متفرق مضامین

حیا کیا ہے؟ ایمان کا حصہ کیسے ہے؟ (قسط چہارم)

(درِ ثمین احمد۔ جرمنی)

عورت اور مرد کی پاکدامنی

اس بات سے تو ہم سب سو فیصد متفق ہیں کہ اسلام دنیا کے انسانوں کو ایک مکمل ضابطہ حیات مہیا کرتا ہے۔ انسانی زندگی کا کوئی سا پہلو ہو اس کے بارے میں واضح راہ نمائی قرآن کی صورت میں موجود ہے۔ اسلام انسانی زندگی کے دو پہلو یعنی انفرادی اور معاشرتی بیان کرتا ہے۔ اور معاشرے میں پاکدامنی کے قیام کی حفاظت کے بارے میں اسلام انسانی زندگی کے ان پہلوئوں میں پیش آمد ہ صورت حال کے مطابق تعلیم دیتا ہے اور ہر اس دروازے کو بند کرتا ہے جس سے شیطان کے داخلے کا ذرا سا بھی شائبہ ہو۔ اسلام کی پاکدامنی کی پاکیزہ تعلیم کے حوالے سے حضورانور ایدہ اللہ نے اپنے ایک خطبہ جمعہ میں احباب جماعت کو نصائح کرتے ہوئے فرمایا:

’’اب یہ جو غَضِّ بصر کاحکم ہے، پردے کاحکم ہے اور توبہ کرنے کا بھی حکم ہے، یہ سب احکام ہمارے فائدے کے لئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ اپنا پیار، اپنا قرب عطا فرمائے گا کہ اس کے احکامات پر عمل کیا۔ لیکن ساتھ ہی یہ بھی فرمایا کہ اس معاشرے میں، اس دنیا میں جہاں تم رہ رہے ہو، ان نیکیوں کی وجہ سے تمہاری پاکدامنی بھی ثابت ہو رہی ہوگی اور کوئی انگلی تم پریہ اشارہ کرتے ہوئے نہیں اٹھے گی کہ دیکھو یہ عورت یا مرد اخلاقی بے راہ روی کا شکار ہے، ان سے بچ کر رہو۔ اور یہ کہتے پھریں لوگ کہ خود بھی بچو اور اپنے بچوں کو بھی ان سے بچاؤ۔ نہیں بلکہ ہرجگہ اس نیکی کی وجہ سے ہمیں عزت کا مقام ملے گا۔ دیکھیں جب ہرقل بادشاہ نے ابوسفیان سے آنحضرتﷺ کی تعلیم کے بارہ میں پوچھا کہ کیا ان کی تعلیم ہے اور کیا ان کے عمل ہیں۔ تو باوجود دشمنی کے ابوسفیان نے اور بہت ساری باتوں کے علاوہ یہی جواب دیاکہ وہ پاکدامنی کی تعلیم دیتے ہیں۔ توہرقل نے اس کو جواب دیا کہ یہی ایک نبی کی صفت ہے۔

پھرمحمد بن سیرین سے روایت ہے کہ آنحضور صلی اللہ علیہ و سلم نے درج ذیل امور کی وصیت کی پھر ایک لمبی روایت بیان کی جس میں سے ایک وصیت یہ ہےکہ عفّت(یعنی پاکدامنی) اور سچائی، زنا اور کذب بیانی کے مقابلہ میں بہتر اور باقی رہنے والی ہے۔

(سنن دارقطنی، کتاب الوصایا، باب مایستحب بالوصیۃ من التشھدوالکلام)

تو پاکدامنی ایسی چیز ہے جوہمیشہ رہنے والی ہے اور جس میں ہو، اُس کا طرّہ ٔامتیاز ہوگی اور ہمیشہ ہر انگلی اس پر اس کی نیکی کی طرف اشارہ کرتےہوئےاٹھےگی۔

حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں کہ

’’…اس جگہ ہم بڑے دعویٰ کے ساتھ کہتے ہیں کہ یہ اعلیٰ تعلیم ان سب تدبیروں کے ساتھ جو قرآن شریف نے بیان فرمائی ہیں صرف اسلام ہی سے خاص ہے اور اس جگہ ایک نکتہ یاد رکھنے کے لائق ہے اور وہ یہ ہے کہ چونکہ انسان کی وہ طبعی حالت جو شہوات کا منبع ہے جس سے انسان بغیر کسی کامل تغیر کے الگ نہیں ہو سکتا یہی ہے کہ اس کے جذباتِ شہوت محل اور موقع پاکر جوش مارنے سے رہ نہیں سکتے یا یوں کہو کہ سخت خطرہ میں پڑ جاتے ہیں۔ اس لئے خدائے تعالیٰ نے ہمیں یہ تعلیم نہیں دی کہ ہم نامحرم عورتوں کو بلا تکلف دیکھ تو لیا کریں اور ان کی تمام زینتوں پر نظر ڈال لیں۔ اور ان کے تمام انداز ناچنا وغیرہ مشاہدہ کرلیں لیکن پاک نظر سے دیکھیں اور نہ یہ تعلیم ہمیں دی ہے کہ ہم ان بیگانہ جوان عورتوں کا گانا بجانا سن لیں اور ان کے حسن کے قصے بھی سنا کریں لیکن پاک خیال سے سنیں بلکہ ہمیں تاکید ہے کہ ہم نامحرم عورتوں کو اور ان کی زینت کی جگہ کو ہرگز نہ دیکھیں۔ نہ پاک نظر سے اور نہ ناپاک نظر سے۔ اور ان کی خوش الحانی کی آوازیں اور ان کے حسن کے قصے نہ سنیں۔ نہ پاک خیال سے اور نہ ناپاک خیال سے۔ بلکہ ہمیں چاہئے کہ ان کے سننے اور دیکھنے سے نفرت رکھیں جیسا کہ مردار سے، تا ٹھوکر نہ کھاویں۔ کیونکہ ضرور ہے کہ بے قیدی کی نظروں سے کسی وقت ٹھوکریں پیش آویں۔ سو چونکہ خدا تعالیٰ چاہتا ہے کہ ہماری آنکھیں اور دل اور ہمارے خطرات سب پاک رہیں اس لئے اس نے یہ اعلیٰ درجہ کی تعلیم فرمائی۔ اس میں کیا شک ہے کہ بے قیدی ٹھوکر کا موجب ہو جاتی ہے۔‘‘

(اسلامی اصول کی فلاسفی، روحانی خزائن جلد10 صفحہ343-344)

…پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں کہ

’’وہ جس کی زندگی ناپاکی اور گندے گناہوں سے ملوث ہے وہ ہمیشہ خوفزدہ رہتاہے اور مقابلہ نہیں کرسکتا۔ ایک صادق انسان کی طرح دلیری اور جرأت سے اپنی صداقت کا اظہار نہیں کر سکتا اور اپنی پاک دامنی کا ثبوت نہیں دے سکتا۔ دنیوی معاملات میں ہی غور کر کے دیکھ لو کہ کون ہے جس کو ذرا سی بھی خدا نے خوش حیثیتی عطا کی ہو اور اس کے حاسد نہ ہوں۔ ہر خوش حیثیت کے حاسد ضرورہو جاتے ہیں اور ساتھ ہی لگے رہتے ہیں۔ یہی حال دینی امور کا ہے۔ شیطان بھی اصلاح کا دشمن ہے۔ پس انسان کو چاہئے کہ اپناحساب صاف رکھے اور خدا سے معاملہ درست رکھے۔ خدا کو راضی کرے پھر کسی سے خوف نہ کھائے او ر نہ کسی کی پروا کرے۔ ایسے معاملات سے پرہیز کرے جن سے خود ہی مورد عذاب ہو جاوے مگر یہ سب کچھ بھی تائید غیبی اور توفیق الٰہی کے سوا نہیں ہو سکتا۔ صرف انسانی کوشش کچھ بنا نہیں سکتی جب تک خدا کا فضل شامل حال نہ ہو۔

خُلِقَ الْاِنْسَانُ ضَعِیْفًا (النساء:29)

انسان ناتواں ہے۔ غلطیوں سے پُر ہے۔ مشکلات چاروں طرف سے گھیرے ہوئے ہیں۔ پس دعا کرنی چاہئے کہ اللہ تعالیٰ نیکی کی توفیق عطا کرے اور تائیدات غیبی اور فضل کے فیضان کا وارث بنا دے۔‘‘

(ملفوظات جلد پنجم، طبع جدید صفحہ 543، ایڈیشن 2003ء مطبوعہ ربوہ)

اللہ تعالیٰ ہمیں اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔‘‘

(خطبہ جمعہ فرمودہ 30؍جنوری 2004

مطبوعہ الفضل انٹرنیشنل 9؍ اپریل 2004ء)

غضِّ بصرسے مرادنفس کا جہاد

پھرنفس سے حیا، عفت و پاکدامنی سے عبارت ہے۔ انسان خلوت میں بھی اللہ تعالیٰ کے احکام کی نافرمانی سے بچے اس لیے کہ خلوت میں انسان کا نفس اس پر غالب ہونا چاہتا ہے۔ شیطان انسان کو ورغلاکر اسے نافرمانی کی راہ پر ڈالنا چاہتا ہے۔ طرح طرح کے وساوس اس کے ذہن وخیال میں ڈالتا ہے۔ ایسی صورت حال میں ’’نفس سے حیا‘‘جہاد کے مترادف ہے۔ جس کا اعتراف حضرت یوسف علیہ السلام نے بھی کیا ہے:

وَ مَاۤ اُبَرِّیٴُ نَفۡسِیۡ ۚ اِنَّ النَّفۡسَ لَاَمَّارَۃٌۢ بِالسُّوۡٓءِ اِلَّا مَا رَحِمَ رَبِّیۡ ؕ اِنَّ رَبِّیۡ غَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ (یوسف:54)

اور میں اپنے نفس کو بَری قرار نہیں دیتا یقیناً نفس تو بدی کا بہت حکم دینے والا ہے سوائے اس کے جس پر میرا ربّ رحم کرے۔ یقیناً میرا ربّ بہت بخشنے والا (اور) بار بار رحم کرنے والا ہے۔

یہی اعتراف انسان کو نفس کے ہر وار سے چوکنا اور ہوشیار رکھتا ہے۔ اور یہی نفس سے حیا کا مقصود ومطلوب ہے۔ ہمیں اس بات کی کوشش کرنی چاہیے کہ ہر لمحہ اپنے نفس سے مجاہدہ کرتے رہیں کہ خلوت و جلوت، ظاہر وباطن، کسی جگہ بھی وہ حرام کے بارے میں آمادہ نہ ہو۔

موجودہ زمانہ، تلوار کے جہادکی بجائے نفس کی اصلاح کےجہاد کا زمانہ ہے۔ نیکی کی راہ پر اُسی صورت میں قائم رہا جاسکتاہےجب قرآن کریم کے احکامات پر عمل کیا جائے۔ اس مضمون کے حوالے سے جذباتِ نفسانی پر قابو رکھنے اور غَضِّ بصر کی اہمیت بیان کرتے ہوئے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے اپنے ایک خطبہ جمعہ میں فرمایا:

’’ہم احمدیوں کو ہمیشہ یہ یاد رکھناچاہئے کہ یہ زمانہ بہت خطرناک زمانہ ہے۔ شیطان ہر طرف سے پُرزور حملے کر رہا ہے۔ اگر مسلمانوں اور خاص طور پر احمدی مسلمانوں، مَردوں اور عورتوں، نوجوانوں سب نے مذہبی اقدار کو قائم رکھنے کی کوشش نہ کی تو پھر ہمارے بچنے کی کوئی ضمانت نہیں ہے۔ ہم دوسروں سے بڑھ کر اللہ تعالیٰ کی پکڑ میں ہوں گے کہ ہم نے حق کو سمجھا، حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ہمیں سمجھایا اور ہم نے پھر بھی عمل نہ کیا۔ پس اگر ہم نے اپنے آپ کو ختم ہونے سے بچانا ہے تو پھر ہر اسلامی تعلیم کے ساتھ پُراعتماد ہو کر دنیا میں رہنے کی ضرورت ہے۔ یہ نہ سمجھیں کہ ترقی یافتہ ملکوں کی یہ ترقی ہماری ترقی اور زندگی کی ضمانت ہے اور اس کے ساتھ چلنے میں ہی ہماری بقا ہے۔ ان ترقی یافتہ قوموں کی ترقی اپنی انتہا کو پہنچ چکی ہے اور اب جو ان کی اخلاقی حالت ہے اخلاق باختہ حرکتیں ہیں۔ یہ چیزیں انہیں زوال کی طرف لے جا رہی ہیں اور اس کے آثار ظاہر ہو چکے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کو یہ آوازیں دے رہے ہیں اور اپنی تباہی کو بلا رہے ہیں۔ پس ایسے میں انسانی ہمدردی کے تحت ہم نے ہی ان کو صحیح راستہ دکھا کر بچانے کی کوشش کرنی ہے بجائے اس کے کہ ان کے رنگ میں رنگین ہو جائیں۔ اگر ان لوگوں کی اصلاح نہ ہوئی جو ان کے تکبر اور دین سے دُوری کی وجہ سے بظاہر بہت مشکل نظر آتی ہے تو پھر آئندہ دنیا کی ترقی میں وہ قومیں اپنا کردار ادا کریں گی جو اخلاقی اور مذہبی قدروں کو قائم رکھنے والی ہوں گی۔

پس جیسا کہ مَیں نے پہلے بھی کہا کہ ہمیں خاص طور پر نوجوانوں کو اللہ تعالیٰ کی تعلیم پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔ دنیا سے متأثر ہو کر اس کے پیچھے چلنے کی بجائے دنیا کو اپنے پیچھے چلانے کی ضرورت ہے۔

… پس عورتوں کے پردہ سے پہلے مَردوں کو کہہ دیا کہ ہر ایسی چیز سے بچو جس سے تمہارے جذبات بھڑک سکتے ہوں۔ عورتوں کو کھلی آنکھوں سے دیکھنا، ان میں مِکس اَپ(mix up) ہونا، گندی فلمیں دیکھنا، نامحرموں سے فیس بُک(facebook) پر یا کسی اور ذریعہ سے چَیٹ(chat) وغیرہ کرنا، یہ چیزیں پاکیزہ نہیں رہتیں۔ اس لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اس بارے میں کئی جگہ بڑی کھل کر نصیحت فرمائی ہے۔ ایک جگہ آپؑ فرماتے ہیں کہ

’’یہ خدا ہی کا کلام ہے جس نے اپنے کھلے ہوئے اور نہایت واضح بیان سے ہم کو ہمارے ہر ایک قول اور فعل اور حرکت اور سکون میں حدود معیّنہ مشخّصہ پر قائم کیا اور ادبِ انسانیت اور پاک رَوِشی کا طریقہ سکھلایا۔ وہی ہے جس نے آنکھ اور کان اور زبان وغیرہ اعضاء کی محافظت کے لئے بکمال تاکید فرمایا

قُلْ لِّلْمُؤْمِنِیْنَ یَغُضُّوْا مِنْ اَبْصَارِھِمْ وَیَحْفَظُوْا فُرُوْجَہُمْ۔ ذٰلِکَ اَزْکٰی لَھُمْ

یعنی مومنوں کو چاہئے کہ وہ اپنی آنکھوں اور کانوں اور سترگاہوں کو نامحرموں سے بچاویں اور ہر یک نادیدنی اور ناشنیدنی اور ناکردنی سے پرہیزکریں کہ یہ طریقہ ان کی اندرونی پاکی کا موجب ہو گا۔ یعنی ان کے دل طرح طرح کے جذباتِ نفسانیہ سے محفوظ رہیں گے کیونکہ اکثر نفسانی جذبات کو حرکت دینے والے اور قوائے بہیمیہ کو فتنہ میں ڈالنے والے یہی اعضاء ہیں۔ اب دیکھئے کہ قرآن شریف نے نامحرموں سے بچنے کے لئے کیسی تاکید فرمائی اور کیسے کھول کر بیان کیا کہ ایماندار لوگ اپنی آنکھوں اور کانوں اور سترگاہوں کو ضبط میں رکھیں اور ناپاکی کے مواضع سے روکتے رہیں۔‘‘

(براہین احمدیہ، روحانی خزائن جلد اول صفحہ209 حاشیہ)‘‘

(خطبہ جمعہ فرمودہ 13؍جنوری 2017ء

مطبوعہ الفضل انٹرنیشنل 3؍فروری 2017ء)

بے شک یہ تدابیر اور بچائو کے سارے انتظامات خداتعالیٰ ہی کے بتائے ہوئے ہیں مگر کوئی انسانی تدبیر اس وقت تک کارگر نہیں ہوسکتی جب تک خدا کا فضل شامل حال نہ ہو۔ اس کے فضل کے بغیر ہم اپنے نفس پہ قابو نہیں پا سکتے پس ہمیں ہمیشہ اس کا فضل مانگتے رہنا چاہیے تاکہ ہم محرمات سے بچے رہیں۔

پردہ ظاہری یاچھپی ہوئی فحشاء سے روکتا ہے

دراصل بے پردگی، بے حیائی کا نقطۂ آغاز ہے اور بےحیائی، تمام برائیوں کی جڑ، جس نے مغربی معاشرے کو جنسی آوارگی کے سبب شرفِ انسانیت سے حیوانیت کے منصب پر لا بٹھایا۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کی عظمت، وقار اور اشرف المخلوقات کے اعلیٰ و ارفع اعزاز کے تحفّظ و تقدّس کے لیے پردے کو فرض قرار دیا۔ فرضیت کے اس اقدام کے پیچھے بیش بہا حکمتیں، بے انتہا اسرار و فضائل اور عظیم مقاصد پنہاں ہیں، جو دنیا میں شیطان کی شکست اور آخرت میں جنّت کے حصول کا ذریعہ ہیں۔ سب سے پہلے اس بات کو سمجھ لینا ضروری ہے کہ پردہ اور حیا، دونوں ایک دوسرے سے مشروط و مربوط ہیں۔ پردے کے بغیر حیا کی حفاظت ممکن نہیں اور حیا کے بغیر ایمان ممکن نہیں۔ فحشاء سے بچنے کے لیے پردہ انتہائی ضروری ہے۔ فحاشی کے پھیلاؤ کے لیے استعمال ہونے والے مختلف ذرائع کے حوالے سے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے اپنے ایک خطبہ جمعہ میں احباب جماعت کو اس برائی کے خوفناک انجام سے متنبہ فرمایا۔ اور اس ضمن میں سورۃ الانعام کی آیات 152، 153 کے حوالے سے اسلامی احکامات کا تفصیل سے ذکر فرمایا۔ حضورانور نے فرمایا:

’’…اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ان فواحش کے قریب بھی نہ جاؤ۔ یعنی ایسی تمام باتیں جو فحشاء کی طرف مائل کرتی ہیں اُن سے رُکو۔ اس زمانے میں تو اس کے مختلف قسم کے ذریعے نکل آئے ہیں۔ اس زمانے میں انٹرنیٹ ہے، اس پر بیہودہ فلمیں آ جاتی ہیں، ویب سائٹس پر، ٹی وی پر بیہودہ فلمیں ہیں، بیہودہ اور لغو قسم کے رسالے ہیں، ان بیہودہ رسالوں کے بارے میں جو پورنوگرافی pornographyوغیرہ کہلاتے ہیں اب یہاں بھی آواز اُٹھنے لگ گئی ہے کہ ایسے رسالوں کو سٹالوں اور دکانوں پر کھلے عام نہ رکھا جائے کیونکہ بچوں کے اخلاق پر بھی بُرا اثر پڑ رہا ہے۔ ان کو تو آج یہ خیال آیا ہے لیکن قرآنِ کریم نے چودہ سو سال پہلے یہ حکم دیا کہ یہ سب بے حیائیاں ہیں، ان کے قریب بھی نہ پھٹکو۔ یہ تمہیں بے حیا بنا دیں گی۔ تمہیں خدا سے دُور کر دیں گی، دین سے دُور کر دیں گی بلکہ قانون توڑنے والا بھی بنا دیں گی۔ اسلام صرف ظاہری بے حیائیوں سے نہیں روکتا بلکہ چھپی ہوئی بے حیائیوں سے بھی روکتا ہے۔ اور پردے کا جو حکم ہے وہ بھی اسی لئے ہے کہ پردے اور حیادار لباس کی وجہ سے ایک کھلے عام تعلق اور بے تکلفی میں جو لڑکے اور لڑکی میں پیدا ہو جاتی ہے، ایک روک پیدا ہو گی۔ اسلام بائبل کی طرح یہ نہیں کہتا کہ تم عورت کو بری نظر سے نہ دیکھو بلکہ کہتا ہے کہ نظریں پڑیں گی تو قربت بھی ہو گی اور پھر بے حیائی بھی پیدا ہو گی۔ اچھے برے کی تمیز ختم ہو گی اور پھر ایسے کھلے عام میل جول سے جب اس طرح لڑکا اور لڑکی، مرد اور عورت بیٹھے ہوں گے تو اللہ اور اُس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے مطابق تیسرا تم میں شیطان ہو گا۔

(سنن الترمذی کتاب الرضاع باب ما جاء فی کراھیۃ الدخول علی المغیبات حدیث نمبر 117)

یہ جو انٹرنیٹ وغیرہ کی میں نے مثال دی ہے، اس میں فیس بک(facebook) اور سکائپ(skype) وغیرہ سے جو چَیٹ(chat) وغیرہ کرتے ہیں، یہ شامل ہے…پس خدا تعالیٰ کے اس حکم کو ہمیشہ سامنے رکھنا چاہئے کہ فحشاء کے قریب بھی نہیں پھٹکنا کیونکہ شیطان پھر تمہیں اپنے قبضے میں کر لے گا۔

پس یہ قرآنِ کریم کے حکم کی خوبصورتی ہے کہ یہ نہیں کہ نظر اُٹھا کے نہیں دیکھنا، اور نہ نظریں ملانی ہیں بلکہ نظروں کو ہمیشہ نیچے رکھنا ہے اور یہ حکم مرد اور عورت دونوں کو ہے کہ اپنی نظریں نیچی رکھو۔ اور پھر جب نظریں نیچی ہوں گی تو پھر ظاہر ہے یہ نتیجہ بھی نکلے گا کہ جو آزادانہ میل جول ہے اُس میں بھی روک پیدا ہو گی۔ پھر یہ بھی ہے کہ فحشاء کو نہیں دیکھنا، تو جو بیہودہ اور لغو اور فحش فلمیں ہیں، جو وہ دیکھتے ہیں اُن سے بھی روک پیدا ہو گی۔ پھر یہ بھی ہے کہ ایسے لوگوں میں نہیں اُٹھنا بیٹھنا جو آزادی کے نام پر اس قسم کی باتوں میں دلچسپی رکھتے ہیں اور اپنے قصے اور کہانیاں سناتے ہیں اور دوسروں کو بھی اس طرف راغب کر رہے ہوتے ہیں۔ نہ ہی سکائپ(skype) اور فیس بُک(facebook) وغیرہ پر مرد اور عورت نے ایک دوسرے سے بات چیت کرنی ہے، ایک دوسرے کی شکلیں دیکھنی ہیں، نہ ہی ان چیزوں کو ایک دوسرے سے تعلقات کا ذریعہ بنانا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے سب ظاہر یا چھپی ہوئی فحشاء ہیں جن کا نتیجہ یہ ہو گا کہ تم اپنے جذبات کی رَو میں زیادہ بہ جاؤ گے، تمہاری عقل اور سوچ ختم ہو جائے گی اور انجام کار اللہ تعالیٰ کے حکم کو توڑ کر اُس کی ناراضگی کا موجب بن جاؤ گے۔‘‘

(خطبہ جمعہ فرمودہ 2؍اگست 2013ء

مطبوعہ الفضل انٹرنیشنل 23 ؍اگست 2013ء)

حیاکا معیاربلند کرنے کی ضرورت

جدید ایجادات اور مواصلاتی نظام کے غیر محتاط استعمال کے نتیجے میں دنیا کے ہر معاشرےمیں اخلاقی برائیوں میں ہوشربا اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے۔ ان بڑھتی ہوئی معاشرتی بداخلاقیوں سے احباب جماعت اور خصوصاً احمدی نوجوانوں کو بچنے کی خصوصی تلقین حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے بارہا فرمائی ہے۔ اسی حوالے سے ایک خطبہ جمعہ میں ارشاد فرمایا:

’’… آج کل کی دنیاوی ایجادات جیسا کہ مَیں نے شروع میں بھی ذکر کیا تھا، ٹی وی ہے، انٹرنیٹ وغیرہ ہے اس نے حیا کے معیار کی تاریخ ہی بدل دی ہے۔ کھلی کھلی بے حیائی دکھانے کے بعد بھی یہی کہتے ہیں کہ یہ بے حیائی نہیں ہے۔ پس ایک احمدی کے حیا کا یہ معیار نہیں ہونا چاہئے جو ٹی وی اور انٹرنیٹ پرکوئی دیکھتا ہے۔ یہ حیا نہیں ہے بلکہ ہوا وہوس میں گرفتاری ہے۔ بے حجابیوں اور بے پردگی نے بعض بظاہر شریف احمدی گھرانوں میں بھی حیاکے جو معیار ہیں، الٹا کر رکھ دئیے ہیں۔ زمانہ کی ترقی کے نام پر بعض ایسی باتیں کی جاتی ہیں، بعض ایسی حرکتیں کی جاتی ہیں جو کوئی شریف آدمی دیکھ نہیں سکتا چاہے میاں بیوی ہوں۔ بعض حرکتیں ایسی ہیں جب دوسروں کے سامنے کی جاتی ہیں تو وہ نہ صرف ناجائز ہوتی ہیں بلکہ گناہ بن جاتی ہیں۔ اگر احمدی گھرانوں نے اپنے گھروں کو ان بیہودگیوں سے پاک نہ رکھا تو پھر اُس عہد کا بھی پاس نہ کیا اور اپنا ایمان بھی ضائع کیا جس عہد کی تجدید انہوں نے اس زمانہ میں زمانے کے امام کے ہاتھ پہ کی ہے۔

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بڑا واضح فرمایا ہے کہ

اَلْحَیَآءُ شُعْبَۃٌ مِّنَ الْاِیْمَانِ

کہ حیا بھی ایمان کا ایک حصہ ہے۔

(مسلم کتاب الایمان باب شعب الایمان وافضلھا… حدیث نمبر 59)

پس ہر احمدی نوجوان کو خاص طور پر یہ پیش نظر رکھنا چاہئے کہ آج کل کی برائیوں کو میڈیا پر دیکھ کر اس کے جال میں نہ پھنس جائیں ورنہ ایمان سے بھی ہاتھ دھو بیٹھیں گے۔ انہی بیہودگیوں کا اثر ہے کہ پھر بعض لوگ جو اس میں ملوث ہوتے ہیں تمام حدود پھلانگ جاتے ہیں اور اس وجہ سے پھر بعضوں کو اخراج از جماعت کی تعزیر بھی کرنی پڑتی ہے۔ ہمیشہ یہ بات ذہن میں ہو کہ میرا ہر کام خداتعالیٰ کی رضا کے لئے ہے۔‘‘

(خطبہ جمعہ فرمودہ 15؍ جنوری 2010ء

مطبوعہ الفضل انٹرنیشنل 5؍فروری 2010ء)

’’آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو مومنین کو شیطان کے حملوں سے بچانے کی کس قدر فکر ہوتی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ و سلم کس طرح اپنے صحابہ کو شیطان سے بچنے کی دعائیں سکھاتے تھے اور کیسی جامع دعائیں سکھاتے تھے، اس کا ایک صحابی نے یوں بیان فرمایا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں یہ دعا سکھلائی کہ اے اللہ! ہمارے دلوں میں محبت پیدا کر دے۔ ہماری اصلاح کر دے اور ہمیں سلامتی کی راہوں پر چلا۔ اور ہمیں اندھیروں سے نجات دے کر نور کی طرف لے جا۔ اور ہمیں ظاہر اور باطن فواحش سے بچا۔ اور ہمارے لئے ہمارے کانوں میں، ہماری آنکھوں میں، ہماری بیویوں میں اور ہماری اولادوں میں برکت رکھ دے اور ہم پر رجوع برحمت ہو۔ یقیناً تُو ہی توبہ قبول کرنے والا اور بار بار رحم کرنے والا ہے۔ اور ہمیں اپنی نعمتوں کا شکر کرنے والا اور ان کا ذکر خیر کرنے والا اور ان کو قبول کرنے والا بنا اور اے اللہ ہم پر نعمتیں مکمل فرما۔

(سنن ابو داؤد کتاب الصلوٰۃ باب التشہد حدیث 969)

پس یہ دعا ہے جو دنیاوی غلط تفریح سے بھی روکنے کے لئے ہے۔‘‘

(خطبہ جمعہ فرمودہ 20؍مئی 2016ءمطبوعہ الفضل انٹرنیشنل 10؍جون 2016ء)

اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں اور ہمارے بچوں کو ظاہر اور باطن کے فواحش سے بچائے اور ہمیں اپنی رضا کی راہوں پہ چلائے آمین۔

(جاری ہے)

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

For security, use of Google's reCAPTCHA service is required which is subject to the Google Privacy Policy and Terms of Use.

I agree to these terms.

Back to top button
Close