اطلاعات و اعلانات

اطلاعات و اعلانات

سانحہ ہائے ارتحال

٭…فائزہ نواز صاحبہ ولد نواز احمد صاحب آف برسلز (بیلجیم) تحریر کرتی ہیں کہ میرے انکل چودھری عصمت اللہ صاحب رمضان کے مہینے میں بعمر تراسی سال قضائے الٰہی سے وفات پاگئے۔ مرحوم نہایت سادہ طبیعت کے مالک، پانچ وقت کے نمازی اور دینی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے تھے۔ پسماندگان میں اہلیہ اور چھ بیٹے سوگوار چھوڑے ہیں۔کورونا کی پابندیوں کے سبب ان کے پانچ بیٹے جنازے میں شامل نہ ہوسکے۔

اسی طرح میری پھوپھی ناصرہ پروین صاحبہ بھی 3مئی کو شیخوپورہ ،پاکستان میں اکسٹھ سال کی عمر میں وفات پاگئیں۔ انہیں جوانی سے مرگی کا مرض لاحق تھا۔ مرحومہ تہجدگزار اور باقاعدگی سے قرآن کریم کی تلاوت کرنے والی پردہ دار خاتون تھیں۔ آپ اللہ کے فضل سے موصیہ تھیں۔آپ کی تدفین بہشتی مقبرہ ربوہ میں ہوئی۔

6؍جون کو خاکسار کے والد نواز احمد صاحب کی تائی فرخندہ بی بی صاحبہ زوجہ ظفراللہ صاحب اٹھاسی سال کی عمر میں وفات پاگئیں۔ گاؤں میں ان کی تدفین کے موقع پر معاندین نے بہت فساد کیا اور تدفین بہت مشکل سے ہوئی۔ ہمارے تین عزیزوں پر دہشت گردی کے مقدمے بھی قائم کیے گئے۔ مرحومہ نے شوہر، پانچ بیٹیاں اور ایک بیٹا سوگوار چھوڑے ہیں۔

10؍ جون کو میری دوسری پھوپھی راشدہ پروین صاحبہ آف سٹھیالی اٹھاون سال کی عمر میں ربوہ میں وفات پاگئیں۔ آپ موصیہ تھیں۔ بہت صابر، مہمان نواز اور خوش اخلاق خاتون تھیں۔ نمازوں کے پابند اور غریبوں کی مدد کرنے والی تھیں۔ مرحومہ ٹیچر تھیں۔ پسماندگان میں تین بیٹیاں اور شوہر چھوڑے ہیں۔

احبابِ جماعت سے دعا کی درخواست ہے کہ اللہ تعالیٰ تمام مرحومین کی مغفرت فرمائے اور پسماندگان کو صبر جمیل عطا فرمائے نیز ہمارے گاؤں میں احمدیوں کے خلاف جو تکلیف دہ حالات پیدا کیے جارہے ہیں، اُن کو امن میں بدل دے۔ آمین

٭…٭…٭

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

For security, use of Google's reCAPTCHA service is required which is subject to the Google Privacy Policy and Terms of Use.

I agree to these terms.

Back to top button
Close