یادِ رفتگاں

چودھری محمد علی صاحب (قسط اوّل)

(‘ابن طاہر’)

راقم الحروف نے استاذی المکرم پروفیسر چودھری محمد علی صاحب مضطر عارفی کی سیرت و سوانح پر حال ہی میں ایک کتاب لکھی ہے۔ یہ کتاب فانی الحال زیورِ طباعت سے آراستہ نہیں ہو سکی لہٰذا اس کا وہ حصہ جو چودھری صاحب مرحوم نے اپنے حالاتِ زندگی کی شکل میں ریکارڈ کروایا بالاقساط قارئین الفضل انٹرنیشنل کی خدمت میں پیش کرنے کا ارادہ ہے۔ اس حوالے سے پہلی قسط پیش خدمت ہے۔

کچھ مسِیتاں کے بارے میں

چودھری محمد علی مشرقی پنجاب کے ایک چھوٹے سے گائوں، مسِیتاں میں پیدا ہوئے۔ یہ گائوں پنجاب کے باقی دیہات کی طرح جدید سہولیات سے بالکل عاری تھا۔ پانی، بجلی اور سڑکیں تو بہت دور کی بات ہے گائوں میں لڑکوں کا صرف ایک مڈل سکول تھا جب کہ مزید تعلیم کے حصول کے لیے زِیرہ یا گردونواح میں کسی اور شہر میں جانا پڑتا تھا۔ لڑکیوں کے لیے اس گائوں میں اتنی سہولت بھی موجود نہ تھی۔ وہاں کے لوگ جدید آسائشوں سے ناواقف تھے اور برف تک کے وجود سے ناآشنا تھے۔ چودھری محمد علی صاحب کا بچپن اسی گائوں کی ٹیڑھی میڑھی کچی گلیوں میں گزرا اور ابتدائی تعلیم بھی یہیں ہوئی۔

مسِیتاں کے بارے میں ہماری معلومات کا واحد ماخذ چودھری محمد علی صاحب کے وہ انٹرویوز ہیں جو ایم ٹی اے نے ریکارڈ کیے اور اس وقت غالباً یُوٹیوب پر بھی موجود ہیں۔ موصوف ان انٹرویوز میں اپنے وطنِ مالُوف کے بارہ میں گفتگو کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

’’میں 11؍دسمبر 1917ء کو موضع مسِیتاںتحصیل زِیرہ ضلع فیروزپور میں پیدا ہوا تھا۔ گائوں کو مسِیتاں غالباً اس لیے کہا جاتا تھا کہ اس میں مُغلوں کے زمانےکی دو مسجدیں تھیں۔ بتایا جاتا تھا کہ پرانے وقتوں میں یہاں ایک بہت بڑا شہر ہوا کرتا تھا جو کسی وجہ سے برباد ہوگیاچنانچہ کھدائی پر زمین سے چھوٹی اینٹیں نکلتی تھیں۔ بعض دفعہ پوری پوری دیواربھی نکل آتی اور پرانے سکے تو بارہا برآمد ہوتے۔ بہت ہی پسماندہ علاقہ تھا۔ ایک مسجد میں ہم نماز پڑھتے تھے اور ایک مسجد عید کے لیے مختص تھی۔ گائوں میں ایک ورنیکولر مڈل سکول تھا یعنی اس میں انگریزی نہیں پڑھائی جاتی تھی۔ میری ابتدائی تعلیم وہیں ہوئی۔ اکثر اساتذہ اہلِ حدیث تھے۔ ان میں سے بعض نے ڈاڑھیاں رکھی ہوئی تھیں اور کچھ ڈاڑھی مُنڈے بھی تھے مگر سبھی مولوی کہلاتے۔ میرا خیال ہے اُن دنوں پڑھے لکھے مسلمانوں کو کہتے ہی مولوی تھے۔ یہ اس زمانے کا رواج تھا۔

ان ہی اساتذہ نے ہمیں التّحیات میں انگُشتِ شہادت اٹھانا سکھائی۔ بچپن میں ایک بار میں نماز پڑھ رہا تھا تو میں نے حسبِ عادت انگشتِ شہادت کھڑی کر دی۔ وہاں ایک بابا عیدُو ہوا کرتے تھے۔ وہ میرے پاس بیٹھے تھے۔ وہ بے حد دراز قامت تھے اور میرے خیال میں اُس وقت ان کی عمر ستّر اسّی سال کے قریب ہوگی۔ انہوں نے مجھے انگلی اٹھاتے ہوئے دیکھا تو شدید ناراضگی میں میرے منہ پر ایک زوردار طمانچہ رسید کردیا۔ میں بے دھیانی میں بیٹھا تھا لہٰذا لڑھک کر گرگیا۔ انہوں نے پوچھا کہ میں نے انگلی کیوں اٹھائی تھی تو میں نے جواب دیا مجھے مولوی صاحب نے یہی سکھایا ہے جس پر وہ مجھے کان سے پکڑ کر سکول لے گئے اور مولوی صاحب کی بہت بےعزتی کی۔ مجھے ان کا یہ فقرہ اب تک یاد ہے کہ تم ہمارے بچوں کو وہابی بنا رہے ہو۔

ہم چھوٹے ہی تھے کہ کسی نے ہماری مسجد میں ہاتھ سے لکھا ہوا ایک اشتہار لگادیا۔ یہ اشتہار ’’شیخ احمد، خادم مدینہ منوّرہ‘‘کی طرف سے تھا اور اس میں موصوف نے اپنے ایک خواب کا ذکر کررکھا تھا۔ اشتہار کا مفہوم یہ تھا کہ انہوں نے ایک جمعرات کو خواب میں دیکھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے ہیں اور فرما رہے ہیں کہ میری امت کے گناہ بہت بڑھ گئے ہیں، توبہ کا دروازہ بند ہونے والا ہے اور یہ کہ فلاں سن تک امام مہدی کا ظہور ہو جائے گا۔ اپنے اشتہار کے آخر میں شیخ احمد نے لکھا تھا کہ اگر میں غلط بیانی سے کام لے رہا ہوں تو قیامت کے دن میرا منہ کالا ہو، کالا ہو، کالا ہو اور یہ بھی کہ جو اس اشتہار کو پڑھ کر آگے تین جگہ اس کی نقل نہ لگائے اس کا منہ بھی کالا ہو، کالا ہو، کالا ہو۔ جیسا کہ پہلے ذکر ہو چکا ہے ہمارے گائوں میں صرف دو مسجدیں تھیں۔ ہم نے اس اشتہار کی کچھ نقلیں تیار کیں اور اپنے گائوں کی دوسری مسجد کے علاوہ جعفر والا اور دوسرے چھوٹے چھوٹے ملحقہ دیہات کی مساجد میں بھی چِسپاں کردیں تاہم اس واقعہ سے قطعاً یہ نتیجہ نہیں اخذ کرنا چاہیے کہ مجھے امام مہدی کے ظہور کا بچپن ہی میں پتا چل گیا تھا یا میں نے اپنے لڑکپن ہی میں اس مسئلے پر غور شروع کر دیا تھا۔ ہم نے اندھا دُھند یہ اشتہار نقل کرکے گردونواح کی مساجد میں چسپاں تو کردیا لیکن مجھے یہ معلوم نہیں کہ اس پر عوامی ردعمل کیا رہا۔

اس زمانے میں فیروزپور میں جرائم کی شرح بہت زیادہ تھی۔ دُور کیا جانا، میرے اپنے ایک چچا دس نمبر کے بدمعاش تھے۔ بستہ ب میں تھے۔ وہ چھوٹی موٹی چوریاں نہیں کرتے تھے، ان کا شغل ڈاکہ زنی اور ماردھاڑ تھا۔ ہمارے بچپن میں ایک بار وہ مجھے اور میرے چھوٹے بھائی کو جو بعد میں فوت ہوگیاساتھ والے گائوں لے گئے۔ وہاں ایک قبرستان تھا جس میں کسی بزرگ کا عرس ہو رہا تھا۔ ہمارے ہاں عرس کو ’’روشنی‘‘ کہتے تھے سو ہماری اپنی زبان میں وہاں روشنی تھی۔ وہاں پہنچ کر انہوں نے ہمیں ایک مسقّف قبر کی چھت پر اس تاکید کے ساتھ بٹھا دیا کہ یہیں سے تماشا دیکھنا ہے۔ مجھے اب بھی یاد ہے ایک کُشتی ہوئی جس میں ہمارے گائوں کا پہلوان جیت گیا۔ اس کی جیت کی وجہ سے لڑائی کی کوئی صورت نہ بن سکی حالانکہ میرے چچا لڑائی کا پختہ ارادہ کر کے گئے ہوئے تھے۔ اچانک ہمارے پہلوان نے ہارنے والے پہلوان کو مٹی کا ایک ڈھیلا دے مارا جس سے لڑائی شروع ہوگئی۔ وہ گائوں سکھوں کا تھا اور ہارنے والا پہلوان بھی سکھ تھا مگر ہمارے لوگوں نے انہیں مار مار کر لہو لہان کردیا۔ پھر چچا ہمیں واپس لے آئے اور سارا راستہ ہمیں پکا کرتے رہے کہ ہم گھر جا کر بتائیں گے نہیں کہ ہم روشنی پر گئے تھے۔

اب تو ہر جگہ کرائم بہت بڑھ گیا ہے لیکن اس زمانے میں پنجاب کے دو اضلاع، فیروزپور اور میانوالی اس معاملے میں زیادہ بدنام تھے اور ان دونوں ضلعوں میں گُھڑسوارسپیشل پولیس ہوتی تھی جس کی تنخواہ ان ضلعوں کے لوگ دیتے تھے۔ مطلب یہ ہے کہ معاملہ کی جو فہرست بنتی اس میں یہ تنخواہ شامل ہوتی تھی۔ یہ پولیس گائوں گائوں جاکر جرائم پیشہ افراد کی بیخ کنی کرتی تھی۔ پیر اکبر علی فاضلکا کے رہنے والے تھے۔ احمدی تھے۔ بڑے زمیندار اور وکیل تھے۔ ہمارے مقدمات میں ہمیشہ وہی ہمارے وکیل ہوا کرتے تھے۔ پیراکبر علی ایم ایل اے یعنی قانون ساز اسمبلی کے ممبر بھی تھے۔ جب اسمبلی کا سیشن ختم ہو رہا ہوتا تو وہ ہمیشہ ایک ہی سوال کیا کرتے تھے کہ میانوالی سے تو سپیشل پولیس ہٹا لی گئی ہے، فیروزپور سے کب ہٹائی جائے گی؟ ایک بار وہ کسی وجہ سے یہ سوال نہیں پوچھ سکے تو سر شہاب الدین، سپیکر نے کہا کہ جب تک پیرصاحب اپنا سوال نہیں پوچھیں گے اسمبلی کا اجلاس برخواست نہیں کیا جائے گا۔ بالآخر پیر صاحب نے اپنا سوال پوچھا تو اسمبلی برخواست کی گئی۔

سخت غربت کا زمانہ تھا اور کم از کم دیہات میں آج والی آسائشوں کا کوئی تصوّر نہ تھا۔ دُور کیا جانا، میں نے سکول کے زمانےتک برف نہیں دیکھی تھی۔ ہمارے لوگوں کو پتا ہی نہ تھا کہ برف کیا ہوتی ہے۔ ہاں ! کسی اور جگہ سے ایک ہندو ہمارے گائوں آکر ملائی کی برف بیچا کرتا تھا۔ ملائی کی برف لکڑی کے ایک ڈبے میں بند ہوتی تھی۔ مطالبے پر وہ اس کا کچھ حصہ کاٹتا اور انجیر کے پتے پر رکھ کرگاہک کوپیش کردیتا۔ ہم نے صرف یہی برف دیکھ رکھی تھی۔

تو یہ تھا ہمارے علاقے کا عمومی ماحول۔‘‘

اے خدا! تُو اِن دونوں پر رحم فرما

چودھری محمد علی صاحب کے والدبزرگوار کا نام غلام محمد اور ذات گیلن تھی۔ اُن کوائف کے مطابق جو چودھری صاحب نے زندگی وقف کرتے ہوئے جماعت کو فراہم کیے تھے موصوف اُن دنوں مسیِتاں تحصیل زِیرہ ضلع فیروزپور میں پتّی عارف کے نمبردار تھے۔ انہوں نے احمدیت قبول نہیں کی، اسی حالت میں ان کا انتقال ہوا اور وہ گوجرہ میں دفن ہوئے۔ چودھری محمد علی صاحب کی والدہ جن کا نام حلیمہ بی بی تھا نے اپنی زندگی کے آخری ایام میں احمدیت قبول کرلی تھی اور حضرت خلیفۃ المسیح الثالثؒ نے ان کی بیعت بھی قبول فرمالی تھی۔ 1974ء میں جب جماعت احمدیہ کے خلاف ہنگامے زوروں پر تھے اور گوجرہ میں احمدیہ مسجد کو حکومت نے سِیل کرنے کی کوشش کی تھی موصوفہ نے بڑی بہادری سے کام لیتے ہوئے جماعت کی کچھ اس طرح راہ نمائی کی کہ دشمن اپنے مقاصدِمذمومہ میں کامیاب نہ ہوسکا اور ڈیوٹی مجسٹریٹ نے کچھ بحث و تمحیص کے بعد لیکن کسی لڑائی جھگڑے کے بغیر مسجد کی چابی جماعت کو واپس کردی۔ وہ وفات پاکر ربوہ میں دفن ہوئیں۔

اپنے انٹرویوز میں والدین کا ذکر کرتے ہوئے چودھری محمد علی صاحب نے فرمایا:

’’ہمارا خاندان زیادہ بڑا نہیں تھا۔ جہاں تک میرے والدِبزرگوار کا تعلق ہے ان کا نام غلام محمد تھا اور وہ گائوں میں نمبردار تھے۔ میری والدہ خدا انہیں غریقِ رحمت کرے کا نام حلیمہ بی بی تھا۔ میں ان کی سب سے بڑی اولاد تھا۔ میرے دو بھائی تھے جن میں سے ایک بچپن ہی میں فوت ہوگیا تھا۔ مجھے یاد ہے اس وقت میں میٹرک کا امتحان دینے والا تھا۔ میری تین بہنیں بھی تھیں۔

میرے والد خود تو پڑھے لکھے نہ تھے لیکن بچوں کی تعلیم پر زور دیتے تھے۔ جب میں نے آٹھویں پاس کرلی تو گائوں میں مزید تعلیم کا حصول ممکن نہ رہا۔ پوری تحصیل میں صرف زیرہ میں ایک سکول تھا جہاں انگریزی پڑھائی جاتی تھی۔ اسے جونیئر سینئر کی کلاس کہتے تھے۔ زیرہ وہاں سے تقریباً پندرہ میل کے فاصلہ پر تھا۔ سڑک کچی تھی اور رستہ میں جنگل پڑتا تھا۔ آٹھویں کے بعد والد صاحب نے مجھے بڑے اہتمام سے وہاں داخل کرایا۔ مجھے یاد ہے وہ خود سکول جاکر ہیڈماسٹر سے ملے اور مجھے بھی ان سے ملوایا۔ میں بعد میں دو سال یہیں پڑھتا رہا اور یہیں میں نے انگریزی سیکھنا شروع کی۔

میں اپنے والد صاحب کے متعلق دعوے کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ انہوں نے کبھی جھوٹ نہیں بولا۔ وہ جھوٹ بول ہی نہیں سکتے تھے۔ ان کو پتا ہی نہیں تھا کہ جھوٹ کیا ہوتا ہے۔ ایک بار وہ ایک مقدمے کے سلسلے میں کچھ رقم لے کر شہر گئے ہوئے تھے۔ رقم عدالت میں داخل کرانا تھی لیکن کسی وجہ سے اس روز جمع نہ ہو سکی۔ چنانچہ وہ تھیلا پکڑ کر ریلوے سٹیشن پر بیٹھے تھے کہ نیند آگئی اور تھیلا کسی نے اُڑا لیا۔ پاس ہی تھانہ تھا۔ وہ رپورٹ درج کرانے چلے گئے۔ انہوں نے تھانیدار کو بتایا کہ اس طرح چوری ہوگئی ہے، اتنے روپے تھے۔ تھانیدار نے کہا: بابا!جھوٹ کیوں بول رہے ہو؟ انہیں اس بات پر شدید غصہ آیا اور تھانیدار کو تھپڑ رسید کردیا۔ ظاہر ہے پولیس نے اپنے ردعمل کا اظہار تو کرنا تھا۔ چنانچہ جب وہ گھر واپس آئے تو ان کا سخت برا حال تھا اور کپڑے پھٹے ہوئے تھے۔ ہم نے ان سے کہا کہ آپ نے یہ کیا کیا تو وہ کہنے لگے: تھانیدار نے مجھے جھوٹاکہا تھا حالانکہ میں نے اپنی زندگی میں آج تک کبھی جھوٹ نہیں بولا۔ میں یہ کیسے برداشت کرلیتا؟

والد صاحب نے ساری عمر حضرت مسیح موعودؑ کے خلاف ایک نازیبا لفظ بھی اپنے منہ سے نہیں نکالا نہ کبھی مجھے کہا کہ آپ خدانخواستہ اپنے دعویٰ میں جھوٹے تھے۔ یہ ضرور کہا کرتے تھے کہ میں نے انہیں نبی مان کر غلطی کی ہے۔ جب بالآخر ہماری صلح ہوگئی اور انہوں نے مجھ سے ملنا شروع کردیا تو اردگرد والوں نے ان کا بائیکاٹ کردیا۔ اتنا شدید بائیکاٹ ہوا کہ گائوں کا حجام ان کی اور میرے چھوٹے بھائی کی حجامت کرنے کو تیار نہ ہوتا چنانچہ انہیں بال کٹوانے کے لیے ساتھ والے گائوں میں جانا پڑتا تھا۔ اب خیال آتا ہے کہ انہوں نے کتنی تکلیف اٹھائی ہوگی۔ یقیناً ایسی ہی پریشانی میری والدہ نے بھی برداشت کی ہوگی۔

انہوں نے 1950ء کی دہائی میں وفات پائی۔

میں اپنی والدہ کو بے بے جی کہا کرتا تھا۔ میں ان کا کیا ذکر کروں۔ سب کی مائیں ہی ایسی ہوتی ہوں گی کیونکہ اللہ نے یہ رشتہ ہی ایسا بنایا ہے لیکن سچی بات یہ ہے کہ میری والدہ جیسی عورت کوئی کوئی ہو گی۔ چِٹّی اَن پڑھ تھیں لیکن حد درجہ پُراعتماد۔ ایک دفعہ وہ مجھے بتائے بغیر خود ہی اُس وقت تعلیم الاسلام کالج کے پرنسپل، حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحبؒ سے ملنے چلی گئیں۔ میں اگلے دن کالج گیا توخان ارجمند خان کہنے لگے کہ آ ج میاں صاحب نے آپ کی والدہ کی بڑی تعریف کی ہے۔ میں نے پوچھاکیا تعریف کی ہے تو وہ کہنے لگے میاں صاحب کہہ رہے تھے کہ آج مجھے احساس ہوا ہے یا یہ یقین آیا ہے کہ عورتیں کتنی ذہین ہوتی ہیں۔ ارجمند خان کی بات سے مجھے علم ہوا کہ وہ میاں صاحب سے مل کر آئی ہیں۔

بے بے جی بے حد بہادر تھیں۔ ایک بار جب میں بہت چھوٹا تھا ہمارے گھر ڈاکہ پڑگیا۔ انہوں نے ایک ڈاکو کو گلے سے پکڑ لیا اور اس کی تمام تر کوشش کے باوجود اسے بھاگنے نہیں دیا۔ گھر میں ایک ٹکوا پڑا تھا، مار کر اس کا سر پھاڑ دیا جس سے وہ بیہوش ہو گیا۔ مجھے یاد ہے اس ڈاکو کو گھوڑی پر بٹھا کر ہسپتال لے جانا تھا۔ بے بے جی کا اصرار تھا کہ وہ خود اسے گھوڑی پر لے کر جائیں گی۔ وہ منظر اب تک میری آنکھوں کے سامنے ہے کہ ان کی قمیص خون سے تر تھی بلکہ اس میں سے خون نچڑ رہا تھا۔

ایک بار جب بے بے جی شدید علیل ہوگئیں تو میں نے ان کی خدمت کے لیے زندگی میں پہلی بار چھ مہینے کی رخصت لی۔ میں نے ان کا بیعت فارم پُر کر رکھا تھا۔ میری بڑی بہن احمدی نہیں ہیں۔ وہ موجود تھیں۔ دوسری بہن بھی تھیں۔ بھائی بھی وہیں تھا۔ میں نے کہابے بے جی، اللہ تعالیٰ آپ کو لمبی زندگی دے لیکن آپ کی حالت اچھی نہیں۔ کچھ پتا نہیں کس وقت بلاوا آجائے لہٰذا آپ مان کیوں نہیں لیتیں کہ امام مہدی آگئے ہیں؟

اس پر انہوں نے کہا میں ایک بات کرنا چاہتی ہوں۔ بیٹا! اگر مسئلہ صرف تدفین کا ہے تو میں نے پہلے سے کہہ رکھا ہے کہ مجھے ربوہ میں دفن کیا جائے۔ میں نے کہا نہیں۔ میں نے اور بات کرنی ہے۔ کہنے لگیں بیٹا میں تو پہلے ہی احمدی ہو چکی ہوں۔ میں نے کہا پھر بیعت فارم پر انگوٹھا لگا دیں۔ انہوں نے انگوٹھا لگا دیا۔

میں نے کسی آدمی کو حضرت خلیفۃ المسیح الثالثؒ کی خدمت میں بھجوایا کہ ہے تو مرض الموت لیکن اگر حضور مناسب خیال فرمائیں تو یہ بیعت قبول کرکے مجھے جلد اطلا ع دے دی جائے۔ بہت دن گذر گئے لیکن کوئی جواب نہیں آیا۔ میں نے پھر حضورؒ کی خدمت میں لکھاتو آپ نے ’’بیعت منظور ہے‘‘لکھ کر جواب ارسال کردیا اور اس خیال سے کہ مجھ تک جلدی پہنچ جائے لفافے پر ’’فوری‘‘لکھوا دیا۔ ڈاک والوں نے یہ خط ہوسٹل بھیج دیا اور میری عدم موجودگی کی وجہ سے کئی دن وہیں پڑا رہا۔ پتہ نہیں کیسے ہوا لیکن غیرمتوقع طور پر تعلیم الاسلام کالج میں عربی کے پروفیسر اور ہمارے رفیقِ کار، صوفی بشارت الرحمٰن صاحب نے اس بیعت کی اطلاع الفضل میں شائع کرا دی۔ اس اعلان سے سب کو ان کے احمدی ہونے کا پتہ چل گیا۔ چنانچہ ہمارے غیراز جماعت رشتہ دار ڈانگیں لے کر ہمارے گھر پہنچ گئے۔ ان کا خیال تھا کہ ہم نے بیعت فارم پر بے بے جی کا انگوٹھا زبردستی یا بے خبری میں لگوا لیا ہے اور اب وہ اس انتظار میں تھے کہ بے بے جی کی رُوح قفسِ عنصری سے پرواز کرے تووہی ان کا کفن دفن کریں۔ ہمارا رشتہ ایک ایسے شخص سے بھی تھا جو کسی زمانے میں احمدی تھا اور قادیان میں پڑھتا بھی رہا تھا لیکن بعد میں عبدالرحمٰن مصری کے زیر اثر احمدیت سے منحرف ہوگیا۔ وہ بہت غلیظ اعتراضات کیا کرتا تھا۔ وہ اس سارے معاملے میں پیش پیش تھا۔

خداتعالیٰ نے ایسا معجزہ دکھایا کہ ہمیں تو بے بے جی کی جان کے لالے پڑے ہوئے تھے لیکن وہ آہستہ آہستہ صحتیاب ہونے لگیں۔ جب ان کی طبیعت بہتر ہوگئی تو مجھے فکر پیدا ہوئی کہ وہ کہیں احمدیت سے انکار ہی نہ کر دیں۔ چنانچہ میں نے چودھری نذیر احمد، سربراہ نمبردارکو بطور گواہ پاس بٹھا لیا اور بے بے جی سے پوچھابے بے جی! آپ نے بیعت فارم پر انگوٹھا لگایا تھا نا؟

بے بے جی بڑی ذہین تھیں۔ فوراً پوچھنے لگیں کیوں؟ اعتراض کیا ہے کسی نے؟

میں نے بتایا کہ اعتراض کرنے والے باہر بیٹھے ہیں۔

بے بے جی نے انہیں بلایا اور کہنے لگیں دفع ہو جاؤ یہاں سے۔ آپ لوگ میری لاش کے ساتھ یہ سلوک کرنا چاہتے ہیں۔ نکل جائو یہاں سے۔ میں اللہ کے فضل سے احمدی ہوں۔ وہ اس کے بعد کئی سال تک زندہ رہیں اور احمدیت پر قائم رہیں۔

1974ء میں جب ہمیں غیرمسلم قرار دے دیا گیاتو میں ربوہ میں تھا اور بے بے جی گوجرہ میں مقیم تھیں۔ میری بہنیں اور بھائی بھی وہیں تھا۔ وہ چاروں طرف سے دشمنوں میں گھرے ہوئے تھے۔ ربوہ سے کچھ لوگ حالات کا جائزہ لینے گوجرہ جایا کرتے تھے۔ جو جاتا یہی رپورٹ لاتا کہ انہیں ربوہ بلا لینا زیادہ بہتر ہے، وہاں وہ غیر محفوظ ہیں۔ میں نے حضرت خلیفۃ المسیح الثالثؒ سے عرض کی کہ اس قسم کے پیغام آرہے ہیں۔ کیا میں انہیں یہاں بلوا لوں؟ حضورؒ نے کہا: ہاں بلوا لیں چنانچہ میں نے پیغام بھیج دیا۔ گوجرہ کی جماعت کے صدر، سید کرم شاہ بہت دلیر آدمی تھے اور بے بے جی سے ان کی محبت بھی بہت تھی۔ وہ دو دو تین تین گھنٹے بے بے جی کے پاس بیٹھ کر ان سے باتیں کیا کرتے تھے۔ بے بے جی سو سال کے قریب ہو کر فوت ہوئی ہیں اور اللہ کے فضل سے آخری وقت تک ان کا حافظہ بالکل ٹھیک تھا۔ شاہ صاحب ان سے ملے اور کہابے بے جی! حالات بہت خراب ہو گئے ہیں لہٰذا کیا مناسب نہ ہوگا کہ میں اپنی بیٹی کو، آپ کی بیٹیوں، امۃ العزیز اور غلام جنت کو اور گوجرہ کی ایک دو دیگر احمدی بچیوں کو ربوہ بھیج دوں؟ انہوں نے کہا ہاں بھیج دیں لیکن صرف انہیں ہی کیوں، علاقے کی باقی تمام لڑکیوں کو بھی وہاں بھیجیں بلکہ سارے پاکستان کی لڑکیاں وہاں بھیج دیں۔ ربوہ والوں کے پاس اور کوئی کام تو کرنے کو ہے نہیں، وہ انہیں سنبھالتے رہیں گے۔ ان کا تکیہ کلام تھا کہ کیا صدر صرف ڈاڑھیاں رکھنے کے لیے بنائے ہوئے ہیں ! انہوں نے اپنا تکیہ کلام دُہرایا اور کہاخبردار اگر آئندہ میرے پاس آکر ایسی کچی بات کی تو۔ غیراحمدی ہمیں لُوٹنا چاہتے ہیں تو آجائیں۔ میں نے سارا سامان برآمدے میں رکھ چھوڑا ہے، میں خود اپنے ہاتھ سے اسے آگ لگا دوں گی لیکن ان کی لُوٹ مار کی خواہش پوری نہ ہونے دوں گی۔ جب یہ رپورٹ حضورؒ کے پاس پہنچی تو آپ بہت خوش ہوئے۔

میں 1974ء کی آئینی ترمیم کے قریباًایک ہفتہ بعد 12؍ ستمبر کو گوجرہ پہنچا تو بے بے جی بستر پر لیٹی ہوئی تھیں۔ چل پھر نہیں سکتی تھیں۔ میرے کمرے کا دروازہ برآمدے میں کھلتا ہے۔ جس کمرے میں بے بے جی لیٹتی تھیں اس کی کھڑکی اس برآمدے میں کھلتی تھی۔ اگلے دن جمعہ تھا۔ میں نے اپنے بھائی، ظفرسے پوچھا کہ جمعہ کس وقت ہے؟ انہوں نے نماز کا وقت بتایا اور کہنے لگے چلے تو ہم جائیں گے لیکن مسجدپر تو پولیس نے تالا لگا رکھا ہے اور کہہ دیا ہے کہ یہ مسجد اب آپ کی نہیں رہی لہٰذا جمعہ سید کرم شاہ کے مکان پر ہوگا۔ بے بے جی نے یہ بات سُن لی۔ میں نقشہ نہیں کھینچ سکتا اس نظارے کا جب وہ پورے جوش میں دیوار کا سہا را لے کر اپنے کمرے سے میرے کمرے میں اور وہاں سے برآمدے میں آگئیں۔ وہ غصے سے کانپ رہی تھیں۔ انہوں نے اس موقع پر تقریر کی ۔انہوں نے پہلے تو میرے بھائی کو ڈانٹا کہ تمہیں شرم نہیں آتی، کس آرام سے کہہ دیا ہے کہ ہماری مسجدکو تالا لگا دیا گیا ہے اور ہمیں بتا دیا گیا ہے کہ یہ مسجد اب ہماری نہیں رہی۔ کہنے لگیں تم نے یہ بات برداشت کیسے کرلی اور مجھے کیو ں نہیں بتائی؟ پھر کہنے لگیں مینوں سُٹّو بھٹو دے سامنے۔ میں اونُوں پُچھاں کہ او ساریاں دا صدر اے یا صرف ایناں دا ای صدر ہے تاکہ اسّی اپنا صدر کوئی ہور بنا لیّے۔ ذرا سدّو کرم شاہ نوں !پھر انہوں نے اپنا تکیہ کلام دہرایا کہ کیا صدر صرف ڈاڑھیاں رکھنے کے لیے بنائے ہوئے ہیں اور پھر کہاسدّو کرم شاہ نوں۔

میں نے کہا جی وہ بھی کوشش کر رہے ہیں۔

کہنے لگیں چپ کر تُوں۔ آگیاں ایں ہُن اینے عرصے بعد۔ پھر چھوٹے بھائی سے کہا جائو، جا کر پیغام دو کرم شاہ کو میرا کہ میں بلا رہی ہوں۔ انہیں بتایا گیا کہ وہ اسی مسئلے کے حل میں مصروف ہیں لہٰذا اس وقت نہیں آسکیں گے مگر وہ کہتی رہیں جاؤ جا کے پیغام دو انہیں میرا۔ میں نے کہا ظفر کو اکیلے نہ بھیجیں۔ وہ کہنے لگیں بھیجو ظفر نُوں، کوئی نئیں اونُوں موت پیندی اور پھر کہا جا کر کہنا کہ جس افسر نے بھی مسجدکی چابیاں سنبھال رکھی ہیں ہمیں واپس کردے۔ اگر وہ نہ دے تو اس کو کہو ہم دس بجے تک انتظار کریں گے اور اس کے بعد اپنے بچے اور عورتیں قتل کر کے نماز پڑھنے کے لیے آئیں گے۔ آج یہ فیصلہ ہو ہی جائے کہ یہ مسجدکس کی ہے۔ ظفر چلا تو فرمانے لگیں رک جاؤ ذرا۔ اگر تم نے میرا پیغام بالکل اسی طرح نہ پہنچایاتو میں روزِ قیامت تمہیں اپنا دودھ نہیں بخشوں گی۔ چنانچہ ظفر گیا اور اس نے یہ پیغام بالکل اسی طرح پہنچا دیا۔ شاہ صاحب بیچارے پہلے ہی سے کوشش کرر ہے تھے۔ انہیں مزید جوش آگیا۔ وہ گئے تو چابیاں مجسٹریٹ کے ہاتھ میں تھیں۔ اس نے کہا شاہ صاحب! چابیاں کل لے جائیں، آج نہیں۔ دیکھیں ! آج انہوں نے کتنی دیگیں چڑھا رکھی ہیں۔ آپ لوگوں کی جانیں خطرے میں ہیں۔ میں نے تو آپ کی حفاظت کے خیال سے تالا لگا رکھا ہے۔ شاہ صاحب نے کہا ہم دس بجے تک انتظار کریں گے۔ اس کے بعد آپ چابیاں بیشک نہ بھیجیں، ہم خود وہاں جاکر مسجد کھول لیں گے۔ یہ دھمکی کا رگر ثابت ہوئی اور مجسٹریٹ نے انہیں دس بجے بلا لیا۔ ہاتھ باندھ کر کھڑا ہو گیا کہ خدا کے واسطے کوئی ایسی ویسی بات نہ کریں، میں نے اوپر اطلاع نہیں دی ہوئی۔ یہ سب کچھ میں نے اپنی طرف سے آپ کی حفاظت کی خاطر کیا تھا۔ شاہ صاحب نے کہا میرا تو خیال تھا کہ آپ نے مجھے چابیاں دینے کے لیے بلایا ہے لیکن آپ کا تو ایسا کوئی ارادہ نظر نہیں آرہا لہٰذا میں جاتا ہوں۔ اس پر مجسٹریٹ نے کہا: ٹھہریں۔ یہ چابیاں لے جائیں لیکن مسجدمیں اکیلے اکیلے داخل ہوں اور اونچی جگہ پر کھڑے ہو کر اذان دیں۔ انہوں نے چابیاں لے لیں۔ جب نماز ختم ہوئی تو پولیس کے سپاہی بوٹوں سمیت اندر آگئے اور چابیوں کی واپسی کا مطالبہ کرنے لگے۔ پھر تو شاہ صاحب نے اپنے منصب کا حق ادا کر دیا۔ انہوں نے کہا دفع ہو جاؤ۔ نکل جاؤ باہر۔ پہلے ہمارا ارادہ تھا کہ ہم ظہر اور عصر اور پھر مغرب اور عشاء کی نمازیں جمع کریں گے لیکن اب ہم چاروں نمازیں اپنے اپنے وقت پر پڑھیں گے اور ہر نماز سے پہلے اذان بھی دیں گے۔ آپ جو کچھ کرنا چاہتے ہیں کرلیں۔ بے بے جی کو اس کارروائی کی اطلاع ملی تو وہ بے حد خوش ہوئیں۔ ‘‘

(جاری ہے)

٭…٭…٭

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

For security, use of Google's reCAPTCHA service is required which is subject to the Google Privacy Policy and Terms of Use.

I agree to these terms.

Back to top button
Close