خلاصہ خطبہ عید

خلاصہ خطبہ عید الفطر سیّدنا امیر المومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 14؍مئی 2021ء

عید کی حقیقی خوشیاں اسی صورت میں حاصل ہوں گی جب انسان میں پاک تبدیلیاں مستقلاً پیدا ہوجائیں

حضرت مسیح موعودؑ نے ہمیں اپنی بعثت کے مقصد کے بارے میں بتاتے ہوئے واضح فرمایا ہے کہ حقوق اللہ اور حقوق العباد ہی وہ دو مقاصد ہیں جن کے لیےمَیں بھیجا گیا ہوں۔

اگر ان دو حقوق کی ادائیگی کی طرف ہماری توجہ ہوجائے تو پھر ہم حقیقی مومن اور کامیاب انسان بن سکتے ہیں۔وہ لوگ جو خداتعالیٰ کے قرب اور محبت کا مقام حاصل کرتے ہیں وہ اِسی دنیا میں ہمیں نظر آتے ہیں

فلسطین کے مظلوم مسلمانوں کے لیے، پاکستان اور الجزائر کے احمدیوں کے لیے، ضرورتمندوںکے لیے نیز دنیا سے ظلم کے خاتمے اور کورونا وائرس کی وبا سے نجات کے لیے دعا کی تحریک

خلاصہ خطبہ عیدالفطر سیّدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمدخلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 14؍ مئی 2021ء بمطابق 14؍ہجرت 1400 ہجری شمسی بمقام مسجد مبارک،اسلام آباد،ٹلفورڈ(سرے)، یوکے

امیرالمومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے مورخہ 14؍مئی 2021ء کو مسجد مبارک، اسلام آباد، ٹلفورڈ، یوکے میں خطبہ عید ارشاد فرمایا جو مسلم ٹیلی وژن احمدیہ کے توسّط سے پوری دنیا میں نشرکیا گیا۔ تشہد، تعوذ اور سورةالفاتحہ کی تلاوت کے بعد حضورِ انور ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا:

اللہ تعالیٰ کا بےحد فضل و احسان ہےکہ اس نے ہمیں رمضان کےمہینےسے گزار کر آج عید کا دن دیکھنے کی توفیق عطا فرمائی۔لیکن کیا یہی اس رمضان کا مقصد تھا کہ ہم انتیس تیس روزے رکھیں اور پھر عید پر خوشیاں منالیں؟ درحقیقت ہم اللہ تعالیٰ کے اس احسان کو تب حاصل کرنے والے ہوں گے جب رمضان اور عید کے مقصد کو سمجھتے ہوئےان پاک تبدیلیوں کو رمضان اور عید کے بعد بھی جاری رکھنے والے ہوں۔ آنحضرتﷺ نے جوایک رمضان سے دوسرے رمضان کے انتظار کا فرمایا ہے تو وہ ان پاک تبدیلیوں پر عمل کرتے ہوئے ہی گزرنا چاہیے تاکہ یہ فیض ہمیشہ جاری رہے۔ حضرت مسیح موعودؑ نے ہمیں اپنی بعثت کے مقصد کے بارے میں بتاتے ہوئے واضح فرمایا ہے کہ حقوق اللہ اور حقوق العباد ہی وہ دو مقاصد ہیں جن کے لیےمَیں بھیجا گیا ہوں۔اگر ان دو حقوق کی ادائیگی کی طرف ہماری توجہ ہوجائے تو پھر ہم حقیقی مومن اور کامیاب انسان بن سکتے ہیں۔ یہی اسلامی تعلیم کا خلاصہ ہے جس پر کاربند ہونے کے مختلف طریقوں میں سے رمضان کے روزوں کامجاہدہ اور عید کی خوشی میں مضمر سبق بھی شامل ہیں۔ پس رمضان کا فیض اور عید کی حقیقی خوشیاں اسی صورت میں حاصل ہوں گی جب انسان میں یہ پاک تبدیلیاں مستقلاً پیدا ہوجائیں۔

اس وقت مَیں رمضان کے فیض اور حقیقی عید منانے کے متعلق حضرت مسیح موعودؑ کے ارشادات کی روشنی میں کچھ بیان کروں گا۔ اگراس عِلْم کی روشنی میں حقوق کی ادائیگی کا حق ادا ہوجائے تو پھر یہی حقیقی عید ہے جس کے ساتھ یہ دنیا بھی ہمارے لیے جنت بن جاتی ہے۔ آپؑ ایک جگہ فرماتے ہیں خدا کےساتھ محبت سے یہی مراد ہے کہ اپنے والدین،بیوی،اولاد اور اپنے نفس غرض ہرچیز پر اللہ تعالیٰ کی رضا مقدم ہوجائے۔ قرآن شریف میں آیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو ایسا یاد کرو جیسا تم اپنے باپوں کو یاد کرتے ہو بلکہ اس سے بھی زیادہ ۔ فرمایا اصل توحید کوقائم کرنے کے لیے ضروری ہے کہ خداتعالیٰ کی محبت سے پورا حصّہ لو۔ اگر زبان سے کسی کی دوستی کا اعتراف ہو مگر مصیبت اور وقت پڑنے پر اس کی امداد اور دستگیری سے پہلو تہی کرے تو وہ دوست صادق نہیں ٹھہرسکتا اسی طرح توحید کا نِرا زبانی اقرار کچھ فائدہ نہیں دے سکتا۔یہ مقصد حاصل نہیں ہوسکتا جب تک آستانۂ ربوبیت پر گِر کر یہ عہد نہ کرلے کہ خواہ دنیا کی وجاہت جاتی رہے اور مصیبتوں کے پہاڑ ٹوٹ پڑیں تو بھی خدا کو نہیں چھوڑے گا۔ ابراہیمؑ کا یہی عظیم الشان اخلاص تھا کہ بیٹے کی قربانی کےلیے تیار ہوگیا۔ مَیں تمہیں سچ سچ کہتاہوں کہ ولی پرست نہ بنو بلکہ ولی بنو اور پِیر پرست نہ بنو بلکہ پِیر بنو۔

پس ہمیں جائزے لینے کی ضرورت ہے کہ ہمارےاللہ تعالیٰ سے محبت کے کیا معیار ہیں۔ حقیقی محبت کے اعلیٰ معیار ہی ہمیں عید کی حقیقی خوشیاں دینے والے ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ کی محبت کے حصول کے لیے ہماری توجہ توبہ،استغفار اور نماز کی طرف رہنا بھی ضروری ہے۔ اس بارے میں نصیحت کرتے ہوئے آپؑ فرماتے ہیں استغفار کرتے رہو اور موت کو یاد رکھو۔ جب انسان سچے دل سے خدا کی طرف رجوع کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اپنا فضل کرتا ہے۔ خدا کا خوف ہر وقت تمہیں رہنا چاہیے ہر کام کرنے سے پہلے سوچ لو کہ اس سے خدا راضی ہوگا یا ناراض۔ نماز بڑی چیز اور مومن کی معراج ہے۔ خدا تعالیٰ سے دعا مانگنے کا بہترین ذریعہ نماز ہے۔ خدا تعالیٰ کی تعریف اور اس سے اپنے گناہوں کےمعاف کرانے کی مرکب صورت نماز ہے۔ فرمایا : مسلمان وہ ہے جو اعتقادی اور عملی طور پر اپنے تمام وجود کو اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کےلیے وقف کردے۔سچے مسلمان کو اگر کہا جاوے کہ ان اعمال کی پاداش میں کچھ بھی نہیں ملے گاتو بھی وہ اپنے اعمالِ صالحہ اور محبتِ الٰہی کو ہرگز ہرگز چھوڑ نہیں سکتا۔ بہشت اور دوزخ پر سچے مومن کی اصلاً نظر نہیں ہوتی۔ مَیں قسم کھا کر کہتا ہوں کہ اگر مجھے اس امر کا یقین دلادیا جاوے کہ خدا سے محبت اور اس کی اطاعت میں سخت سے سخت سزا دی جائے گی تو میری فطرت ایسی واقع ہوئی ہے کہ ان تکلیفوں اور بلاؤں کوایک لذت اور محبت کے جوش اور شوق سے برداشت کرنے کو تیار ہے۔ پس حقیقی مسلمان کے لیے خداتعالیٰ کی یہ محبت اور اوراطاعت ہی ایک بہشت پیدا کردیتی ہے اور یہ بہشت ہی حقیقی عید کی خوشی ہے جو ہمیں حاصل کرنےکی کوشش کرنی چاہیے۔

پھر توحید کے اقرار کے متعلق حضورؑ فرماتے ہیں کہ وہ مراتب اور مقاصدِ عالیہ جن پر اللہ تعالیٰ ہماری جماعت کو پہنچانا چاہتا ہے ابھی بہت دُور ہیں اور وہ حاصل نہیں ہوسکتے جب تک توحید کا اقرار،تبتل الی اللہ، ذکرِ الٰہی اور حقوقِ اخوان میں خاص رنگ نہ ہو۔ خوب یاد رکھو کہ انسان کو شرف اور سعادت تب ملتی ہے جب وہ ذاتی طور پر کسی کا دشمن نہ ہو۔ ہاں! اللہ اور اس کے رسول کی عزت کے لیے الگ امر ہے۔

پس اگر غیرت دکھانی ہے تو ہمیں خداتعالیٰ اور اس کے رسول کے لیے غیرت دکھانے کی ضرورت ہے لیکن اس میں بھی اخلاق اور حدود کو سامنے رکھنا ہوگا۔ ایمان اور یقین میں ترقی کے لیے قرآن کریم کو پڑھنا اور سمجھنا اور اس پر عمل کرنا بھی ضروری ہے۔ حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں قرآن شریف کو پڑھواور خدا سے کبھی ناامید نہ ہو۔ قرآن شریف کا ترجمہ بھی پڑھو تاکہ اس کے احکامات سمجھ میں آئیں۔قرآن کریم کو اپنا پیشوا پکڑو اور ہر ایک بات میں اس سے روشنی حاصل کرو۔ حدیثوں کو بھی ردّی کی طرح مت پھینکو لیکن جب قرآن کے قصّوں سے حدیث کا کوئی قصّہ مخالف ہوتو ایسی حدیث کو چھوڑ دو تا گمراہی میں نہ پڑو۔ ہماری جماعت کو چاہیے کہ قرآن پاک کے شغل اور تدبر میں دل و جان سے مصروف ہوجائیں۔

آنحضرتﷺ نے بھی فرمایا ہے کہ جس کو قرآن کا کچھ بھی حصّہ یاد نہیں وہ ویران گھر کی طرح ہے۔ پس اس رمضان میں جو قرآن کریم پڑھنے کی طرف توجہ ہوئی ہے،بعض نے شاید کچھ حصّہ یاد کرنے کی بھی کوشش کی ہو اسے یاد رکھنا،اسے دہرانا چاہیے تاکہ یادداشت میں قائم رہے۔ قرآن کریم کی تعلیم پر غور کرنے کی بھی کوشش کرنی چاہیے۔

اسی طرح حقوق العباد کی اہمیت کی طرف توجہ دلاتے ہوئے فرمایا کہ ایک مسلمان کو حقوق اللہ اور حقوق العباد کو پورا کرنے کے واسطے ہمہ تن تیار رہنا چاہیےخدا تعالیٰ فرماتا ہے تم آپس میں ایک وجود بن جاؤ۔ جو شخص اپنے بھائیوں سے صاف صاف معاملہ نہیں کرتا وہ خدا تعالیٰ کے حقوق بھی ادا نہیں کرسکتا۔ مَیں دو ہی مسئلے لےکر آیا ہوں اوّل خدا کی توحید اختیار کرو دوسرے آپس میں محبت اور ہمدردی ظاہر کرو۔حقوق العباد بھی دو قسم کے ہیں ایک جو دینی بھائی ہوگئے ان میں ایک دینی اخوت ہے اور ایک عام بنی نوع انسان سے سچی ہمدردی ہے۔ میرا یہ مذہب ہے کہ جب تک دشمن کے لیے دعا نہ کی جاوے پورے طور پر سینہ صاف نہیں ہوتا۔ عورتوں کے ساتھ حسنِ سلوک کے متعلق فرمایا کہ فحشا کے سوا باقی تمام کج خلقیاں اور تلخیاں عورتوں کی برداشت کرنی چاہئیں۔غربا کی خبر گیری کے ذیل میں فرمایا کہ جو لوگ غربا کے ساتھ اچھے سلوک سے پیش نہیں آتے بلکہ ان کو حقیر سمجھتے ہیں مجھے ڈر ہے کہ وہ خود اس مصیبت میں مبتلا نہ ہوجاویں۔

پس غریبوں اور ضرورت مندوں کی مدد ہی اللہ تعالیٰ کے فضل اور پیار کو جذب کرنے والی چیز ہے جس سے حقیقی عید میسر آتی ہے۔ جماعتی طور پر مریضوں، یتیموں، غربا اور غریب طلبا کی مدد کے فنڈز قائم ہیں افرادِ جماعت کو اس طرف بھی توجہ دینی چاہیے۔

آپؑ فرماتے ہیں کہ خدا کے حضور اتنی ہی بات کافی نہیں ہوسکتی کہ زبان سے اقرار کرلیا اور عمل میں کوئی روشنی اور سرگرمی نہ پائی جاوے۔ فرمایا وہ جماعت جو خداتعالیٰ قائم کرنی چاہتا ہے وہ عمل کےبدوں زندہ نہیں رہ سکتی۔ پس ہمارا حضرت مسیح موعودؑ کو ماننا اور آپؑ کی بیعت میں آنا کوئی معمولی بات نہیں ہے۔

خطبے کے اختتام پر حضورانور ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فلسطین کے مظلوم عوام پر جاری حالیہ ظلم و ستم کے تناظر میں دعا کی تحریک فرمائی۔اسرائیلی ذرائع ابلاغ اور عالمی اداروں کی رپورٹس کے مختلف حوالے دیتے ہوئے فرمایاکہ اللہ تعالیٰ رحم فرمائے،یہ عید تو اُن کے لیے غموں کے پہاڑ لے کر آئی ہے؛اللہ تعالیٰ ان کے غموں کو خوشیوں میں تبدیل کردے۔ اسی طرح حضورِانور نے پاکستان،الجزائر اور دنیا بھر کے مظلوم احمدیوں، دنیا کے تمام ضرورت مندوں اور دنیا سے ظلم کے خاتمے نیز کورونا کی وبا سے دنیا کو نجات حاصل ہونے کے لیے بھی دعا کی تحریک فرمائی۔

اجتماعی دعا کے بعد حضورِانور ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے ازراہِ شفقت جماعتِ احمدیہ عالَم گیر کو عید مبارک کا محبت بھرا تحفہ عطا فرمایا۔

٭…٭…٭

مزید دیکھیں

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

For security, use of Google's reCAPTCHA service is required which is subject to the Google Privacy Policy and Terms of Use.

I agree to these terms.

Back to top button
Close