متفرق

ڈاکٹر سید محمد یوسف المعروف بغدادی سیاح اور شیخ محمد چٹو کی قادیان آمد (نمبر 5)

(عمانوایل حارث)

[تسلسل کے لیے دیکھیں اخبار الفضل انٹرنیشنل6؍اپریل2021ء]

28؍اکتوبر1906ء

حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃوالسلام کے معروف صحابی حکیم محمدحسین صاحب قریشی کے دادا شیخ محمد چٹو صاحب اپنی ابتدائی زندگی میں مسلمان فرقہ اہل حدیث کے سرگرم رکن تھے۔ انہی شیخ محمد چٹو کے ایک بیٹے حضرت میاں چراغ دینؓ صاحب رئیس اعظم لاہور تھے۔

حکیم محمد حسین صاحبؓ کو براہین احمدیہ پڑھنے کا موقع ملا اور حضرت اقدسؑ کی محبت کا جوش پیدا ہوا۔ 14؍جولائی1891ء میں آپ نے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی بیعت کی۔ رجسٹر بیعت اُولیٰ میں آپ کا نام 143 نمبر پردرج ہے۔ تاریخ بیعت 14؍جولائی 1891ء کی ہے جہاں پوتا میاں چٹو ساکن لاہور تحریر ہے۔

ان میاں چٹو صاحب کو فرقہ اہل حدیث کے بعد حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے حسن ظن ہوا۔ مگر وہ اپنی عمر کے آخر میں فرقہ اہل قرآن کے سربراہ مولوی عبداللہ چکڑالوی سے متاثر ہوکر چکڑالوی خیالات کے ہوگئے تھے۔

محمد حسین قریشی صاحب اخیر اکتوبر 1906ء میں اپنے داداجان اور 2 دیگر چکڑالویوں کو جن میں سے ایک ڈاکٹر سید محمد یوسف جو خود کو سیاح آف بغداد کہلاتے تھے قادیان میں لائے۔ اب حکیم محمد حسین قریشی صاحب نے بتایا کہ میرے دادا تحقیق حق کے واسطے آئے ہیں اوران کاقادیان میں 5 دن قیام کا ارادہ ہے۔ (حکیم محمد حسین صاحب بتاتے ہیں کہ چونکہ دادا کا رنگ بہت گورا تھا اس لیے میاں چٹو یعنی چٹا مشہور تھے۔ اصل نام مولوی محمد بخش صاحب تھا)

الحکم کے 31؍جنوری 1907ء کے شمارے میں درج حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی 28؍اکتوبر1906ءکی مصروفیات میں ان مہمانوں کا بھی تذکرہ ملتا ہے۔ جس سے آپ کی صفت مہمان نوازی کے ساتھ ساتھ ایک اہم فقہی مسئلہ کی بھی وضاحت ہوجاتی ہے۔

’’(صبح کی سیر)

قرآن شریف کی رخصتوں پر عمل کرنا بھی تقویٰ ہے

حضرت اقدس علیہ الصلوٰۃ والسلام یہ معلوم کرکے کہ لاہور سے شیخ محمد چٹو آئے ہیں ا ور احباب بھی آئے ہیں۔ محض اپنے خُلق عظیم کی بناء پر باہر نکلے۔ غرض یہ تھی کہ باہر سیر کو نکلیں گے۔ احباب سے ملاقات کی تقریب ہوگی۔ چونکہ پہلے سے لوگوں کو معلوم ہوگیا تھا کہ حضرت اقدس باہر تشریف لائیں گے اس لیے اکثر احباب چھوٹی مسجد میں موجود تھے۔ جب حضرت اپنے دروازے سے باہرآئے تو معمول کے موافق خدام پروانہ وار آپ کی طرف دوڑے۔ آپ نے شیخ صاحب کی طرف دیکھ کر بعد سلامِ مسنون فرمایا:

حضرت اقدس: آپ اچھی طرح سے ہیں؟ آپ تو ہمارے پرانے ملنے والوں میں سے ہیں۔

بابا چٹو: شکر ہے۔

حضرت اقدس: (حکیم محمد حسین قریشی کو مخاطب کرکے) یہ آپ کا فرض ہے کہ ان کو کسی قسم کی تکلیف نہ ہو۔ ان کے کھانے ٹھہرنے کا پورا انتظام کردو۔ جس چیز کی ضرورت ہو مجھ سے کہو اور میاں نجم الدین کو تاکید کردو کہ ان کے کھانے کے لیے جو مناسب ہو اور پسند کریں وہ تیار کرے۔

حکیم محمد حسین: بہت اچھا حضور۔ انشاءاللہ کوئی تکلیف نہیں ہوگی۔

حضرت اقدس (بابا چٹو کو خطاب کرکے) آپ تو مسافر ہیں۔ روزہ تو نہیں رکھا ہوگا؟

بابا چٹو: نہیں مجھے تو روزہ ہے مَیں نے رکھ لیا ہے۔

حضرت اقدس: اصل بات یہ ہے کہ قرآن شریف کی رخصتوں پر عمل کرنا بھی تقویٰ ہے۔ خدا تعالیٰ نے مسافر اور بیمار کو دوسرے وقت رکھنے کی اجازت اور رخصت دی ہے اس لئے اس حکم پربھی تو عمل رکھنا چاہئے۔ مَیں نے پڑھاہے کہ اکثر اکابر اس طرف گئے ہیں کہ اگرکوئی حالت سفر یا بیماری میں روزہ رکھتاہے تو یہ معصیت ہے۔ کیونکہ غرض تو اللہ تعالیٰ کی رضاہے نہ اپنی مرضی۔ اور اللہ تعالیٰ کی رضا فرمانبرداری میں ہے۔ جوحکم وہ دے اس کی اطاعت کی جاوے اور اپنی طرف سے اس پرحاشیہ نہ چڑھایا جاوے۔ اس نے تو یہی حکم دیاہے

مَنْ کَانَ مِنْکُمْ مَرِیْضًا اَوْ عَلٰی سَفَرٍ فَعِدَّۃٌ مِّنْ اَیَّامٍ اُخَرَ (البقرۃ:185)۔

اس میں کوئی قید اور نہیں لگائی کہ ایسا سفر ہو یا ایسی بیماری ہو، میں سفر کی حالت میں روزہ نہیں رکھتا اور ایسا ہی بیماری کی حالت میں۔ چنانچہ آج بھی میری طبیعت اچھی نہیں اور مَیں نے روزہ نہیں رکھا۔ چلنے پھرنے سے بیماری میں کچھ کمی ہوتی ہے اس لیے باہر جاؤں گا۔ کیا آپ بھی چلیں گے؟

بابا چٹو: نہیں میں تو نہیں جاسکتا۔ آپ ہوآئیں۔ یہ حکم تو بےشک ہے مگر سفر میں کوئی تکلیف نہیں پھر کیوں روزہ نہ رکھا جاوے۔

حضرت اقدس: یہ تو آپ کی اپنی رائے ہے۔ قرآن شریف نے تو تکلیف یا عدمِ تکلیف کا کوئی ذکر نہیں فرمایا۔ اب آپ بوڑھے ہوگئے ہیں۔ زندگی کا اعتبار کچھ نہیں۔ انسان کو وہ راہ اختیار کرنی چاہیے جس سے اللہ تعالیٰ راضی ہوجاوے اور صراط مستقیم مل جاوے۔

بابا چٹو: میں تو اسی لیے آیا ہوں کہ آپ سے کچھ فائدہ اٹھاؤں۔ اگر یہی راہ سچی ہے تو ایسا نہ ہو کہ ہم غفلت ہی میں مرجاویں۔

حضرت اقدس: ہاں یہ بہت عمدہ بات ہے۔ مَیں تھوڑی دُور ہو آؤں۔ آپ آرام کریں۔ (یہ کہہ کر حضرت اقدس سیر کو تشریف لے گئے)‘‘

(ملفوظات جلد پنجم صفحہ 67تا68)

اسی دن نماز ظہر سے قبل ایک نشست میں حضور علیہ السلام اپنے اصحاب کے درمیان موجود تھے تو شیخ محمد چٹو صاحب آئے اور حضرت اقدس علیہ السلام سے آپ کے دعویٰ امامت کا ثبوت قرآن شریف سے مانگا۔

حضرت اقدس علیہ السلام نے فرمایا کہ جن دلائل سے آپ نے قرآن شریف کو سچا مانا ہے انہی دلائل کے ذریعہ سے پھر میری سچائی کو پرکھ لیں۔

تب شیخ محمد چٹو صاحب تو اس کا کوئی معقول جواب نہ دے سکے اور ملفوظات جلد پنجم کے متعلقہ صفحات کا مطالعہ بتاتا ہے کہ اس مہمان کی طرف سے بحث برائے بحث کا سلسلہ جاری رہا، بلکہ باباچٹو نے اپنی عمر اور آداب مجلس کا بھی کچھ پاس نہ رکھا، اور بار بار حضور علیہ السلام کے گفتگو کے درمیان بولتے رہے۔ قطع کلامی کی عادت کی وجہ سے یہ مہمان حضور علیہ السلام کو جملہ مکمل کرنے نہیں دے رہا تھا اور جلدبازی کا مظاہرہ کرتارہا۔

حضور علیہ السلام کے اعلیٰ اخلاق اور ضبط کا مزید نمونہ تب سامنے آیا جب بابا چٹو کی بےعلمی اور پیرانہ سالی کو دیکھتے ہوئے دوسرے مہمان سید محمد یوسف بھی بولنے لگے۔ الحکم کے نامہ نگار نے اس ملاقات کا احوال خوب محفوظ کیا ہے وہ اب ملفوظات کی جلدوں میں محفوظ ہے۔

اس موقع پر ان بغدادی سیاح صاحب نے حضرت اقدسؑ کے سامنے ادھر ادھر کی باتیں کرنے کے بعد کہا کہ میں مباہلہ کرتا ہوں۔ حضورؑ نے فرمایا کہ آپ پہلے میری ایک کتاب حقیقۃ الوحی ہی پڑھ لیں پھر بڑے شوق سے مباہلہ کرلیں۔ کیونکہ سب جانتے ہیں کہ سادہ لوح کی تکذیب کچھ چیز نہیں۔ اس لیے پہلے ضروری تھا کہ اتمام حجت ہوجائے۔ تب اس سیاح صاحب نے جھٹ کہا کہ ابھی میں دو گھنٹہ میں کتاب پڑھ لیتا ہوں۔ حضورؑ نے فرمایا کہ آپ بے شک دوگھنٹہ میں مطالعہ کرلیں میں بعد ازاں چند ایک سوال کرلوں گا جن سے اندازہ ہوجائے گا کہ آپ مضمون کتاب کو سمجھ گئے ہیں۔

تب 28؍اکتوبر کو نماز ظہر سے قبل مباہلہ کے لیے ایک تحریر لکھی گئی۔ جس کے آخر پر یہ نام تھے:

تاریخ احمدیت کی جلد دوم میں متعلقہ عنوان کے تحت درج ہے کہ تیزطرار گفتگو کے بعد مباہلہ اور کتاب کے مطالعہ اور پھر سوالات کے جوابات کی شرائط سن کر ان سیاح صاحب نے صاف معذرت کردی، قصہ کوتاہ وہ کتاب جسے دو تین گھنٹوں میں پڑھنے کے لیے رضامند تھے، اس کے لیے تین دن کا وقت مانگنے لگے اور قادیان میں مزید قیام کا ارادہ ملتوی کرکے واپس چلے آئے۔ حالانکہ ان کوقادیان میں مزید قیام کرنے کا اصرار کرکے اوران کی خاطر داری اور مہمان نوازی کے لوازمات بہم پہنچانے کا بار بار وعدہ کیاگیا۔

ان لوگوں نے لاہور میں آکر رسالہ ’’اشاعت القرآن‘‘میں اصل واقعات کو چھپا کر لکھ دیا کہ مرزا صاحب مولوی عبداللہ صاحب چکڑالوی کے ساتھ مباحثہ کرلیں۔ یہ مذکورہ بالا رسالہ ’’انجمن مسلم اہل الذکر و القرآن ‘‘کا ترجمان تھا جو ماہنامہ تھااور مولوی عبداللہ چکڑالوی کے خیالات کی اشاعت کیا کرتاتھا، اور مولوی عبداللہ کی وفات کے بعد بھی ایک عرصہ تک مولوی حشمت العلی صاحب دہلوی کی زیر ادارت لاہور کے بازار سریانوالہ سے شائع ہوتا تھا۔ اندرون لاہور شہر کامشہور بازار سریانوالہ، دراصل بکروں کے سری پائے کی وجہ سے سریانوالہ بازار کہلاتا تھا۔ بازار سریانوالہ کی ایک مشہور شخصیت مولوی عبداللہ چکڑالوی تھے اور انہی کی وجہ سے مسجد چکڑالوی مشہور تھی۔

اس مذکورہ رسالہ میں شائع ہونےوالی تحریر گو شیخ چٹو کی طرف منسوب کی گئی لیکن شیخ صاحب کے نوشت و خواند اردو وفارسی سے بے بہرہ ہونے کے باعث ظاہر ہے کہ کسی اور کی لکھی ہوئی تھی۔

یاد رہے کہ دراصل تب کتاب حقیقہ الوحی پریس سے طبع نہ ہوئی تھی بلکہ زیر تیاری تھی، اس لیے ان مخالفین کے گروہ نے یہ مشہور کر دیا کہ مرزاصاحب نے اپنی کتاب مہیا ہی نہیں کی۔

حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ان کی طرف سے یہ ناانصافی دیکھی تو ان کو دوبارہ دعوت مباہلہ دی۔ جو جماعتی اخبار بدر قادیان کے 17؍جنوری 1907ء کے صفحہ7پر درج ہے۔

اور مباحثہ کے متعلق مفتی محمد صادق صاحب نے لکھا کہ حضرت اقدسؑ اپنی کتاب ’’انجام آتھم‘‘ میں مباحثات بند کرچکے ہیں۔ ہاں اگر مولوی عبداللہ صاحب چکڑالوی اپنے شبہات کا ازالہ کرانا چاہیں تو وہ مہذب رنگ میں درخواست کریں اور بتائیں کہ حضوؑ کا دعویٰ قرآن مجید کے کن نصوص قطعیہ کے خلاف ہے؟ مگر عبداللہ صاحب چکڑالوی اس تجویز سے آمادہ نہ ہوئے اور شیخ محمد چٹو صاحب اس کے بعد جلد ہی اس جہان فانی سے کوچ کرگئے۔ لیکن حضرت مسیح موعودعلیہ السلام کا ان مخالفین کے لیے مہمان نوازی کا اعلیٰ نمونہ آپ کی صداقت کی طرح ہمیشہ قائم رہے گا۔

(ملفوظات جلد سوم صفحہ 72-73سے پتہ چلتا ہے کہ مورخہ 13؍فروری 1903ءکو ایک مہمان تشریف لائے تھے جنہوں نے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام سے تفصیلی گفتگو کی تھی۔ وہ غالباً یہی محمد یوسف بغدادی سیاح ہی تھے۔ واللّٰہ اعلم بالصواب۔ ان کا تفصیلی ذکر پھرکسی نشست میں ہوگا۔ )

٭…٭…٭

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

For security, use of Google's reCAPTCHA service is required which is subject to the Google Privacy Policy and Terms of Use.

I agree to these terms.

Check Also
Close
Back to top button
Close