کلام امام الزمان علیہ الصلاۃ والسلام

جب تک کسی دُعا میں پوری روحانیت داخل نہ ہواور جس کے لئے دُعا کی گئی ہے اور جو دُعا کرتاہے ان میں استعداد قریبہ پیدا نہ ہو تب تک توقع اثرِدُعاامید موہوم ہے

سید صاحب[سرسیّد احمد خان]کا یہ قول ہے کہ گویاقرآن کریم میں خداتعالیٰ نے دعائوں کے قبول کرنے کا وعدہ فرمایا ہے حالانکہ تمام دعائیں قبول نہیں ہوتیں۔ یہ اُن کی سخت غلط فہمی ہے۔ اور یہ آیت

اُدْعُوْنِیْ اَسْتَجِبْ لَکُمْ(المومن: 61)

اُن کے مدّعاکو کچھ بھی فائدہ نہیں پہنچا سکتی کیونکہ یہ دعا جو آیت

اُدْعُوْنِیْ اَسْتَجِبْ لَکُمْ (المومن: 61)

میں بطور امر کے بجا لانے کے لئے فرمائی گئی ہے۔ اس سے مراد معمولی دعائیں نہیں ہیں بلکہ وہ عبادت ہے جو انسان پر فرض کی گئی ہے۔ کیونکہ امر کا صیغہ یہاں فرضیت پر دلالت کرتاہے اور ظاہر ہے کہ کُل دعائیں فرض میں داخل نہیں ہیں بلکہ بعض جگہ اللہ جل شانہٗ نے صابرین کی تعریف کی ہے جو

اِنَّا لِلّٰہِ

پر کفایت کرتے ہیں۔ اور اس دعا کی فرضیت پر بڑا قرینہ یہ ہے کہ صرف امر پر ہی کفایت نہیں کی گئی بلکہ ا س کو عبادت کے لفظ سے یاد کر کے بحالتِ نافرمانی عذاب ِجہنّم کی وعید اس کے ساتھ لگا دی گئی ہے۔ اور ظاہر ہے کہ دوسری دعائوں میں یہ وعید نہیں بلکہ بعض اوقات انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام کو دُعا مانگنے پر زجر و توبیخ کی گئی ہے۔ چنانچہ

اِنِّیٓ اَعِظُکَ اَنْ تَکُوْنَ مِنَ الْجٰہِلِیْنَ (ھود: 47)

اس پر شاہدہے۔ اس سے صاف ظاہر ہے کہ اگر ہر دعا عبادت ہوتی توحضرت نوحؑ کو

لَا تَسْئَلْنِ

کا تازیانہ کیوں لگایا جاتا ہے۔ اور بعض اوقات اولیاء اور انبیاء دعا کرنے کو سوء ادب سمجھتے رہے ہیں اور صلحاء نے ایسی دعائوں میں استفتاء قلب پر عمل کیا ہے۔ یعنی اگر مصیبت کے وقت دل نے دعا کرنے کا فتویٰ دیاتو دعا کی طرف متوجہ ہوئے اور اگر صبر کے لئے فتویٰ دیا تو پھر صبر کیا اور دعا سے منہ پھیر لیا۔ ماسوا اس کے اللہ تعالیٰ نے دوسری دعائوں میں قبول کرنے کا وعدہ نہیں کیا بلکہ صاف فرما دیا ہے کہ چاہوں تو قبول کروں اور چاہوں تو ردّکروں جیسا کہ یہ آیت قرآن کی صاف بتلا رہی ہے اور وہ یہ ہے

بَلْ اِیَّاہُ تَدْعُوْنَ فَیَکْشِفُ مَا تَدْعُوْنَ اِلَیْہِ اِنْ شَآءَ(الانعام: 42)۔

اور اگر ہم تنزلاً مان بھی لیں کہ اس مقام میں لفظ

اُدْعُوْا

سے عام طورپر دُعا ہی مراد ہے تو ہم اس بات کے ماننے سے چار ہ نہیں دیکھتے کہ یہاں دُعا سے وہ دُعا مراد ہے جوبجمیع شرائط ہو اور تمام شرائط کو جمع کرلینا انسان کے اختیار میں نہیں جب تک توفیق ازلی یاور نہ ہو۔ اور یہ بھی یاد رہے کہ دُعا کرنے میں صرف تضرّع کافی نہیں ہے بلکہ تقویٰ اور طہارت اور راست گوئی اور کامل یقین اور کامل محبت اور کامل توجہ اور یہ کہ جو شخص اپنے لئے دعا کرتا ہے یا جس کے لئے دعا کی گئی ہے اس کی دنیا اور آخرت کے لئے اس بات کا حاصل ہونا خلافِ مصلحت ِالٰہی بھی نہ ہو کیونکہ بسا اوقات دُعا میں اور شرائط تو سب جمع ہو جاتے ہیں مگر جس چیز کو مانگا گیاہے وہ عنداللہ سائل کے لئے خلافِ مصلحت ِالٰہی ہوتی ہے اور اس کے پورا کرنے میں خیر نہیں ہوتی۔ مثلاً اگر کسی ماں کا پیارا بچہ بہت ا لحاح اور رونے سے یہ چاہے کہ وہ آگ کا ٹکڑا یا سانپ کا بچہ اس کے ہاتھ میں پکڑا دے یا ا یک زہر جو بظاہر خوبصورت معلوم ہوتی ہے اس کو کھلا دے تو یہ سوال اس بچہ کا ہر گز اُس کی ماں پورا نہ کرے گی۔ اور اگر پورا کر دیوے اوراتفاقاً بچہ کی جان بچ جاوے لیکن کوئی عضو اس کا بے کار ہو جاوے تو بلوغ کے بعد وہ بچہ اپنی اس احمق والدہ کا سخت شاکی ہوگا۔ اور بجز اس کے اَور بھی کئی شرائط ہیں کہ جب تک وہ تمام جمع نہ ہو ں اُس وقت تک دُعا کو دُعا نہیں کہہ سکتے اور جب تک کسی دُعا میں پوری روحانیت داخل نہ ہواور جس کے لئے دُعا کی گئی ہے اور جو دُعا کرتاہے ان میں استعداد قریبہ پیدا نہ ہو تب تک توقع اثرِدُعاامید موہوم ہے۔ اور جب تک ارادہ ٔ الٰہی قبولیت دعا کے متعلق نہیں ہوتا تب تک یہ تمام شرائط جمع نہیں ہوتیں اور ہمتیں پوری توجہ سے قاصر رہتی ہیں۔

(برکات الدعا۔ روحانی خزائن جلد نمبر 6صفحہ12-14)

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

For security, use of Google's reCAPTCHA service is required which is subject to the Google Privacy Policy and Terms of Use.

I agree to these terms.

Back to top button
Close