متفرق مضامین

قرآن کریم میں بنی اسماعیل کا تذکرہ

(حافظ مزمل شاہد۔ مربی سلسلہ کانگو کنشاسا)

جب ہم قرآن پاک کا مطالعہ کرتے ہیں تو ہمیں معلوم ہو جاتا ہے کہ اس بابرکت کتاب میں حضرت اسماعیل علیہ السلام کی قربانیوں کا بہت تفصیل سے ذکر فرمایا ہے اور یہ بھی تفصیل سے ذکر فرمایا ہے کہ عظیم الشان رسول جس نے ساری دنیا کی اصلاح کے لیے مبعوث ہونا تھا وہ ہمارے نبی پاک حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں اور انہوں نے بنی اسماعیل میں سے ہی ہونا تھا۔

چنانچہ اللہ تعالیٰ سورۃالبقرۃ آیات 128تا 130 میں حضرت ابراہیمؑ کے ساتھ ساتھ حضرت اسماعیل علیہ السلام کا ذکر خانہ کعبہ کی تعمیر کے وقت فرماتا ہے:

وَ اِذۡ یَرۡفَعُ اِبۡرٰہٖمُ الۡقَوَاعِدَ مِنَ الۡبَیۡتِ وَ اِسۡمٰعِیۡلُؕ رَبَّنَا تَقَبَّلۡ مِنَّا ؕ اِنَّکَ اَنۡتَ السَّمِیۡعُ الۡعَلِیۡمُ۔ رَبَّنَا وَاجۡعَلۡنَا مُسۡلِمَیۡنِ لَکَ وَ مِنۡ ذُرِّیَّتِنَاۤ اُمَّۃً مُّسۡلِمَۃً لَّکَ ۪ وَ اَرِنَا مَنَاسِکَنَا وَ تُبۡ عَلَیۡنَا ۚ اِنَّکَ اَنۡتَ التَّوَّابُ الرَّحِیۡمُ۔ رَبَّنَا وَ ابۡعَثۡ فِیۡہِمۡ رَسُوۡلًا مِّنۡہُمۡ یَتۡلُوۡا عَلَیۡہِمۡ اٰیٰتِکَ وَ یُعَلِّمُہُمُ الۡکِتٰبَ وَ الۡحِکۡمَۃَ وَ یُزَکِّیۡہِمۡ ؕ اِنَّکَ اَنۡتَ الۡعَزِیۡزُ الۡحَکِیۡمُ۔

اور جب ابراہیم اُس خاص گھر کی بنیادوں کو اُستوار کر رہا تھا اور اسماعیل بھی (یہ دعا کرتے ہوئے) کہ اے ہمارے ربّ! ہماری طرف سے قبول کر لے۔ یقیناً تو ہی بہت سننے والا (اور) دائمی علم رکھنے والا ہے۔ اور اے ہمارے ربّ! ہمیں اپنے دو فرمانبردار بندے بنادے اور ہماری ذریّت میں سے بھی اپنی ایک فرمانبردار اُمّت (پیدا کردے)۔ اور ہمیں اپنی عبادتوں اور قربانیوں کے طریق سکھا اور ہم پر توبہ قبول کرتے ہوئے جُھک جا۔ یقیناً تُو ہی بہت توبہ قبول کرنے والا (اور) بار بار رحم کرنے والا ہے۔ اور اے ہمارے ربّ! تو ان میں انہی میں سے ایک عظیم رسول مبعوث کر جو ان پر تیری آیات کی تلاوت کرے اور انہیں کتاب کی تعلیم دے اور (اس کی) حکمت بھی سکھائے اور اُن کا تزکیہ کر دے۔ یقینا ًتُو ہی کامل غلبہ والا (اور) حکمت والا ہے۔

ان آیات میں واضح طور پر خانہ کعبہ کی تعمیر نو میں حضرت اسماعیل علیہ السلام کی اس عظیم الشان خدمت کا بیان کیا گیا ہے جو انہوں نے اپنے والد حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ساتھ ادا کی یعنی خانہ کعبہ کی تعمیر نو۔ ان آیات میں ان بزرگوں کی دعا ؤں کی طرف توجہ بھی عیاں ہوتی ہے کہ قربانی کرنے کے بعد انتہائی عاجزی کے ساتھ خدا کے حضور اپنی اس خدمت کے قبول کرنے کے لیے درخواست کر رہے ہیں۔ پھر ان آیات میں واضح طور پر حضرت ابراہیم علیہ اسلام حضرت اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے ایک عظیم الشان رسول کی بعثت کی دعا کر رہے ہیں اور سوۃ البقرۃ آیت 152میں اس دعا کی قبولیت کے نشان کے طور پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بنی اسماعیل میں سے مبعوث ہونے کا ذکر کیا گیا ہے، چنانچہ اللہ تعالی فرماتا ہے:

کَمَاۤ اَرۡسَلۡنَا فِیۡکُمۡ رَسُوۡلًا مِّنۡکُمۡ یَتۡلُوۡا عَلَیۡکُمۡ اٰیٰتِنَا وَ یُزَکِّیۡکُمۡ وَ یُعَلِّمُکُمُ الۡکِتٰبَ وَ الۡحِکۡمَۃَ وَ یُعَلِّمُکُمۡ مَّا لَمۡ تَکُوۡنُوۡا تَعۡلَمُوۡنَ۔ (البقرۃ:152)

(اسی طرح) جس طرح ہم نے تم میں تم ہی میں سے ایک رسول بھیجا ہے جو تمہیں ہماری آیات پڑھ کر سناتا ہے اور تمہیں پاک کرتا ہے اور تمہیں کتاب اور حکمت سکھاتا ہے اور تمہیں وہ کچھ سکھاتا ہے جو تم (پہلے) نہیں جانتے تھے۔

اس آیت میں اللہ تعالیٰ اس دعا کی قبولیت کا ذکر فرما تا ہے جو کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے بنی اسماعیل میں سے ایک عظیم الشان رسول کے مبعوث ہونے کے متعلق کی تھی۔ اور بتاتا ہے کہ اس دعا کے مطابق اللہ تعالیٰ نے بنی اسماعیل میں سے ہی وہ عظیم الشان رسول مبعوث فرمادیا۔

پھر ہم سورت الصافات کا مطالعہ کرتے ہیں تو اس میں بھی حضرت اسماعیل علیہ السلام کی عظیم قربانی کا ذکر پاتے ہیں اور یہ بھی ذکر ملتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے باپ بیٹے دونوں کی یہ قربانی قبول فرمائی اور ان کی قربانی کو قبول کر کے ان عظیم الشان قربانیوں کا سلسلہ بھی جاری فرمایا جو صحابہ کرام نے دیں۔

چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

فَلَمَّا بَلَغَ مَعَہُ السَّعۡیَ قَالَ یٰبُنَیَّ اِنِّیۡۤ اَرٰی فِی الۡمَنَامِ اَنِّیۡۤ اَذۡبَحُکَ فَانۡظُرۡ مَاذَا تَرٰی ؕ قَالَ یٰۤاَبَتِ افۡعَلۡ مَا تُؤۡمَرُ ۫ سَتَجِدُنِیۡۤ اِنۡ شَآءَ اللّٰہُ مِنَ الصّٰبِرِیۡنَ۔ فَلَمَّاۤ اَسۡلَمَا وَ تَلَّہٗ لِلۡجَبِیۡنِ۔ وَ نَادَیۡنٰہُ اَنۡ یّٰۤاِبۡرٰہِیۡمُ۔ قَدۡ صَدَّقۡتَ الرُّءۡیَا ۚ اِنَّا کَذٰلِکَ نَجۡزِی الۡمُحۡسِنِیۡنَ۔ اِنَّ ہٰذَا لَہُوَ الۡبَلٰٓـؤُا الۡمُبِیۡنُ۔ وَ فَدَیۡنٰہُ بِذِبۡحٍ عَظِیۡمٍ۔ (الصافات:103تا108)

پھر جب وہ لڑکا اس کے ساتھ تیز چلنے کے قابل ہو گیا تو اس نے کہا اے میرے بیٹے! میں نے تجھے خواب میں دیکھا ہے کہ (گویا) میں تجھے ذبح کر رہا ہوں۔ پس تو فیصلہ کر کہ اس میں تیری کیا رائے ہے۔ (اس وقت بیٹے نے کہا) اے میرے باپ جو کچھ تجھے خدا کہتا ہے وہی کر تو انشاء اللہ مجھے اپنے ایمان پر قائم رہنے والا دیکھے گا۔ پھر جب وہ دونوں فرمانبرداری پر آمادہ ہو گئے اور اس (یعنی باپ) نے اس (یعنی رضا مندی ظاہر کرنے والے بیٹے) کو ماتھے کے بل گرا لیا۔ اور ہم نے اس (یعنی ابراہیم) کو پکار کر کہا’ اے ابراہیم!تو اپنی رؤیا پوری کر چکا’ ہم اسی طرح محسنوں کو بدلہ دیا کرتے ہیں۔

یہ یقیناًایک کھلی کھلی آزمائش تھی۔ اور ہم نے اس (یعنی اسماعیل) کا فدیہ ایک بڑی قربانی کے ذریعہ سے دے دیا۔

ان آیات میں واضح طور پر حضرت اسماعیلؑ کی اس عظیم الشان قربانی کا ذکر کیا جا رہا ہے اور اللہ تعالیٰ بتا رہا ہے کہ یہ ایسی قربانی تھی کہ نہ صرف اللہ تعالیٰ نے جاری فرمادی بلکہ ہمیشہ کے لیے اس قربانی کی عظمت مسلمانوں میں قائم رکھنے کے لیے اس کے فدیہ کے طور پر صحابہ کرام کے گروہ اول اور گروہ ثانی جو کہ آخَرِیْنَ مِنْہُمْکا گروہ ہے میں ایک عظیم الشان سلسلہ قربانیوں کا جاری فرمایا جو آج بھی جاری ہے۔ اسی قربانی کی یاد میں عید الاضحی بھی مسلمانوں میں منائی جاتی ہے۔ بس قرآن پاک تو بار بار بنی اسماعیل کا ذکر فرماتا ہے اور یہ ذکر بہت ہی تعریفی انداز میں ہمیں نظر آتا ہے۔

پھر اللہ تعالیٰ سورت ابراہیم میں فرماتا ہے:

رَبَّنَاۤ اِنِّیۡۤ اَسۡکَنۡتُ مِنۡ ذُرِّیَّتِیۡ بِوَادٍ غَیۡرِ ذِیۡ زَرۡعٍ عِنۡدَ بَیۡتِکَ الۡمُحَرَّمِ ۙ رَبَّنَا لِیُـقِیۡمُوا الصَّلٰوۃَ فَاجۡعَلۡ اَفۡئِدَۃً مِّنَ النَّاسِ تَہۡوِیۡۤ اِلَیۡہِمۡ وَارۡ زُقۡہُمۡ مِّنَ الثَّمَرٰتِ لَعَلَّہُمۡ یَشۡکُرُوۡنَ۔ (ابراہیم:38)

اے ہمارے رب! میں نے اپنی اولاد میں سے بعض کو تیرے معزز گھر کے پاس ایک ایسی وادی میں جس میں کوئی کھیتی نہیں ہوتی لا بسایا ہے اے میرے رب! (میں نے ایسا اس لئے کیا ہے) تا وہ عمدگی سے نماز ادا کریں۔ پس تو لوگوں کے دل ان کی طرف جھکا دے اور انہیں مختلف پھلوں سے رزق دیتا رہ تا کہ وہ (ہمیشہ تیرا) شکر کرتے رہیں۔

اس آیت میں اس واقعے کا ذکر کیا گیا ہے جب حضرت ابراہیم علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے حکم سے حضرت اسماعیل اور حضرت ہاجرہ کو مکہ کی بے آب و گیاہ وادی میں چھوڑ کر آئے اور آپؑ نے ان کے لیے خدا تعالیٰ کے حضور دعا کی کہ اللہ خود ان کا نگران ہو ان کی حفاظت فرمائے اور لوگوں کے دل ان کی طرف مائل کردے۔ چنانچہ یہ دعا ایسے مقبول ہوئی کہ اللہ تعالیٰ نے بنی اسماعیل میں سے حضرت اقدس محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم جیسا عظیم الشان رسول مبعوث کیا اور مکہ مکرمہ ایسا مرجع خلائق ہوا کہ ہر سال لاکھوں لوگ یہاں فریضہ حج کی ادائیگی کے لیے آتے ہیں۔

پھر ہم دیکھتے ہیں کہ قرآن پاک میں بنی اسماعیل میں سے ایک عظیم رسول کی بعثت کا اس لیے بھی ذکر کیا گیا ہے کہ بائبل میں یہ واضح طور پر پیشگوئی کی گئی تھی کہ وہ نبی جو موسیٰ کی مانند ہوگا وہ بنی اسرائیل سے نہیں بلکہ ان کے بھائیوں بنی اسماعیل سے ہوگا ۔چنانچہ بائبل میں لکھا ہے:

’’خداوند تیرا خدا تیرےدرمیان سے تیرے ہی بھائیوں میں سے تیری مانند ایک نبی برپا کرے گا۔ تم اسی طرف کان دھریو‘‘

(استثنا باب 18آیت 15)

پھر بائبل میں لکھا ہے:

’’میں ان کے لیے ان کے بھائیوں میں سے تجھ سا ایک نبی برپا کروں گااور اپنا کلام اس کے منہ میں ڈالوں گااور جو کچھ میں اسے فرماؤں گا وہ سب ان سے کہے گا اور ایسا ہوگا کہ جو کوئی میری باتوں کو جنہیں وہ میرا نام لے کر کہے گا نہ سنے گا تو میں اس کا حساب اس سے لوں گا۔ ‘‘

(استثنا باب 18آیت 17تا 19)

پھر ہم دیکھتے ہیں کہ بائبل نے یہ بھی تعیین کردی کہ وہ علاقہ کونسا ہوگا جس میں نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت ہوگی:

’’خدا وند سینا سے آیا شعیر سے ان کے لیے جلوہ گر ہوا 10 ہزار قدوسیوں کے ساتھ آیااور اس کے داہنے ہاتھ میں ان کے لیے آتشیں شریعت تھی۔ ‘‘(استثنا باب 33آیت2)

بائبل نے فاران کا لفظ استعمال کر کے ہمیں بتا دیا کہ بنی اسماعیل عرب میں پھلیں پھولیں گے اور وہیں اس عظیم رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت ہوگی۔

یاد رکھنا چاہیے کہ قرآن پاک نے بائبل کی اس پیشگوئی کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت کے طور پر پیش کیا ہے۔ چنانچہ سورت مزمل آیت 15میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

اِنَّاۤ اَرۡسَلۡنَاۤ اِلَیۡکُمۡ رَسُوۡلًا ۬ۙ شَاہِدًا عَلَیۡکُمۡ کَمَاۤ اَرۡسَلۡنَاۤ اِلٰی فِرۡعَوۡنَ رَسُوۡلًا۔

یقیناً ہم نے تمہاری طرف ایک رسول بھیجا ہے جو تم پر نگران ہے جیسا کہ ہم نے فرعون کی طرف بھی ایک رسول بھیجا تھا۔

اس آیت میں واضح طور پر نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کو استثنا باب 18کی پیشگوئی کا مصداق ٹھہراتے ہوئے مثیل موسیٰؑ قرار دیا گیا ہے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں الٰہی نوشتوں میں مذکور تمام امور کو سمجھنے اور خاتم الکتب یعنی قرآنِ کریم کی بیان فرمودہ تمام تعلیمات کو سمجھنے اور ان پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

٭…٭…٭

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

For security, use of Google's reCAPTCHA service is required which is subject to the Google Privacy Policy and Terms of Use.

I agree to these terms.

Back to top button
Close