متفرق

مرزا غلام احمد قادیانیؑ کا خدا مجھ سے بھی کلام کرتاہے

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ایک صحابی حضرت مولوی محمد الیاس خان صاحب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ریاست قلات کے قاضی القضاة عبدالعلی اخوندزادہ نے مستونگ کے ایک بڑے مجمع میں علی الاعلان آپ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ میں آپ سے پوچھتا ہوں کہ کیا سارے صوبہ سرحد میں آپ کو کوئی روحانی پیر نہیں ملا جو آپ نے پنجاب جا کر ایک پنجابی مرزا غلام احمد قادیانی کی بیعت کر لی ہے؟ حضرت مولوی صاحب رضی اللہ عنہ نے برجستہ فرمایا: دراصل بات یہ ہے اخوندزادہ صاحب مجھ سے میرا خدا گم ہوگیا تھا میں ہر مذہب میں اس کو ڈھونڈتارہا۔ ہر مذہب مجھے پرانے قصوں کی طرف لے جاتا۔ میں ہر ایک سے پوچھتا کہ وہ خدا اب بھی بولتاہے؟ تو وہ کہتے اب نہیں بولتا۔ میں مسلمانوں کے بہتر فرقوں میں سے ہر ایک کے پاس گیا، تو انہوں نے بھی مجھے یہی جواب دیا کہ حضرت محمدمصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اب خدا نہیں بولتا۔ وحی کا دروازہ مطلق بند ہے۔ تب میں اس نتیجے پر پہنچا کہ خدا حقیقت نہیں ہے بلکہ ایک فلسفہ ہے۔ جو پرانے قصوں پر منحصر ہے، ورنہ اللہ تو وہ ہونا چاہیے، جس کی تمام صفات حسنہ کی کوئی صفت بھی معطل نہ ہو۔ یہ کیسے ہوسکتاہے کہ پہلے بولتا تھا اور اب اس کی صفت تکلم پر مہر لگ جائے۔ میں عنقریب دہریہ ہونے والا تھا۔ پیچھے سے ایک نرم ہاتھ نے میرے کندھے کو پکڑااور کہا :کیوں محمد الیاس کیا بات ہے۔ کیوں پریشان ہے۔ میں نے کہا کہ خدا کی حقیقت معلوم ہو گئی۔ وہ ایک فلسفہ ہے۔ حقیقت میں نہیں ہے کیونکہ جس سے پوچھتا ہوں وہ یہی کہتاہے کہ خدا پہلے بولتا تھا۔ اب نہیں بولتا۔ اس نے میرا ہاتھ پکڑا اور یہ شخص حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ تھے۔ اور کہا آؤ میں تمہیں بتاتاہوں۔ وہ خدا اب بھی بولتاہے۔ شرط یہ ہے کہ تم میرے ہاتھ پر بیعت کرو کیونکہ میں خدا کی طرف سے مسیح اور مہدی ہوں وہ خدا تم پر بھی نازل ہوجائے گا۔ اگر چاہے تو تم سے بھی کلام کرے گا۔ اب عبدالعلی اخوندزادہ صاحب میں خدا تعالیٰ کی قسم کھاتا ہوں جس کی جھوٹی قسم کھانا لعنتیوں کا کام ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی کا خدا مجھ سے بھی کلام کرتاہے۔ میں آپ سے پوچھتا ہوں کوئی ہے جو دعویٰ سے کہے کہ خدا اس سے بولتاہے؟ تمام مجمع پر سناٹا چھا گیا اور کچھ دیر خاموشی رہی اور کسی طرف سے کوئی جواب نہ آیا تو مولوی صاحب نے فرمایا :میں ایسے مسلک اور ایسے فرسودہ اسلام کو جو صرف رسوم وبدعات کا اسلام رہ گیا ہے کیا کروں؟ جس میں خدا کلام نہیں کرتا اور کیوں نہ مرزا غلام احمد قادیانیؑ کے اسلام کو قبول کروں جو حقیقی اسلام ہے جس سے خدا ملتاہے اور پیار ومحبت سے کلام سے نوازتاہے۔

(ماخوذ از حیات الیاس، مصنفہ عبدالسلام خان صفحہ 118)

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Check Also
Close
Back to top button