افریقہ (رپورٹس)

بینن کے پرانے احمدی احباب اور مہمانانِ نائیجر کی ایک غیر رسمی نشست

(منتظر احمد۔ نمائندہ الفضل بینن)

اللہ تعالیٰ کا حضرت مسیح موعودؑ سے کیا گیا وعدہ ’’میں تیری تبلیغ کو زمین کے کناروں تک پہنچاؤں گا‘‘ کے مطابق دنیا بھر میں جماعت احمدیہ کی غیر معمولی ترقیات مخالفین اور معاندین کے لیے ایک معمہ اور باعثِ غیظ و غضب بنی ہوئی ہیں۔ مگر دوسری جانب مومنوں کے لیے یہ شجرۂ طیبہ خوشی، مسرت اور سکون کا ذریعہ بنا ہوا ہے جس کی ہر شاخ سے کئی اور شاخیں پروان چڑھتی ہیں۔ بہت سی جہاں گیر مثالوں میں سے ایک مثال 1976ء میں نائیجیریا کے توسط سے ملکِ نائیجر میں جماعت احمدیہ کے قیام کی بھی ہے۔

بینن کے مبلغین و معلمین کی غیر معمولی کاوشوں اور محنت کا ایک پھل آس پاس کے دیگر ممالک کی طرح نائیجر میں تناور جماعت کی صورت میں ملااور یہی وجہ ہے کہ بینن کے پرانے احمدی احباب کو دیگرہمسایہ ممالک کی طرح نائیجر سے بھی ایک خاص لگاؤ ہے جہاں ان کے ذریعہ سے جماعت کی ترقیات کے دور کا آغاز ہواجو اب جاری و ساری ہے۔

1976ء میں نائیجر میں پہلی بیعت ہوئی مگر نائیجیریاسےمسافت، زبان اور اس وقت کے مخدوش حالات کے باعث وہاں جماعت فوری طور پر زیادہ ترقی نہ کر پائی۔ 1990ء کی دہائی میں بینن سے جانے والے مبلغین خصوصاً امیر صفدر نذیر گولیکی صاحب نے اپنی بینن کی لوکل ٹیم کے ساتھ مل کر نائیجر میں غیر معمولی خدمات انجام دیں۔ موصوف بینن سے ایک ہزار سے زائد کلومیٹر کا سفر کرنے کے بعد بڑی جانفشانی سے پورے ملک کے بڑے شہروں کے تبلیغی دورے کرتے جس کے باعث ایک بڑی اور مضبوط جماعت کا باقاعدہ قیام عمل میں آیا۔ مکرم صفدر نذیر صاحب کے بعد مکرم حافظ احسان سکندر صاحب کی کوششوں سے ملک میں جماعت رجسٹرڈ ہوئی اور بینن سے لوکل مشنریز اورمعلمین کو بھجوایا جاتا رہا اور باقاعدہ طور پر پہلے سینٹرل مبلغ محترم عارف محمود صاحب کو بھجوایا گیا جنہوں نے وہاں جماعت کی ترقیات میں اہم کردار ادا کیا۔ فجزاہم اللہ احسن الجزاء ۔

ایامِ ماضی کی ان حسین یادوں اور موجودہ دنوں میں وہاں جماعت کی ترقیات کی باتیں سننے کے لیے 05جون 2021ء کو جماعت احمدیہ بینن کے ہیڈ کوارٹرز میں نمازِ مغرب و عشاء کے بعد بینن کے پرانے احمدی احباب اور امیر صاحب نائیجر اور دیگر مہمانان کی ایک غیر رسمی نشست کا انعقاد کیا گیا۔

جماعتی روایات کے مطابق تلاوتِ قرآنِ کریم سے اس پروگرام کا آغازہوا۔ مکرم میاں قمر احمد صاحب امیر صاحب بینن نے نائیجر سے تشریف لانے والے مہمانان کا تعارف کروایا اور مکرم اسد مجید صاحب امیرجماعت نائیجر کو دعوتِ گفتگو دی۔

امیر صاحب نائیجر نے بینن کے احمدیوں کو نائیجر میں جماعتی خدمات پر مبارک باد دیتے ہوئے مختصراً وہاں جماعت کی تاریخ اور بینن سے جانے والے مبلغین اور تبلیغی وفود کی قربانیوں کے تذکرہ سے اپنے خیالات کے اظہار کا آغاز کیا۔

اپنی گفتگو میں مکرم امیر صاحب نائیجر نے وہاں کے احمدیوں کے اخلاص، قربانی اور جماعت سے محبت کے واقعات بھی سنائے اور جماعت کے حکومت کے ساتھ مستحکم تعلقات کے بارے میں بھی آگاہ کیا نیز خلافت کی برکات اور دعاؤں کے باعث جماعت کے ترقیاتی کاموں، جماعتی پراجیکٹس کی کامیابیوں کے متعلق روشنی ڈالی اور تبلیغ و تربیت کےلیے وہاں کے مبلغین کی کاوشوں کا ذکر کیا۔ بینن کے احبابِ جماعت نے نہایت توجہ اور طبعی شوق سے نائیجر میں جماعت کی ترقیات کے بارے میں سنا۔ چنانچہ بینن سے وہاں جا کر جماعتی خدمت کرنے والوں کے چہروں پر سکون، مسرت اور فخر کے ملے جُلے جذبات قابلِ دید تھے کہ ان کی محنت اور قربانیاں رائیگاں نہیں گئیں بلکہ ان قربانیوں کا ایک ثمر توجماعت کی ترقیات کی صورت میں یہیں مل گیا۔

مکرم امیر صاحب نائیجر کے اظہارِ خیال کے بعد بینن کے احمدی احباب نے مختلف پرانے واقعات سنا کر حاضرینِ محفل کو سیراب کیا اور نائیجر کے بعض پرانے احمدی احباب اور امور کے بارے میں بھی امیر صاحب سے دریافت کیا۔

رات 9:30 کے بعد یہ یادگارنشست اختتام پذیر ہوئی جس کے بعد مہمانان کی خدمت میں عشائیہ پیش کیا گیا۔

(رپورٹ: منتظر احمد۔ نمائندہ الفضل انٹرنیشنل)

٭…٭…٭

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

For security, use of Google's reCAPTCHA service is required which is subject to the Google Privacy Policy and Terms of Use.

I agree to these terms.

Back to top button
Close