متفرق مضامین

حضرت محمد عبدالحق صاحب رضی اللہ عنہ۔22؍اکتوبر1903ء

(عمانوایل حارث)

یَاْتُوْنَ مِنْ کُلِّ فَجٍّ عَمِیْقٍ

چارلس فرانسس سی رائٹ نے آسٹریلیا میں ہی 1896ءمیں اسلام قبول کرنے کی سعادت پائی۔ تب آپ کا اسلامی نام ’محمدعبدالحق ‘رکھا گیا

حضرت محمد عبدالحق صاحب رضی اللہ عنہ کا اصل نام Charles Francis Sievwright تھا۔ آپ 1862ء کو آسٹریلیا کے شہر میلبورن میں ایک کیتھولک گھرانے میں پیدا ہوئےجبکہ آپ کے دادا کو سکاٹ لینڈ سے(Assistant Aboriginal Protector) آسٹریلیا کی قدیم اور مقامی آبادی کے محافظ کے طور پر متعین کرکے بھیجا گیا تھا۔

چارلس فرانسس سی رائٹ نے آسٹریلیا میں ہی 1896ءمیں اسلام قبول کرنے کی سعادت پائی۔ تب آپ کا اسلامی نام ’محمدعبدالحق ‘رکھا گیا۔ قبول اسلام کے بعد آپ کو مختلف اسلامی ملکوں کے سفر کا موقع ملا، اسی دوران آپ ہندوستان وارد ہوئے، اور خوش نصیبی سے قادیان حاضر ہوئے اور مسیح دوراں حضرت مرزا غلام احمدقادیانی علیہ السلام کی زیارت سے شرف یاب ہوئے۔ آپ کی قادیان آمد کا ذکر ملفوظات کی جلد سوم میں’’ایک آسڑیلوی نو مسلم کے استفسارات کے جوابات‘‘عنوان کے تحت محفوظ ہے۔ 22؍اکتوبر 1903ء کو آپ قادیان میں موجود تھے اور آپ کا قیام دو دن رہا۔ 24؍اکتوبر کو آپ کی قادیان سے واپسی ہوئی۔ اور پھر 1906ء میں جب آپ نیوزی لینڈ میں مقیم تھے آپ کو احمدیت قبول کرنے کی سعادت نصیب ہوئی۔ بعد میں آپ امریکہ منتقل ہوگئے اور وہیں لاس اینجلس میں وفات پائی۔

تاریخ جماعت احمدیہ آسٹریلیا(1903ءتا1965ء) کے صفحہ 21 پر ایک تحقیقی کتاب کے حوالے سے چارلس سی رائٹ کے قبول اسلام اور برٹش اینڈ انڈین ایمپائر لیگ کے نمائندہ کے طور پر ہندوستان سفر کرنے کا ذکر موجود ہے۔ نیز چارلس سی رائٹ کے صوبہ نارتھ کوئینز لینڈ میں وقت گزارنے اور ایک ناول لکھنے کا بھی ذکر ہے جوان کی زندگی میں غیر مطبوعہ رہا۔

حضرت محمد عبدالحق صاحبؓ کےسفر قادیان اور حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام سے ملاقات کی یادوں کو شکاگو امریکہ سے شائع ہونے والے رسالہ مسلم سن رائز نے اپنے اکتوبر 1922ء کے شمارہ کے صفحہ 144 پر جگہ دی، جس میں بتاتے ہیں کہ

This meeting with GHULAM AHMAD in Qadian in the year 1903 was a wonderful proof of the truths of Islam…On the 22nd October 1903, I was at Qadian and received the hospitality of the entire community…Nothing astonished me more, among all the extraordinary incidents during my missionary travels, than the finding of myself in that sacred place and face to face with its Messiah

ترجمہ:’’1903ء میں قادیان میں حضرت مرزا غلام احمدسے ملاقات اسلام کی صداقت کا ایک حیرت انگیز نشان تھی۔ 22؍ اکتوبر 1903ء کو میں قادیان میں تھا اور ساری جماعت کی طرف سے مہمان نوازی پائی…میرے مشنری سفروں کے غیر معمولی واقعات میں سے کسی نے مجھے اتنا ورطہ حیرت میں نہیں ڈالا جتناکہ اپنے آپ کو اس مقدس مقام میں اس کے مسیح ؑ کے روبرو پانے میں۔ ‘‘

سفر قادیان کے متعلق سلسلے کے لٹریچر میں اخبار بدر کے ایڈیٹر صاحب کے حوالے سے لکھا ہے کہ ’’ایک یورپین صاحب …بہمراہی میاں معراج الدین عمر وحکیم نور محمد صاحب احمدی …عصر کے وقت قادیان پہنچ گئے جہاں قادیانی احمدی احباب نے بڑے تپاک سے ان کا استقبال کیا۔ نماز مغرب میں وہ جماعت کے ساتھ شامل ہوئے …بعد ادائیگی نماز میاں معراج الدین صاحب عمر نے ان کو حضرت اقدس سے انٹروڈیوس کیا اور ان کے مزید حالات سے یوں اطلاع دی کہ

یہ ایک صاحب ہیں جو کہ آسٹریلیا سے آئے ہیں۔7 سال سے مشرف با سلام ہیں اخبارات میں بھی آپ کا چرچا رہا ہے۔ آسٹریلیا سے یہ لنڈن گئے اور وہاں سفیرروم سے انہوں نے ارادہ ظاہر کیا کہ اسلامی علوم سے واقفیت حاصل کر نا چاہتا ہوں ۔سفیرروم نے ان کو کہا کہ تم قاہرہ (دارالسلطنت)مصر میں جاؤ مگر تا ہم مشورہ کے طور پر لارڈ سٹینلے نے ان کو مشورہ دیا کہ تمہارا یہ مدعا بمبئی میں حاصل ہو گا یہ وہاں پھر تے ہوئے کلکتہ آئے ۔راستہ میں ایک رؤیادیکھی ۔اور اس جگہ سے لاہور آئے جہاں کہ انہوں نے حضور کا تذکرہ سنا۔ اب زیارت کے لیے یہاں حاضر ہوئے۔

اب ہم ذیل میں وہ گفتگودرج کرتے ہیں جو کہ نو مسلم صاحب اور حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ و السلام کے درمیان ہوئی۔ مشرف با سلام ہو کر ان کا نام محمد عبد الحق رکھا گیا تھا۔

ذیل میں گفتگو جو کہ محمد عبد الحق صاحب اور حضرت اقدس کے مابین ہوئی۔ اس کے ترجمان خواجہ کمال الدین صاحب بی۔اے پلیڈر تھے۔

محمد عبد الحق صاحب:مَیں جہاں کہیں بھی پھر تا رہا ہوں میر ا واسطہ ایسے مسلمانوں سے رہا ہے جو یا تو خودانگریزی جانتے تھے اوربا لمشافہ مجھ سے گفتگو کرتے تھے اور یا بذریعہ تر جمان کے ہم اپنے مطالب کا اظہار کرتے تھے مَیں نے ایک حد تک لوگوں کے خیالات سے فائدہ اُٹھایا اور بیرونی دنیا میں جو اہلِ اسلام ہیں ان کے کیا حا لات اور خیالات ہیں ۔اس کے تعارف کی آرزو رہی ۔رُوحانی طور سے جو میل جول ایک کو دوسرے سے ہو سکتا ہے اس کے لیے زباندانی کی ضرورت نہیں ہے اوراس رُوحانی تعلق سے انسان ایک دوسرے سے جلد مستفید ہو سکتا ہے ۔

حضرت مسیح موعود علیہ السلام:ہمارے مذہبِ اسلام کے طریق کے موافق روحانی طریق صرف دعا اور توجہ ہے لیکن اس سے فائدہ اُٹھانے کے لیے وقت چاہیے کیونکہ جب تک ایک دوسرے کے تعلقات گاڑھے نہ ہوں اور دلی محبت کا رشتہ قائم نہ ہو جائے تب تک اس کا اثر محسوس نہیں ہوتا۔ہدایت کا طریق یہی دعا اور توجہ ہے ۔ظاہری قیل وقال اور لفظوں سے کچھ حاصل نہیں ہوتا ۔

محمد عبد الحق صاحب:میری فطرت اس قسم کی واقع ہوئی ہے کہ رُوحانی اتحاد کو پسند کرتی ہے۔مَیں اسی کا پیاسا ہوں اور چاہتا ہو ں کہ اس سے بھر جاؤں ۔جس وقت سے مَیں قادیان میں داخل ہوا ہوں مَیں دیکھتا ہوں کہ میرا دل تسلی پاگیا ہے اور اب تک جس جس سے میری ملاقات ہوئی ہے مجھے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس سے میرا دیرینہ تعارف ہے ۔

حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام:خدا تعالیٰ کا قانونِ قدرت ہے کہ ہر ایک رُوح ایک قالب کو چاہتی ہے جب وہ قالب تیار ہوتا ہے تو اس میں نفخِ رُوح خو دبخود ہو جاتا ہے۔آپ کے لیے یہ ضروری امر ہے کہ جو حقیقت خدا تعالیٰ نے مجھ پر کھولی ہے اُس سے آہستہ آہستہ آگاہی پالیویں۔عام اہلِ اسلام میں جس قدر عقائد اشاعت پائے ہو ئے ہیں اُن میں بہت سی غلطیاں ہیں اور یہ غلطیاں ان میں عیسائیوں کے میل جول سے آئی ہیں ،لیکن اب خدا تعالیٰ چاہتا ہے کہ اسلام کا پاک اور منور چہرہ دنیا کو دکھلاوے رُوحانی ترقی کے لیے عقیدہ کی صفائی ضروری ہے ۔جس قدر عقیدہ صاف ہو گا اسی قدر ترقی ہو گی ۔

دُعا اور توجہ کی ضرورت اس امر میں اس لیے ہوتی ہے کہ بعض لوگ غفلت کی وجہ سے محجوب ہوتے ہیں اور بعض کو تعصب کی وجہ سے حجاب حائل ہوتا ہے اور بعض اس لیے حجاب میں رہتے ہیں کہ اہلِ حق سے اُن کو ارادت نہیں ہوتی مگر جب تک خدا دستگیری نہ کرے یہ حجاب دُور نہیں ہوتے۔پس اس لیے توجہ اور دعا کی ضرورت ہو تی ہے کہ یہ حجاب دُور ہوں ۔جب سے یہ سلسلہ نبوت کا قائم ہے تب سے یہ اسی طرح چلا آتا ہے کہ ظاہری قیل وقال اس میں کچھ نہیں بناتی ہمیشہ توجہ اور دُعا سے لوگ مستفید ہوتے ہیں۔

دیکھو ایک زمانہ وہ تھا کہ آنحضرت ﷺ تن تنہا تھے مگر لوگ حقیقی تقویٰ کی طرف کھنچے چلے آتے تھے حالانکہ اب اس وقت لاکھوں مولوی اور واعظ موجود ہیں۔لیکن چونکہ دیانت نہیں ،وہ رُوحانیت نہیں اس لیے وہ اثر اندازی بھی اُن کے اندر نہیں ہے۔انسان کے اندر جو زہریلا مواد ہو تا ہے وہ ظاہری قیل وقال سے دُور نہیں ہوتا ۔اس کے لیے صحبتِ صالحین اور ان کی توجہ کی ضرورت ہوتی ہے اس لیے فیض یافتہ ہونے کے لیے اُن کے ہمرنگ ہو نا اور جو عقائدِ صحیحہ خدا نے اُن کو سمجھائے ہیں ان کو سمجھ لینا بہت ضروری ہے۔جب آپ کو اس بات کا علم ہو جاوے گا کہ فلاں فلاں عقائد ہیں جس میں عام اہلِ اسلام کا اور ہمارا اختلاف ہے تو پھر آپ کی طاقت (اثر اندازی)بڑھ جاوے گی اور آپ اس رُوحانیت سے مستفید ہوں گے جس کی تلاش میں آپ ہیں ۔

محمد عبد الحق صاحب:مجھے ہمیشہ اس امر کی تلاش رہی ہے کہ رُوحانی اتحاد اور اُنس کسی سے حاصل ہو اور اسی لیے مَیں جہاں کہیں پھرتا رہا ہو ں ہمیشہ قدرتی نظاروں سے بطور تفاؤل سبق حاصل کرتا رہا ہوں۔اسی طرح آج مَیں دیکھتا ہوں کہ میرا آنا اور نئے چاند کا پیدا ہونا (آج شعبان کا چاند نظر آیا تھا)ایک ساتھ ہے۔چاند کے ابتدائی دن چونکہ ترقی اور حصولِ کمال کے ہوتے ہیں جیسے جیسے یہ ترقی کرےگا اور کمال کو پہنچے گا ویسے ہی مَیں بھی ترقی اور کمال کو پہنچوں گا(بشر طیکہ قادیان میں مستقل قیام رہا)میرے وہم وگمان میں بھی یہ بات نہ تھی کہ مَیں آج ہی ایسے موقعہ پر یہاں وارد ہوں گا جبکہ نئے چاند کا ظہور ہوگا۔کلکتہ میں جو خط بعض لوگوں نے مجھے دئیے اگر مَیں ان پر عملدر آمد کرتا تو کہیں کا کہیں ہو تا مگر یہاں آکر مجھے معلوم ہوا کہ جن لوگوں کی تلاش میں مَیں ہوں وہ لوگ یہی ہیں۔رنگون میں مَیں نے آپ کے حالا ت سنے اور چند ایک تصانیف بھی دیکھی تھیں۔مگر مجھے آپ کا پتہ معلوم نہ ہوا اور نہ یہ امید تھی کہ اس قدر جلد مَیں یہاں پہنچ جاؤں گا ۔

حضرت مسیح موعود علیہ السلام :ان با توں سے فراست تو گواہی دیتی ہے کہ آپ ہماری شرائط کے موافق ہو ںگے اور خدا چا ہےتو اثر بھی قبول کر سکیں گے ،لیکن یادرکھو کہ سنت اللہ یوں ہے کہ دو باتیں اگر ہوں تو انسان حصول ِفیض میں کا میاب ہو تا ہے ایک یہ کہ وقت خرچ کر کے صحبت میں رہے اور اس کے کلام کو سنتا رہے اور اثنائے تقریر یا تحریر میں اگر کو ئی شبہ یا دغد غہ پیدا ہو تو اسے مخفی نہ رکھے بلکہ انشرح ِصدرسے اسی وقت ظاہر کر ے تا کہ اسی آن میں تدارک کیا جا وے اور وہ کا نٹا جو دل میں چبھا ہے نکا لا جا وے تا کہ وہ اس کے ساتھ روحانی تو جہ سے استفادہ حاصل کر سکے ۔

ایک با ت یہ کہ صبرسے صحبت میں رہے اور ہر ایک بات توجہ سے سنے اور شبہ کو مخفی نہ رکھے کیو نکہ شبہ مہلک اثر رکھتا ہے جو کہ اندر ہی اندر سرایت کر کے ہلا ک کر دیتا ہے اوراکثر آدمی اس سے ہلا ک ہو جاتے ہیں۔

دوسری بات یہ ہے کہ جب آسمان سے ایک نیا انتظام ہوتا ہے تو کو ئی نہ کو ئی ما مورآتا ہے اور چو نکہ اس کا فعل یہی ہوتا ہے کہ ہر ایک فرقہ کی غلطی نکا لے اس لیے سب لوگ اس کے دشمن ہو جا تے ہیں اور ہر طرح سے اذیت اور تکلیف دینے کی کوشش کر تے ہیں۔تو جب کو ئی اس کے سلسلہ میں داخل ہوتا ہے تو اسے بھی یہ تمام دکھ برداشت کر نے پڑتے ہیں۔ دشمنوں کے خطرنا ک حملے اس پر بھی ہو تے ہیں۔ہر ایک دوست اور اپنا بیگا نہ دشمن ہو جا تا ہے اور جس جس پر اسے اُمید ہوتی ہے وہ تمام خاک میں ملتی ہے۔نا امیدی اور ما یو سی کی سخت دشوار گذارراہ میں داخل ہو نا پڑتا ہے جس قدر امیدیں عزت اور آبرو اور جا ہ اور منزلت کے حصول کی لوگوں سے اس نے باندھی ہو تی ہیں۔ان سب پر پا نی پھر جا تا ہے جیسا کہ دنیا کی یہ قدیمی سنت چلی آئی ہے۔ان تمام ناامید یوں اور ما یو سیوں کے لیے تیا ر رہنا اور ان کا بر داشت کر نا ضروری ہے۔انسا ن اگر شیر دل ہو کر ان کا مقابلہ کر ے تو ٹھہر سکتا ہے ورنہ دیکھاگیا ہے کہ لوگ شوق سے اس میدا ن میں داخل ہو تے ہیں مگر جب یہ تمام بو جھ ان پر پڑتے ہیں تو آخر کا ر دنیا کی طرف جھک جا تے ہیں۔ان کا قلب اس نقصان کو جو دنیا اور اس کے اہل سے پہنچتا ہے برداشت نہیں کر سکتا ۔اس لیے ان کا انجا م ان کے اوّل سے بھی بدتر ہو تا ہے تو یہ امر ضروری ہے کہ دنیا کا لعن طعن برداشت کر کے اور ہر طرح سے نا امید یوں کے لیے تیا ر ہو کر اگر داخل سلسلہ ہو تو حق کو جلد پا وے گا اور جو کچھ اُسے ابتدا میں چھوڑنا پڑ ےگا وہ سب آخر کا ر اللہ تعالیٰ اسے دید ے گا ۔ایک تخم جس کے لیے مقدر ہے کہ وہ پھل لا وے اور بڑا درخت بنے ضرو رہے کہ اول چند دن مٹی کے نیچے دبا رہے تب وہ درخت بن سکے گا ۔اس لیے صبر ضروری ہے تا کہ وہ اپنے آپ کو گرا دے پھر قدرت الٰہی اسے اٹھا وے جس سے اس کا نشوونما ہو۔ مسڑویب پہلی دفعہ اسی طرح ہماری طرف جھکے مگر پیچھے وہ قائم نہ رہ سکے اب وہ تما م با توں کا اعتراف کر تے ہیں ۔

محمد عبدالحق صاحب:بذریعہ خط وکتابت مسڑویب سے میری ملاقات ہے اور مَیں ان کو اُس وقت سے جا نتاہوں جبکہ وہ ہندوستان میں آئے اور ان کے حا لا ت سے خوب واقف ہوں اور جو شرائط اپنے سلسلہ میں داخل ہو نے کے آپ نے بیان کئے ہیں مَیں انہی کو اسلام کی شرائط خیال کر تا ہوں جو مسلمان ہو گا اس کے لیے ان تمام با توں کا نشا نہ ہونا ضروری ہے آپ کے سا تھ ملنے سے جو نقصانا ت مجھ کو ہو سکتے ہیں اکثر مسلمان لو گوں نے اول ہی سے مجھے ان کی اطلا ع دی ہے اور با وجود اس اطلا ع اور علم کے میں یہاں آیا ہوں۔

حضرت مسیح موعود علیہ السلام :ہمارے اصولوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ ہم ایک سادہ زند گی بسر کر تے ہیں کہ وہ تمام تکلّفا ت جو کہ آج کل یو رپ نے لوازمِ زند گی بنا رکھے ہیں ان سے ہماری مجلس پاک ہے۔رسم وعادت کے ہم پا بند نہیں ہیں۔اس حد تک ہر ایک عادت کی رعا یت رکھتے ہیں کہ جس کے تر ک سے کسی تکلیف یا معصیت کا اند یشہ ہو با قی کھا نے پینے اور نشست وبر خاست میں ہم سادہ زند گی کو پسند کر تے ہیں ۔

محمد عبد الحق صاحب : جب سے مَیں اسلام میں داخل ہوا ہوں اور رو حا نیت سے حصہ لیا ہے مَیں سادگی سے محبت کرتا ہوں اسی لیے اگر یہاں رہوں تو مجھے تکلیف نہ ہو گی۔دنیا میں مَیں نے جس قدر سفر کیا ہے اس سے مجھے تجربہ ہوا ہے سادہ زند گی والا اور گو شہ نشین انسان بہت آرام سے زند گی بسر کر تا ہے ۔

(البدرجلد2نمبر41تا42صفحہ324تا325مورخہ29؍اکتوبرو8؍نومبر1903ء)

23؍ اکتو بر 1903ء

محمد عبدالحق صاحب کی طرف سے میاں معراج الدین صاحب عمر نے بیان کیا کہ آج یہ صاحب حضرت حکیم نورالدین صاحب سے قرآن کریم کے کچھ معانی سنتے رہے ہیںاور ان کو سن کر ان کی یہ رائے قرار پا ئی ہے کہ اس قسم کے تر جمہ کی بڑی ضرورت ہے اکثر لوگوں نے دوسرے ترجموں سے دھوکا کھایا ہے اور ان کی خواہش ہے کہ حضور کی طرف سے ایک ترجمہ شا ئع ہو ۔

حضرت مسیح موعود علیہ السلام : میرا خودبھی یہ ارادہ ہے کہ ایک تر جمہ قرآن شریف کا ہمارے سلسلہ کی طرف سے نکلے ۔

محمد عبد الحق صاحب: اس کی ضرورت یو رپین لو گوں میں مجھ سے ز یا دہ کو ئی اور محسوس نہیں کر سکتا۔سب آدمی میر ی طرح متلا شی حق اور حق کو بہت جد وجہد سے در یا فت کرنے کے بعد پھران غلط ترجموں کے ذریعہ سے ضلا لت کی طرف جانا پڑتا ہے ۔

حضرت مسیح موعود علیہ السلام:صرف قر آن کا تر جمہ اصل میں مفید نہیں جب تک اس کے سا تھ تفسیر نہ ہو مثلاً

غَیۡرِ الۡمَغۡضُوۡبِ عَلَیۡہِمۡ وَ لَا الضَّآلِّیۡنَ(الفا تحہ:7)

کی نسبت کسی کو کیا سمجھ آسکتا ہے کہ اس سے مراد یہو د نصاریٰ ہیں جب تک کہ کھول کر بتلا یا جا وے اور پھر یہ دعا مسلمانوں کو کیوں سکھلا ئی گئی۔ اس کا یہی منشا تھا کہ جیسے یہو دیوں نے حضرت مسیح کا انکا ر کر کے خدا کا غضب کما یا ایسے ہی آخر ی زما نہ میں اس امت نے بھی مسیح موعود کا انکار کر کے خدا کا غضب کما نا تھا ۔اسی لیے اوّل ہی ان کو بطور پیشگو ئی کے اطلا ع دی گئی کہ سعید روحیں اس وقت غضب سے بچ سکیں۔

محمد عبد الحق صاحب:

مَا قَتَلُوۡہُ وَ مَا صَلَبُوۡہُ وَ لٰکِنۡ شُبِّہَ لَہُمۡ (النسا ء :158)

کی نسبت بیان کیا کہ عوام اہل ِاسلام اور بعض تقاسیر میں اس کی نسبت لکھا ہوا ہو تا ہے کہ ایک اَور آدمی مسیح کی شکل کا بن گیا اسے پھانسی دی گئی اور مسیح آسمان پر چلا گیا ۔

حضر ت مسیح موعود علیہ السلام : اس کا سمجھنا بہت آسان ہے۔عام محاورہ زبان میں اگر یہ کہا جا وے کہ فلاں مصلوب ہوا یا پھانسی دیا گیا تو اس کے معنی یہی ہو تے ہیں کہ صلیب پر اس کی جا ن نکل گئی۔ اگر کو ئی مجرم پھا نسی پر لٹکا یاجا وے مگر اس کی جان نہ نکلے اور زند ہ اتا رلیا جاوے تو کیا اس کی نسبت پھانسی دیا گیا یا مصلوب کا لفظ بو لا جا وے گا؟ ہر گز نہیں بلکہ اس کی نسبت یہ الفاظ بو لنے ہی جرم ہو ںگے ۔مصلوب اسے کہتے ہیںکہ جس کی جان صلیب پر نکل جاوے اور جس کی جان نہ نکلے اسے مصلوب نہیں کہتے خواہ وہ صلیب پر چڑھا کر اتا ر لیا گیا ہو۔ یہودی زندہ موجود ہیں ان سے دریا فت کر لو کہ آیا مصلوب کے یہ معنی ہیں جو ہم کرتے ہیں یا وہ جو ہمارے مخالف کر تے ہیں پھر محاورہ زبا ن کو بھی دیکھنا چا ہیے۔مَا صَلَبُوۡہُ کےسا تھ ہی مَا قَتَلُوۡہُ رکھ دیا کہ بات سمجھ میں آجا وے کہ صلیب سے مراد جان لینی تھی جو کہ نہیں لی گئی اور صلیبی قتل وقوع میں نہیں آیا۔

شُبِّہَ لَہُمۡ(النساء:158) کے معنے ہیں مشبّہ با لمصلوب ہو گیا اس میں لوگوں کا یہ قول کہ کو ئی اور آدمی مسیح کی شکل بن گیا تھا با لکل با طل ہے عقل بھی اسے قبول نہیں کر تی اور نہ کو ئی روایت اس کے با رے میں صحیح مو جود ہے۔بھلا سو چ کر دیکھو کہ اگر کو ئی اور آدمی مسیح کی شکل بن گیا تھا تو وہ دو حال سے خالی نہ ہو گا یاتو مسیح کا دوست ہو گا یا اس کا دشمن۔اگر دوست ہو گا تو یہ اعتراض ہے کہ جس لعنت سے خدا نے مسیحؑ کو بچا نا چاہاوہ اس کے دوست کو کیوں دی؟ اس سے خدا ظا لم ٹھہرتا ہے اور اگر وہ دشمن تھا تو اسے کیا ضرورت تھی کہ وہ مسیح کی جگہ پھانسی ملتا اس نے دوہائی دی ہو گی اور چلا یا ہو گا کہ میرے بیوی بچوں سے پو چھومیرا فلاں نا م ہے اور مَیں مسیح نہیں ہو ں۔پھر اکثر موجود آدمیوں کی تعداد میں سے بھی ایک آدمی کم ہو گیا ہو گاجس سے معا ًپتہ لگ سکتا تھا کہ یہ شخص مسیح نہیں۔غرضیکہ ہر طرح سے یہ خیال با طل ہے اور شُبِّہَ لَہُمۡ(النساء:158) سے مراد مُشَبَّہ بِا لْمَصْلُوْبِہے۔

محمد عبدالحق صاحب: یہ خیال یو رپ میں ایک انقلاب عظیم پیدا کر ے گا کیو نکہ وہاں لوگوں کو دھو کا دیا گیا ہے اور کچھ کا کچھ سمجھا یا گیا ہے ۔

حضرت مسیح موعود علیہ السلام : عام لوگ جو بیان کرتے ہیں یہ منشا قرآنِ کریم کا ہر گز نہیں ہے اور اس سے لوگوں کو دھوکا لگا ہے۔

محمد عبدالحق صاحب: اسلام کے عقائد ہم تک عیسا ئیوں کے ذریعہ پہنچے ہیں اور اسلام کا صل چہرہ دیکھنے کے واسطے مَیں با ہر نکلا ہوں ۔

حضرت مسیح موعودعلیہ السلام: یہ خدا کا بڑا فضل ہے اور خوش قسمتی آپ کی ہے کہ آپ ادھر آنکلے۔یہ بات واقعی سچ ہے کہ جو مسلمان ہیں یہ قرآن شریف کو با لکل نہیں سمجھتے لیکن اب خدا کا ارادہ ہے کہ صحیح معنے قرآن کے ظاہر کر ے خدا نے مجھے اسی لیے مامور کیا ہے اور مَیں اس کے الہام اوروحی سے قرآن شریف کو سمجھتا ہوں قرآن شریف کی ایسی تعلیم ہے کہ اس پرکوئی اعتراض نہیں آسکتا اور معقولا ت سے ایسی پُر ہے کہ ایک فلا سفر کو بھی اعتراض کا مو قعہ نہیں ملتا مگر ان مسلمانوں نے قرآن کر یم کو چھوڑ دیا ہے اور اپنی طرف سے ایسی ایسی باتیں بنا کر قرآن شریف کی طرف منسوب کر تے ہیں جس سے قد م قدم پر اعتراض وار د ہو تا ہے اور ایسے دعاوی اپنی طرف سے کرتے ہیں جن کا ذکر قرآن شریف میں نہیں ہے اور وہ سراسر اس کے خلاف ہیں مثلاً اب یہی واقعہ صلیب کا دیکھو کہ اس میں کس قدر افتراء سے کام لیا گیا ہے اور قرآن کر یم کی مخالفت کی گئی ہے اور یہ بات عقل کے بھی خلاف ہے اور قرآن کے بھی بر خلاف ہے۔

اس کے بعد حضرت اقدس نے لفظ تَوَفِّی کی نسبت سمجھایا کہ اس میں اہل اسلام نے کیا ٹھو کر کھا ئی ہے اور بتلا یا کہ

صرف مسیح کے واقعہ میں اس کے معنی اٹھا لینے کے کرتے ہیں حالا نکہ اسی قرآن میں اور جہاں کہیں یہ لفظ آیا ہے اور لُغت اور دوسری کتب عربیہ سب جگہ اس کا تر جمہ موت کرتے ہیں ۔

محمد عبدالحق صاحب: یہ ضروری کام ہے جو کہ آپ نے اختیا ر کیا ہے اور اس کی ضرورت نہ صرف اہل اسلام کو ہے بلکہ عیسا ئیوں کو بھی بہت ہے مجھے قادیان میں آنے سے معلوم ہوا ہے کہ یہ سلسلہ بہت ہی مفید ہے اور ابتدا سے میری یہ خواہش ہے کہ اس قدر عظیم الشان کا م کے واسطے جیسے کہ یہ ہے خداتعالیٰ مجھے بھی ایک ہتھیار بنا دے اور اس میں سے مجھے بھی حصہ ملے۔

حضرت مسیح موعودعلیہ السلام: ہم ہمیشہ دعا کر تے ہیں اور ہماری ہمیشہ سے یہ آرزو ہے کہ یو رپین لو گوں میں سے کوئی ایسا نکلے جو اس سلسلہ کے لیے زند گی کا حصہ وقف کر ے لیکن ایسے شخص کے لیے ضروری ہے کہ کچھ عرصہ صحبت میں رہ کررفتہ رفتہ وہ تمام ضروری اصول سیکھ لیوے جن سے اہل اسلام پر سے ہر ایک داغ دُور ہو سکتا ہے اور وہ تمام قوت اور شو کت سے بھر ے ہو ئے دلا ئل سمجھ لیو ے جن سے یہ مرحلہ طے ہو سکتا ہے تب وہ دوسرے ممالک میں جا کر اس خد مت کو ادا کر سکتا ہے اس خد مت کے برداشت کر نے کے لیے ایک پاک اور قوی روح کی ضرورت ہے جس میں یہ ہو گی وہ اعلیٰ درجہ کا مفید انسا ن ہو گا اور خدا کے نزدیک آسمان پر ایک عظیم الشا ن انسان قرار دیا جا وے گا ۔

محمد عبدالحق صاحب: مَیں کل یہاں سے رخصت ہوں گا اور ایک ضروری خد مت کو سرانجام دینے کے لیے جو کہ بنی نوع انسان کی خد مت پر مبنی ہے آخر دسمبرتک ہندوستان کے مختلف مقامات پر دور ہ کروں گا وہ آسڑ یلیا میں ہندوستا نی تاجروں کی بندش کوآزاد کرا نے کی تجویز ہے اس دورہ کے بعد پھر مَیں دیکھو ںگا کہ مَیں کو نسی راہ اختیار کروں ۔

حضرت مسیح موعود علیہ السلام: قرآن شریف کی تفسیر تو اپنے وقت پر ہو گی لیکن اگر خدا آپ کے دل میں ڈالے اور آپ یہاں آکر رہیں تو قرآن شریف کے اس حصہ کی تفسیر سردست کر دی جاوے جس پر ہر ایک غیر مذہب نے کم فہمی سے اعتراض کئے ہیں یا اہل اسلام نے ان کے سمجھنے میں غلطی کھائی ہے۔اوّل اس کی فہرست تیار کر لی جاوےگی اور وہ بہت بڑی نہ ہو گی کیو نکہ ایک ہی اعتراض کو ہر ایک فرقہ نے بار بار تکرار سے بیان کیا ہے اس لیے وقتاً فوقتاً اگر اس کی حقیقت آپ کے ذہن نشین کر دی جا وے تو اُس حصہ کی تفسیر ہو جاوے اور اس کے ذریعہ سے یورپ میں ہرایک اعتراض کا جواب دیا جا سکے اور اس طرح سے جو دھوکہ اہل یورپ کو لگا ہے وہ نکل جا وے گا ۔

(البدرجلد2نمبر41تا42صفحہ 324-325مورخہ29؍اکتوبرو8؍نومبر1903ء)

(ملفوظات جلد3صفحہ445تا452،ایڈیشن1988)

اخبار بدر نے اپنے 29؍اکتوبر 1903ءکے شمارے میں حضور علیہ السلام کی 24؍اکتوبر کی مصروفیات کے ذکر میں لکھا کہ آج میاں عبدالحق صاحب واپس تشریف لے گئے اور حضورنے ظہر کے وقت ایک تقریر فرمائی جس میں دین کی خاطر قربانیاں کرنے اور دنیا کی محبت ٹھنڈی کرنے کا ذکر فرمایا۔

٭…٭…٭

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

For security, use of Google's reCAPTCHA service is required which is subject to the Google Privacy Policy and Terms of Use.

I agree to these terms.

Back to top button
Close