیں تھی۔

جو لوگ حیرت انگیز فتوحاتِ فاروقی کا جواب یہ دیتے ہیں کہ دنیا میں اَور بھی فاتح گزرے ہیں انہیں یہ دکھانا چاہیے کہ اس احتیاط،پابندی اور درگزر سے کس حکمران نے ایک چپّہ غیروں کی زمین فتح کی ہے۔ سکندر چنگیز وغیرہ خود جنگ میں شریک ہوتے جبکہ حضرت عمرؓ تمام مدتِ خلافت ایک دفعہ بھی کسی جنگ میں شریک نہیں ہوئے لیکن تمام فوجوں کی باگ آپؓ کے ہاتھ میں رہتی تھی۔سکندر وغیرہ کی فتوحات بادل کی طرح تھیں جو ایک بار زور سے آیا اور نکل گیا جبکہ فتوحاتِ فاروقی میں یہ استواری تھی کہ تیرہ سَو برس بعدآج بھی وہ مفتوحہ ممالک اسلام کے قبضے میں ہیں۔

یہ عام رائے کہ ان فتوحات میں خلیفۂ وقت کا اتنا کردار نہیں جتنا اس وقت کے جوش اور عزم کا ہاتھ تھا اس کے متعلق علّامہ شبلی لکھتے ہیں کہ حضرت عثمانؓ اور حضرت علیؓ کے زمانے میں بھی آخر وہی مسلمان تھے لیکن کیا نتیجہ ہوا۔ جوش اور اثر بےشبہ برقی قوتیں ہیں لیکن یہ قوتیں اس وقت کام دیتی ہیں جب کام لینے والا بھی اسی زور اور قوت کا ہو۔ فتوحاتِ فاروقی کے حالات صاف بتاتےہیں کہ تمام فوج پُتلی کی طرح حضرت عمرؓ کے اشاروں پر حرکت کرتی تھی۔ فوج کی ترتیب،فوجی مشقیں، بیرکوں کی تعمیر،گھوڑوں کی پرداخت،قلعوں کی حفاظت،موسموں کے موافق فوج کی نقل وحرکت، پرچہ نویسی کا انتظام، افسرانِ فوج کا انتخاب، قلعہ شکن آلات کا انتخاب اور اس قسم کے بہت سےامور حضرت عمرؓ نے خود ایجاد کیے اور زوروقوت کے ساتھ انہیں قائم رکھا۔دس برس پر محیط ان لڑائیوں میں دو انتہائی خطرناک مواقع آئے ایک نہاوند کا معرکہ اور دوسرا جب قیصرِ روم نے جزیرہ والوں کی اعانت سے دوبارہ حمص پر چڑھائی کی، ان دونوں معرکوں میں صرف حضرت عمرؓ کی حسنِ تدبیر تھی جس نے اٹھتے ہوئے طوفانوں کو دبادیا۔ آج تک فاروقِ اعظمؓ کےبرابر فاتح اور کشورکشا نہیں گزرا جو فتوحات اور عدل دونوں کا جامع ہو۔

حضرت عمرؓ نے حضرت علیؓ، حضرت عثمانؓ، حضرت زبیرؓ، حضرت طلحہؓ،حضرت سعدؓ اور حضرت عبدالرحمٰن بن عوفؓ کو خلافت کا انتخاب کرنے کے لیے مقرر فرمایا اور آئندہ منتخب ہونےوالے خلیفہ کو مہاجرین و انصار،بدوی عربوں اور محتاجوں سے حسنِ سلوک کی وصیت فرمائی۔

حضرت عمرؓ کا ذکر آئندہ جاری رہنے کا ارشاد فرمانےکےبعد حضورِانورنے فرمایا کہ آج جرمنی کا جلسہ شروع ہورہا ہے۔ یہ دو دن کا جلسہ ہے۔ کل ان شاء اللہ اختتامی اجلاس سے مَیں خطاب کروں گا۔ اللہ تعالیٰ اس جلسے کو بابرکت فرمائے۔

خطبے کے آخر میں حضورِانور نے دومرحومین کا ذکرِ خیر اور نمازِ جنازہ غائب پڑھانے کااعلان فرمایا۔

پہلا ذکر مکرم قمر الدین صاحب مبلغِ سلسلہ انڈونیشیا کا تھا جن کی وفات 65برس کی عمر میں ہوئی۔اناللہ واناالیہ راجعون۔مرحوم نے 1972ء میں احمدیت قبول کی تھی اور 1986ء میں پاکستان سے شاہد کی ڈگری حاصل کی تھی۔ آپ کا عرصۂ خدمت پینتیس سال پر محیط ہے۔مرحوم قناعت شعار،عبادت گزار، خلافت سے محبت کرنےوالے، نہایت مخلص اور پُرجوش خادمِ سلسلہ تھے۔

دوسرا ذکرمکرمہ صبیحہ ہارون صاحبہ اہلیہ سلطان ہارون خان صاحب مرحوم کا تھا۔ آپ گذشتہ دنوں 73 سال کی عمر میں وفات پاگئیں۔ اناللہ وانا الیہ راجعون۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں تین بیٹوں اور تین بیٹیوں سے نوازا۔ ان کےایک بیٹے حضرت خلیفة المسیح الرابعؒ کےداماد ہیں۔مرحومہ خاموش طبع، صدقہ و خیرات کرنے والی،مہمان نواز اور بڑی صابرہ خاتون تھیں۔

٭…٭…٭

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button