الفضل ڈائجسٹ

الفضل ڈائجسٹ

(محمود احمد ملک)

اس کالم میں ان اخبارات و رسائل سے اہم و دلچسپ مضامین کا خلاصہ پیش کیا جاتا ہے جو دنیا کے کسی بھی حصے میں جماعت احمدیہ یا ذیلی تنظیموں کے زیرانتظام شائع کیے جاتے ہیں۔

قرآن مجید کے تدریجی نزول کی حکمت

روزنامہ ’’الفضل‘‘ربوہ 28 مارچ 2013ء میں شائع ہونے والے ایک مضمون میں قرآن مجید کے تدریجی نزول کی حکمت پر روشنی ڈالی گئی ہے۔

مضمون نگار رقمطراز ہیں کہ مستشرقین یہ اعتراض بڑی شدّومدّ سے کرتے چلے آئے ہیں کہ قرآن کریم یکبار کیوں نازل نہیں ہوا۔ یہ اعتراض نزول قرآن کے آغاز میں ہی کفار کی طرف سے کیا گیا تھا اور اللہ تعالیٰ نے اسے یوں محفوظ فرمایا ہے:

’’اور وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا وہ کہیں گے کہ اس پر قرآن یک دفعہ کیوں نہ اتارا گیا۔‘‘ (الفرقان:33)

اللہ تعالیٰ اس اعتراض کا جواب دیتے ہوئے فرماتا ہے کہ ’’اسے اسی طرح ہی اتارا جانا تھا تاکہ ہم اس ذریعہ سے تیرے دل کو ثبات عطا کریں اور اس طرح ہم نے اسے بہت مستحکم اور اعلیٰ درجہ کی ترتیب والا بنایا ہے۔ نیز اس وجہ سے بھی اسے تدریجاً نازل کیا ہے کہ جب یہ کفار تیرے مقابل پر کوئی حجت پیش کریں تو ہم اس کے رد کے لیے تیرے پاس حق اور بہترین وضاحت لے آئیں۔‘‘(الفرقان:34-33)

اسی طرح اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

ہم نے اس قرآن کو حق و حکمت کے ساتھ اتارا ہے اور یہ حق وحکمت کے ساتھ ہی اترا ہے اور تجھے ہم نے ایک عظیم بشیر اور نذیر بنایا ہے۔ نیز اس قرآن کو تدریجاً نازل کرنے کی حکمت یہ ہے کہ تا تو اسے لوگوں کے سامنے ٹھہر ٹھہر کر پیش کرے اور وہ اسے بخوبی سمجھ سکیں۔ (بنی اسرائیل:107-106)

دراصل کفار تو کسی بھی آسمانی کتاب کے نزول کے قائل ہی نہ تھے۔ انہوں نے تو اپنی طرف سے ایک معقول اعتراض کیا تھا مگر زیادہ تر تعجب دورِ حاضر کے بعض معترضین پر ہے جو باوجود اہل کتاب ہونے کے قرآن پر یہ اعتراض کرتے چلے آرہے ہیں۔ حالانکہ اگر قرآن یک دفعہ اکٹھا نازل ہوجاتا تو انہی لوگوں نے یہ اعتراض کرنا تھا کہ یہ خدائی کلام نہیں بلکہ کسی بشر نے یہ کتاب مدوّن کر کے اسے دے دی ہے۔

امر واقعہ یہ ہے کہ قرآن کریم سمیت تمام الہامی کتب تدریجاً ہی مکمل ہوئی ہیں اور ہونا بھی ایسا ہی چاہیے تھا۔ چنانچہ حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں: ’’انبیاء علیہم السلام اللہ تعالیٰ کی مکتب میں تعلیم پانے والے ہوتے ہیں اور تلامیذ الرحمان کہلاتے ہیں۔ ان کی ترقی بھی تدریجی ہوتی ہے۔ اسی لیے رسول اللہ ﷺ کے لیے قرآن شریف میںآیا ہے: کَذٰلِکَ لِنُثَبِّتَ بِہٖ …۔‘‘ (الحکم 17؍اگست 1902ء صفحہ10)

حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں:

’’کلام الٰہی تو نبی اور خدا کے تعلق کو روشن کرتا رہتا ہے۔ کیا ہم خیال کر سکتے ہیں کہ کسی نبی پر ایک رات میں سب کلام نازل کر کے خدا تعالیٰ خاموش ہوجائے گا… کیا وہ اس محجوب اور محبوب سے دُور زندگی کو راحت سے گزار سکتا ہے؟ رسول کریم ﷺ کا چند دن کے وحی کے وقفہ سے کیا حال ہوا تھا۔ اگر ایک دن کلام کر کے خداتعالیٰ دوسرے نبیوں سے بقیہ ساری عمر خاموش رہتا تو میں سمجھتا ہوں دشمن تو ان کو مارنے میں ناکام رہتے لیکن یہ خدائی فعل ان کو مارنے میں ضرور کامیاب ہوجاتا۔‘‘ (تفسیر کبیر جلد9صفحہ 304-303)

قرآن کریم، تورات، زبور اور انجیل وغیرہ تمام مذہبی کتب اپنے نبی کے آغازِ دور سے آخر تک مختلف مواقع پر اللہ تعالیٰ کی تائید و رہنمائی کے تذکرہ پر مشتمل ہیں۔ حضرت موسیٰؑ کی کتب بھی چالیس پچاس سال میں مدوّن ہوئی ہیں۔ یہ خیال غلط ہے کہ تورات آپؑ پر طُور پر ایک رات میں یکدفعہ پوری نازل ہوئی تھی۔ طُور پر تو آپؑ چالیس راتیں رہے تھے اور اس عرصہ میں صرف دس احکام دیے گئے تھے۔ جبکہ تورات (پانچ کتب کا مجموعہ) اس سے کہیں وسیع اور زیادہ احکام پر مشتمل ہے۔ یہی حال انجیل اور زبور وغیرہ کا ہے اور یہود خود اس بات کے اقراری ہیں کہ حضرت موسیٰ ؑکو شریعت تدریجاً دی گئی تھی۔ چنانچہ George Sale اپنے ترجمۃ القرآن کے افتتاحیہ میں لکھتا ہے:

The Jews also say the law was given to Moses by Parcels.

(The Koran (Preliminar) Discourse P:50)

حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں: ’’نبی اپنے الہام کے لیے بمنزلہ آئینہ کے ہے اور اس کا الہام اس کی زندگی کے لیے بطور ایک آئینہ ہے۔ یہ دونوں ایک دوسرے کو روشن کرتے ہیں اور اس دوہری روشنی ہی سے دنیا ہدایت پاتی ہے۔ اس لیے ہر نبی کا کلام اس کی زندگی کے مختلف حالات پر روشنی ڈالتا ہوا ایک لمبے عرصہ میں ختم ہوتا ہے۔ ایک طرف وہ خداتعالیٰ کی صفات کے تازہ ظہور پر روشنی ڈالتا ہے۔ اور دوسری طرف اس کی حالت جو اس کے دشمنوں کی نسبت سے ہوتی ہے اس کے تغیرات پر روشنی ڈال کر خدا تعالیٰ کی تائید اور نصرت کا ثبوت پیش کرتا ہے۔ تیسری طرف وہ ان مختلف حالات میں نبی کے ایمان اور اس کے یقین کے مختلف اظہاروں کو پیش کر کے اس کی دیانتداری، اس کے ایثار اور اس کے روحانی کمالات کو پیش کرتا ہے۔ اگر شروع میں ہی ایک رات میں کلام نازل ہوجائے تو اس میں یہ باتیں کب جمع ہوسکتی ہیں اور اگر یہ باتیں کسی کلام میں جمع نہ ہوں تو وہ دنیا کی ہدایت اور رشد کا سامان پیدا ہی کب کر سکتا ہے پس ضروری ہے کہ سب نبیوں پر آہستہ آہستہ کلام نازل ہو۔‘‘ (تفسیر کبیر جلد 9صفحہ 303-302)

حضرت مسیح موعودؑ قرآن کریم کے تدریجی نزول کی حکمت یوں بیان فرماتے ہیں: ’’کافر کہتے ہیں کیوں قرآن ایک مرتبہ ہی نازل نہ ہوا۔ ایسا ہی چاہئے تھا تا وقتاً فوقتاً ہم تیرے دل کو تسلی دیتے رہیں اور تا وہ معارف اور علوم جو وقت سے وابستہ ہیں اپنے وقت پر ہی ظاہر ہوں کیونکہ قبل از وقت کسی بات کا سمجھنا مشکل ہوجاتا ہے سو اس مصلحت سے خدا نے قرآن شریف کو تئیس برس میں نازل کیا تا اس مدت تک موعود نشان بھی ظاہر ہوجائیں۔‘‘ (حقیقۃ الوحی روحانی خزائن جلد 22صفحہ 357)

قرآن مجید کا نزول تدریجاً ہونے کی پیشگوئی تو خود عیسائیوں کی اپنی مسلمہ کتب میں پائی جاتی ہے جو اپنی جگہ صداقت قرآن کریم کا ایک بہت بڑا ثبوت ہے۔ چنانچہ حضرت یسعیاہؑ آنے والے عظیم نبی اور اس کے کلام کے متعلق پیشگوئی کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ’’وہ کس کو دانش سکھائے گا؟ کس کو وعظ کر کے سمجھائے گا؟ کیا ان کو جن کا دودھ چھڑایا گیا۔ جو چھاتیوں سے جدا کئے گئے؟ … پس خداوند کا کلام ان کے لیے حکم پر حکم ،حکم پر حکم، قانون پر قانون، قانون پر قانون، تھوڑا یہاں تھوڑا وہاں ہوگا۔‘‘ (یسعیاہ باب 28آیت 9تا13)

اس پیشگوئی میں بتایا گیا ہے کہ اس عظیم نبی کے ذریعہ خدا کا کلام ایسی قوم کے پاس آئے گا جو الہام کے دودھ سے محروم ہوگی اور اس پر نازل ہونے والا کلام تدریجاً نازل ہوگا۔ پہلے ایک حکم، ایک قانون نازل ہوگا۔ پھر دوسراپھر اگلا پھر اگلا اور یہ تمام کلام کسی ایک جگہ نازل نہ ہوگا۔ بلکہ مختلف مقامات پر نازل ہوگا۔ اور ’’تھوڑا یہاں تھوڑا وہاں‘‘ کے الفاظ میں نہایت صراحت سے مکہ اور مدینہ میں قرآن کریم کے نزول کی پیشگوئی ہے۔ چنانچہ خود اللہ تعالیٰ یٰسین:7,6، المائدہ:20 اور بنی اسرائیل:107 میں درج ذیل مفہوم بیان فرماتا ہے:

ہمارا یہ رسول انبیاء کی بعثت میں ایک لمبے انقطاع کے بعد اس قوم کے پاس آیا ہے جن کے آباؤاجداد کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے کسی نبی کے ذریعہ انذار نہیں کیا گیا تھا اور وہ الہام کے فیض سے محروم تھے اور قرآن مجید کا نزول بھی برسوں مختلف حالات اور مختلف مقالات میں جاری رہ کر مکمل ہوا۔

دوسرا پہلو اس اعتراض کے جواب کا یہ ہے کہ قرآن مجید کے تدریجی نزول کی جو غرض اللہ تعالیٰ نے بیان فرمائی ہے کہ تا اس طرح رسول اللہ ﷺ اور آپؐ کے متبعین کے قلوب کو ثبات عطا کیا جائے۔ اس کی صورتیں درج ذیل ہیں:

1۔اگر سارے کا سارا قرآن ایک ہی دفعہ نازل ہوجاتا تو ہر ضرورت پیش آنے کے موقع پر آنحضورﷺ کو اس کلام سے استدلال کرنا پڑتا۔ جس سے ظاہر ہے کہ آپؐ کے دل کو ویسی تقویت اور ایمان حاصل نہ ہو سکتا تھا جیسے ہر پیش آمدہ ضرورت پر حسب موقع وحی کے نزول سے ہوسکتا ہے۔

2۔ قرآن چونکہ ساری دنیا کے عمل کے لیے آیا تھا۔ اس لیے اسے محفوظ کرنا ضروری تھا جس کا ایک زبردست ذریعہ حفظ ہے اگر سارا قرآن یکدفعہ ہی اکٹھا ہوجاتا تو اسے صرف وہی شخص حفظ کرسکتا تھا جو اس مقصد کے لیے اپنی زندگی وقف کردیتا۔ عام اور اکثراصحاب اس سے محروم رہ جاتے۔ لیکن تدریجاً نزول کے نتیجہ میں عام طور پر صحابہؓ اسے ساتھ کے ساتھ یاد کرتے چلے گئے۔ اس طرح آغاز نزول سے ہی سینکڑوں حفاظ قرآن تیار ہوگئے۔

3۔ یکدفعہ پورا نازل ہو جانے سے قرآن لوگوں کے قلوب میں پوری طرح راسخ نہ ہوسکتا تھا۔ اس کی تعلیم کو قلوب میںپوری طرح راسخ کرنے کے لیے ضروری تھا کہ اسے تدریجاً نازل کیا جاتا تا کہ جب لوگ ایک موقع پر عمل کرنا سیکھ جاتے تو پھر اگلا حکم نازل کیا جاتا۔

4۔ ایک ہی وقت میں سارا قرآن نازل کرنے کی صورت میں اس کی ترتیب وہی رکھنی پڑتی جو اَب ہے۔ لیکن ظاہر ہے کہ یہ ترتیب اس وقت رکھی جانی خطرناک ہوتی۔ اس وقت اگر خدا کی ہستی، توحید اور نبوت کے اثبات سے قبل ہی احکام جاری کردیے جاتے تو نہ وہ لوگوں کو سمجھ آتے اور نہ لوگ ان پر عمل کرتے بلکہ ایک تنفّر کی کیفیت پیدا ہوجاتی۔

5۔ پورا قرآن اکٹھا نازل ہونے کی صورت میں اس کے ایک حصہ میں دوسرے حصہ کی طرف اشارہ نہ ہوسکتا تھا۔ نہ ایک وقت میں کی گئی پیشگوئیوں کے پورا ہونے کو مومنین کے ازدیاد ایمان اور ثبات قدم کے لیے پیش کیا جاسکتا۔

6۔ اگر سارا قرآن ایک ہی وقت میں اکٹھا نازل ہوجاتا تو کوئی اعتراض کرنے والا اعتراض کر سکتا تھا کہ کسی شخص نے یہ کتاب بنا کر اس مدعی کو دے دی ہے۔

7۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ رتّلنٰہُ ترتیلا کہ ہم نے اس کی ترتیب نہایت اعلیٰ رکھی ہے۔ یعنی اس کے نزول کی ترتیب وہ رکھی جو رسول اللہ ﷺ کے زمانے کے لوگوں کے لیے ضروری اور مناسب حال ہونے کی وجہ سے فائدہ مند تھی اور دائمی ترتیب وہ رکھی جو آئندہ تا قیامت آنے والے بنی نوع انسان کے لیے ضروری اور فائدہ مند تھی۔ اگر قرآن نعوذباللہ کسی بشر کی تصنیف ہوتا تو وہ اسے اپنی پیش آمدہ ضروریات کے موافق بناتا چلا جاتا اور اس کی ایک ہی ترتیب رکھتا۔ پس قرآن مجید کی ترتیب نزول اور دائمی ترتیب کا الگ الگ ہونا بھی اس کی صداقت کا ایک بیّن ثبوت ہے۔

(خلاصہ مضمون تفسیر کبیر جلد نہم صفحہ 491-488)

………٭………٭………٭………

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

For security, use of Google's reCAPTCHA service is required which is subject to the Google Privacy Policy and Terms of Use.

I agree to these terms.

Back to top button
Close