حضرت مصلح موعود ؓ

فضائل القرآن (3) (قسط دوم)

حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ

احمدیت کا پیغام ابھی تک ساری دنیا میں نہیں پہنچا

پانچواں سوال یہ کیا گیا ہے کہ حضرت مرزا صاحب کے بعد خلیفہ اول کا زمانہ بھی گذر گیا۔ اب خلیفہ دوم کا زمانہ ہے مگر ابھی تک ساری دنیا میں مرزا صاحب کا نام نہیں پہنچا لیکن گاندھی جی کا پہنچ گیا ہے۔

اس کا جواب یہ ہے کہ نام پھیلنے میں حقیقی عظمت نہیں ہوتی۔ مشہور ہے کہ کسی شخص نے چاہ زمزم میں پیشاب کر دیا۔ لوگوں نے اسے پکڑ کر خوب مارا۔ اس نے کہا خواہ کچھ کرو میری جو غرض تھی وہ پوری ہو گئی ہے۔ اس سے جب پوچھا گیا کہ تمہاری کیا غرض تھی؟ تو اس نے کہا۔ مجھے شہرت کی خواہش تھی۔ یہاں چونکہ ساری دنیا کے لوگ آئے ہوئے تھے اس لئے جب میری اس حرکت کا علم سب کو ہوگا تو خواہ مجھے گالیاں دیں لیکن جہاں جہاں بھی جائیں گے اس بات کا ذکر کریں گے اور اس طرح ساری دنیا میں میری شہرت ہو جائے گی۔ غرض نام اس طرح بھی پھیل جاتا ہے لیکن حقیقی نام وہ ہوتا ہے جو دنیا کی مخالفت کے باوجود پیدا کیا جائے۔ گاندھی جی نے کھڑے ہو کر کیا کہا؟ وہی جو ہر ہندوستانی کہتا تھا۔ قدرتی طور پر ہر ہندوستانی یہ خواہش رکھتا ہے کہ اس کا ملک آزاد ہو۔ یہی گاندھی جی نے کہا۔ لیکن حضرت مرزا صاحب وہ منوانا چاہتے تھے جسے دنیا چھوڑ چکی تھی اور جس کا نام بھی لینا نہیں چاہتی تھی۔ گاندھی جی کی مثال تو اس تیراک کی سی ہے جو ادھر ہی تیرتا جائے جدھر دریا کا بہائو ہو۔ لیکن حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی مثال اس تیراک کی سی ہے جو دریا کے بہائو کے مخالف تیر رہا ہو۔ اس وجہ سے آپ کا ایک میل تیرنا بھی بہائو کی طرف پچاس میل تیرنے والے سے بڑھ کر ہے۔ دنیا الہام کی منکر ہو چکی تھی۔ حضرت مرزا صاحبؑ اسے یہ مسئلہ منوانا چاہتے تھے۔ دنیا مذہب کو چھوڑ چکی تھی۔ آپ مذہب کی پابندی کرانے کے لئے آئے۔ پھر آپ کا اور گاندھی جی کا کیا مقابلہ۔ ابھی دیکھ لو۔ میرے مضامین چونکہ عام لوگوں کی خواہشات کے خلاف ہوتے ہیں اس لئے دوسرے اخبارات میں نہیں چھپتے۔ لیکن ابھی میں انگریزوں کے خلاف وہی روش اختیار کر لوں جو دوسرے لوگوں نے اختیار کر رکھی ہے تو تمام اخبارات میں شور مچ جائے کہ خلیفہ صاحب نے یہ بات کہی ہے جو بڑے عقلمند اور محب وطن ہیں۔ لیکن چونکہ ان کے منشاء کے مطابق اور ان کی خواہشات کے ماتحت ہمارے مضامین نہیں ہوتے اس لئے خواہ ان میں کیسی ہی پختہ اور مدلل باتیں ہوں انہیں شائع نہیں کرتے۔ سوال کرنے والے دوست نے شاید اس پوربی عورت کا قصہ نہیں سنا جس کے متعلق کہا جاتا ہے کہ جب اس کا خاوند مر گیا تو وہ یہ کہہ کر رونے لگی کہ اس کا اتنا قرضہ فلاں فلاں کے ذمہ ہے وہ کون وصول کرے گا۔ اس کے رشتہ کے مردوں میں سے ایک نے اکڑ کر کہا اری ہم ری ہم۔ اسی طرح وہ وصولیاں گناتی گئی اور وہ کہتا چلا گیا۔ اری ہم ری ہم۔ لیکن جب اس نے کہا کہ اس نے فلاں کا اتنا قرض دینا ہے وہ کون دے گا۔ تو کہنے لگا۔ ’’ارے میں ہی بولتا جائوں یا کوئی اور بھی بولے گا‘‘۔ اسی طرح گاندھی جی تو وصولیوں کی بات کہہ رہے ہیں۔ اور سارا ہندوستان ان کی آواز پر کہتا جاتا ہے۔ ’’ہم ری ہم‘‘ لیکن حضرت مرزا صاحب نے جو کچھ کہا اس پر اپنے پاس سے دینا پڑتا ہے۔ اس لئے اس آواز پر لوگ کہنے لگ جاتے ہیں کہ ’’ارے ہم ہی بولیں یا کوئی اور بھی بولے گا‘‘۔ کہا گیا ہے کہ گاندھی جی کے کارنامے دنیا کو ان کی طرف متوجہ کر رہے ہیں اور حکومت ان کے نام سے کانپ رہی ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ حکومت گاندھی جی سے نہیں بلکہ ہندوستان سے کانپ رہی ہے۔ وہ یہ دیکھ رہی ہے کہ 33کروڑ کی آبادی پر چند لاکھ افراد کی حکومت کس قدر مشکل ہے۔ انگریز اس بات سے ڈر رہا ہے نہ کہ گاندھی جی سے۔

سفارشات

سوالات کے جواب دینے کے بعد اب ایک تو میں سفارش بچوں کے متعلق کرتا ہوں۔ جامعہ احمدیہ اور ہائی سکول کے طلباء نے اپنے اپنے رسالوں کے سالنامے نکالے ہیں۔ چونکہ ملک میں رسالوں کے سالنامے نکالنے کا مرض پیدا ہو چکا ہے اس لئے بچے بھی اس سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکے۔ انہوں نے مجھ سے خواہش کی ہے کہ میں ان کے پرچوں کی خریداری کے متعلق سفارش کروں۔ جب یہ رسالے جاری کرنے لگے تھے تو میں نے انہیں کہا تھا کہ اگر سکول اور جامعہ ان کو چلائے تو شوق سے نکالو لیکن اگر کہو کہ جماعت میں ان کے متعلق تحریک کی جائے تو یہ خواہش نہ کرنا۔ لیکن اب چونکہ یہ پٹھان والی بات ہو گئی ہے کہ اس کا بچہ اپنے استاد پر تلوار سے وار کرنے لگا۔ تو اس نے کہا کہ اس کا پہلا وار ہے کر لینے دو۔ اس لئے گو اس سے ہماری ہی جیبوں پر اثر پڑتا ہے لیکن چونکہ یہ ہمارے بچوں کا پہلا وار ہے اس لئے میں یہ سفارش کرتا ہوں کہ ان کے رسالے خریدے جائیں۔ ایک تو اس لئے کہ یہ لڑکے پہلے وار کی وجہ سے اس بات کے مستحق ہیں کہ ان کے وار کی قدر کی جائے۔ دوسرے انہوں نے ایک رنگ میں احسان بھی جتایا ہے۔ وہ کہتے ہیں۔ ہم جلسہ کے کاموں میں لگے رہے اور رسالے نہ بیچ سکے۔ اب تو گویا ایک وجہ بھی ان کے ہاتھ آگئی ہے۔ دوست ان کے رسالے خرید کر ان کی حوصلہ افزائی کریں۔

اب میں ان باتوں میں سے دو چار اختصار کے ساتھ بیان کرتا ہوں جو کل بیان کی تھی۔

احمدی تاجروں کے ساتھ ہر رنگ میں تعاون کی ضرورت

میں نے بیان کیا تھا کہ مومن کے لئے دینی اور دنیوی طور پر ہر قسم کی آگ سے بچنا نہایت ضروری ہے۔ لیکن چونکہ وقت کم تھا میں نے اس آگ سے بچنے کے صرف اصول بیان کر دیئے تھے تفصیل چھوڑ دی تھی۔ اب میں ان میں سے ایک بات کی طرف جماعت کو خاص طور پر توجہ دلانا چاہتا ہوں۔ دنیا میں بہت سے کام جو انفرادی طور پر نہیں ہو سکتے باہمی تعاون سے ہو سکتے ہیں۔ ہم نے دنیا میں جو عظیم الشان کام کرنے ہیں ان کے متعلق جب تک ہم ہر رنگ میں جماعت کی نگرانی نہ کریں وہ صحیح طور پر سرانجام نہیں دیئے جا سکتے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان قیدیوں کا جو جنگ بدر میں گرفتار ہو کر آئے تھے یہ فدیہ مقرر فرمایا تھا کہ مسلمانوں کے بچوں کو تعلیم دیں۔ وہ لوگ کوئی دینی تعلیم نہ دے سکتے تھے بلکہ صرف مروجہ علوم ہی سکھا سکتے تھے مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا بھی انتظام فرمایا۔ اور دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ دنیوی تعلیم بھی ضروری سمجھی۔ ہمیں بھی دین کے ساتھ جماعت کی دنیوی ترقی کا بھی خیال رکھنا چاہئے۔ ہاں دین کو دنیا پر مقدم کرنا چاہئے اور جہاں دنیا دین میں روک ثابت ہو وہاں اسے ترک کر دینا چاہئے۔

دنیوی ترقی کے لئے بہترین چیز تعاون ہے۔ یورپ کے لوگوں نے ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کیا اور ترقی حاصل کر لی۔ لیکن مسلمان آپس میں لڑتے جھگڑے رہے۔ جب سارا یورپ اکٹھا ہو کر مسلمانوں پر حملہ آور ہوا تو مسلمان اس وقت بھی آپس میں لڑ رہے تھے۔ اس وقت عیسائیوں سے باطنی حکومت نے یہ سازش کی کہ ہم سلطان صلاح الدین کو قتل کر دیتے ہیں تم باہر سے مسلمانوں پر حملہ کر دو۔ اس کا جو نتیجہ ہوا وہ ظاہر ہے۔ پس تعاون سے جو نتائج حاصل کئے جا سکتے ہیں وہ کسی اور طرح حاصل نہیں ہو سکتے۔ اسی طریق سے ہماری جماعت بھی ترقی کر سکتی ہے اور اس کے لئے بہترین صورت تاجروں کے ساتھ تعاون کرنا ہے۔ بیشک زمیندار بھی مالدار ہو سکتے ہیں لیکن بڑے بڑے مالدار مل کر بھی غیر ملکوں پر قبضہ نہیں کر سکتے۔ اس کے مقابلہ میں تجارت سے غیر ممالک کی دولت پر بھی قبضہ کیا جا سکتا ہے کیونکہ تجارت دور دور تک پھیل سکتی ہے اس لئے تاجروں کی امداد نہایت ضروری چیز ہے۔ اس کے لئے سردست میری یہ تجویز ہے کہ کوئی ایک چیز لے لی جائے اور اس کے متعلق یہ فیصلہ کر لیا جائے کہ ہم نے وہ چیز صرف احمدی تاجروں سے ہی خریدنی ہے کسی اور سے نہیں۔ اس طرح ایک سال میں اس چیز کی تجارت میں ترقی ہو سکتی ہے اور دوسرے تاجروں کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے۔ مثلاً سیالکوٹ کا سپورٹس کا کام ہے۔ یہ نہ صرف ہندوستان میں بلکہ باہر انگلستان، آسٹریا اور جرمنی وغیرہ میں بھی جاتا ہے۔ اور یہ ایسی انڈسٹری ہے جس سے دوسرے ملکوں کا روپیہ کھینچا جا سکتا ہے۔ سیالکوٹ میں چار پانچ احمدیوں کی فرمیں ہیں۔ اس لئے اس سال کے لئے ہم یہ کام اختیار کر سکتے ہیں کہ تمام وہ احمدی جو صاحب رسوخ ہوں، سکولوں میں ہیڈ ماسٹر یا ماسٹر ہوں، کھیلوں کی کلبوں سے تعلق رکھتے ہوں، کھیلوں کے سامان کی تجارت کرتے ہوں یا ایسے لوگوں سے راہ و رسم رکھتے ہوں۔ وہ یہ مدنظر رکھیں کہ جتنا کھیلوں کا سامان منگوایا جائے وہ سیالکوٹ کی احمدی فرموں سے منگوایا جائے۔ میں ان فرموں کے مالکوں سے بھی کہوں گا کہ وہ سارے مل کر ایک مال فروخت کرنے والی کمیٹی بنا لیں۔ جس کے صرف وہی حصہ دار ہوں جو یہ کاروبار کرتے ہیں تا کہ سب کو حصہ رسدی منافع مل سکے۔ اس وقت میں صرف یہ تحریک کرتا ہوں۔ جب تاجر ایسی کمیٹی قائم کر لیں گے` اس وقت اخبار میں میں اعلان کر دونگا کہ اس کمپنی کے مال کو فروخت کرنے کی کوشش کی جائے۔ اس طرح ایک دو سال میں پتہ لگ جائے گا کہ کس قدر فائدہ ہو سکتا ہے اور اگر ان لوگوں نے کوئی ترقی کی تو وہ ہماری جماعت ہی کی ترقی ہوگی۔

تعاون باہمی کے اصول پرایک کمپنی قائم کرنے کی تجویز

اسی طرح ایک کمپنی تعاون کرنیوالی قائم کرنی چاہئے جس میں تاجر، زمیندار اور دوسرے لوگ بھی شامل ہوں۔ میں نے اس کے لئے کچھ قواعد تجویز کئے تھے جنہیں قانونی لحاظ سے چوہدری ظفراللہ خان صاحب نے پسند کیا تھا۔ اب ان کو شائع کر دیا جائے گا۔ یہ اس قسم کی کمپنی ہوگی کہ اس میں شامل ہونے والے ہر ایک ممبر کے لئے ایک رقم مقرر کر دی جائے گی جو ماہوار داخل کراتا رہے۔ اس طرح جو روپیہ جمع ہو گا اس سے رہن باقبضہ جائیداد خریدی جائے گی۔ اعلیٰ پیمانہ پر تجارت کرنا چونکہ احمدی نہیں جانتے اس لئے اس میں روپیہ نہیں لگایا جائے گا بلکہ رہن با قبضہ جائیداد خرید لی جائے گی۔ جیسا کہ انجمن کے کارکنان کے پراویڈنٹ فنڈ کے متعلق کیا جاتا ہے۔ اس طرح جو نفع حاصل ہوگا اس کا نصف یا ثلث اس ممبر کے وارثوں کو دیا جائے گاجو فوت ہو جائے اور اس کی جمع کردہ رقم بھی اس کے وارثوں کا حق ہوگی۔ میں فی الحال اس سکیم کا مختصر الفاظ میں اعلان کر دینا چاہتاہوں۔ پھر مشورہ کر کے مفصل سکیم اخبار میں شائع کر دی جائے گی۔ دوست اس کے لئے تیاری کر رکھیں۔

اب میں وہ مضمون شروع کرتا ہوں جسے میں نے اس سال کے لیے منتخب کیا ہے۔ (جاری ہے )

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

For security, use of Google's reCAPTCHA service is required which is subject to the Google Privacy Policy and Terms of Use.

I agree to these terms.

Back to top button
Close