متفرق

انتخاب شریک حیات اور شادی کا سفر

(شیخ نعیم اللہ۔ جرمنی)

جب کوئی شخص سفر کا ارادہ کرتا ہے تو سفر سے قبل اس کی تیاری شروع کر دیتا ہے۔ اسی طرح سے انسانی زندگی کا سفر ہے۔ بچپن سے گزر کر جوانی تک آتا ہے اور پھر آخر کار بڑھاپے تک۔ انسان جوانی میں داخل ہوتے ہی اپنے ذہن میں بنائی تصویر کے مطابق اپنے شریک حیات کی تلاش شروع کردیتاہے۔

اس زمانہ میں جو آخری زمانہ ہے شیطان نے ایک بھرپور حملہ کیا ہے۔ شیطان کا یہ حملہ بے پردگی، خلافِ شریعت فیشن اور بے جا آزادی کے رنگ میں ظاہر ہوا ہے۔ اس دور میں میڈیا کا انقلاب ہمارے دروازوں پر دستک دے رہا ہے اور ہماری نوجوان نسل دو مختلف طرزِ زندگی دیکھ رہی ہے۔ ایک میڈیا کا آزادانہ انداز اور دوسری طرف اسلامی طرز کی زندگی۔ جن گھروں میں میڈیا کا زیادہ زور ہے وہاں لڑکے اور لڑکی کاایک دوسرے کی ذہنی ہم آہنگی اور طبائع کی مناسبت کی جانچ پڑتال کے بہانے شادی سے پہلے ایک دوسرے کو جاننے کے نام پر آزادانہ ملنے ملانے کا بڑا چرچا ہے۔ اور جواز یہ دیا جاتا ہے کہ ہم ایسے شخص سے بغیر ملاقات کیے کیسے شادی کر لیں جس کو اور اس کی طبیعت کو جانتے بھی نہ ہوں۔ بعض اوقات انٹر نیٹ کے ذریعہ دوستی کرلیتے ہیں اور آپس کے تعلقات کو اتنا بڑھا لیتے ہیں کہ بعد میں اس کو محبت کا رنگ دے کر والدین کو مجبور کرتے ہیں کہ یہاں ہی شادی کرنی ہے۔ اس طرح کے تعلقات میں ایک دوسرے کی کوشش ہوتی ہے کہ صرف اچھے پہلو ظاہر ہوں اور اس طرح ایک کا دوسرے پر یہ عکس پڑتا ہے کہ یہی سب سے اچھا ہے۔ غیب کی باتوں کا علم توصرف خدا کو ہے۔ انسان صرف ظاہری آنکھ سے ہی دیکھتا ہے۔ اگر سبز رنگ کا چشمہ پہنا ہو تو ہر چیز سبز ہی نظر آئے گی۔

اس ماحول اور اس زمانے میں جو میڈیا کا دور دورہ ہے اس میں والدین اور خاص کر باپوں کی بڑی ذمہ داری ہے۔ ماں تو بہرحال بچہ کی تربیت کے حوالے سے اپنی پوری کوشش کرتی ہے لیکن باپ کی طرف سے اکثر کمی دیکھنے میں آتی ہے۔

حضرت ایوبؓ اپنے والد اور دادا کے حوالہ سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اچھی تربیت سے بڑھ کر کوئی بہترین تحفہ نہیں جو باپ اپنی اولاد کو دے سکتا ہے۔ (جامع ترمذی)

قرآن کریم گذشتہ انسانی تاریخ کے بعض پہلوؤں سے ہی پردہ نہیں اٹھاتا بلکہ انسانی پیدائش سے بھی اربوں سال پہلے سائنس کے ان رازوں سے پردہ اٹھاتا ہے جوقرآن کریم کے چودہ سو سال بعد پوری طرح انسانی علم میں آئے تھے۔

آج کل بچے کزن سے شادی کرنے کو منع کرتے ہیں اور جواز یہ پیش کرتے ہیں کہ کزن سے شادی کے نتیجہ میں بعض بیماریاں اور معذوریاں سامنے آتی ہیں۔ قرآن کریم کی تعلیم اور احکامات عین سائنس کے مطابق ہیں اور قرآن کریم میں جن رشتوں سے شادی کرنا جائز قرار دیا گیاہے کیا اللہ تعالیٰ اس سے بے خبر تھا کہ ایک وقت آنے پر جن رشتوں کی اجازت دی ہے سائنس کی تحقیق کے مطابق رد کر دیے جائیں گے۔ اسلام کی تعلیم اور احکامات تو قیامت تک جاری رہیں گے۔ قرآن کریم نے جو کچھ بھی بیان کیا ہے وہ سائنس کے مطابق درست ہے۔ اور اگر ایسا ہوتا تو پھر دوسرے مذاہب میں یا ان ممالک میں جہاں کزن سے شادی نہیں ہوتی وہاں طبی جسمانی معذوریاں یا بیماریاں کیوںپائی جاتی ہیں۔

یہاں پر دوسرا مسئلہ والدین اور بچوں کے درمیان سوچ کا بڑا خلا ہے۔آپس کے تعلقات میں بھی فاصلے ہیں۔ بعض والدین بچوں کی پسند اور نا پسند کو بھی نہیں دیکھتے اور ان پر اپنے فیصلے حاوی کر دیتے ہیں۔ جس کے بعد بُرے نتائج نکلتے ہیں۔ اور جب بچے انٹر نیٹ پر دوستیاں تلاش کرتے ہیں تو خدا اور قرآن کےحکم کی نافرمانی کر رہے ہوتے ہیں۔ میڈیا کے ذریعہ دوستی کرنا، ایک دوسرے کی طبیعت سے واقف ہونے کے لیے ملاقاتیں کرنا، پردے کے حکم کی بھی نافرمانی ہے۔ قرآن کریم نے انتخاب شریک حیات میں ہمیشہ دینی پہلو اور اخلاق کو مقدم رکھا ہے۔ مگر افسوس ہے کہ دوسری اقوام تو الگ، مسلمانوں میں بھی آج کل کثیر حصہ ان لوگوں کا ہے جو بیوی کا انتخاب کرتے وقت دین اور اخلاق کے پہلو کو بالکل نظر انداز کردیتے ہیں۔ اور شکل و صورت اور ذات پات کی طرف چل نکلتے ہیں۔ دنیا میں بے شمار ایسی مثالیں پائی جاتی ہیں کہ ایک شخص نے ایک عورت کو محض اس کی شکل و صورت کی بنا پر منتخب کیا لیکن کچھ عرصہ کے بعد حسن و جمال میں تنزل کے آثار پیدا ہو گئے۔ کیونکہ جسمانی حسن ایک فانی چیز ہے۔ اس لیے دینی اور اخلاقی پہلو کو مقدم رکھنا چاہے جس کا اثر ہماری آنے والی نسلوں پر ہوتا ہے۔

حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ذات پات کے حوالہ سے فرمایا کہ میری جماعت والے ایک دوسرے کو چھوٹا بڑا نہ سمجھیں ایک دوسرے کو حقارت سے نہ دیکھیں۔ ایک دوسرے کے نام نہ رکھیں۔ اللہ کے نزدیک بڑا اور معزز وہ ہے جو متقی ہے۔

(ملفوظات جلد 1 صفحہ 22، 23۔ ایڈیشن 1988ء)

پردے کے حکم کے بارے میں اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے۔ ترجمہ: اور مومن عورتوں سے کہہ دو کہ وہ بھی اپنی آنکھیں نیچی رکھا کریں۔ اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کیا کریں۔ اور اپنی زینت کو ظاہر نہ کیا کریں۔ سوائے اس کے جو آپ میں بے اختیار ظاہر ہوتی ہیں اور اپنی اوڑھنیوں کو سینے سے گزار کر اس کو ڈھانک کر پہنا کرو۔

(سورۃ النور آیت :32)

پردے کا حکم خدا تعالیٰ نے نہ صرف عورتوں کو دیا بلکہ مردوں کو بھی دیا ہے۔ مرد کو کہا گیا ہے کہ وہ اپنی نظریں نیچی رکھا کریں۔

پردے کا سب سے اہم اور بنیادی اصول غضِ بصر ہے جس کی اصل روح حیا سے تعلق رکھتی ہے۔ پردہ ایک ضروری حکم ہے جس کی پابندی کرنا ہر مرد اور عورت پر فرض ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے پردے کی اہمیت کے بارے میں احکا م خداوندی کی تشریح ان الفاظ میں فرمائی ہے کہ قرآن مسلمان مرد وں اور عورتوں کو ہدایت کرتا ہے کہ وہ غضِ بصر کریں۔ جب ایک دوسرے کو دیکھیں گے ہی نہیں تو محفوظ رہیں گے۔ غیر مرد اور عورت ایک دوسرے کو نہ دیکھ سکیں جب پردہ ہو گا تو ٹھوکر سے بچیں گے۔ غیر مرد اور عورت ہر دو جمع ہوں توتیسرا ان میں شیطان ہوتا ہے۔

(باقی آئندہ)

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

For security, use of Google's reCAPTCHA service is required which is subject to the Google Privacy Policy and Terms of Use.

I agree to these terms.

Check Also
Close
Back to top button
Close