یورپ (رپورٹس)

امیر المومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے ساتھ لجنہ اماء اللہ برطانیہ کی نیشنل عاملہ کی (آن لائن) ملاقات

لجنہ اماء اللہ کو سکولوں اور ان کے اساتذہ کو حقیقی اسلامی تعلیمات سے روشناس کروانے کے لیے ایک مہم چلانے کی ضرورت ہے

امام جماعت احمدیہ حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے 2؍جنوری 2021ء کو اراکین نیشنل عاملہ لجنہ اماء اللہ برطانیہ سے ملاقات فرمائی ۔

حضور انور اس ملاقات میں اپنے دفتر اسلام آباد (ٹلفورڈ) سے رونق افروز ہوئے جبکہ مجلس عاملہ کی ممبرات نے طاہر ہال، مسجد بیت الفتوح لندن سے شرکت کی۔

حضور انور نے اس ملاقات کے آغاز میں فرمایا کہ حضور نے تقریباً ایک سال کے بعد طاہر ہال کو دیکھا ہے۔

دورانِ ملاقات حضور انور نے لجنہ اماء اللہ کی ممبرات کو ان کی مفوضہ مختلف ذمہ داریوں کی طرف توجہ دلائی اورا ن کے شعبہ جات میں بہتری کے لیے ہدایات سے نوازا۔

ملاقات کے آغاز میں مجلس عاملہ لجنہ اماء اللہ کی ایک ممبر نے حضور انور کی خدمت میں عرض کیا کہ ایک نیا پروگرام ان احمدی مسلمان خواتین کے لیے تیار کیا گیاہے جو مختلف شعبہ ہائے زندگی میں اپنا کاروبار کرنا چاہتی ہیں جیسے e-commerce اور professional tutoring۔

مزید برآں کورونا کی وبا کے دوران، لجنہ اماء اللہ یوکے نے اپنی ممبرات کی مہارت کو PPE یعنی Personal Protective Equipment کی تیاری اور بڑے پیمانے پر سپلائی کے لیے استعمال کیا ہے جس میں 86 ہزار سے زائد ماسک اور 1000 سے زائد medical scrubs شعبہ صحت سے جڑے ہوئے خدمت گاروں کے لیے شامل ہیں۔

حضور انور نے فرمایا کہ لجنہ اماء اللہ یوکے کو خدمتِ خلق کے لیے اپنی کوششوں میں وسعت اور مزید تیزی پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ مثال کے طور پر لجنہ اماء اللہ کو food banks اور دیگر خیراتی اداروں کے لیے اپنی کلیکشن (collection)بڑھانے کی ضرورت ہے۔ حضور نے مزید فرمایا کہ افریقہ کے غیر ترقی یافتہ لوگوں کو نئی نئی skills سکھانے کے لیے بھی کوششیں کرنی چاہئیں تاکہ وہ اپنے پیروں پر کھڑے ہو سکیں۔

نیز حضورِ انور نے فرمایا کہ امسال کیونکہ لجنہ اماء اللہ کا سالانہ اجتماع منعقد نہیں ہوا تو جو فنڈز بچ گئے ہیں وہ خدمتِ خلق کے پروجیکٹ میں دینے چاہئیں یعنی میٹرنٹی ہسپتال میں جو لجنہ اماء اللہ یوکے کو سیرالیون میں بنانے کی توفیق مل رہی ہے۔ اس پروجیکٹ کے بارے میں حضور انور نے فرمایا کہ میں امید کرتا ہوں کہ احمد ی مسلم خواتین ڈاکٹرز چند سالوں کے لیے اپنے وقت کی قربانی کرکے سیرالیون کے ہسپتال میں جو آپ بنا رہی ہیں، خدمات بجا لائیں گی۔ اس ہسپتال کی تعمیر مکمل ہو نے پر لجنہ اماء ا للہ ہی اسے چلائے گی اور ڈاکٹرز اور میڈیکل سٹاف کی فراہمی کی ذمہ داری بھی آپ پر ہی ہوگی۔

تبلیغ کے حوالہ سے حضور انور نے فرما یا کہ لجنہ اماء اللہ کو لوگوں کو حقیقی اسلام کی تعلیمات سے روشناس کروانا چاہیے اور نیشنل عاملہ کی ممبرات کو اس حوالہ سے صف اول میں کھڑےہونا چاہیے۔

حضورِ انور نے فرمایا کہ ہرعاملہ ممبر لجنہ اماء اللہ کو وسیع حلقہ میں اسلام کا پیغام پھیلانے کی بھرپور کوشش کرنی چاہیے اور ہر سال کم از کم ایک بیعت کے حصول کی کوشش کرنی چاہیے۔ نیشنل سیکرٹری تبلیغ کو ممبرات مجلس عاملہ کو تحریک کرنے اور پر عزم طریق پر تبلیغ میں حصہ لینے کی کوشش کرنی چاہیے۔

حضور انور نے فرمایا کہ بہت سی ٹیچرز جو یو کے میں اسلامی تعلیمات پڑھا رہی ہیں، وہ خود اسلام کی حقیقی سمجھ بوجھ سے عاری ہیں اور یہ ایسا مسئلہ ہے جس کو لجنہ اماء اللہ کو دیکھنا چاہیے۔

حضور انور نے فرمایا کہ میں جانتا ہوں کہ بہت سے سکولوں میں اساتذہ اسلامی تعلیمات سے بے خبر ہیں اور جس طریق پر وہ اسلای تعلیمات کو بیان کرتی ہیں وہ بالعموم مسلمان طلباء کو تنگ کرنے اور پریشان کرنے والا ہوتا ہے۔ پس لجنہ اماء اللہ کو سکولوں اور ان کے اساتذہ کو حقیقی اسلامی تعلیمات سے روشناس کروانے کے لیے ایک مہم چلانے کی ضرورت ہے۔

حضورِ انور نے احمدی مسلم بچیوں اور خواتین کی اخلاقی اور روحانی تربیت کی اہمیت پر بھی زور دیا۔ جہاں تک احمدی مسلمان بچیوںکا تعلق ہے حضور انور نے فرمایا کہ ان کی اخلاقی تربیت میں آنحضرت ﷺ کے فرمان پر مشتمل یہ ماٹو ہونا چاہیے کہ ’حیا ایمان کا حصہ ہے‘۔

لجنہ اماء اللہ کی جملہ ممبرات کی اخلاقی تربیت کے حوالہ سے حضورِ انور نے فرمایا کہ سو فیصد ممبرات لجنہ اماء اللہ کو پنجوقتہ نماز کا عادی ہونا چاہیے اور یوں قدرتی طور پر ان کے بچے بھی نمازوں کے عادی بن جائیں گے۔ دوسرے یہ کہ سو فیصد ممبرات لجنہ اماء اللہ روزانہ باقاعدگی سے تلاوت قرآن کریم کریں۔ کم از کم 70فیصد گھروں میں احمدی فیملیز احادیث کا مطالعہ کریں اور حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی کتب کو پڑھیں اور سو فیصد ممبرات لجنہ اماء اللہ میرا خطبہ جمعہ باقاعدگی سے سنا کریں۔

٭…٭…٭

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

For security, use of Google's reCAPTCHA service is required which is subject to the Google Privacy Policy and Terms of Use.

I agree to these terms.

Back to top button
Close