یادِ رفتگاں

ڈاکٹر محمد علی خان صاحب (امیرجماعت احمدیہ ضلع پشاور)

(مبشر احمد ظفر۔ لندن)

خاکسار اس مضمون میں اپنے ایک پرانے اور گہرے دوست ڈاکٹر محمد علی خان صاحب امیر جماعت احمدیہ ضلع پشاور کا ذکر خیر کرنا چاہتا ہے۔

1981ءتا1985ءPAFسرگودھامیں قیام

خاکسار کوکچھ عرصہ آپ کے ساتھ ایئر فورس میں دوران ملازمت ساتھ رہنے کا موقع ملا۔ اس عرصے میں آپ کی جو خوبیاں مشاہدہ کیں ان کا مختصراًذکر کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔

تبلیغ کا شوق

سرگودھا کی بات ہے جب حضرت خلیفۃ المسیح الرابعؒ نے تبلیغ کے لیے تحریک فرمائی اس وقت خاکسار اور مکرم ڈاکٹر صاحب مرحوم جو اس وقت پاکستان ایئر فورس میں فلائٹ لیفٹیننٹ تھے چھاؤنی سے باہرتبلیغ کے لیے چلے جاتے اور پل11پر پہاڑیوں پر روڑی کوٹنے والے اور بھٹے پر اینٹیں تھاپنے والے مزدوروں کے پاس بیٹھ جاتے اور تبلیغ کرتے جس سے مزدور متاثر بھی ہوتے کہ یہ پڑھے لکھے بابو ایئر فورس کے افسر ہمیں دین کی باتیں بتا رہے ہیں۔

اسی طرح کھیتوں میں ہل چلانے والے زمینداروں کے پاس جاکر اپنا تعارف کروانے کے بعد کہتے کہ آپ اپنا ہل چلاتے جائیں ہم آپ کے ساتھ ساتھ چلتے ہیں تاکہ آپ کے وقت کا حرج نہ ہو اور آپ ہماری دینی باتیں بھی سن لیں اس طرح تبلیغ کا کام کرتے تھے۔

مالی قربانی

مکرم ڈاکٹر صاحب کے گھر چندہ لینے جاتا تو چونکہ ڈاکٹر صاحب موصی تھے با شرح ساری آمدن پر چندہ ادا کرنے کے لیے انہوں نے اپنی تنخواہ کے علاوہ جتنی بھی پرائیویٹ میڈیکل پریکٹس سے آمدنی ہوتی وہ ایک کاپی میں لکھی ہوتی اور مجھے کہتے کہ اس حساب سے حصہ آمد کی رسید کاٹ لیں

نماز با جماعت کی پابندی

ایئر فورس کے ماحول میں عموماًافسر لوگ عام لوگوں (civilians)کے گھروں میں نہیں آتے۔ چھاؤنی کے قریب ہماری جماعت کی کوئی باقاعدہ مسجد نہیں تھی اور قریب ترین نماز سینٹر لیاقت کالونی میں تھا جہاں کے باسیوں کا معیارِ زندگی نسبتاً اتنا پُرآسائش نہ تھا۔ مگر ڈاکٹر صاحب جو اس وقت فلائٹ لیفٹیننٹ تھے بغیر کسی پروا کے باقاعدگی کےساتھ نماز باجماعت کے لیے وہاں تشریف لاتے تھے۔

جماعتی کاموں کے لیے موٹر سائیکل وقف کرنا

ہماری چھاؤنی کی مجلس کے اکثر خدام ضلع کی مجلس عاملہ میں بھی خدمت کرتے تھے جس کے لیے بیرونی مجالس کے دورے کرنے پڑتے تھے۔ اس کے لیے آپ نے اپنی موٹر سائیکل وقف کی ہوئی تھی کہ جس کو بھی جماعتی کاموں کے لیے کہیں جانا ہو وہ اسے استعمال کر سکتا ۔

داڑھی رکھنے کا واقعہ

ایئر فورس میں یونیفارم پہننے والے لوگوں میں سے اگر کوئی داڑھی رکھنا چاہتا تو باقاعدہ درخواست دے کر اور پیشگی اجازت لے کر داڑھی رکھ سکتا تھا۔ ڈاکٹر صاحب سالانہ چھٹی پر گئے ہوئے تھے واپس آئے تو داڑھی رکھی ہوئی تھی جو پہلے نہ تھی۔ خاکسار نے پوچھا کہ کیا آپ نے پہلے اس کی اجازت حاصل کر لی تھی۔ کہنے لگے ’’نہیں میں نے رکھنی تھی رکھ لی۔ اب درخواست دے دیتا ہوں۔ اگر منظور نہ ہوئی توکیا کر لیں گے زیادہ سے زیادہ نوکری سے نکال دیں گے۔ ‘‘ بہرحال بعد میں انہیں اجازت مل گئی۔

رشوت لینے سے نفرت

سرگودھا کے ایک بہت بڑے زمیندار کے رشتہ دار کو قتل میں سزائے موت سنائی گئی اس کے وکیل نے کہا کہ بچنے کی ایک راہ ہے کہ اگر کوئی رجسٹرڈ ماہر نفسیات ڈاکٹر سرٹیفیکیٹ دے دیں کہ یہ آدمی ذہنی مریض تھا تو بچت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے کئی لاکھ روپے لاکر مکرم ڈاکٹر صاحب کی میز پر ان کے سامنے رکھ دیے (یہ مجھے یاد نہیں رہا کہ کتنے تھے )اور کہا کہ ڈاکٹر صاحب یہ ہمارا ایک چھوٹا سا کام کر دیں جس کے لیے یہ معاوضہ آپ کے سامنے ہے اگر کم ہے تو اور بھی دینے کو تیار ہیں۔ ڈاکٹر صاحب کسی لالچ میں نہ آئے اور ان لوگوں سے کہا کہ یہ باہر جانے کا راستہ ہے پیسے اٹھاؤ اور دفتر سے نکل جاؤ ورنہ ابھی پولیس کو بلاتا ہوں۔

جھوٹ بولنے سے نفرت

ایک مرتبہ غیر احمدی افسروں کے ساتھ ان کی کار میں کھاریاں محکما نہ کورس کے لیے گئے۔ واپسی پر ان کے کلرک نے سفر خرچ کا Claimکرنے کے لیے کہا۔ ڈاکٹر صاحب کہنے لگے کہ میں احمدی ہوں اور ہم جھوٹ نہیں بولتے۔ یہ Claimجھوٹ پر مبنی ہوگا کیوں کہ میرا تو سفر میں کسی قسم کا خرچ نہیں ہوا۔ میں لفٹ لے کر گیا تھا۔ یہ جواب سن کر کلرک شرمندہ ہوا۔

اس وقت یہ ایک عام طریق کارتھا کہ کسی ملازم کو اگر اپنے دفتر سے چھٹی نہ ملتی تو ڈاکٹر سے سرٹیفیکیٹ لے لیتا کہ بیماری کی وجہ سے یہ ڈیوٹی نہیں کر سکتا۔ اس کے لیے واقف کار ڈاکٹر اس طرح کی مدد کر دیتے تھے مگر جب کبھی کوئی احمدی، ڈاکٹر صاحب کی ڈیوٹی کے دوران اس مقصد کے لیے جاتا تو آپ صاف انکار کر دیتے کہ آپ کو خوش کرنے کے لیے جھوٹ بول کر اور لکھ کر مَیں اپنے خدا کو ناراض نہیں کر سکتا۔ یہ کہنے کو تو آسان ہے مگر کسی کے منہ پر کہنا بڑی جرأتِ ایمانی کا متقاضی ہوتا جو ڈاکٹر صاحب کا عام طریق کارتھا۔

کچھ چیزیں افسروں کو کچھ عرصہ کے بعد مفت ملتی تھیں۔ ڈاکٹر صاحب تو Claim نہ کرتے مگر بعض احمد ی ا نہیں کہہ دیتے کہ آپ کو اگر ضرورت نہیں تو مجھے لے دیں۔ اس پر ڈاکٹر صاحب کہتے کہ مجھے بیان دینا ہوتا ہے کہ یہ اشیا میرے استعمال کے لیے ہیں جو کہ نہیں ہیں۔ یہ جھوٹ ہوگا اس لیے مَیں آپ کی مدد نہیں کر سکتا۔

ایک دفعہ کسی ڈاکٹر کی غفلت سے ایک مریض فوت ہوگیا۔ چنانچہ اس کی انکوائری کے لیے ڈاکٹر صاحب کو مقرر کیا گیا اور آپ کی تحقیق کے مطابق واقعی ڈاکٹر کی غفلت تھی۔ اس لیے آپ نے دیانت داری سے اپنی رپورٹ میں ڈاکٹر کو قصور وار ٹھہرایا جس پر بیس کمانڈر (Base Commander)نے انہیں بلا کر کہا کہ آپ یہ کیا رپورٹ دے رہے ہیں اس سے تو آپ کے ڈاکٹر ساتھی کی بدنامی ہوگی ایسا نہ کریں گو کہ یہ سچ ہے آپ صرف یہ اپنی رپورٹ میں لکھ دیں LAMA Left against medical advice کہ مریض ہمارے منع کرنے کے باوجود خود چلا گیا جس سے اس کی موت واقع ہوئی اس پر ڈاکٹر صاحب نے کہا کہ یہ جھوٹ ہے۔

وقت ضائع نہ ہونے دیتے

خاکسارنے کئی بار دیکھا کہ بیرونی مجالس کے دوروں کے دوران چائے وغیرہ کے تکلفات میں پڑنے سے میزبانوں کو سختی سے روک دیتے کہ ہم نے بہت ساری مجالس میں جانا ہے اس سےوقت ضائع ہوتا ہے آپ چائے وغیرہ کا انتظام نہ کریں۔

پیاس وغیرہ محسوس ہوتی تو کسی اڈے پر لگے ہوئے نلکے سے پانی پی لیتے اور وقت بچاتے۔

ٹائپنگ سیکھنے کے لیے داخلہ

ایک مرتبہ حضرت خلیفۃ المسیح الرابعؒ نے آپ کے سپرد ڈاکٹر فرائیڈ کی خوابوں کےبارےتحقیق کا کوئی کام کیا تو ڈاکٹر صاحب کہنے لگے اس کے لیے تو انگلش ٹائپنگ آنی چاہیے تاکہ جلدی سے خود کام کر سکوں۔ لہٰذا ڈاکٹر صاحب نے باوجود افسر ہونے کے سرگودھا شہر کے ایک انسٹیٹیوٹ میں داخلہ لیا اور ڈیوٹی کے بعد سخت گرمی میں ٹائپنگ سیکھنے جایا کرتے تاکہ حضورؒ کی طرف سے دیا ہوا کام بغیر کسی کی محتاجی کے خودمکمل کر سکیں۔

درسِ قرآن میں شمولیت

ڈاکٹر صاحب کو قرآن مجید کا علم حاصل کرنے کا بھی شوق تھا۔ چنانچہ حضرت مرزا عبدالحق صاحب اپنے گھر میں قرآن کلاس لیا کرتے تھے جس میں مکرم ڈاکٹر صاحب باقاعدگی سے ڈیوٹی کے بعد شامل ہوتے اور اپنے آرام کی پروا نہ کرتے۔

اللہ تعالیٰ مرحوم کے درجات بلند فرمائے اور جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔آمین

٭…٭…٭

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

For security, use of Google's reCAPTCHA service is required which is subject to the Google Privacy Policy and Terms of Use.

I agree to these terms.

Back to top button
Close