متفرق مضامین

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا سفر حج اور خطبہ حجۃ الوداع

(م۔ ا۔ شہزاد)

ہجرت مدینہ کے بعدسن 9ہجری میں حج فرض ہوا۔اللہ تعالیٰ نے حج کے احکامات قرآنی وحی کے ذریعہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل فرمائے ۔اس سال کثرت کے ساتھ وفود حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے (اسی لیے اس سال کوتاریخ میں’’عام الوفود‘‘کانام دیا گیا ہے) جس کی وجہ سے آپ اس سال حج کے لیے تشریف نہ لے جاسکے۔لہٰذا اس سال جب حج کا مہینہ آیا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کو پہلے اسلامی حج کی ادائیگی کے لیے امیر الحجاج مقرر فرمایا۔آپؓ ذوالقعدہ 9؍ہجری مدینہ منورہ سے روانہ ہوئے۔آپؓ کے ہمراہ تین صد افراد تھے جو اس غیر معمولی نوعیت کے تاریخی حج میں شامل ہو رہے تھے۔چونکہ مشرکین عرب قدیم سے اپنے معمول کے مطابق بیت اللہ کا حج کرتے تھے۔مشرکین مکہ کو چونکہ کسی باقاعدہ اعلان کے ذریعہ ایسے حج سے روکا نہیں گیا تھا جس میں وہ اپنی مشرکانہ رسوم بھی ادا کرتے تھے۔لہٰذا وہ حسبِ معمول اس سال بھی حج کرنے مکہ آئے۔آنحضرت ؐنے حضرت ابوبکرؓ کو ہدایت کی کہ منیٰ کے عظیم الشان اجتماع میں اعلان کر دیں کہ اس سال کے بعد کوئی مشرک حج نہ کرے اور نہ کوئی برہنہ شخص خانہ کعبہ کا طواف کرے۔(سیر الصحابہ جلد اول صفحہ 37)اس حج میں آپؓ کے ساتھ حضورؐ کے قربانی کے لیے 20 اونٹ بھی تھے۔(الکامل فی التاریخ از ابن اثیر جلددوم صفحہ156)اس حج میں سنت ابراہیمی کے مطابق یعنی اسلامی رنگ میں مناسک حج کا قیام ہواجسے اللہ تعالیٰ نے الحج الاکبر کا نام دیا۔

دوسرے سال 10؍ہجری میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم بیت اللہ کاحج کرنے کے لیے تشریف لے گئے، زمانہ نبوت میں یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا پہلا حج تھا۔اس حج کو حجة الوداع کہا جاتا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حج کا ارادہ فرمایا تو مدینہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نےچند اونٹ اور دو مینڈھے ذبح کیے۔اس غیر معمولی تاریخی سعادت سے حصہ لینے کے لیے قرب و جوار اور دور و نزدیک سے لوگ مدینہ میں آنے شروع ہوگے۔ایک اندازے کے مطابق ایک لاکھ چوبیس ہزار صحابہؓ نے اس حج میں شمولیت کی۔اس سفر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج بھی جن کی تعداد 9تھی ،آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شامل ہوئیں۔جب تیاریاں مکمل ہوگئیں تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ سے روانگی سے قبل ابو دجانہ الساعدی کو مدینہ کا امیر مقرر فرمایاجبکہ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ سباع بن عرفطہ انصاریؓ کو امیر مدینہ مقرر فرمایاتھا۔ 24؍ذوا لقعدہ بروز جمعرات بمطابق 12فروری 632ءبعد نماز ظہر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ادائیگی حج کے لیے مدینہ سے روانہ ہوئے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے الٰہی منشاءکے مطابق حج کے ساتھ عمرہ کا احرام باندھا اور حج قِران کا ارادہ کیا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنی قصواءنامی اونٹنی پر سوار ہوئے۔حج کی غرض سے روانگی کے وقت آپ نے یہ دعاکی کہ

اے اللہ! اس حج کو ایسا بنا دے ۔جس میں نہ تو ریا کاری ہو اور نہ دکھاوا اور ظاہر داری ہو۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپؐ کے صحابہ تلبیہ کہتے ہوئے روانہ ہوئے۔

لَبَّیْکَ لَبَّیْکَ اَللّٰھُمَّ لَبَّیْکَ لَا شَرِیْکَ لَکَ لَبَّیْک اِنَّ الحَمْدَوَ النِّعْمَةَ لَکَ وَالمُلْکَ لَا شَرِیْکَ لَکَ ۔

(حاضر ہوں ،حاضر ہوں اے میرے اللہ میں حاضر ہوں ۔تیرا کوئی شریک نہیں ہے میں حاضر ہوں بے شک حمد اور نعمت اور ملک تیرے ہی لیے ہے۔تیرا کوئی شریک نہیں)۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میرے پاس جبرئیل آئے اور مجھ سے کہا کہ اے محمدصلی اللہ علیہ وسلم! اپنے اصحاب سے کہیں کہ تلبیہ کہتے ہوئے اپنی آوازوں کو بلند کریں۔ (مسلم کتاب مناسک الحج)آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتدامیں صحابہؓ نے بلند آواز میں تلبیہ کہناشروع کیا۔جب یہ قافلہ روانہ ہوا تو ان سب کے تلبیہ کی اکٹھی آواز سے فضا اللہ تعالیٰ کی تسبیح و تحمید اور تکبیر سے لبریز ہو گئی اور وہ خطّۂ ارض جو صدیوں سے شرک کی ہواؤں سے بھرا رہا تھا اب اللہ تعالیٰ کی توحید کے نعروں سے گونج رہا تھا۔ذوالحجہ کی 4تاریخ کو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم چاشت کے وقت مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے۔مکہ میں داخلہ کے بعد حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے سب سے پہلے عمرہ ادا کیا۔جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مسجد الحرام میں داخل ہوئے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پہلی نظر خانہ کعبہ پر پڑی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا مانگی اے میرے اللہ! اس گھر کو بزرگی،عظمت اور وقار اور نیکی میں بڑھا اور جس نے اس کا حج یا عمرہ کرتے ہوئے اس کو عزت دی اور اس کی تکریم کی اسے بھی شرف و تکریم و تعظیم اور نیکی میں برکت عطا فرما۔(سیرة الحلبیہ جلد 3صفحہ 293) حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد میں داخل ہوکر رکن یمانی اور حجر اسود کا بوسہ لیا (مسلم کتاب الحج باب حجة النبی) حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حجر اسود کو ہاتھ سے چھوا اور خشیت کی وجہ سے آپ کی آنکھیں ڈبڈبا آئیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے کافی دیر تک اس پر دونوں ہونٹ رکھے اور جب بھی آپ حجراسود کو چھوتے تو دعا کرتے :بسم اللّٰہ واللّٰہ اکبر (سیرة الحلبیہ جلد3صفحہ294)آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نےعمرہ کی ادائیگی کے بعد ذوالحجہ کی5-6-7تاریخ کومکہ کے شرقی حصہ بطحاءمیں قیام فرمایااس دوران آپ صلی اللہ علیہ وسلم دوبارہ خانہ کعبہ میں تشریف نہیں لے گئے۔مکہ میں قیام کاسارا عرصہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نمازیں قصر فرماتے رہے۔

8؍ذوالحجہ کو جو کہ جمعرات کا دن تھا چاشت کے وقت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نےحج کے لیے احرام باندھ کر تلبیہ شروع کیا اوراپنی اونٹنی پر سوار ہو کر منیٰ کی طرف کوچ فرمایا۔اس دن (یوم الترویہ 8؍ذی الحجہ)کو آپ منیٰ میں قیام فرما رہے۔ یہاں آپ نے ظہر ،عصر، مغرب، عشاءکی نمازیں پڑھائیں۔(مسلم کتاب المناسک باب حجة النبی)

اگلے روز9؍ذی الحج جمعة المبارک کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہیں منیٰ میں نماز فجر ادا فرمائی اور طلوع آفتاب کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم عرفات کی سمت روانہ ہوئے۔ راستے میں سب تلبیہ و تکبیر کہتے جاتے۔صحابہ ؓنے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے میدان عرفات میں نمرہ کے مقام پر خیمہ نصب کر دیا۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہاں قیام فرمایا۔ سورج ڈھلنے کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی اونٹنی قصواءپر سوار ہوکر وادی میں تشریف لائے اور اپنی اونٹنی پر بیٹھے ہوئے ہی میدانِ عرفات میں حج کا خطبہ ارشاد فرمایا:خطبہ عرفہ کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت بلالؓ کو نماز ظہر و عصر کے لیے اذان دینے کا ارشاد فرمایا۔اس روز جمعہ کی بجائے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز ظہر و عصر جمع اور قصر پڑھائیں۔نمازوں کی ادائیگی کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سواری پر سوار ہوکر میدان عرفات میں تشریف لے آئے اور قبلہ رُخ ہو کر غروب آفتاب تک دعائیں کرتے رہے۔ غروب آفتاب کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم عرفہ سے مزدلفہ کے لیے روانہ ہوئے ۔حضرت اسامہ بن زیدؓ کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی سواری پر اپنے پیچھے بٹھا لیا۔مزدلفہ پہنچ کر نماز مغرب و عشاءجمع کیں اور نماز عشاءکی دو رکعتیں ادافرمائیں۔ نمازوں کی ادائیگی کے بعد فجر تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آرام فرمایا۔اگلے روز دس ذوالحجہ بروز ہفتہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز فجر ذرا پہلے ادا فرمانے کے بعد اپنی اونٹنی قصواءپر سوار ہو کر المشعر الحرام تشریف لے گئے۔جہاں طلوع آفتاب سے قبل خوب روشنی ہو جانے تک امت کے لیے دعا کرتے رہے۔سورج نکلنے سے قبل آپ صلی اللہ علیہ وسلم مزدلفہ سے منیٰ کے لیے روانہ ہوئے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت فضل بن عباس ؓ کو اپنی اونٹنی پر اپنے پیچھے سوار کیا ۔ منیٰ پہنچ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم جمرۂ عقبہ کے پاس تشریف لائے تو چاشت کا وقت تھا۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی اونٹنی پر سوار رہتے ہوئے،ایک ایک کر کے جمرہ کو رمی کی یعنی اسے کُل سات کنکریاں ماریں۔ہر کنکری مارتے وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ اکبر کہتے۔مزدلفہ سے روانگی کے وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تلبیہ شروع فرمایا تھا جو مسلسل رمی تک جاری رہا۔رمی کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تلبیہ کہنا ختم کر دیا۔کنکریاں مارتے وقت حضرت بلال ؓ اور حضرت اسامہؓ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھے۔ان میں سے ایک نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی کی لگام تھامی ہوئی تھی اور دوسرے نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر کپڑے سے سایہ کیا ہوا تھا۔اسی روز دس ذوالحجہ کو منیٰ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جمرات کے میدان میں کھڑے ہو کر خطبہ یوم النحر ارشاد فرمایاجس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کئی نصائح کے ساتھ الوداع فرمایا۔

اس خطبہ حجۃالوداع کے میں حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:اے لوگو! میری باتیں غور سے سنو۔کیونکہ میں نہیں جانتا کہ اگلے سال میں اس جگہ تمہارے درمیان ہوں گا۔اے لوگو! سن لو کہ تم سب کا خداایک خدا ہے اورتم سب کا باپ ایک ہے۔ کسی عربی کو عجمی پر فضیلت نہیں اورنہ ہی عجمی کو عربی پر فضیلت ہے، تم سب آدم کی اولا د ہو۔ اے لوگو! جو کچھ میں تمہیں کہتا ہوں سنو اور اچھی طرح اُس کو یاد رکھوہر مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے ۔تم سب ایک ہی درجہ کے ہو۔تم تمام انسان خواہ کسی قوم اور کسی حیثیت کے ہو انسان ہونے کے لحاظ سے ایک درجہ رکھتے ہو۔یہ کہتے ہوئے آپ ﷺ نے اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے اور دونوں ہاتھوں کی انگلیاں ملادیں اور کہا جس طرح ان دونوں ہاتھوں کی انگلیاں آپس میں برابر ہیں اسی طرح تم بنی نوع انسان آپس میں برابر ہو۔تمہیں ایک دوسرے پر فضیلت اور درجہ ظاہر کرنے کا کوئی حق نہیں۔تم آپس میں بھائیوں کی طرح ہو۔اے لوگو!میں تمہیں نصیحت کرتا ہوںکہ اپنے غلاموں کا اپنی لونڈیوں کا (اپنے ماتحتوں کا) پورا پورا خیال رکھنااُن کو وہی کچھ کھلانا جو تم خود کھاتے ہو اور ان کو وہی کچھ پہناناجو تم خود پہنتے ہو۔اگر اُن سے کوئی ایسا قصور ہو جائے جو تم معاف نہیں کر سکتے تو اُن کو کسی اور کے پاس فروخت کر دو۔کیونکہ وہ خدا کے بندے ہیںاور اُن کو تکلیف دینا کسی صورت میں بھی جائز نہیں۔ خبردار!مجرم اپنے جرم کا خود ذمہ دار ہے۔باپ اپنے بیٹے کے جرم کا ذمہ دار نہیں اور نہ بیٹا باپ کے جرم کا ذمہ دار ہے۔اے لوگو ! شیطان مایوس ہو چکا ہے کہ تمہاری اس سرزمین پر اس کی پرستش ہوگی۔مگر اس کے علاوہ جو چھوٹی چھوٹی باتیں ہیں جن میں وہ تمہیں بہکانے کا لالچ رکھتا ہے وہ ان کاموں پر خوش ہے جنہیں تم ناپسند کرتے ہو ۔سو اس سے بچ کر رہو ۔(جامع ترمذی ابواب الفتن باب ماجاءفی تحریم الدماءوالاموال) تمہارے خون اور تمہارے اموال ایک دوسرے پر حرام ہیں،جیسے آج کے دن کی ،اس مہینے کی، اوراس شہر کی حرمت ہے ۔حتّٰی کہ تم اپنے رب سے جاملو۔وہ تم سے تمہارے اعمال کے بارے میں جو پہلے ہی اس کے پاس پہنچ چکے ہیں ، ضرور پوچھے گا۔پس تم میں سے اگر کسی کے پاس کوئی امانت ہوتو وہ امانت والے کو واپس لوٹا دے ۔ اب جاہلیت کے خون بھی کالعدم ہیں ۔سب سے پہلے میں ابن ربیعہ بن الحارث بن عبدالمطلب کا خون معاف کرتا ہوں۔جو بنو لیث پر قابل ادا تھا۔پس ہذیل نے اسے قتل کیا تھا اور یہ جاہلیت کا وہ خون ہے جس سے میں خون کی معافی شروع کرتا ہوں۔یہ خدا تعالیٰ کا فیصلہ ہے کہ ہر قسم کاسود ناجائز ہے۔ اسی طرح زمانہ جاہلیت کا سب سود چھوڑ دیا گیا ہے اورپہلا سود، جو ہم اپنے ہاں کے سود میں سے چھوڑتے ہیں وہ عباس بن عبدالمطلب کا سود ہے۔ وہ سب معاف کردیا گیاہے۔تمہیں رأس المال ملے گا۔ نہ تم ظلم کرو گے نہ تم پر ظلم کیا جائےگا۔(سنن ابن ماجہ کتاب المناسک باب الخطبة یوم النحر)اے لوگو تمہارے کچھ حق تمہاری بیویوں پر ہیں اور تمہاری بیویوں کے کچھ حق تم پر ہیں۔اُن پر تمہارا حق یہ ہے کہ وہ عِفّت کی زندگی بسر کریں اور ایسی کمینگی کا طریق اختیار نہ کریں جس سے خاوندوں کی قوم میں بےعزّتی ہو۔اگر وہ ایسا کریں تو تم اُنہیں سزا دے سکتے ہو،مگر اس میں بھی سختی نہ کرنا ۔لیکن اگر وہ کوئی ایسی حرکت نہیں کرتیں جو خاندان اور خاوند کی عزت کو روندنے والی ہو تو تمہارا کام ہے کہ تم اپنی حیثیت کے مطابق اُن کی خوراک اور لباس وغیرہ کا انتظام کرو۔اور یاد رکھو کہ ہمیشہ اپنی بیویوں سے اچھا سلوک کرناکیونکہ خداتعالیٰ نے اُن کی نگہداشت تمہارے سپرد کی ہے۔عورت کمزور وجود ہوتی ہے اور وہ اپنے حقوق کی خود حفاظت نہیں کرسکتی تم نے جب اُن کے ساتھ شادی کی توخداتعالیٰ کو اُن کے حقوق کا ضامن بنایا تھا اور خدا تعالیٰ کے قانون کے ماتحت تم اُن کو اپنے گھروں میں لائے تھے۔پس خدا تعالیٰ کی ضمانت کی تحقیر نہ کرنا ۔ اور عورتوں کے حقوق کے ادا کرنے کا ہمیشہ خیال رکھنا۔( دیباچہ تفسیرالقرآن صفحہ227) اے لوگو!اللہ سےڈروجو تمہارا پروردگارہے۔ اپنی پانچوں نمازیں پڑھواور اپنے ایک مہینے کے روزے رکھو۔ اپنے مال کی زکوٰة دو اور اطاعت کرو، جب بھی تمہیں حکم ہو (اگر تم ایسا کرو گے) تو اپنے رب کی جنت میں داخل ہوجاؤ گے۔(جامع ترمذی کتاب الزکوٰة باب ماذکرفی فضل الزکوة)اے لوگو! اللہ سے ڈرو اور اگرچہ تم پر حبشی غلام حاکم بنایا جائے جس کی ناک کٹی ہو یاکان کٹے ہوں،اور وہ تمہیں خدا تعالیٰ کی کتاب کے مطابق چلائے تو اس کی سنو اور اس کی اطاعت کرو۔(جامع ترمذی ابواب الجہاد باب ماجاءفی الامام) جوبچہ جس کے گھر میں پیدا ہو وہ اُس کا سمجھا جائےگا۔اور اگر کوئی بدکاری کی بنا پر اُس بچے کا دعویٰ کرے گاتو وہ خود شرعی سزا کا مستحق ہو گا ۔ جو شخص اپنے باپ دادوں کے علاوہ کسی اور سے اپنا نسب ملائے اور اس دوسری قوم و نسل سے ہونے کا دعویٰ کرے اور جو غلام اپنے حقیقی آقا کے سوا کسی اورخاندان، قوم یا شخص کی طرف غلامی کی نسبت کرے، اس پر اللہ کی، سب فرشتوں کی اور تمام لوگوں کی لعنت ہے (سنن ابن ماجہ کتاب الوصایا باب لاوصیة لوارث) اللہ تبارک و تعالیٰ نے ہر شخص کے لیے وراثت میں اس کا حصہ مقرر کر دیا ہے۔کوئی وصیت ایسی جائز نہیں جو دوسرے وارث کے حق کو نقصان پہنچائے (سنن ابوداؤد کتاب الوصایا باب لاوصیة لوارث) اے لوگو! جب تک انعامات شاہی انعام کی حیثیت میں رہیں، لے لیا کرو۔ لیکن جب قریش ملک پر لڑنے لگیں اور انعامات یہ صورت اختیار کرنے لگیں کہ دین کے عوض ملنے لگیں تو دست برداری اختیار کر لینا۔(سنن ابوداؤد کتاب الخراج باب فی کراھیة الافتراض فی آخرالزمان) اے لوگو! دینی معاملات میں مبالغہ کرنے اور آگے بڑھنے سے بچتے رہو۔ تم سے پہلی قوموں کو اسی زیادتی نے غارت کر دیا۔ (سنن ابن ماجہ کتاب المناسک باب قدر حصی الرمی)سنو! میں اپنی شفاعت سے بہت سے لوگوں کو جہنم سے چھڑانے والا ہوں اورایسے لوگ بھی ہیں، جو مجھ سے الگ کر دیے جائیں گے میں کہوں گا کہ اے اللہ ! یہ تو میرے ساتھی ہیں لیکن اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ تجھے نہیں معلوم انہوں نے تیرے بعد کیا کیا بدعتیں ایجاد کی تھیں۔(سنن ابن ماجہ کتاب المناسک باب الخطبة یوم النحر) سنو! کسی عورت کے لیے جائز نہیں کہ خاوند کے مال سے اس کی اجازت کے بغیر کسی کو کچھ دے۔ قرض ادا کیا جائے،عاریتاََ لی ہوئی چیز واپس کی جائے۔ اور ضامن تاوان کا ذمہ دار ہوگا۔(سیرت ابن ہشام جلد 2صفحہ1024) یقیناً زمانہ ایک بار پھر چکر لگا کر اُسی جگہ آگیا ہے جس پر اسے اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمین کو بناتے وقت شروع فرمایا تھا (یعنی ایک بار پھر روئے زمین پر کلیۃً خدا تعالیٰ کی حکومت قائم ہوگئی ہے)یقیناً اللہ تعالیٰ کے نزدیک مہینوں کی گنتی بارہ ہے ۔ان میں سے چار حرمت والے ہیں تین تو آپس میں ملے ہوئے ہیں ذی القعدہ، ذی الحجہ، محرم اور چوتھا مہینہ رجب ہے۔جو جمادی اور شعبان کے درمیان ہے۔پھر آپ ﷺ نے فرمایا:اے لوگو! یہ کون سا مہینہ ہے؟ صحابہ ؓنے عرض کیا۔اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول ﷺ بہتر جانتے ہیں۔آپ ﷺ کچھ دیر خاموش رہے۔صحابہ ؓ کوگمان ہوا کہ شاید آپ ﷺ اس کا کوئی اور نام رکھنا چاہتے ہیں۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا کیا یہ ذُوالْحَجَّۃ نہیں صحابہ ؓنے عرض کیا۔ہاں یا رسول اللہﷺ! پھر آپ ﷺنے فرمایا یہ کون سا شہر ہے؟ صحابہؓ نے عرض کیا۔اللہ اور اس کا رسول ﷺ بہتر جانتے ہیں۔آپ ﷺ کچھ دیر خاموش رہے صحابہ ؓ کو خیال ہوا کہ شاید آپ ﷺ اس کا کوئی اور نام رکھنا چاہتے ہیں۔پھر آپ ﷺ نے فرمایا کیا یہ شہر مکہ مکرمہ نہیں۔صحابہ ؓنے عرض کیا ہاں یا رسول اللہﷺ! پھر آپ ﷺ نے پوچھا یہ کون سا دن ہے؟ صحابہ ؓنے عرض کیا۔اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول ﷺ زیادہ بہتر جانتے ہیں۔پھر آپ ﷺکچھ دیر خاموش رہے۔صحابہ ؓنے خیال کیا۔شاید آپ ﷺ اس کا کوئی اور نام رکھنا چاہتے ہیں۔پھر آپ ﷺ نے فرمایا کیا یہ قربانی کا دن نہیں ہے؟ صحابہؓ نے عرض کیا۔ہاں یا رسول اللہ! اس پر آپ ﷺ نے فرمایا۔آج کے دن تمہارے خون، تمہارے مال، تمہاری آبروئیں تم پر حرام اور قابل احترام ہیں۔بالکل اسی طرح جس طرح تمہارا یہ دن تمہارے اس شہر میں تمہارے اس مہینہ میں واجب الاحترام ہے ۔ اے لوگو! عنقریب تم اپنے رب سے ملو گے وہ تم سے پوچھے گا کہ تم نے کیسے عمل کئے؟ دیکھو میرے بعد دوبارہ کافر نہ بن جانا کہ ایک دوسرے کی گردنیں اڑانے لگ جاؤاور آگاہ رہو تم میں سے جو یہاں موجود ہے ان لوگوں کو پیغام پہنچا دے جو کہ موجود نہیں کیونکہ ہو سکتا ہے کہ جس کو پیغام پہنچایا جائے وہ سننے والے سے زیادہ سمجھدار ہو۔پھر آپ ﷺنے فرمایا:کیا میں نے اللہ تعالیٰ کا پیغام ٹھیک ٹھیک پہنچا دیا؟ آپ ﷺ نے یہ الفاظ تین بار دہرائے۔صحابہ ؓنے عرض کیا۔ہاں یارسول اللہ! آپﷺ نے اللہ تعالیٰ کا پیغام ٹھیک ٹھیک پہنچا دیا۔اِس پر آپ ﷺ نے فرمایا اے اللہ ! گواہ رہنا۔(جامع صحیح بخاری، کتاب المغازی ) اے لوگو میں بھی تمہاری طرح کا ایک بشر ہوں اور قریب ہے کہ میرے رب کا ایلچی آئے گا اور میں اس کے بلاوے کا جواب دوں گا۔اے لوگو مجھے لطیف و خبیر خدا نے یہ بتایا ہے کہ ہر نبی کو اس سے پہلے نبی سے نصف عمر ضرور دی جاتی ہے۔میں خیال کرتا ہوں کہ اب مجھے بلاوا آئے گا تو میں اس کا جواب دوں گا۔آپ ﷺ نے فرمایا:کیا تم یہ گواہی نہیں دیتے کہ اللہ کے سوا اور کوئی معبود نہیں اور محمد (ﷺ)اس کے بندے اور رسول ہیں اور اس کی جنت حق ہے۔ اس کی جہنم حق ہے۔موت حق ہے۔اور دوبارہ جی اٹھنا حق ہے۔اور یہ کہ قیامت آنے والی ہے اور اس میں کوئی شک نہیں ، اور یہ کہ جو قبروں میں ہیں انہیں زندہ کیا جائے گا۔صحابہؓ نے جواب دیا کہ وہ اس کی گواہی دیتے ہیں اس پر آپ ﷺ نے فرمایا اے لوگو گواہ رہنا ( سیرت خاتم النبیین جلد 2صفحہ688)پھر آپ ﷺ نے فرمایا میں تم میں دو چیزیں چھوڑے جارہا ہوں۔اللہ کی کتاب اور میری ذرّیت ہے۔ اور یہ دونوں چیزیں کبھی ایک دوسرے سے جدا نہ ہوں گی۔ یہاں تک کہ یہ مجھے حوضِ کوثر پر ملیں گی ۔پھر آپ ﷺ نے فرمایا: جب تم سے میرے متعلق پوچھا جائے گا تو تمہارا کیا جواب ہوگا؟ صحابہ ؓ نے عرض کی:یا رسول اللہ! آپ ﷺ نے پوری طرح پیغام پہنچا دیا اور اپنا فرض ادا کر دیا اور بڑے احسن طور پر ادا کیا ہے۔ آپ ﷺ نے آسمان کی طرف دیکھ کر فرمایا :

اَللّٰھُمَّ اَشْھَدْ۔اَللّٰھُمَّ اَشْھَدْ۔اَللّٰھُمَّ اَشْھَدْ۔

اے میرے اللہ ! تو بھی گواہ رہ۔ اے میرے اللہ ! تو بھی گواہ رہ۔اے میرے اللہ ! تو بھی گواہ رہ۔

(مسلم کتاب الحج باب حجة النبی ﷺ)

اس کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم قربان گاہ تشریف لائے اور اپنے ہاتھ سے تریسٹھ جانور ذبح کیے ۔یہ جانور آپ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ سے اپنے ہمراہ لائے تھے۔یہ تریسٹھ قربانیاں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے ہر سال پر ایک ایک قربانی کے طورپر معلوم ہوتی ہے۔ اس پہلو سے اس میں یہ پیشگوئی بھی نظر آتی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کا یہ آخری سال ہے۔دس ذوالحجہ قربانیوں کی وجہ سے یوم النحر اور یوم الاضحی بھی کہلاتا ہے۔

قربانیوں کی ادائیگی کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نےحضرت معمر بن عبداللہ ؓسے حلق کروایا ۔انہوں نے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر کی دائیں جانب کے بال مونڈے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارد گرد کھڑے لوگوں میں ایک ایک دو دو کر کے تقسیم کر دیے۔پھر حضرت معمر ؓ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر کی بائیں جانب کے بال مونڈے ۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابو طلحہ ؓ کو بلا کر وہ بال انہیں عنایت فرمائے۔سر کے بال منڈوانے کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے احرام کھول دیا۔اس کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنی اونٹنی القصواءپر سوار ہو کر بیت اللہ کے طواف کے لیے روانہ ہوئے۔یہ طواف جو قربانی کے حلال ہونے پر کیا جاتاہے،طواف افاضہ کہلاتاہے۔طواف کرنے کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے زم زم کے پاس جا کر پانی پیا اور منیٰ واپس لوٹ آئے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز ظہر منیٰ پہنچ کر ادا فرمائی۔یہ رات آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے منیٰ میں گزاری اور وہیں قیام فرمایا۔ منیٰ میں تین دن رات ایام التشریق کہلاتے ہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے طواف افاضہ دس ذوالحجہ ہفتہ کے روز کیا اس کے بعد اتوار ،سوموار،منگل یعنی 13.12.11؍ذوالحجہ کے تین دن جو ایام تشریق تھے منیٰ میں گزارے۔ان دنوں میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیت اللہ کی زیارت کے لیے آتے رہے۔یوم النحر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چاشت کے وقت رمی کی تھی۔جبکہ ایام تشریق میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نےزوال آفتاب کے بعد تینوں جمرات پر رمی کی۔سب سے پہلے آپ نے جمرۂ صغریٰ پر رمی کی اس جمرہ کو سات کنکریاں ماریں اور ہر کنکری مارنے کے بعد تکبیر کہی۔رمی کے بعدآپ صلی اللہ علیہ وسلم جمرہ سے آگے کھڑے ہوتے اور قبلہ رُو ہو کر ہاتھ اٹھا کر دیر تک دعا کرتے تھے۔اس کے بعدآنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جمرۂ وسطیٰ کی رمی کرتے ۔پھر قبلہ رُو ہوکر کھڑے ہو جاتے اور ہاتھ اٹھا کر دیر تک دعا کرتے۔پہلے دونوں جمرات کے بعد جمرۂ کُبریٰ کی رمی کرتے لیکن اس کے بعد اس کے پاس نہ کھڑے ہوتے نہ دعا کرتے۔13؍ذوالحجہ بروز منگل آپ صلی اللہ علیہ وسلم منیٰ سے بطحاءمیں قیام کے لیے روانہ ہوئے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے 13؍ذوالحجہ کی نماز ظہر و عصر اور مغرب و عشاءیہیں بطحاءمیں ادا کیں۔نماز عشاءکے بعد آپؐ کچھ دیر کے لیے سو گئے۔پھر رات کے کسی وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم سوار ہو کر بیت اللہ تشریف لائے اور طوافِ وداع کیا۔14؍ذوالحجہ بروز بدھ بمطابق10؍مارچ 632ءکو فجر کی نماز بیت اللہ میںادا کر نے کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم مہاجرین اور انصار کے ساتھ مدینہ کی طرف روانہ ہوئے راستے میں تین راتیں قیام فرمانے کے بعد 17؍ذوالحجہ بروز ہفتہ بمطابق 13؍مارچ 632ءکو مدینہ میں ورود فرمایا ۔جب مدینہ کی آبادی پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نظر پڑی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین بار تکبیر کہی اور یہ دعا پڑھی:اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ،وہ ایک ہے ۔ اس کا کوئی ہمسر نہیں۔بادشاہت اور حمد اسی کی ہے اور وہ ہر ایک چیز پر قادر ہے۔ہم واپس لوٹ رہے ہیں فرمانبرداری کے ساتھ جھکتے ہوئے۔توبہ کرتے ہوئے سجدے کرتے ہوئے۔اور اپنے رب کی حمد کرتے ہوئے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنا وعدہ سچا کر دکھایا اور اپنے بندہ کی مدد فرمائی اور اُس اکیلے (واحد و لاشریک )نے ہی تمام لشکروں کو ہزیمت دی۔

ادائیگی حج کے دوران آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی صحت کمزور تھی اور اسی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حج کے سارے مناسک سواری پر ہی سر انجام دیے۔

٭…٭…٭

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

For security, use of Google's reCAPTCHA service is required which is subject to the Google Privacy Policy and Terms of Use.

I agree to these terms.

Back to top button
Close