از مرکز

جلسہ سالانہ برطانیہ 2021ء: اجلاس مستورات کی کارروائی

اسلام میں عورتوں کے حقوق، تربیتِ اولاد اور ایک ماں کی ذمہ داریاںکے عناوین پر سیر حاصل تقاریر

جلسہ گاہ مستورات ميں جلسے کي کارروائي کا آغاز صبح ٹھيک دس بجے ہوا۔ اس اجلاس کي صدارت محترمہ فريحہ خان صاحبہ صدر لجنہ اماء اللہ يوکے نے کي۔ پروگرام کا آغاز تلاوت قرآن کريم سے ہوا۔ مکرمہ ثمينہ ياسمين عارف صاحبہ نے سورت آل عمران کی آیات103تا105کی تلاوت کی اور بعد ازاں ان آیات کا اردو ترجمہ پیش کیا۔ بعد ازاں ہانیہ سلیم صاحبہ نے حضرت مسیح موعود ؑکے اردو منظوم کلام میں سے درج ذیل اشعار خوش الحانی سے پڑھے۔

وُہ دیکھتا ہے غیروں سے کیوں دِل لگاتے ہو

جو کچھ بتوں میں پاتے ہو اُس میں وہ کیا نہیں

سورج پہ غور کر کے نہ پائی وہ روشنی

جب چاند کو بھی دیکھا تو اُس یار سا نہیں

واحِد ہے لاشریک ہے اور لازوال ہے

سب موت کا شکار ہیں اُس کو فنا نہیں

سب خیر ہے اسی میں کہ اس سے لگاؤ دِل

ڈھونڈو اسی کو یارو! بتوں میں وفا نہیں

اِس جائے پُر عذاب سے کیوں دِل لگاتے ہو

دوزخ ہے یہ مقام یہ بُستاں سَرا نہیں

نظم کے بعد مکرمہ ماٹینا حکیم صاحبہ نے ’’اسلام میں عورتوں کے حقوق‘‘ کے عنوان پر تقریر کی۔

يہ موضوع آج کے معاشرے ميں بہت اہميت کا حامل ہے۔آج کل کے معاشرے ميں ہر مسلمان عورت کو اس اعتراض کاسامنا کرنا پڑتا ہے کہ مسلم خواتين کوان کے حقوق حاصل نہيں ہيں؟ بعض معترضين يہاں تک کہہ ديتے ہيں کہ مسلم عورتوں کو اپني زندگي کا کوئي بھي فيصلہ کرنے کااختيار نہيں ہے۔دوسري جانب آج کي روشن خيال دنيا ميں بعض مقامات پر عورتوں کو ان کے بنيادي انساني حقوق تک حاصل نہيں۔

اگر اسلام ميں عورت کي عزت،مقام اور رتبہ کا جائزہ لينا ہو تو اس کے ليے ظہور اسلام سے قبل عورتوں کي حالت کا جائزہ لينا ہوگا۔ظہوراسلام سے قبل عورتوں سے جانوروں سے بدتر سلوک کيا جاتا تھا،ان کو خاوند اور باپ کي جائيداد ميں حصہ دار نہيں سمجھا جاتاتھا،مشکل ترين حالا ت کے باوجود طلاق کا حق حاصل نہيں تھا۔عورتوں کو مذہبي معاملات ميں دخل اندازي کي اجازت نہ تھي،حتي کہ عورت کا اپنے بچوں پر بھي کوئي حق نہ سمجھا جاتا تھا۔

اسلام وہ پہلا مذہب ہے جس نے عورت کو وہ مقام عطا کيا جو اس سے پہلے کسي مذہب نے نہيں ديا تھا۔اسلام مرد اور عورت کو روحاني،معاشي اور اخلاقي اعتبارسے برابري کا مقام عطا کرتا ہے۔جيسا کہ خداتعاليٰ فرماتا ہے کہ اے لوگو! اللہ کا تقويٰ اختيار کرو جس نے تمھيں ايک جان سے پيدا کيا اوراسي سے اس کا جوڑا پيدا کيا۔

اسلام اپنے ماننے والوں کو ترغيب ديتا ہے کہ خواہ مرد ہو يا عورت کوئي بھي اعليٰ روحاني مراتب حاصل کر سکتا ہے۔اگر مرديا عورت ميں سے کوئي بھي ان شرائط کو پورا کرے جو قرب الٰہي کے حصول کے ليے ضروري ہيں تو خدا کا قرب حاصل کيا جا سکتاہے۔جيسا کہ خداتعاليٰ فرماتاہے:۔ مرد يا عورت ميں سے جو بھي نيکياں بجا لائے بشرطيکہ وہ مومن ہو تو ہ اسے يقيناً ايک حيات طيبہ کي صورت ميں زندہ کريں گے۔اور انہيں ضرور ان کا اجر ان کے بہترين اعمال کے مطابق ديں گے جو وہ کرتے رہے۔

اسلام عورت کي پيدائش سے اس کے حقوق کا آغاز کر ديتا ہے۔رسول کريم ﷺ نے فرمايا کہ جسے خدا بيٹي عطا کرے اور وہ اسے زندہ درگور نہ کرے،اور اسے اپنے بيٹے پر ترجيح نہ دے توخدا ا سے جنت عطا کرے گا۔

رسو ل کريم ﷺ نے لڑکيوں کي تعليم اور تربيت پر بہت زور ديا اور مردوں اور عورتوں دونوں کو تاکيد کي کہ وہ محد سے لحد تک علم حاصل کريں۔يہي وجہ ہےکہ دنيا کي قديم ترين يونيورسٹي ايک مراکن عورت کي قائم کردہ ہے۔

اجتماع واقفات نو يوکے2017ءسے خطاب کرتے ہوئے حضرت خليفة المسيح الخامس ايدہ اللہ تعاليٰ بنصرہ العزيز نے فرماياکہ حضرت مسيح موعودؑ نے لڑکيوں کي ديني اوردنيوي تعليم پر بہت زور ديا۔ حضرت مسيح موعودؑ بعض اوقات خود خواتين کي کلاس ليا کرتے تھے۔اس کے بعد خلفائے احمديت کے ذريعے خواتين کو ديني اور دنيوي تعليم کي اہميت کا ادراک حاصل ہوا۔اس مقصد کے حصول کے ليے جماعت ميں بہت سے پروگرام اور سکيميں تشکيل دي گئيں۔

اسلام نے آج سے 1400سال قبل عورتوں کو جائيداد ميں حصہ دار قرار ديا،يہ وہ حق ہے جو مغربي روشن خيال معاشرے ميں اٹھارھويں صدي تک حاصل نہ تھا۔

اسلام کے بارے ايک غلط فہمي يہ ہے کہ عورت کو شادي کے معاملہ ميں کوئي اختيا ر نہيں ہے۔جبکہ حقيقت يہ ہے کہ اسلام عورت کو اپنا ہمسفر چننے کا اختيار ديتا ہے۔اللہ تعالي فرماتا ہے کہ اور اس کے نشانات ميں سے ايک يہ ہے کہ اس نے تمہارے ليے تمہاري ہي جنس سے جوڑے پيدا کيے۔تاکہ تم ان کي طرف تسکين حاصل کرنے کے ليے جاؤ اور اس نے تمہارے درميان الفت اور محبت پيدا کر دي۔يہ آيت ظاہر کرتي ہے کہ شادي سماجي زندگي کي بنياد ہے،جس کے ذريعے مياں بيوي ايک دوسرے کي شفقت،پيار،بچوںکي افزائش کے ذمہ دار بن جاتے ہيں۔مرد کو اپنے گھر کے مالي معاملات کا ذمہ دارقرار ديا گياہے۔

اسلام ان حقوق کے ذريعے عورتوں کو بااختيار بناکرعورتوں کو روزگار کمانے کا حق عطا کرتا ہے۔جبکہ مغربي معاشرے ميں 20ويں صدي تک بعض شعبہ جات ميں عورتوں کو کام کرنے کي اجازت نہ تھي، جسےايک قانون کے ذريعے دور کرنے کے بعد ان شعبہ جات ميں عورتوں کو کام کرنے کي اجازت دي گئي۔

اسلام عور ت کو يہ حق بھي ديتا ہے کہ اگر اس کا خاوند کے ساتھ رہنا محال ہے تو وہ خلع لے سکتي ہے۔ظہور اسلام سے قبل عورت کو يہ حق حاصل نہ تھا۔رسول کريم ﷺ نے عورت کي تکريم قائم کرتے ہوئے اسے حق عطا کيا کہ مياں بيوي اگر شادي کے بندھن سے الگ ہوناچاہيں تو بعض قواعد و ضوابط کے تحت ايک دوسرے سے الگ ہو سکتے ہيں۔دوسري جانب مغربي معاشرے ميں بيسويں صدي کے آغاز تک خلع کے معين قوانين لاگو نہيں تھے۔

اسلام کے بارے ميں ايک اور غلط فہمي يہ ہے کہ اسلام ميں خواتين کو قيادت کا اختيار نہيں۔حقيقت يہ ہے کہ اسلام نے 1400سال قبل عورت کو يہ حق عطا کيا۔رسول کريم ﷺ کے زمانہ ميں خواتين سماجي اور سياسي طور پر متحرک تھيں۔جبکہ مغربي معاشرے نے بيسويں صدي کے آغاز ميں عورت کو ووٹ دينے اور پارليماني امور ميں حصہ لينے کاا ختيار ديا۔

ابتدائي زمانہ کي بعض نامورخواتين ميں سے چند يہ ہيں:۔ حضرت خديجہ ؓ ايک کامياب تاجر تھيں،جو آپ ﷺ کي وحي پر سب سے پہلے ايمان لائيں اور حضور ﷺ کےمشکل حالات ميں ممد و معاون رہيں۔حضرت عائشہ ؓ اسلامي تعليمات کي احاديث کي شکل ميں ترويج کا باعث بنيں،حضرت ام عمارہ اپني بے مثال جرات و بہادري کي وجہ سے مشہور تھيں۔

اس زمانہ ميں ہم ديکھتے ہيں کہ احمدي خواتين نے خلافت احمديہ کے سايہ تلے ہر شعبہ زندگي ميں ايک نمايان مقام حاصل کياہے۔خواتين کو شوريٰ جيسے مقدس ادارہ ميں نمائندگي کا حق حاصل ہے جہاں معاشرے کي اصلاح کے ليے پاليسيز بنائي جاتي ہيں۔ہمارے پيارے امام خواتين کو قوم کي معمار قرار ديتے ہيں اور انہيں اپني ذمہ دارياں احسن رنگ ميں بجالانے کي ترغيب ديتے ہيں۔

حضرت خليفة المسيح الخامس ايدہ اللہ تعاليٰ بنصرہ العزيز نے فرمايا کہ اسلام ايک دين فطرت ہے جو مرد اور عورت کو ان کي صلاحيتوں کے مطابق حقوق ديتا ہے۔سو جب خواتين دنيوي تنظيموں کے عورتوں کے حقوق کے حوالے سے نعروں سے متاثر ہونے لگ جائيں تو ہميں خواتين کے حقوق کي بات اس انداز سے کرني چاہيے کہ ہم اپنے لڑکوں کي تربيت بچپن سے اس انداز سے کريں کہ انہيں بتايا جائے کہ انہوں نے اپني بيويوں،ماؤں اور بيٹيوں کي عزت کرني ہے اور انہيں معاشرے ميں وہ مقام دينا ہے جو اسلام انہيں عطا کرتا ہے۔

مختصر يہ کہ اسلام ميں عورت کو کيا مقام ديا گيا ہے،جاننے کے ليےہميں اسلامي تعليمات کا صحيح علم ہونا ضروري ہے۔خدا کرے کہ ہم اپني نسلوں ميں بھي اس کا ادراک پيدا کرسکيں،معاشرہ ميں خلافت احمديہ کي نمائندہ بن جائيں اور معاشرہ ميں ان حقوق کي عملي تصوير بن جائيں۔

اس اجلاس کی دوسری تقریر مکرمہ شرمین بٹ صاحبہ کی اردو زبان میں تھی۔ اس تقریر کا موضوع’’تربیت اولاد اورایک ماں کی ذمہ داریاں‘‘ تھا۔

اعوذباللّٰہ من الشيطٰن الرجيم بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحيم

رَبِّ اَوْزِعْنِيْٓ اَنْ اَشْکُرَ نِعْمَتَکَ الَّتِيْٓ۔۔۔ الخ (سورة الاحقاف آيت ۱۶)

ترجمہ از تفسيرِ صغير: اے ميرے رب! مجھے اس بات کي توفيق دے کہ مَيں تيري اس نعمت کا شکريہ ادا کروں جو تُو نے مجھ پر اور ميرے ماں باپ پر کي ہے اور (اس بات کي بھي توفيق دے) کہ مَيں ايسے اعمال کروں جن کو تُو پسند کرے اور ميري اولاد ميں بھي نيکي کي بنياد قائم کر۔مَيں تيري طرف جھکتا ہوں اور ميں تيرے فرماں بردار بندوں ميں سے ہوں۔

ہم مسلمان بہت خوش قسمت ہيں کہ اللہ تعاليٰ نے ہميں وہ دينِ کامل عطا کيا ہے جس ميں زندگي کے ہر پہلو پر راہ نمائي ملتي ہے۔قرآن کريم جيسے مکمل ضابطۂ حيات کو پالينے کےبعد اب يہ ہماري ذمہ داري ہے کہ ہم اللہ تعاليٰ کے احکامات پر عمل کرنے کي پوري کوشش کريں۔يہ اللہ تعاليٰ کا احسانِ عظيم ہے کہ اس نے اپنے رسول ﷺ کے مبارک اسوہ اور فرمودات کے ذريعہ ہمارے ليے اِن زرّيں اصولوں کو اجاگر کرديا۔ پھررسول اللہﷺ کے فيضان کي وسعت ملاحظہ ہو کہ نبوّت کے منصب کي کامل ادائيگي کے ساتھ آپؐ نےباربار ہميں يہ بھي بتايا کہ اپني اولاد کےساتھ کيا سُلوک ہونا چاہيے۔

حديث ميں ذکر ملتا ہے کہ حضوراکرمﷺ نے فرمايا اپنے بچوں کے ساتھ عزت سے پيش آؤ اور ان کي اچھي تربيت کرو۔ ماؤں کو تربيتِ اولاد کي ترغيب دلاتے ہوئے فرمايا کہ جنّت ماں کے قدموں کے نيچے ہے۔ اس حديث کي وضاحت کرتے ہوئے سيّدنا حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہيں کہ ماں کي اچھي تربيت سے جنّت مل جاتي ہے۔بےشک باپ نگران ہوتا ہے ليکن وہ اکثر معيشت کي فکر ميں گھر سے باہر رہتا ہے۔ سو بچے کي وہ عمر جس ميں وہ نقّال ہوتا ہے اگر اس عمر ميں بچے کےسامنے اس کي ماں کے اخلاقِ فاضلہ کا نمونہ ہوگا تو وہ بچّہ دين دار اور تقويٰ شعار ہوجائے گا۔

موجودہ دَور ميں اللہ تعاليٰ نے اسلام کي اُس خوب صورت تعليم کوجسے دنيا بُھلا چکي تھي اپنے پيارے مسيح اور مہدي کےذريعے دوبارہ زندہ کيا۔ آپؑ نے عبادت سے لےکر پرورشِ اولاد تک ہميں سارے اُسلوب ياد کروائے۔ چنانچہ تربيتِ اولاد کے ذيل ميں حضورؑ فرماتے ہيں کہ ہرايک شخص يہاں تک کہ چرند پرند بھي اپني اولاد کو اُن کي خورد سالي ميں ضائع ہونے سے بچاتے ہيں۔ پس خدا کے بعد اُن کي بھي ايک ربوبيت ہے۔پھر فرمايا کہ اپني اولاد کو متقي اور دين دار بنانے کے ليے سعي اور دعا کرو۔

تربيتِ اولاد کا ايک منفرد اور لطيف انداز ہميں حضرت امّاں جان ؓ کے پاک نمونے سے ملتا ہے۔حضرت سيّدہ نواب مبارکہ بيگم صاحبہؓ حضرت امّاں جان کے تربيتِ اولاد کے اصول بيان کرتے ہوئے فرماتي ہيں کہ بچے پر پختہ اعتبار ظاہر کرکے اعتبار کي شرم اور لاج ڈال دينايہ آپؓ کا بڑا اصولِ تربيت تھا۔اسي طرح جھوٹ سے نفرت اور غيرت و غنا آپؓ کا اوّل سبق تھا۔

حضرت خليفة المسيح الاوّلؓ کے ايک مختصر اقتباس ميں ماؤں کےليے بڑي گہري حکمت اور سبق ہے۔ آپؓ فرماتے ہيں کہ ابتدا ميں مَيں نے اپني ماں کي گود ميں قرآن کريم پڑھا اور انہي سے پنجابي زبان ميں فقہ کي کتابيں پڑھيں اور سنيں۔

حضرت مصلح موعودؓ ماؤں کو مخاطب کرتے ہوئے فرماتے ہيں کہ اولاد کي تربيت کي ذمہ داري جہاد کي ذمہ داري سے کچھ کم نہيں۔کسي قوم کي ترقي اور تباہي کا دارومدار اس قوم کي عورتوں پر ہے۔ اگر آج کل کي مائيں اپني اولاد کي تربيت اسي طرح کريں جيسے صحابيات نے کي تو اُن کے بچے بھي صحابيات کي اولادوں کي طرح جاں نثار سپاہي بن جائيں گے۔

خلفائے احمديت نے ہميشہ تربيتِ اولاد کے ضمن ميں،ہميں زمانے کے نشيب و فراز اور جديد ايجادات وغيرہ کے حوالےسے آگاہ اور چوکنا رکھا ہے۔ چنانچہ موبائل فون اور ديگر اليکٹرانک ڈيوائسز کے متعلق ہمارے پيارے امام سيّدنا امير المومين حضرت خليفة المسيح الخامس ايّدہ اللہ تعاليٰ بنصرہ العزيز فرماتے ہيں کہ اب تو ان اليکٹرانک ڈيوائسز کا استعمال نقصان دہ ہوتا جارہا ہے۔ہمارے بڑوں،عورتوں اور بچوں کو ان کے بےجا استعمال سے بچنا چاہيے۔ اگر بڑے ان ڈيوائسز کا بےجا استعمال کر رہے ہوں گےتو بچّے بھي غلط باتيں سيکھيں گے۔ ہر دنياوي چيز کو بھيڑ چال ميں اختيار نہيں کرلينا چاہيے بلکہ اپني عقل بھي استعمال کرني چاہيے۔ دجّالي طاقتوں کے غلط کاموں کي تشہير کي وجہ سے دين دار گھرانے ميں آنکھ کھولنے والا بچّہ بھي ماديّت کي طرف متوجہ ہوجاتا ہے۔ پس احمدي ماں کا فرض ہے کہ اپنے بچّے کے دل و دماغ ميں يہ بات راسخ کردے کہ تم نے دين کو دنيا پرمقدّم رکھنا ہے۔ فرمايا اصل چيلنج يہ ہے کہ دنيا ميں جو برائياں پھيل رہي ہيں اُن سے ہم نے کس طرح مقابلہ کرنا ہے۔جب اُن سے مقابلے کےليے تيار ہوجائيں گے تو اپنے ماحول ميں جو حالات ہيں اُن کو بھي سنبھالنے کےليے تيار ہوجائيں گے۔

بچوں کي عمومي تربيت کے متعلق حضورِانورنے فرمايا کہ دعا کے ساتھ بچوں پر نظر رکھنا،ان کو دين سکھانا اور ان کے اخلاق بہتر کرنا انتہائي ضروري ہے۔ بچوں کي تربيت کے ليے ضروري ہے کہ گھروں ميں نظامِ جماعت پر اعتراض يا غلط رنگ ميں باتيں نہ ہوں۔ ماؤں کو نصيحت کرتے ہوئے فرمايا کہ جب تک بچوں کي تربيت کي عمر ہے ماؤں کو ملازمتيں کرنے کي ضرورت نہيں۔اللہ تعاليٰ نے عورت کو جو يہ اعزاز بخشا ہے کہ اس کے پاؤں کے نيچے جنّت ہے وہ اسي ليے ہے کہ وہ قرباني کرتي ہے۔عورت ميں قرباني کا مادہ بہت زيادہ ہوتا ہے۔جو عورتيں اپني خواہشات کي قرباني کرتي ہيں اُن کے پاؤں کے نيچے جنّت ہے۔

يقيناً يہ ہماري خوش قسمتي ہے کہ خداتعاليٰ نے ہميں احمدي مسلمان ہونے کي توفيق دي ہے۔يہ اللہ تعاليٰ کا احسان ہے کہ اُس نے ہميں قرآن جيسا بے مثل ہدايت کا سرچشمہ عطا کيا، احاديث سے ہماري راہ نمائي کا سامان کيا۔پھر اِس زمانے ميں حضرت مسيح موعودؑ اور آپؑ کے خلفاء جيسے روحاني رہبر عطاکيے۔ اب يہ ہمارا فرض ہے کہ ہم اِن پُرحکمت نصائح کو ياد رکھ کر اپني زندگيوں پر لاگو کرنے کے ليے کوشاں رہيں

اس اجلاس کی تیسری تقریر مکرمہ آمنہ ملک صاحبہ کی تھی۔ یہ تقریر انگریزی زبان میں تھی اور اس کا عنوان تھا ’’احمدیت یعنی حقیقی اسلام کی طرف میرا سفر‘‘۔

آمنہ صاحبہ نے اپنے سفر احمديت کا ذکر کرتے ہوئے کہا:ميرا سفر 17 سال کي چھوٹي عمر ميں شروع ہوا جب ميں جہالت کي زندگي بسر کيا کرتي تھي اور دنياوي امور کے سوا کسي چيز پر ميري حقيقي توجہ نہيں تھي۔ميں سني مسلمان تھي، اور ميري پرورش ايک لبرل خاندان ميں ہوئي تھي۔والدين کي پيدائش اور پرورش يو کے ميں ہوئي۔ والد صاحب فارسي النسل تھے اور ہندوستان سے تعلق تھا۔ والدہ صاحبہ مشہور مير خاندان سے ہيں اور سرينگر کشمير سے تعلق تھا اور پرورش ہيلي فيکس يورکشائر ميں پائي۔چھوٹي عمر سے، ہم بہن بھائيوں کوايک عرب مدرسے ميں اسلام کے بارے ميں جاننے اور قرآن کريم کو پڑھنے کے ليے بھيجا گيا، اور ہميں سني اسلام کے بنيادي اصول سکھائے گئے۔ بطور سني ہم اپنے دل ميں يقين رکھتے تھے کہ ہم صحيح ہيں۔ پھر اللہ تعاليٰ نے مجھے بالکل مختلف راستے پر ڈال ديا۔ ايک ايسا راستہ جس کي ميں کبھي توقع بھي نہيں کر سکتي تھي ايسا راستہ جس نے مجھے عاجز کيا اور مجھے ايسي عاجزي سے بھر ديا، کہ آج تک ميں سوچتي ہوں کہ آخر ميں ہي کيوں؟

اے ليول سے قبل ميں نے کسي بھي احمدي مسلمانوں سے ملاقات نہيں کي تھي۔ يہ جاننے کے بعد کہ ميرے کچھ ہم جماعت احمدي ہيں، مجھے حيرت ہوئي کہ ايسا بھي ممکن ہو سکتا ہے کہ ان کے احمدي ہونے سے ان سے دوستياں ختم کر دي جاتي ہيں۔ ميري پرورش اس طرح نہيں ہوئي تھي سو ميں نے اس بارے ميں تحقيق کا فيصلہ کيااور گھر آکر والدہ صاحبہ سے ذکر کيا۔انہوں نے مجھے ہدايت کي کہ ايک مسلمان کي حيثيت سے ميرا فرض ہے کہ وہ انہيں صحيح راستے کي طرف رہنمائي کريں۔ اور ايک چھوٹے سپاہي کي طرح ايک اعليٰ افسر کے احکامات کو قبول کرتے ہوئے، ميں نے فخر کے ساتھ اپنے مشن کو آگے بڑھايا۔ ميں اپنے احمدي دوستوں کو دکھانا چاہتي تھي کہ سني اسلام ہي اصل اسلام ہے۔

ليکن جب مجھے سوالات اور تشريحات پيش کي گئيں تو ميں نے ديکھا کہ ميرے پاس ان کے جوابات نہيں ہيں۔ اگرچہ ميرا ايمان متزلزل نہيں ہوا، ميں الجھن ميں تھي کہ مجھے اپنے ليے مناسب جواب کيوں نہيں مل سکے۔ ميں نہيں چاہتي تھي کہ ميرے احمدي دوست جيت جائيں، اور بنيادي طور پر مجھے غلط ثابت کريں، ميں نے اپني والدہ سے مشورہ ليا۔پہلي بار، ميري والدہ نے مجھے ’’نہيں‘‘ کہا۔ يہ ايک غير متوقع ’’نہيں‘‘ تھا، کيونکہ مجھے اس کي اميد نہيں تھي۔ وہ خوفزدہ تھيں کہ ميرا ايمان کمزور ہو جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ميں بحث کرنا چھوڑ دوں، اور پورے موضوع کو ترک کردوں۔ ميں رکنے کے ليے تيار نہيں تھي۔ رکنے کا مطلب ہے ہار ماننا،۔ رکنا اب کوئي آپشن نہيں تھا کيونکہ يہ ايک ايسا موضوع تھا جس پر ميرے عقائد کي بنياد تھي۔

ميں نے مدد کے ليے امريکہ ميں ايک نام نہاد عالم کي طرف رجوع کيا، اور وہ ميري طرف سے ايک احمدي مشنري کے ساتھ رابطہ کرنے پر راضي ہوگيا- مجھے تمام اي ميلز ميں کاپي کيا گيا اور ميں ديکھ سکتي تھي۔ يہ جان کر ميں سخت پريشان ہوئي کہ جب کہ مشنري نے جو کچھ کہا تھا وہ مکمل معني رکھتا تھا ليکن ميرے جو اسکالر تھے وہ کسي بات کا جواب نہيں دے رہے تھے۔بلکہ اس نے بہانے بنا کر يہ کہنا شروع کر ديا کہ ’’احمدي يہي کرتے ہيں‘‘ ميرا جواب تھا، ’’احمدي کيا کرتے ہيں؟ آپ کا مطلب ہے کہ اصل سوالات کا جواب ديتے ہيں؟ ‘‘

بہرحال ميں خود تحقيق کرتي رہي تاکہ کسي نتيجے پر پہنچ سکوں اور ساتھ ہي خدا کے حضور دعائيں کيں۔ اس کي مدد قريب تھي، ليکن اپنی پريشاني، اضطراب اور مايوسي کي حالت ميں ميں نے اس سے واضح اور واضح نشانياں مانگيں کہ کيا صحيح ہے اور کيا غلط۔اسلام احمديہ کے بارے ميں سب کچھ ميرے ليے معني خيز تھا- مجھے عقائد ميں کوئي خامي نہيں ملي- پس ميرے پر عياں ہو گيا کہ يہ منتخب جماعت ہے۔ايک مسلمان کي حيثيت سے يہ ميرا فرض ہے کہ ميں اپنے خاندان کو آگاہ کروں، ليکن ميں اس کے ليے تيار نہيں تھي کہ ان کي جانب سے برطرف ہونے کي دھمکي سن سکوں۔اللہ کي ذات ہي ميري واحد اميد تھي۔ وہ مجھے اس طرف لے آيا تھا، اور اسي طرح، ميں نے اس پر بھروسا کيا کہ وہ مجھے اس مشکل ميں سے نکالے گا۔

ميري زندگي کے اس حصے ميں ميري احمدي دوست انعم شہزادي سے ملاقات ہوئي۔ وہ ميري بہترين دوست بن گئي، اور الحمدللہ اب بھي، ميري سب سے اچھي دوست ہے، اور وہ واقعي اللہ کي طرف سے مجھے ايک تحفہ تھي، اور اس کي طرف سے ثابت قدم رہنے کي علامت تھي۔ انعم سے ملنا اس قسم کي لڑکي کي دوست بننے کے مترادف تھا جسے ميں اپنے سامنے رکھنا چاہتي تھي۔ اس کے آداب اور اخلاق اوراس کي شائستگي نے مجھے دنگ کرديا۔ ميں نے کبھي بھي حيا کو اتنا خوبصورت نہيں ديکھا جب تک کہ ميں نے اسے نہ ديکھا، اور 18 سال کي عمر ميں اس نے ميرے ليے اسلام کي خوبصورتي کا اظہار اس رنگ ميں کيا کہ ميں بھي اس کي طرح بننا چاہتي تھي۔اسلام خوبصورت ہے، اور اس نے مجھے يہ ثابت کيا۔ اللہ کي رحمت سے، وہ مشکل وقت ميں ميري چٹان بن گئي، اور بلا شبہ اسلام احمديہ کي بہترين سفير تھي۔ يہ مجھ پر اس کا اثر تھا، اور ہماري گہري دوستي جس نے مجھے سچ کي تلاش کے ليے اپنے راستے پر چلنے کي ترغيب دي۔ بالآخر ميں نےاپني والدہ کا سامنا کيا۔

ميري والدہ کو ميري بات سننے کي ترغيب دينا ايک مشکل کام تھا، ميں ان کو ايم ٹي اے کے پروگرام Faith Mattersکے کلپ دکھاتي رہتي تھي اور ہماري کافي بحث ہوا کرتي تھي۔ بالآخر ايک دن ميں نے ان سے کہا کہ وہ ہيڈ فون کے ساتھ بغير کسي روک کے دو فيتھ ميٹرزکی ويڈيوز ديکھيں۔ ويڈيوز کے اختتام کے بعد، ميري والدہ نے مجھے سنجيدگي سے ديکھا اور ايک لمحے کي ہچکچاہٹ کے بعد، ’’اوہ ميرے خدا، ہم غلط ہوسکتے ہيں!‘‘ ايک سال کي لڑائي کے بعد جو ايک مشکل جنگ کي طرح محسوس ہوتي تھي، وہ ميرے سے متفق ہو گئي تھيں۔ اس دوران ميں استخارہ بھي کرتي رہي اور مجھے ايک خواب بھي آيا جس سے ميرے تمام شکوک دور ہوگئے۔

خواب ميں ميں نے حضور ﷺ کو ايسے لوگوں کے مابين ديکھا جو جہنمي آگ سے جھلس چکے تھے اور کہہ رہے تھے کہ آپﷺ نبي نہيں ہيں۔ ليکن آپﷺ کي ذات ان کے درميان بھي چمک رہي تھي جيسے نور کي شعاعيں نکل رہي ہوں۔ ميں نے آپﷺ سے پوچھا کيا آپﷺ نبي ہيں۔ اس پر آپﷺ مسکرا پڑے۔ اس کے بعد ميں آپﷺ کو مسجد بيت الفتوح لے آئي اور حضور اقدس ايدہ اللہ تعاليٰ کے دفتر لے گئي۔ ميں نے حضور اقدس کو بتايا حضور ﷺ ساتھ تشريف لائے ہيں تو حضور اقدس نے فرمايا ميرے علم ميں ہے کيا کرنا ہے۔ حضور اقدس نے فوراً حضورﷺ کا داہنا ہاتھ اپنے ماتھےپر رکھ ليا اور لوگوں نے جلدي سے حضور اقدس کے کندھے پر اپنے ہاتھ رکھ ليے اور ميں نے اپنے کندھے پر بھي ہاتھ محسوس کيے تو سمجھ گئي عالمي بيعت ہونے لگي ہے۔ حضورﷺ تمام جماعت کي بيعت لے رہے تھے تو ميں نے تيزي سے آپﷺ کا باياں ہاتھ تھام ليا اور شامل ہوگئي۔ميں نے اپني والدہ اور بہن بھائيوں کو بتايا جو ميں نے ديکھا تھا، اور ميري والدہ نے فوراً ايسے خواب کي کشش کو پہچان ليا کہ يہ ايک سچا خواب تھا کيونکہ شيطان رسول اللہ صلي اللہ عليہ وسلم کي شکل نہيں لے سکتا۔

الحمدللہ، ہم نے جلسہ سالانہ يوکے 2013ء ميں بطور مہمان شرکت کرنے کا اہتمام کيا، اور شموليت اختيار کي۔ آخري دن، ميري والدہ، ميرے بہن بھائي اور ميں احمديہ مسلم جماعت ميں شامل ہو گئے۔اللہ کے فضل سے، 3 سال بعد، بہت ساري دعاؤں کے بعد، ميرے والد صاحب نے بھي ہمارے ساتھ شموليت اختيار کي۔ميرے والد صاحب کي تبديلي حضرت خليفة المسيح الرابع مرزا طاہر احمد (رحمہ اللہ) سے منسوب کي جا سکتي ہے، کيونکہ يہ ان کے انگريزي سوال و جواب کے سيشن تھے، جو ايم ٹي اے پر باقاعدگي سے دکھائے جاتے تھے، جس نے ميرے والد صاحب کو سچائي کي طرف مائل کيا۔اب، تقريباً 8 سال بعد، يہ اللہ کي برکت ہے کہ ميرا خاندان اسلام احمديہ سے مضبوطي سے جڑا ہوا ہے۔ يہ خدا تعاليٰ کي طرف سے ہم پر ايک بہترين تحفہ ہے جو ہميں عطا کيا گيا۔

اس تقریر کے بعد مکرمہ رمشہ حسن صاحبہ نے حضرت مسیح موعودؑ کا اردو منظوم کلام خوش الحانی سے پیش کیا۔

کس قدر ظاہر ہے نور اُس مبدء الانوار کا

بن رہا ہے سارا عالَم آئینہ اَبْصار کا

چاند کو کل دیکھ کر میں سخت بے کَل ہو گیا

کیونکہ کچھ کچھ تھا نشاں اُس میں جمالِ یار کا

ہے عجب جلوہ تری قدرت کا پیارے ہر طرف

جس طرف دیکھیں وہی رہ ہے ترے دیدار کا

چشمۂ خورشید میں موجیں تری مشہود ہیں

ہر ستارے میں تماشہ ہے تری چمکار کا

کیا عجب تو نے ہر اک ذرّہ میں رکھے ہیں خواص

کون پڑھ سکتا ہے سارا دفتر ان اسرار کا

اس کے ساتھ ہی اس اجلاس کی کارروائی اپنے اختتام کو پہنچی

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

For security, use of Google's reCAPTCHA service is required which is subject to the Google Privacy Policy and Terms of Use.

I agree to these terms.

Back to top button
Close