یادِ رفتگاں

میرے پری سکول کے اُستاد حضرت ماسٹر عبدالرحمٰن صاحبؓ (سابق مہر سنگھ)

(پروفیسر محمد شریف خان۔ امریکہ)

تعارف: 1941ءمیں میرےوالد صاحب مرحوم ڈاکٹر حبیب اللہ خان ابو حنیفی افریقہ میں مناسب تعلیمی ادارے نہ ہونے کے باعث اپنی فیملی کوتعلیم کے لیے قادیان چھوڑ گئے تھے۔ جہاں ہم نے جماعت کے تعاون سے خان ارجمند خان صاحب کے مکان واقع محلہ دارالرحمت کے نصف حصے میں کرایہ دار کی حیثیت سے رہائش اختیار کی، اورجماعت نے حضرت ماسٹر عبدالرحمٰن صاحبؓ (سابق مہر سنگھ) کو ہم بچوں کا اتالیق مقرر کیا۔ میں اس وقت چار سال کا تھا۔ حضرت ماسٹر صاحبؓ نے مجھے قاعدہ یسرنا القرآن سبقاً سبقاً پڑھا یا۔

میری خواہش تھی کہ اپنے اساتذہ کا ذکر خیر کروں۔ میری درخواست پر ماسٹر صاحبؓ کے بیٹے سردار رفیق احمد صاحب (واٹرلو، امریکہ) نے اپنے بڑے بھائی ڈا کٹر نذیراحمد صاحب کا اپنے والد صاحب کے بارے میں لیا گیا ایک انٹرویو انگریزی زبان میں بھیجا ہےجس کا سلیس اردو تر جمہ قارئینِ الفضل انٹرنیشنل کے لیے حضرت ماسٹرعبد الرحمٰن صاحبؓ کی بلندیٔ درجات کے لیے دعا کی درخواست کے ساتھ پیش کر رہا ہوں۔

گاہے گاہے باز خواں ایں قصہ ہائے پارینہ را

تازہ خواہی داشتن گر داغ ہائے سینہ را

ترجمہ انٹرویو

میرے والدحضرت ماسٹر عبدالرحمٰن صاحبؓ (مہرسنگھ) چندر بنسی راجپوت جاٹ فیملی میں ڈومیلی (کپورتھلہ) ضلع جالندھر، تحصیل پھگواڑا (انڈیا)میں 1872ء میں سردار سوندھا سنگھ کے ہاں پیدا ہو ئے۔ آپؓ کا نام مہر سنگھ ر کھا گیا۔ آپ چار بھائیوں میں چھوٹے اور لاڈلے تھے۔ بچپن سے ہی مختلف چیزوں کے بارے میں معلومات حاصل کر نے کا شوق تھا، اس لیے اپنے اردگرد میں پائی جانےوالی چیزوں کے بارے میں بہت کچھ معلومات حاصل تھیں۔

سکول میں اساتذہ نے آپ کے ذہن میں ایمان اور انسان اور اُس کے خالق کے رشتے کے بارے میں جاننے کی جستجو جگائی۔ وہ اکثراپنے ہندو، سکھ، عیسائی اور مسلمان اساتذہ سے اس بارے میں سوال کرتے رہتے۔ خاص طور پر ایک عیسائی استادجو مسلمانوں کو استہزا کا نشانہ یہ کہہ کر بنایا کر تا تھا، کہ دیکھو جی مسلمان باوجود پانچ وقتہ نمازیں پڑھنے کے، ہمیشہ شک میں رہتے ہیں کہ ان کی بخشش ہو گی یا نہیں! یہ کیسا عجیب مذہب ہے، جو اپنے ماننے والوں میں بجائے اطمینان اور سکون پیدا کر نے کے بے اطمینانی اور شک پیدا کرتا ہے؟ اس کے مقابلے میں عیسائی مذہب کو لے لو، جس میں حضرت عیسیٰؑ کے صلیب پر چڑھنے پر ایمان لا کر جنت میں جایا جاسکتا ہے!

اس استاد نے عیسائیت کےبارے میں مزید معلومات کے لیےحضرت ماسٹر صاحبؓ کو بائبل اور کچھ مزید لٹریچر پڑھنے کے لیے دیا۔ اور ساتھ کہا کہ بجائے واہ ِگرو سے دعا کر نے کے عیسیٰ پر ایمان لاکر دعا کرو گے تو دعا ئیں قبول ہو ں گی۔

کچھ دنوں کے مطالعہ کے بعدحضرت ماسٹر صاحبؓ اپنے عیسائی استاد سے ملے اور پو چھا، کیا جو کچھ بائبل میں لکھا ہے سب سچ ہے؟ استاد نے بلا توقف کہا ہاں! حضرت ماسٹر عبدالرحمٰن صاحبؓ نے کہا کہ بائبل میں لکھا ہے اگر تم میں رائی بھر بھی ایمان ہو گا تو تم اگر پہاڑی کو ایک جگہ سے دوسری جگہ چلنے کا کہو گے تو ایسا ہو گا۔ ( سکول کے صحن میں بائیں طرف اُگے درخت کی طرف اشارہ کر تے ہو ئے) حضرت ماسٹر عبد الرحمٰن صاحبؓ نے استاد کو کہا : اس درخت کو کہیں یہ چل کرصحن کے دائیں طرف چلا جا ئے، اگر با ئبل کے بیان کے مطابق ایسا ہو گیا تو میں فوراً عیسائیت قبول کر لوں گا! استاد صاحب اس سیدھے سادھے سوال سے گھبرا گئے، اور بائبل کے بیان کی تاویلیں کرنے لگ پڑے۔

حضرت ماسٹر عبد الرحمٰن صاحبؓ نے سچ پانے کی کو شش جاری رکھی۔ آپ سکھ اور ہندو مذہبی رسومات جیسے گاؤموتر اور گائے کے گوبر وغیرہ سے قدرتی طور پر متنفر تھے۔ اور یقین تھا کہ سکھ مذہب ا ن کی روحانی ضروریات پوری کرتا ہے۔ ایک رات جبکہ وہ ذہن میں روح کے متعلق سوالات سے سخت فکر مند تھے، انہوں نے سونے سے پہلے خدا سے سیدھے رستے کی طرف راہ نمائی کے لیے بڑے خلوص اور الحاح سے دعا کی۔ اُس رات انہوں نے ایک نیک شخصیت کو دیکھا جس نے انہیں کہا کہ اللہ، پرمیشر، رام اور عیسٰی میں سے کسی کا انتخاب کریں! اس خواب کی وجہ سے اللہ اُن کے دل میں گڑھ گیا، اور انہوں نے یکسوئی کے ساتھ، اللہ تعالیٰ کی صفات کے بارے میں سوچ بچار اور علم حاصل کرنا شروع کر دیا۔ اور ساتھ ہی خدا تعالیٰ سے اپنی زبان میں راہ نمائی کے لیے د عا کرنا شروع کر دی…اس دوران انہوں نے خواب میں دیکھا…کہ آپ اپنے گھر میں چل رہے ہیں اور ہر قدم پر ان کے پاؤں سے ایک خطرناک آگ کا شعلہ نکلتا ہے، اور غائب ہو جا تا ہے، جونہی وہ گھر کی دہلیز سے با ہر آتے ہیں، یہ کیفیت غائب ہو جا تی ہے۔ اس نظارے سے انہیں سمجھ آئی کہ ان کا گھر آگ کا باعث ہے، لہٰذا وہ سچ کی تلاش میں گھر سے نکل کھڑے ہو ئے۔

حق کی تلاش میں سر گردانی

مہر سنگھ گاؤں کے گرد جنگل میں لاہور جانے والے راستے پرپا پیادہ چل پڑے، لاہور اس وقت سیاسی، سماجی اور کئی اسلامی اداروں کی وجہ سے مشہور و معروف تھا۔ انہیں رستے میں طرح طرح کے مصائب کا سامنا کر نا پڑا۔ جنگلی جانوروں بھیڑیوں، سانپوں وغیرہ کے خوف سے راتیں درختوں پر چڑھ کرگزار تے۔ آندھیوں، بارشوں کا مقابلہ کرتے۔ ان کے دل میں کئی بار وسوسہ پیدا ہوا، کیامیں نے اس تگ و دَو میں محبت کر نے والے والدین، بھائی بہنوں، اور گھر کے سکون کو چھوڑکراچھا کیا ہے۔ کیا میں یہ سب کو شش صحیح سمت میں کرر ہا ہوں؟ ناگہاں ان وسوسوں میں گھرے مہر سنگھ نے ایک رات پُرشوکت آواز میں فارسی زبان میں سنا…کس نہ دیدم گم شُد از راہِ راست! ( میں نے کسی کو جو راہ راست کی تلاش میں ہو کبھی تباہ ہو تے نہیں دیکھا!)، اس سے مہر سنگھ کو اطمینان ہوا، اور وہ ایک نئے ولولے اور یقین کے ساتھ حق کی تلاش میں تیز قدم ہو گئے!

شرقپور میں

جب مہر سنگھ لاہور سے بیس میل واقع قصبے شرقپور پہنچے تو ایک مسجد میں مولوی صاحب سے ملے، انہیں اپنی ذہنی الجھن بتا کر اسلام قبول کرنے کا اظہار کیا، اور مدد چا ہی۔ جمعہ کا دن تھا، مولوی صاحب مہر سنگھ سے مہر بانی اور شفقت سے پیش آئے اور انہیں کیس کٹوا کر، نہا دھوکر ان کے ساتھ جمعہ کی نماز میں شامل ہونے کو کہا، اور ہدایت کی کہ نمازکے بعد نمازیوں سے امداد کی اپیل کریں۔ لیکن مولوی صاحب کے کہنے کے برعکس مہر سنگھ نے نماز کے بعد لو گوں سے امداد کی درخواست نہ کی۔ جس سے مولوی ناراض ہو گیا۔ البتہ کچھ لوگوں نے مہر سنگھ کو کچھ کھانا کھلا دیا۔

قبولیتِ احمدیت

مہر سنگھ نے قصبے میں چھوٹا موٹا کام کر نا شروع کر دیا، ساتھ ہی اردو اور عربی پڑھنا شروع کر دی، اسلام سے متعلق مزید مطا لعہ کر تے رہے۔ تین مہینے گزر گئے۔ علم کی تلاش میں لاہور پہنچے۔ جہاں انہیں قادیان میں امام مہدیؑ کے ظہور کی خبر ملی۔ 1889ءمیں قادیان پہنچے۔ کچھ دن حضرت مسیحِ موعودؑ کے ساتھ نمازیں پڑھیں، حضورؑ سے ملاقات کے وقت کچھ سوالات کیے جن کا حضورؑ نے جواب دیا۔ جب مہر سنگھ نے بیعت کی درخواست کی تو حضورؑ نے انہیں اسلام سے متعلق مزید علم حاصل کرنے اور سوچ بچار کرنے کے لیے کہا اورانہیں حضرت مولوی نورالدین صا حبؓ کے سپرد کیا۔ چند ہفتوں کے بعد حضورؑ نے بیعت لی اور مہر سنگھ اب عبدالرحمٰنؓ بن گئے۔ حضورؑ نے انہیں حضرت مولانا نورالدین صاحبؓ کے سپرد مزید تعلیم کے لیے کیا۔ حضرت مولوی نور الدین صاحبؓ حضرت عبدالرحمٰن صاحبؓ کو اپنے ساتھ بھیرہ ( ضلع شاہپور) لے گئے، اور وہاں سکول میں داخل کرا دیا۔ انہیں چار روپے ہر ماہ وظیفہ ملتا، جس کے اندر وہ بمشکل اپنی پڑھائی اور خوراک کا انتظام کرپاتے۔ کچھ عرصے بعد جب انہوں نے ایک کُشتی کے مقابلے میں ایک طالبعلم کی ٹانگ کو توڑ دیا تو جرمانےمیں وظیفہ ملنا بند ہو گیا۔ ان سخت دنوں میں کسی نہ کسی طریقے سے آٹھویں کا امتحان پاس کر لیا۔ کیونکہ بھیرہ میں میٹرک کی کلاسیں نہیں تھیں، اس لیے حضورؑ کی اجازت سے قادیان آگئے۔ قادیان میں پرائیویٹ طور پر میٹرک کا امتحان پاس کیا۔ وہ اکثر اپناوقت تبلیغ ِاسلام میں، مضامین لکھنے، تقاریر، اور مناظروں میں خرچ کرتے۔ تبلیغ کے لیے ارد گرد کے علاقے میں شہروں اور قصبوں کےدورے کرتے رہتے۔ حضور علیہ السلام کے بعض سفروں پر آپؓ کو ہمرکابی کا شرف بھی ملا۔

آپؓ نے اس دوران پنجاب یو نیورسٹی سے بی اے پاس کر لیا ( جو اُس وقت بڑا مشکل خیال کیا جا تا تھا)۔ اُن کے ساتھ حضرت ڈپٹی محمد شریف صاحبؓ نے بھی بی اے کی ڈگری لی تھی۔ دو نوں اصحابؓ نے اپنے آپ کو حضورؑ کی خدمت میں پیش کیا۔ حضورؑ نے حضرت ڈپٹی محمد شریف صاحبؓ کو سِول سروس جائن کرنے، جبکہ میرے والد صاحبؓ کو شعبہ تعلیم میں رہنے کو کہا۔ حضرت ڈپٹی صاحبؓ نے انڈین سول سروس میں کامیابیاں حاصل کیں چنانچہ آپؓ کولیکٹر اور سیشن جج رہے۔

حضرت ماسٹر عبد الرحمٰن صاحبؓ اس دوران صاحبزادہ مرزا بشیرالدین محمود احمد صاحب رضی اللہ، حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمدصاحبؓ اور دوسرے افرادِ خاندان کے اتالیق مقرر ہوئے۔ میرے والد صاحب بتاتے تھےکہ وہ صاحبزادگان کو مسجد میں اس دیوار کے سایہ میں بیٹھ کر انگریزی، حساب اور عربی پڑھاتے جو مسجد اور پرائیویٹ کوارٹرز کے درمیان تھی۔ ایک دن جب میں پڑھا رہا تھا تو چھوٹا دروازہ کُھلا، اور ایک چابیوں کا گچھا میرے سر سے ٹکرایا، اور جب میں نے سر اُٹھا یا تو میں نے دروازے سےحضورؑ کو مسجد میں داخل ہو تے دیکھا۔ آپؑ نے پو چھا عبدالرحمٰن آپ یہاں کیا کر رہے ہیں؟ میں نے جواب دیا حضور! میں صاحبزاد گان کی ان کی پڑھائی میں مدد کر رہا ہوں۔ آپ سے درخواست ہے دعا کریں میں اپنے فرض کو خوش اسلوبی سے نبا ہوں۔

حضورؑ نے جواب دیا، عبدالرحمٰن یاد رکھو ان بچوں نے دنیا کی راہ نمائی کر نی ہے اس لیے اپنی تمام کو شش سے انہیں پڑھاؤ۔ میرے والد صاحب نے جواب دیا: میں اپنی پوری کوشش کرر ہا ہوں، اور وعدہ کر تا ہوں کہ میں محنت کرتا رہوں گا، اس لیے مجھے حضور کی دعاؤں کی ضرورت ہے۔ اس پر حضورؑ مسکرائے اور پنجابی میں فرمایا:

’’عبدالرحمٰن دُ عاواں جنیاں مرضی!‘‘

مجھے یقین ہے اس وقت سے حضور کی دعائیں ہمارے خاندان کے حق میں پوری ہو رہی ہیں الحمدللہ۔

ابا جان کی تالیفات

ابا جان نے اپنے اتالیقی کے زمانے میں کئی کتب انگریزی اور اُردو میں مختلف مو ضوعات پر لکھیں: انگریزی گرامر، انگریزی زبان دانی، تاریخ ِبرطانیہ، جو اُس وقت طلباء میں بہت مقبول ہو ئیں۔ اس کے علاوہ آپ اخبارات میں اپنے روحانی اور مذہبی تجربات پر لکھتے رہتے۔ آپؓ نے اپنی سوانح پر تین جلدوں میں بعنوان ’مَیں مسلمان ہو گیا ‘کتاب لکھی جو بہت مشہور ہو ئی۔ مجموعی طور پر 43کتب لکھیں جن میں سے پارٹیشن کے وقت ایک یا دوکتب بچیں۔ مجھے قادیان میں اپنا بڑا مکان یاد ہے جس میں میرے والدصاحب کی بڑی لائبریری تھی۔ اور جسے مفسدوں نے جلا کر راکھ کر دیا تھا۔

قادیان میں آپ کی مصروفیات

قادیان میں آپؓ ہائی سکول میں سینئر جماعتوں کو پڑھاتے رہے، اس طرح قادیان میں آپ کے لا تعداد شاگرد تھے۔ اکثر لوگ جو آپ کے شاگرد رہے، آپ سے متعلق پُرلطف روحانی لطائف سنایا کر تے تھے۔ ان کے کئی شاگردوں نے معجزانہ کامیابیاں حاصل کیں جن کا تذکرہ مولانا دوست محمد شاہد صاحب مرحوم نے ایک مضمون میں کیا تھا۔ مولانا دوست محمد صاحب خود بھی آپ کے شاگردوں میں شامل تھے۔ آپؓ کی استادی اور تبلیغی مہمات مشہور تھیں۔

جزائر ایڈیمان اور نکوبار میں

کرنل ڈگلس جو حضرت مسیح موعودؑ پر ایک مقدمے میں امرتسر میں جج تھا، جب جزائر ایڈیمان اور نکوبار کا گورنر بنا، اس کی خواہش تھی کہ وہ اپنے علا قے میں ایک اچھا سکول قائم کرے، اس کے پیشِ نظر جماعت احمدیہ کا تعلیمی سسٹم تھا۔ اس نے اس سلسلے میں جماعت سے رابطہ کیا، حضرت خلیفۃ المسیح الاوّلؓ نے یہ معاملہ میرے والد صا حبؓ کے سپرد کر دیا جنہوں نے وقف کے جذبے سے اس پراجیکٹ پر کا م کیا، اور کچھ ہی عرصے میں کئی معیاری تعلیمی ادارے ان جزائر میں قائم کر دیے۔ آپؓ نے محسوس کیاکہ روحانی پیاسوں کے لیے بھی اس علاقے میں جسے دشوار گزار ہو نےکی وجہ سے کالا پانی کہا جاتا تھا، کوئی ادارہ ہو۔ چنانچہ آپؓ کی تبلیغی کوششوں سے وہاں جلدجماعت قائم ہو گئی اور ایک مسجد تعمیر ہو ئی۔

’’بَسرام کو دیا گیا‘‘

حضرت ابا جانؓ کے خداتعالیٰ پر یقینِ کامل کےثبوت میں ایک ہندو ماسٹر بسرام کا قصہ ہے، جو آپ کے ایک سکول میں پڑھاتا تھا۔ اس کا اکلوتا بیٹا اسی سکول میں پڑھتا تھا۔ بسرام اکثر میرے والد صاحبؓ سے دعا کی درخواست کیا کر تا تھا کہ اس کا اکلوتا بیٹا کلکتہ میں ا علیٰ تعلیم کے لیے وظیفہ حاصل کر نے میں کامیاب ہو جائے، جس کے لیے اُس نے آخری امتحان میں اوّل آنا تھا۔ چنانچہ میرے والد صاحبؓ نے اس کی پڑھائی پر نظر رکھنے کے علاوہ اُس کے لیے دعا کی۔ اور اس کے والد کو یقین دلایاکہ اس کا بیٹا ضرور اپنے مقصد میں کامیاب ہو گا۔

امتحان سے پہلے صبح تہجد میں جب میرے والدصاحبؓ دعا کر رہے تھے تو ایک زور دار آواز آئی ’’بَسرام کو دیا گیا!‘‘ اگلی صبح والد صاحب نے بسرام کو بلاکر خوشخبری دی کہ خدا نے انہیں اطلاع دی ہے کہ اس کے بیٹے کی مدد کی جا ئے گی، لیکن اُسے خدا کے حضور دعا کرتے رہنا چاہیے۔

جب سال کےآخر میں نتیجہ نکلا تو کسی اور طالب علم نے سب سے زیادہ نمبر حاصل کیے تھے۔ اس سے بسرام بہت بددل ہوا، اور اس کے بیٹے نے گھر سے نکلنا چھوڑ دیا۔ بسرام نے اپنے بیٹے کے کچھ نمبروں سے وظیفہ حاصل نہ کرسکنے پر والد صاحبؓ سے احتجاج کیا، کیونکہ اُس کے لیے خدا کا وعدہ تھا کہ وہ یہ سکالر شپ حاصل کرے گا۔ میرے والد صاحب نے اُسے بتایا، جہاں تک خدائی وعدے کا تعلق ہے، وہ سچا ہے، لیکن ایسا کیوں ہوا، اس کے بارے میں کچھ نہیں کہا جاسکتا، بہر حال مجھے یقین ہے وظیفہ تمہارے بیٹے کو ہی ملے گا۔

با و جود اس یقین دہانی کے بسرام کا رویہ میرے والد صاحبؓ کی طرف سردہو گیا۔ اُس کا جب والد صاحبؓ سے سامنا ہو تا تو سر ہلا کر کنی کترا جا تا۔ اور اس کا بیٹا پریشان حال سکول کے اردگرد میدانوں میں پھرتا رہتا۔ جب وہ والد صاحب سے ملتا، آپ اسے تسلی دیتے کہ اللہ کا وعدہ غلط نہیں ہو سکتا، اس کی جلد ہی مدد کی جائے گی۔ کچھ ہفتوں کے بعد میرے والد صاحبؓ کو اطلاع ملی کہ پورٹ بلیئر والےلڑکے کو کلکتے کا موسم راس نہیں آیا، اور اس کی جان کو خطرے کے باعث اسے واپس جانے کوکہا گیا ہے۔ اس طرح اُس کے بعد زیادہ نمبر لینے والےلڑکے ( یعنی بسرام کے لڑکے) کو داخلہ مل گیا۔ جب یہ خبر بسرام کو ملی تو وہ مٹھا ئی لےکر ابا جی کا شکریہ ادا کرنے آیا۔ اس طرح خدائی وعدبسرام کو دیا جائے گابڑی شان سے پورا ہوا، میرے والدصاحبؓ نے اس اطلاع پر فوری سجدہ شکر ادا کیا۔ کچھ ہی دنوں میں بسرام کے لڑکے کو اس کے داخلے کا خط ملا، اور وہ کلکتے روانہ ہو گیا۔

(نوٹ: حضرت ماسٹر عبدالرحمٰن صاحب رضی اللہ عنہ کی زندگی کے مفصل حالات کے لیے اصحابِ احمد کی جلد نمبر سات ملاحظہ ہو۔)

٭…٭…٭

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

For security, use of Google's reCAPTCHA service is required which is subject to the Google Privacy Policy and Terms of Use.

I agree to these terms.

Back to top button
Close