ایشیا (رپورٹس)

امیر المومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے ساتھ جماعت احمدیہ بنگلہ دیش کی نیشنل عاملہ کی (آن لائن) ملاقات

جنوری کا مہینہ جا رہا ہے بقایا چھ مہینے رہ گئے اِن چھ مہینوں میں ایک ہزار لوگوں کو دو ہفتے کے لیے وقف عارضی کرنا چاہیے

نیشنل مجلس عاملہ جماعت احمدیہ بنگلہ دیش کو حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے ساتھ9؍جنوری 2021ء کو ملاقات کی سعادت نصیب ہوئی۔

حضور انور اس ملاقات میں اپنے دفتر اسلام آباد (ٹلفورڈ) سے رونق افروز ہوئے جبکہ اراکین نیشنل عاملہ نے دارالتبلیغ مسجد ڈھاکہ (ہیڈ کوارٹرز جماعت احمدیہ بنگلہ دیش) سے آن لائن شرکت کی۔

65 منٹ پرمشتمل اس ملاقات میں جملہ حاضرین کو حضور انور سے بات کرنے کی سعادت نصیب ہوئی اور اپنے اپنے شعبہ جات کی رپورٹس پیش کرکے نیز متعدد سوالات کے جوابات کے ذریعہ حضور انور سے راہنمائی حاصل کرنے کا موقع ملا۔

نیشنل سیکرٹری صاحب تعلیم نے عرض کیا کہ جماعت احمدیہ کے زیر انتظام دو سکول بنگلہ دیش کے دیہاتی علاقوں میں چل رہے ہیں، جو ان علاقوں کے بچوں کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کرنے میں بھرپور طور پر معین و مددگار ثابت ہو رہے ہیں۔

حضور انور نے دور دراز علاقوںمیں مذہبی تفریق کو بالائے طاق رکھتے ہوئے کی جانے والی ان کاوشوں کی حوصلہ افزائی فرمائی۔ حضورانور نے مزید فرمایا کہ جماعت احمدیہ بنگلہ دیش کو ملک کے دور دراز علاقوں میں بھی حقیقی اسلام کی تعلیمات کے پرچار کی بھر پور کوشش کرنی چاہیے۔

نیشنل سیکرٹری امور خارجیہ نے سیاست دانوں اور سول سوسائٹی کے افراد سے رابطہ کے حوالہ سے اپنی مساعی کا ذکر کیا۔

حضور انور نے اس حوالہ سے دریافت فرمایا کہ (شعبہ) خارجیہ کےممبر آف پارلیمنٹ سے کتنے تعلقات ہیں، ہر ممبر آف پارلیمنٹ سے آپ کا رابطہ ہے؟آپ کے ممبران پارلیمنٹ کی کل تعداد کیا ہے؟ (اس پر سیکرٹری صاحب نے بتایا کہ 345 ممبرآف پارلیمنٹ ہیں۔) اس پر حضور نے فرمایا کہ ایسے ممبرز آف پارلیمنٹ سے بھی رابطہ کرنے کی کوشش کریں جو دیہاتی علاقوں اور دور دراز علاقوں میں رہتے ہیں، وہ زیادہ بہتر طور پر آپ کی بات سنیں گے اور سمجھیں گے۔ صرف ڈھاکہ کے (ممبرز آف پارلیمنٹ) سے ہی رابطہ کافی نہیں ہے۔ (سیکرٹری صاحب نے بتایا کہ ہم نے جماعت کے تعارف پر مبنی ایک کتاب تیار کی ہے، اس پر حضور انور نے فرمایا) ہر ایک ممبر آف پارلیمنٹ کو یہ تعارفی کتاب پہنچنی چاہیے، امن اور اسلامی تعلیمات اور جماعت احمدیہ کی خدمات پر مبنی چھوٹے چھوٹے بروشرز بھی ان کو دینے چاہئیں۔

دوران ملاقات حضور انور نے فرمایا کہ احمدی مسلمانوں کو نوکری تلاش کرنے کے حوالہ سے مدد فراہم کرنی چاہیے۔ نیشنل سیکرٹری امور عامہ کو مخاطب ہو کر حضور انور نے فرمایا کہ بنگلہ دیش میں تو کافی ایجنسیز ایسی ہیں جن کے ساتھ ان کا contact اگر صحیح ہو تو وہ احمدیوں کو روزگار دلوانے میں helpful ہو سکتی ہیں۔ تو ان احمدیوں کوروز گار دلانے کی کوشش کرنی چاہیے ۔

پھر سیکرٹری صاحب صنعت و تجارت سے مخاطب ہو کر حضورِ انور نے استفسار فرمایا کہ بطور سیکرٹری صنعت و تجارت احباب جماعت کو آپ کیا مدد بہم پہنچاتے ہیں۔ (اس پر انہوں نے بتایا کہ حضور ! لوگوں کو بزنس سے زیادہ نوکری کرنا پسندہے۔ حضور انور نے فرمایا کہ ایسے احباب جماعت جو دیہات میں اور دور دراز علاقوں میں رہتے ہیں ان پر زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے کہ انہیں نوکری ملے یا بہتر مواقع میسر آئیں یا کچھ مدد مل جائے تاکہ وہ انڈسٹری کے مفید وجود بن سکیں۔ اس طرح احبابِ جماعت کے لیے اچھا کام کر سکیں گے۔

بعد ازاں سیکرٹری تعلیم القرآن سے مخاطب ہو کر حضورِ انور نے فرمایا کہ مجھے یہ بتائیں کہ عاملہ ممبران میں سے کتنے لوگ ہیں جو وقفِ عارضی کرتے ہیں۔ ہر عاملہ ممبر کو کہیں دو دو ہفتے وقف عارضی کرو اور ان کو تعلیم القرآن ان سے کروایا کریں۔ اور آپ کا اس سال کا وقف عارضی کا کتنا ٹارگٹ ہے۔ (سیکرٹری صاحب نے بتایا کہ اس سال میں کم سے کم دس جماعتوں میں وقفِ عارضی کے لیے بھیج دوں گا۔) اس پر حضور انورنےفرمایا کہ نہیں۔ ایک ہزار اس سال ایک ہزار وقفِ عارضی چاہیے۔ ایک ہزار لوگ تلاش کریں جو دو ہفتے کے لیے وقف عارضی کریں۔ ٹارگٹ آپ کا یہ ہے کہ جنوری کا مہینہ جا رہا ہے بقایا چھ مہینے رہ گئے اِن چھ مہینوں میں ایک ہزار لوگوں کو دو ہفتے کے لیے وقف عارضی کرنا چاہیے۔

دورانِ ملاقات حضور انور نے کئی اَور اہم پہلؤوں کی طرف بھی توجہ دلائی جن میں احباب جماعت کی اخلاقی اور روحانی ترقی کی طرف نیز جماعت احمدیہ یعنی حقیقی اسلام کی تبلیغ کی طرف بھرپور توجہ دینے کی ضرورت پر زور دیا۔ فرمایا کہ اس وقت جو جماعتی زمین جماعت احمدیہ بنگلہ دیش کے زیر استعمال نہیں ہے، وہاں کھیتی باڑی کرنی چاہیے اور پودے لگانے چاہئیں۔

٭…٭…٭

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

For security, use of Google's reCAPTCHA service is required which is subject to the Google Privacy Policy and Terms of Use.

I agree to these terms.

Back to top button
Close