افریقہ (رپورٹس)

ہیومینٹی فرسٹ برکینا فاسو کی جانب سے اندرون ملک مہاجرین کے لیے ضروریات زندگی کی فراہمی

(نعیم احمد باجوہ۔ مربی سلسلہ برکینا فاسو)

برکینافاسو میں ہیومینٹی فرسٹ ایک رجسٹرڈ ادارہ ہے اور گزشتہ دو دہائیوں سے بلا امتیاز رنگ و نسل اورمذہب و ملت انسانیت کی بے لوث خدمت میں مصروف ہے۔ ملک بھر میں جہاں کہیں بھی کوئی مسئلہ ہو، مثلاً قحط سالی، سیلاب یا کسی بھی قسم کی ہنگامی ضرورت پیش آئے، ہیومینٹی فرسٹ خدمت کے لئے ہمیشہ پیش پیش رہی ہے۔ میڈیکل کیمپس کا انعقاد کرنا، آنکھوں کے مفت آپریشن کرنا، پینے کے پانی کے مسائل حل کرنے کی کوشش کرنا، پرانے بور ہول جو ترک کردیے گئے تھے ان کو نئے سرے سے قابل استعمال بنانے میں مؤثر اقدام کرنا، کورونا وبا کے دنوں میں ماسک اور ہینڈ سینیٹائزر کی تقسیم، یہ سب اور اس کے علاوہ خدمت خلق کے بہت سارے کام ہیومینٹی فرسٹ برکینافاسو کے تحت ہمہ وقت جاری رہتے ہیں۔

اندرون ملک مہاجرین کی حالت زار

عرصہ تین چار سال سے برکینافاسو کے شمالی علاقہ جات میں امن وامان کی صورت حال مخدوش ہے۔ بے امنی کی اس لہر کی وجہ سے لاکھوں افراد اپنا گھر بار، کاروبار اور دیہات چھوڑ کر شہروں کی طرف ہجرت کرنے پر مجبور ہیں۔ تازہ اعداد وشمار کے مطابق اب تک ایک لاکھ پچپن ہزار سے زائد گھرانے متاثر ہو چکے ہیں۔ 2200سے زائد سکول بند ہونے کی وجہ سے تین لاکھ سے زائد طلبہ کی تعلیم متاثر ہوگئی ہے۔ 80 کے قریب ہسپتال اور میڈیکل سنٹرز بند ہوگئے ہیں۔ اور برکینافاسو میں مجموعی طور پر تیرہ لاکھ افراد مہاجر ہو چکے ہیں۔

حکومت وقت اپنےو سائل کے مطابق ان مہاجرین کے لئے عارضی رہائش گاہوں کے قیام اور خوراک مہیا کیے جانے کے لیےاقدامات کر رہی ہے۔ تاہم ضرورت اس قدر زیادہ ہے کہ یہ اقدامات ناکافی ہیں۔

مہاجرین کیمپ اور بنیادی ضروریات کی قلت

حکومتی اعداد وشما رکے مطابق جن ریجنز میں ان مہاجرین کا زیادہ رش ہے ان میں سب سے بڑی تعداد ’کایا‘ میں ہے ا س کے بعد’ڈوری‘ اور پھر ’وایوگیا‘ میں ہے۔ ان تینوں مقامات پر مہاجرین کی تعداد لاکھوں میں ہے۔ اس کے علاوہ دیگر چھوٹے شہروں میں بھی مہاجر کیمپ لگائے گئے ہیں۔ تاہم حکومت کے لئے مہاجرین کی اتنی بڑی تعدادکو سنبھالنا اور ان کی بنیادی انسانی ضروریات پوری کرنا ایک بہت بڑا ہدف ہے۔ مہاجرین کو جن اشیاء کی ضرورت ہے ان میں خیمہ جات، گھریلوبرتن، کپڑے، بستر اور دیگر ضروری بنیادی اشیاء شامل ہیں۔ ان ضروریات کے علاوہ اتنی بڑی تعداد کے لئے Toilets کا مناسب انتظام نہ ہوپانا ایک بہت بڑا مسئلہ ہے۔

ہیومینٹی فرسٹ کی طرف سےمہاجرین کی امداد کا منصوبہ

ہیومینٹی فرسٹ اور جماعت احمدیہ برکینافاسو نے ان مہاجرین کی مدد کا منصوبہ بنایا۔ ا س کے لئے مہاجرین کی تعداد کے لحاظ سے بڑے مقامات ’کایا‘ ’ڈوری‘ اور ’وایوگیا‘ کا انتخاب کیا گیا۔ ان ضرورت مندوں تک امداد پہنچانے کے لئے برکینافاسو حکومت نے ایک جامع پروگرا م بنارکھا ہے۔ مہاجر کیمپ میں مہاجرین کا اندراج کیا جاتا ہے اور مہیا اشیاء اور سامان ان ضرورت مندوں میں برابر تقسیم کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اس لئے جس جماعت، ادارے یا فرد نے ان افراد کی مدد کرنا ہووہ مدد کا سامان حکومتی نمائندگان کے سپرد کرتا ہے تاکہ ہر مہاجر خاندان تک حصہ رسدی پہنچایا جا سکے۔ اس موقع پر مہاجرین کے نمائندگان بھی مدعو کیے جاتے ہیں۔

ہیومینٹی فرسٹ نے تین مقامات پر اس سامان کی ترسیل کو ممکن بنا کر خدمت خلق کے اس میدان میں ایک قدم آگے بڑھ کر اقدامات کرنے کی تو فیق پائی ہے۔

وایوگیا میں تقریب

جیسا کہ اوپر ذکر کیا گیا ہے مہاجرین کی مدد کا سارا سامان حکومت کی نگرانی میں تقسیم ہوتا ہے۔ سب سے پہلے وایوگیا شہر میں راشن تقسیم کیاگیا ہیومینٹی فرسٹ کی طرف سے لائے گئے سامان کی تقسیم کے لئے مورخہ 2؍جون2020ء کو گورنر ہاؤس وایوگیا میں تقریب کا اہتمام کیا گیا۔

نیشنل ہیڈ کوارٹرز سے مکرم محمود ناصر ثاقب صاحب امیر جماعت برکینافاسو اور مکرم جیالو عبدالرحمٰن صاحب چیئرمین ہیومینٹی فرسٹ تقریب میں شرکت کے لئے وایوگیا تشریف لائے۔ اس سے ایک روز قبل مکرم کونے داؤدا صاحب صدر مجلس خدام الاحمدیہ برکینافاسو، خدام الاحمدیہ کی ایک ٹیم کے ساتھ انتظامات کی خاطر وایوگیا پہنچ چکے تھے۔

پروگرام کے مطابق تقریب کا آغاز ساڑھے دس بجے تلاوت قرآن کریم سے کیا گیا جس کا فرنچ ترجمہ بھی پیش کیا گیا۔ پھر چیئرمین ہیومینٹی فرسٹ برکینافاسو نے ہیومینٹی فرسٹ کے قیام کی غرض و غایت اور خدمات کا تذکرہ کیا۔ بعد ازاں محترم امیر صاحب برکینا فاسو نے خطاب کیا آپ نے توجہ دلائی کہ اصل زندگی تو یہ ہے کہ انسان دوسروں کی خدمت کرے اور جذبہ ایثار کے ساتھ زندگی گزارے، اپنے لیے تو سب جیتے ہیں۔ آخر پر گورنر ریجن وایوگیا کے نمائندے نے خطاب کیا۔ گورنر صاحب ایک اہم میٹنگ کی وجہ سے تقریب میں شامل نہ ہو سکے۔ نمائندہ گورنر نے جماعت احمدیہ کا شکریہ ادا کیاکہ اس مشکل وقت میں مدد فراہم کی۔

ان تقاریر کے بعد محترم امیر صاحب اور چیئرمین ہیومینٹی فرسٹ نے مہاجرین کی ضروریات کے لیے لایا گیا سامان گورنر کے نمائندہ کے سپرد کیا۔ اس موقع پرمہاجرین کے نمائندگان بھی موجود تھے۔

تقریب میں اتھارٹیز کی شرکت

اس پروقار تقریب میں مختلف حکومتی اداروں کے سربراہان اور نمائندگان نے شرکت کی جن میں قابل ذکر نمائندہ کمشنر، نمائندہ میئر وایوگیا، چیف پریفیکٹ وایوگیا ڈیپارٹمنٹ، ریجنل ڈائریکٹر برائے سوشل افیئرز اور دیگر شامل تھے۔ مسلمان کمیونٹی کے نمائندگان بھی تقریب میں شامل تھے پروگرام کے اختتام پر گورنر ہاؤس کے میٹنگ ہال میں ایک Reception کا انتظام کیا گیا۔ نیز سب شامل ہو نے والےاحباب کی تواضع کی گئی۔

ڈوری میں تقریب کا انعقاد

وایوگیا کے بعد ہیومینٹی فرسٹ کی ٹیم سامان کی نئی کھیپ کے ساتھ مورخہ 4؍جون 2021ء کو ڈوری ریجن میں پہنچ گئی۔ ڈوری شہر میں واقع گورنر ہاؤس میں جماعتی وفد کو خوش آمدید کہاگیا اور تقسیم راشن کی تقریب منعقد ہوئی۔ تلاوت قرآن مجید کے بعد چیئرمین ہیومینٹی فرسٹ برکینا فاسو اور مکرم امیر صاحب برکینافاسو کے نمائندہ مکرم کونے واؤددا صاحب نے مختصر تقاریر کیں جس میں جماعت احمدیہ کی طرف سے بلا امتیاز رنگ و نسل او رمذہب و ملت خدمت خلق کی کاوشوں کا مختصر تذکرہ کیا۔ بعد ازاں عزت مآب گورنر آف ڈوری نے خطاب کیا۔ انہوں نے جماعت احمدیہ اور ہیومینٹی فرسٹ کی خدمات کو سراہتے ہوئے شکریہ ادا کیا۔ اس موقع پر ریجنل اتھارٹیز نے شرکت کی۔

کایا میں تقریب کا انعقاد

وایوگیا اور ڈوری میں کامیابی سے مہاجرین کی ضروریات کا سامان مہیا کرنے کے بعد ہیومینٹی فرسٹ نے سب سے بڑے مہاجر سنٹر ’کایا‘ میں راشن تقسیم کا پروگرا م بنایا۔ مورخہ 08؍جون 2021ء کو کایا شہر کے گورنر ہاؤس میں ایک تقریب منعقد ہوئی۔ تلاوت اور ترجمہ کے بعد چیئرمین ہیومینٹی فرسٹ برکینافاسو اور مکرم امیر صاحب جماعت برکینافاسو نے تقاریر کیں۔ آپ نے مختصراً جماعت احمدیہ کی بےلوث خدمات کاتذکرہ کیا اور برکینافاسو میں قیام امن کے لئے دعا کی۔ ’کایا‘ ریجن کے گورنر نے جماعت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ جو امداد اجماعت احمدیہ کی طرف سے لائی گئی ہے وہ حسب پروگرام ضرورت مندوں تک پہنچانے کا انتظام کیا جائے گا۔ وہ ریجن کی طرف سے جماعت احمدیہ کا شکریہ اداکرتے ہیں کہ اس مشکل وقت میں حسب معمول وہ خدمت خلق کے میدان میں نمایاں کام کرنے کی توفیق پا رہی ہے۔ اس موقع پر ریجنل اتھارٹیز او رعلاقے کے دیگر معززین موجود تھے۔

تقسیم شدہ راشن کی مجموعی مقدار

وایوگیا، ڈوری اور کایا کے تینوں مہاجر کیمپس کے لئے مجموعی طور پر جو راشن اور بنیادی ضروریات کا سامان تقسیم کیا گیا اس کی تفصیل حسب ذیل ہے:

25کلو گرام چاول: 300 بوریاں

مکئی کا آٹا: 300 بوریاں

کپڑے 21گٹھ۔ ( 318 کلوگرام )

کوکنگ آئل: تین لٹر کی300 گیلن

صابن 1500 ٹکیاں (82.6کلوگرام)

مجموعی طور پر تینوں ریجنز میں تقسیم کیے جانے والے سامان کی مقدار 17.2ٹن بنتی ہے۔

میڈیا کوریج

ان تقاریب کی کوریج کے لئے نیشنل T.V برکینافاسو کی ٹیم موجود تھی۔ جنہوں نے امیر صاحب برکینافاسو، چیئرمین ہیومینٹی فرسٹ، نمائندہ گورنر ریجن وایوگیا، گورنر ڈوری، گورنر کایا اور مہاجرین کے نمائندگان کے انٹرویوز ریکارڈ کیے۔

اللہ تعالیٰ محض اپنے فضل سے ہیومینٹی فرسٹ کو دکھی انسانیت کی بے لوث خدمت کی توفیق عطا فرماتا چلاجائے۔ اور جو ضروریات زندگی تقسیم کی گئی ہیں اسے قبول فرمائے۔ ان بے کس و بے آسرا لوگوں کی مشکلات آسان فرمائے۔ جلد سے جلد ایسے حالات پیدا ہوں کہ امن و سلامتی کے ساتھ یہ لوگ اپنے گھروں کو لوٹ سکیں۔ آمین

(رپورٹ: چودھری نعیم احمد باجوہ۔ مربی سلسلہ برکینافاسو)

٭…٭…٭

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

For security, use of Google's reCAPTCHA service is required which is subject to the Google Privacy Policy and Terms of Use.

I agree to these terms.

Back to top button
Close