متفرق

ملفوظات حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام اور فارسی ادب (قسط نمبر 77)

(محمود احمد طلحہ ۔ استاد جامعہ احمدیہ یو کے)

بہشتی زندگی

عصر کی نما زسے فارغ ہو کرجب حضر ت اقدس علیہ السلام اندرتشریف لے گئے۔ تو لالہ شرمپت رائے اور لالہ ملاوامل جو قادیان کے آریوں میں پرانے آریہ ہیں اور حضرت اقدسؑ کی اکثر پیشگوئیوں کے گواہ ہیں۔ اپنے اکثر احباب کو لے کر حضرت اقدس کی ملاقات کو آگئے۔ آپ نے ان میں سے ایک شخص معمر سفید ریش کو مخاطب کر کے فرمایا۔

دنیا کی کشمکش کی زندگی میں لذت نہیں۔ اگر خدا تعالیٰ کسی کو بیٹھے بٹھائےگذارہ دیدےتو کچھ ضرورت نہیں کہ انسان اہل حکومت کے پاس جاوے۔ ان لوگوں کےپاس جانا یہ بھی ایک قسم کا دوزخ ہے۔ ان لوگوں کی حالت خارش کی طرح ہے۔ کہ جو ایک مرض ہے اور کھجلانے والوں کو اس میں ایک لذت ملتی ہے۔ لیکن وہ شخص احمق ہی ہوگا جو اس لذت کو پسند کرے اسی طرح حکام کےدروازوں پر جانا ایسا ہی ہے۔ گوشہ نشینی کی زندگی ایک قسم کی بہشتی زندگی ہے۔ کسی نے کہا ہے :

بہشت آنجا کہ آزارے نباشد

کسے را باکسے کارے نباشد

(ملفوظات جلد سوم صفحہ 420-421)

اس گفتگو میں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے فارسی کا یہ شعر استعمال کیا ہے۔

بِہِشْت آنْجَا کِہ آزَارِے نَہ بَاشَدْ

کَسے رَا بَاکَسے کَارے نَہ بَاشَدْ

ترجمہ: ۔ بہشت ایسی جگہ ہے جہاں کوئی دکھ نہ ہوکسی کوکسی سے کچھ کام نہ ہو۔

*۔ شاعر میر صدرالاسلام ترشیزی کی رباعی کا یہ ایک شعر ہے۔ مکمل رباعی کچھ یوں ہے۔

بِھِشْت آنْ جَاسْت کِآزَارِی نَبَاشَدْ

کَسِی رَا بَا کَسِی کَارِی نَبَاشَدْ

ترجمہ: ۔ بہشت ایسی جگہ ہے جہاں کوئی دکھ نہ ہو کسی کو کسی سے کچھ کام نہ ہو۔

رِضَای دُوْست مِیْ خَواھِیْ چُنَانْ بَاشْ

کِہْ بَارِیْ بَرْ دِلِ یَارِیْ نَبَاشَدْ

ترجمہ: ۔ اگر دوست کی رضا چاہتا ہے تو ایسا بن جا کہ دوست کے دل پر بوجھ نہ ہو

٭…٭…٭

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

For security, use of Google's reCAPTCHA service is required which is subject to the Google Privacy Policy and Terms of Use.

I agree to these terms.

Back to top button
Close